بی بی سی اردو میں اب اردو کہاں

Muhammed Shahzad aik Rozan writer
محمد شہزاد ، صاحب تحریر

بی بی سی اردو میں اب اردو کہاں

(محمد شہزاد)

پرانے وقتوں میں شرفاء اپنے بچوں کو ادب آداب ، اردو اور اس کا درست تلفظ سکھانے کے لئے طوائفوں کے کوٹھوں پر بھیجا کرتے تھے۔ ہماری بدنصیبی کہ ہم اس دورکی پیداوار نہیں! ہمارے زمانے تک کوٹھے ختم ہو چکے تھے اور کوٹھیاں وجود پذیر ہو چکیں تھیں۔ سوائے اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ اردو بہتر کرنے کے لئے بی بی سی کی اردو نشریات سنی جائیں۔ جب تک رضا علی عابدی ایسے باکمال صداکار بی بی سی میں موجود رہے ہماری اردو نکھرتی گئی مگر اب روز بہ روز خراب ہو رہی ہے۔

وجہ یہ ہے کہ آج کے نفسا نفسی کے عالم میں ہر شے رو بہ زوال ہے۔ بی بی سی اردو بھی اس عمل سے محفوظ نہیں۔ عابدی صاحب تو اپنی مدت ملازمت پوری کر چکے۔ عارف وقار ایسے نابغے کو بی بی سی نے ’کھڈے لائن’ لگایا ہوا ہے۔ انہیں بی بی سی اتوار کے اتوار یاد کرتی ہے ’آپ کا خط ملا‘ میں سامعین کے مضحکہ خیز خطوط کے جواب دینے کے لیے۔

اور بی بی سی کا شہرہ آفاق پروگرام سیر بین جو بقول بی بی سی خود قریہ قریہ گاؤں گاؤں ہر شیدا مجیدا بہت شوق سے سنتا ہے آج کل کے بچوں کے ہاتھ میں ہے جنہیں نہ تو اردو پر عبور ہے اور نہ ہی انگریزی پر۔ تلفظ کا تو نہ ہی پوچھیں۔ تلفظ کے ساتھ تو روز نیا کھلواڑ ہوتا ہے۔ سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے! رضیہ پھنسی غنڈوں میں اور ہماری اردو ان بچوں میں!

سیر بین کا عالم یہ ہے کہ نہ تو تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ باوجود کوشش کے پتہ نہیں چلتا کہ اردو میں پیش کیا جا رہا ہے یا انگریزی میں۔ نالائق موسیقار fusion کرتے ہیں۔ اور نئے نئے بچے اردو انگریزی کی کھچڑی بنا کر سیر بین پیش کرتے ہیں۔

سوچتا ہو کہ کیسے دوردراز علاقوں کے لوگ جہاں نہ بجلی ہے نہ پانی نہ سڑک نہ سایہ انگریزی کے یہ الفاظ، جملے، محاورے سمجھ پاتے ہوں گے جو صدا کاروں کی نئی پود روزانہ رات آٹھ سے نو بجے استعمال کرتی ہے۔ کوئی ہے جو ان کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھا دے؟ لگتا ہے کوئی نہیں ہے۔ کئی بار بی بی سی کی توجہ اس بارے مبذول کرائی مگر ڈھاک کے وہی تین پات! بی بی سی اردو نہ ہوئی پاکستان کی پارلیمنٹ ہو گئی جہاں ہر انٹ شنٹ زبان بنا کسی دقت استعمال ہوتی ہے۔

دیکھیے کیا وقت آن پڑا ہے اردو پر۔ عمر آفریدی نے اپریل 19 کو assert اور communal کا استعمال کیا۔

یہ کیا chaos ہے ؟
یہ کیا situation ہے ؟
یہ کیسی governance ہے ؟
Civil-military relations
What’s next? foolproof
security breach
اب کیا option ہے ؟
concern; obvious; centric; for example; Central Asia; backlash
NDS کا failure ہے ؟

مندرجہ بالا الفاظ استعمال کیے خالد کرامت نے اپریل 29، مئی 13، مئی 24 اور یکم جون کے سیر بین میں۔ حیرت ہے کہ بی بی سی اردو کی انتظامیہ نے اسے نظر انداز کیا۔ کیسے حرکت میں آئے۔ اب بی بی سی کی باگھ دوڑ اہل زبان کے ہاتھ میں نہیں۔ جب ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہو تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے انجام گلستاں! خیر ۔۔ ڈھٹائی پن جاری رکھتے ہوئے دس جون کے سیر بین میں خالد کرامت نے اردو+انگریزی کی مدد سے مزید نئی ایجادات کیں انجینئر وقار آغا کی طرح:

parliament میں successful ہونا!
faceکرنا، minority سے تعلق، campaign کرنا
tip of the iceberg
side لینا ، troops deployment, already qualify, involvement

چلو یہ تو ہوئے ممی ڈیڈی، آنی گرینی ٹائپ برگر فیملی کے چشم و چراغ مگر شفیع نقی جامی ایسے کہنہ مشق اور جید صداکار کو کیا ہوگیا۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے یا پھر ایک مچھلی سارے جل کو گندا کرتی ہے کے مصداق شفیع نے بھی من ہی من میں خالد کرامت کو استاد مان لیا اور چل پڑے fusion کی اوریہ اصطلاحات گھڑتے ہوئے:
carrot and stick
trend
third party verification
update
option
question
between the lines
deep state
hate crimes
community affairs correspondent
crime قرار دیا ہے!
mosque
in general
five foldاضافہ!
active role

شفیع نے یہ ایجادات کیں جون 26, 27 اور یکم اور سولہ مئی کی نشریات میں۔

امبر خیری ایسے بزرگ بھی خالد کرامت کی پیروی کرنے لگے۔ بائیس جون کو فرمایا:

nationalism کو Hinduism سے merge کیا جا رہا ہے!
June 24 کے سیر بین میں تجزیہ کار سے پوچھ رہی ہیں: strategic target کیا ہو سکتا ہے؟ سبحان اللہ!

ارم عباسی کو پانچ سال سے زیادہ ہوئے بی بی سی اردو میں کام کرتے مگر آج دن تک اردو ٹھیک نہ ہو سکی۔ tenure, freedom and space, ایسی اصطلاحات استعمال کیں سولہ مئی کو۔ انتیس جون کے سیر بین میں فرما رہی ہیں:

artisteکا اپنا expression ہے۔
storiesکو influence کریں گی؟
plotکو influence کریں گی؟
image buildingہو گی کیسے؟
lynching پر آنکھیں بند؟
real issues کو address کیا جائے۔

ساجد اقبال جون انیس کی نشریات میں:
glorify; investigation; statement
lead  نہیں کر سکتے
attempted murderکے suspicion میں confusion پیدا ہوئی!
terrorismکیوں glorifyکیا جائے!
mosque establish ہوئی تھی!
prayer leadکرتے تھے۔
حالات controlسے ہاہر ہوئے تو take over کر لیا۔
موجودہ phase میں۔

فرحت جاوید استعمال کرتی ہیں turn out، عادل شازیب دہشت گردی کی نئی definition، اور غضنفر حیدر join kia مئی اکتیس کو۔ عادل شازیب جون چوبیس اور پچیس کو یہ کچھڑی پکاتے ہوئے:

blast کر دیا
regional politics  ہو رہی ہے۔
investigations  جاری ہیں۔
blocks  میں تقسیم
response سامنے آیا
oil tanker
agenda کیا تھا

غضنفر حیدر جون چودہ کویہ چورن بناتے ہوئے:

investigate, blockade, situation, trapped

عمر آفریدی نئے صداکاروں میں نسبتاً بہتر ہیں۔ مئی 27، جون 4, 7, 11کواستعمال کرتے ہیں status quo, vision, ، objective تحریک، تنظیم underground چلی گئی۔ موسم enjoy ، in relation to, agree ، breach ہوئی، turn out, concrete, clashes, attack

اتنی برے حالات تو کرکٹ کی کمنٹری کے بھی نہیں ہوئے۔ جب نا اہل ، سفارشی اور نالائق لوگ اہل علم پر حکمران بن جائیں تو وہی حال ہوتا ہے جو اس وقت بی بی سی اردو کا ہو رہا ہے۔ قریب ستر برس سے بی بی سی اردو کی شاندار روایات کی امین رہی ہے۔ لیکن اب پھکڑ پن اور مسخرے پن کو فروغ دے رہی ہے۔ روز سیر بین سنتا ہوں اس امید پر کہ شاید آج اردو میں ہو مگر انگریزی کی آلودگی ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔

جب اردو میں الفاظ موجود ہیں تو انہیں انگریزی میں ترجمہ کر کے اردو کے پروگرام میں پیش کرنا کہاں کی عقلمندی اور پیشہ ورانہ پن؟ یہ توقع نہیں کہ facbook, internet, VCR, glass, sofa, cricket کو اردو میں ڈھال کر بیان کیا جائے۔ لیکن یہاں تو اردو کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے۔

رضا علی عابدی کے اس مضمون کو بھی دیکھیے: اردو کے دیئے کی دھیمی پڑتی ہوئی لو

چند نایاب ہیر ے ابھی بھی ہیں بی بی سی اردو کے پاس ۔۔ شفیع نقی جامی، عارف وقار، وسعت اللہ خان، اور مہ پارہ صفدر۔ اس سے پہلے کہ یہ بھی نہ رہیں ان کی موجودگی سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ چاروں مل کر اور ان کے ساتھ عالیہ نازکی جن کا اردو کا تلفظ اور صداکاری کا انداز انتہائی خوبصورت ہے بچوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ عابدی صاحب کی خدمات بھی گاہے بہ گاہے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ بی بی سی اب چل سو چل والی بھیڑ چال پر گامزن ہے۔ بضد ہے کہ اردو کا جنازہ نکلے نئے لونڈوں لپاڑوں کے ہاتھوں!

سونے پہ سہاگا یہ کہ سیربین کو پیش کرنے کا انداز بھی کم و بیش ویسا ہو ہوتا جا رہا ہے جیسا ہمارے ٹی وی چینلز کا۔ چیخ چیخ کر خبر پڑھنا۔ جیسے ہی بی بی سی اردو کا بٹن دباؤ سنسنی پھیلاتے ہوئے اونچی آواز میں صداکار جھلکیاں سنائیں گے۔ دکھ ہوتا ہے بی بی سی اردو کو اپنی شاندار روایات فراموش کرتے دیکھ کر! اگر سیر بین کو اردو میں پیش کرنے سے قاصر ہیں تو سروس کے نام سے اردو ہٹا کر کچھ بھی رکھ لیں مگر خدارا اردو کے ساتھ یہ گھٹیا مذاق بند کیا جائے۔


محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ ان سے ان کی فیس بک پروفائل کے اس لنک پر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

About محمد شہزاد 8 Articles
محمد شہزاد، اسلام آباد میں مقیم لکھاری ہیں۔ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کے کالم نگار ہیں۔