اردو اور گالیوں کی دکان بند ہونے کا خدشہ

فاروق احمد

اردو اور گالیوں کی دکان بند ہونے کا خدشہ

از،  فاروق احمد

اردو زبان گالیوں کے بحران کا شکار ہے۔ نئی کمینگیوں سے ہم آہنگ نئی گالیاں وجود میں نہیں آ رہیں۔ یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ اس رفتار سے وجود میں نہیں آ رہیں جس رفتار سے اول الذکر کی مقدار اور معیار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ فحش گوئی اور بد زبانی فروغ پا رہی ہے۔ غلیظ اور نیچ گالیاں رائج ہو رہی ہیں۔

اس خلا کو پر کرنے کے لیے اطراف کی پسماندہ زبانوں سے گالیاں اردو میں در آئی ہیں۔ یہ گالیاں ایسی ہیں کہ ان پر تکیہ کرنا تو بعید از قیاس، شرفاء انہیں نوک زباں پر بھی نہیں لا سکتے۔


مزید و متعلقہ: ہندی اردو پٹی کی بیماری : گفتگو میں انگریزی لفظ ڈالنے کا چسکا

اردو زبان میں گالیوں کے ارتقا کا مختصر تنقیدی جائزہ


گالیوں کے اس افلاس کے سبب اردو رُو بہ زوال ہے۔ بحران یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ آئے روز کی کمینگیوں اور نو سر بازیوں کے شکار لوگ کیوں کر اپنے جذبات کو الفاظ کے جامے پہنائیں اور جو ایسا کرنے جائیں تو مُنھ سے ان فحش الفاظ کا طوفان امڈ پڑے جس پر بعد از طوفان ہوش و حواس بحال ہونے پر بندہ خود ہی کٹ کر رہ جائے، اپنی ہی نظروں میں خود کو گرا ہوا پائے۔

جذبات کا اظہار نہ کرنا بھی ایک اچھا آپشن ہے لیکن اس کا استعمال انسان کو امراض ہائے قلب اور ذہنی عارضوں میں مبتلا کرنے کا تیر بہدف نسخہ ہے۔ جذبات کو اندر سے نکال کر باہر لا کر جلاؤ یا اپنے اندر ہی جلنے سڑنے دو۔

پہلا آپشن نظروں میں گرائے تو دوسرا موت کے گڑھے میں لہٰذا پہلا ہی بہتر ہے۔ لیکن نظروں میں گرنے سے بچنے کا ایک اضافی آپشن بھی ہے۔ وہ یہ کہ نئی گالیاں اختراع کی جائیں۔ مہذب اور شائستہ گالیاں۔ جن کو چار شرفاء کے درمیان، گاڑی میں بیوی بچوں کی ہمراہی میں کسی “ہم ٹریفک”  کی اچانک قطعی غیر متوقع کمینگی سے دو چار ہونے کی صورت میں سونامی کی طرح دل و دماغ سے اٹھتے جذبات کو چینلائز کرنے کے لیے فی الفور کام میں لایا جا سکے۔

انجمن ترقی اردو اور مقتدرہ قومی زبان کے کرتا دھرتاؤں کو چاہیے کہ اس بحران کا جلد از جلد کوئی حل تراشیں۔ اب تو واقعی، خدا جھوٹ نہ بلوائے، سمجھ میں نہیں آتا کہ باجووں، پائیوں، نثاروں، نیازیوں کو دینے کے لیے گالیاں لائیں کہاں سے۔ ان کی کمینگیوں کا معیار اس قدر بلند ہے کہ اس معیار کی گالیوں سے اردو کا دامن بالکل ہی خالی ہے۔

اردو کی دکان پر گالیوں کی مانگ سب سے زیادہ ہے لیکن دکان خالی ہے۔ مطلوبہ مال دستیاب ہی نہیں۔

یہی حال رہا تو دکان بند ہو جاوے گی۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

1 Trackback / Pingback

  1. کراچی کی امی آپا اور تہذیبی دہشت گردی — aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.