ون مین آرکسٹرا: شہرت سے زیادہ ’مقام‘ چاہنے والے سجاد حسین کی کہانی
از، خالد فتح محمد
معروف موسیقار سجاد حسین مدھیا پردیش کے ایک قصبے سیتامو میں 1917ء کو پیدا ہوا، جو ضلع مندوسر میں واقع ہے۔ اس نے بچپن میں ستار اپنے باپ محمد امیر خان سے سیکھی۔ محمد امیر خان کا تعلق گانے بجانے والے گھرانے سے نہیں تھا، وہ پیشے کے اعتبار سے درزی تھا۔ اس کا سیا ہوا ایک لباس ریاست کے راجہ کو پسند آیا جس کے سبب اسے دربار میں جانے کا اتفاق ہوا اور پھر مسلسل جانے لگا۔
محمد امیر خان کو ستار سیکھنے میں دل چسپی پیدا ہوئی اور سیکھ بھی لی اور ایک وقت آیا کہ اس نے خود بھی بجانا شروع کر دی۔ وہ راجہ کے دربار میں اکثر ستار بجانے جانے لگا۔ اس کے نو بچوں میں سب سے چھوٹے سجاد حسین کے کسی کو موسیقی میں دل چسپی نہیں تھی، سو وہ بھی اپنے باپ کے ساتھ دربار میں جایا کرتا تھا۔
ایک دن دربار میں ایک مہمان ستار نواز کو سنا جس نے ایک مشکل ٹکڑا بجایا۔ اگلی صبح سجاد حسین نے وہی ٹکڑا اپنے دوستوں کو بجا کر سنایا۔ اس کا باپ بھی سن رہا تھا اور وہ بچے کی ذہانت پر حیران ہوا کہ اس نے صرف ایک بار سن کر وہ ٹکڑا مہارت کے ساتھ بجایا۔
جوانی کے آغاز میں ہی اس نے بانسری، وینا، وائلن اور پیانو بجانے میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ سجاد حسین نے بچپن میں کسی امیر آدمی کے گھر میں مینڈولین دیکھا۔ وہ اس ساز کو چھونا چاہتا تھا، لیکن اسے اجازت نہیں دی گئی۔ گھر آ کر اس نے مینڈولین کی طرز پر اپنا ہی ایک مینڈولین بنانا شروع کر دیا، جسے وہ کئی سال تک بجاتا رہا۔ بہت سال بعد اس نے کسی ماہر کا بنایا ہوا مینڈولین بجایا جو اسے ایک یہودی، رحیم سلمان، نے دیا تھا۔ وہ مینڈولین بجانے میں ماہر اور ایک استاد کا درجہ رکھتا تھا؛ اس ساز پر کلاسیکل گائیکی کی محفلوں میں راگ پیش کیا کرتا تھا اور فلموں کے موسیقار ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتے تھے۔
اس وقت تک محمد امیر خان یہ جان چکا تھا کہ اس کے بیٹے کو قدرت نے موسیقی کے خاص جوہر سے نوازا ہے۔ وہ ایک روایتی آدمی تھا، اس نے اپنے بیٹے سے وعدہ لیا کہ وہ موسیقی کو اپنا ذریعۂِ معاش نہیں بنائے گا۔ سجاد حسین جتنا ممکن ہو سکا، اپنے وعدے پر قائم رہا۔ اس کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ تھا کہ اپنے جنون کی تکمیل کرے یا باپ کے ساتھ کیے وعدے کو نبھائے۔ باپ کے فوت ہونے کے دو سال بعد اس نے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے تک پہنچنے میں اس کے خاندان کی بھی مرضی شامل تھی، چُناں چِہ وہ 1937ء میں اپنے بڑے بھائی نثار حسین کے ساتھ، جو کسی سکول کا پرنسپل تھا، بمبئی (موجودہ ممبئی) پہنچا۔
اس نے بمبئی میں پہلی ملازمت کا آغاز 30 روپے ماہانہ سے کیا۔ بعد میں وہ سہراب مودی کے واڈیا مووی ٹون میں 60 روپے ماہوار پر کام کرنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ کام جو وہ کر رہا تھا، اس کی فنّی تکمیل کے لیے نا کافی ہے۔
اس عرصے میں وہ مختلف موسیقاروں کے ساتھ ان کے آرکسٹرا میں ستار، مینڈولین، وینا، وچتر وینا، وائلن، بانسری، جلترنگ، کلارنیٹ، پیانو، ہارمونیم، سپینش گٹار اور ہوائی گٹار بجاتا رہا۔ اس نے یہ کام چھوڑ کر آل انڈیا ریڈیو میں کام شروع کر دیا، لیکن جلد ہی وہاں سے کنارہ کر لیا۔
وہ میوزک ڈائریکٹر بننا چاہتا تھا اور اس زمانے میں میوزک ڈائریکٹر بننے کے لیے یا تو کسی فلمی شخصیت کا رشتے دار ہونا ضروری تھا یا پھر کسی کا اسسٹنٹ رہنا۔ اس نے کسی میوزک ڈائریکٹر کا اسسٹنٹ بن کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے رفیق غزنوی اور میر صاحب جیسے فلم موسیقاروں کے ساتھ اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔
رفیق غزنوی ایک عرصہ تک مشہور افسانہ نویس سعادت حسن منٹُو کا دوست رہا تھا اور منٹُو نے اس کے متعلق کئی دل چسپ واقعات بھی تحریر کیے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے مختلف منڈیوں میں ہر طوائف کے ساتھ تعلقات رہے تھے۔ اس نے 1942ء میں وہ گانا ترتیب دیا اور گایا جو بعد میں حبیب ولی محمد اور فریدہ خانم نے الگ الگ گایا اور جس نے مقبولیت کی بلندیوں کو چھوا: وہ گانا تھا، ”آج جانے کی ضد نہ کرو۔🔊🎶“
میر صاحب کے متعلق مشہور ہے کہ وہ نرگس کی ماں اور اپنے وقت کی مشہور فلمی ہستی جدن بائی کا عاشق ہوا کرتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نرگس اس معاشقے کی پیداوار ہے کیوں کہ دونوں کی شکلوں میں کافی مشابہت پائی جاتی تھی۔
وہ ایک میوزک ڈائریکٹر بننا چاہتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس میں یہ اہلیت بھی ہے۔ سجاد حسین کو فلم “گالی” کے تین گانے بنانے کا موقع ملا، لیکن سنہری موقع اسی سال یعنی 1944ء میں ریلیز ہونے والی ایک اور فلم میں ملا اور ایک تنازع بھی کھڑا ہو گیا۔ سجاد حسین کے بیٹے مصطفیٰ کے مطابق اس کے باپ نے موسیقاروں کا نائب بن کر کام کرنا چھوڑ دیا، وہ خود ایک موسیقار بننا چاہتا تھا، چُناں چِہ وہ گھر پر ہی وقت گزارنے لگا۔ علی بخش، جو مینا کماری کا باپ تھا اور ایک میوزک ڈائریکٹر بھی، سید شوکت حسین رضوی کی فلم دوست کا موسیقار تھا۔ وہ مدد کے لیے سجاد حسین کے باپ کے پاس آیا کیوں کہ سید شوکت حسین رضوی نے اس کی تمام دھنیں مسترد کر دی تھیں۔دونوں رضوی کے گھر گئے اور سجاد حسین کی دھن سنانے کی درخواست کی گئی، جسے سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ نورجہاں نے دوسرے کمرے سے آواز لگائی:
“میاں صاحب!” وہ اپنے خاوند کو ایسے ہی خطاب کرتی تھی۔ “میں ہُنھے آئی، ایہ بندہ جاوے ناں۔” (میں ابھی آتی ہوں، اس آدمی کو جانے نہ دینا۔) چُناں چِہ سجاد حسین کو یہ فلم مل گئی۔ تنازع یہ اٹھا کہ سجاد حسین نے علی بخش کے منصوبے کا پتا کاٹا، جسے مصطفیٰ قطعی طور پر رد کرتا ہے: “میرا باپ خوفِ خدا رکھنے والا ایک با اصول آدمی تھا۔ اس نے ہر گِز علی بخش کو فارغ نہیں کروایا۔”
“کوئی پریم کا دے سندیسا🔊🎶” اور “بد نام محبت کون کرے،🔊🎶” جیسے گانے تخلیق کرنے کے بعد سجاد حسین کے نام نے بلندیوں کو چھونا شروع کر دیا کہ ایک اور تنازع کھڑا ہو گیا۔ مسئلہ یہ بنا کہ ان گانوں کی شہرت کی وجہ کون ہے؟ رضوی کا کہنا تھا کہ یہ نور جہاں کی وجہ سے مشہور ہوئے، جس سے سجاد حسین کو اختلاف تھا۔ یہ ایک فضول اور غیر اہم بحث تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سجاد حسین نے نور جہاں سے پھر کبھی گانا نہیں گوایا۔
سجاد حسین کی اگلی فلم 1857 جو 1946ء میں بنی، اس فلم میں اس دور کے دو مشہور گلوکاروں، سریندر اور ثریا نے گانے گائے۔ سجاد حسین نے اس فلم کے لیے بہت سریلے گانے تخلیق کیے۔ سریندر اور ثریا کا گایا ہوا دوگانا “تیری نظر میں میں رہوں،🔊🎶” جس سے ملتی جلتی طرز اس نے فلم سنگ دل میں طلعت اور لتا کے دوگانے “دل میں سما گئے سجن🔊🎶” میں بنائی۔ اس کے علاوہ ثریّا کا گایا ہوا گانا “غم آشیانہ ستائے گا کب تک🔊🎶” بہت مقبول ہوا۔ وہ سال ایک اور فلم کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا اور وہ فلم تھی اَن مول گھڑی، جس میں ان دونوں کے علاوہ نور جہاں نے بھی گانے گائے اور اس فلم کے گانوں کی مقبولیت کی وجہ نوشاد کی موسیقی بھی تھی۔ دونوں کی موسیقی کا طریقہ چُوں کہ ایک جیسا تھا، آنے والے سالوں میں ان کا موازنہ کیا جاتا رہا۔ سجاد حسین اپنے کام یاب ہم عصر کو ہمیشہ تنقیدی نظر سے دیکھتا۔ سچ تو یہ ہے کہ نوشاد کام یابی کے زینے طے کرتے ہوئے بلندیوں کی طرف گام زن تھا جب کہ سجاد حسین کا کَریئر مسلسل ڈگ مگاتا رہا۔
1950ء سے 1952ء کا عرصہ سجاد حسین کے لیے نہایت سود مند رہا، جس میں اس کی پانچ فلمیں آئیں۔ ان میں سے دو فلموں کے موسیقار ایک سے زیادہ تھے۔ 1952ء سجاد حسین کے لیے اہم سال تھا کیوں کہ اس سال مدُھو بالا اور دلیپ کمار کی فلم سنگ دل ریلیز ہوئی۔ یہ فلم جین آئیر کے ناول سے ماخوذ تھی۔ اس فلم کا سب سے مشہور اور سریلا گانا طلعت محمود کا گایا ہوا “یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی🔊🎶“ ہے۔ موسیقی کے ماہر اشوک رنادے کے بَہ قول یہ گانا سامِع کو سننے پر مجبور کرتا ہے:
“ظاہری طور پر یہ گیت ایک مدھم لے میں ہے مگر حقیقت میں یہ سست لے میں نہیں ہے۔ اس کے مصرعے طویل ہیں اور اس کی دھن بھی طویل ترنم ریز ہے۔ مزید یہ کہ دو حصوں کے مزاج کی ترتیب میں پہلا مصرع ‘سا’ (کھرج، بنیادی سر) پہ منتج ہوتا ہے اور دوسرا حصہ سپتک کے درمیانی سر (ما) پہ ختم ہوتا ہے۔ بس یہ تکملیت اور بے تکملیت کا ایسا بے مثل احساس ہے جس میں تخلیق ہماری توقع کے عین مطابق ہوتی ہے اور گیت ہمارے دماغ میں رہ جاتا ہے۔” (ترجمہ: سلیم ہارون)
“یہ ہوا، یہ رات…” گانا طلعت محمود کی شناخت بن گیا۔ یہ گانا طلعت نے اپنی سریلی اور مدھم آواز میں گایا لیکن کہا جاتا ہے کہ اس گانے کے سترہ بار ٹیک ہوئے کیوں کہ سجاد حسین مطمئن نہیں ہو رہا تھا جس کے سبب اس نے برہمی میں طلعت محمود کو “غلط محمود” کہنا شروع کر دیا۔ طلعت کو دوسرے اہم گانے “دل میں سما گئے🔊🎶” میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ لتا ہی اس گانے میں اہم تر آواز رہی۔
لتا اور سجاد حسین کے ذاتی تعلقات کی جو بھی نوعیت رہی ہو، دونوں ایک دوسرے کی اہلیت کے ہمیشہ قائل رہے۔ نور جہاں کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ اپنے مختلف انٹرویوز میں لتا نے کئی بار اعتراف کیا کہ سجاد حسین ایسا ڈائریکٹر تھا جس کے ساتھ گاتے ہوئے وہ گھبراتی تھی۔ اس کی ایک وجہ سجاد حسین کی شخصیت، مزاج اور دوسری کاملیت پسندی کو بھی دخل تھا۔ لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس نے لتا کو وہ چند گانے دیے جو ہندوستان کی فلمی موسیقی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں:
- “اے دل رہا” (رستم سہراب، 1963ء)
- “جاتے ہو تو جاؤ” (کھیل، 1950ء)
- “آج میرے نصیب نے” (ہلچل، 1951ء)
- “وہ تو چلے گئے اے دل” (سنگ دل، 1953ء)
- اور مدھوبالا کی فلم سیّاں (1951ء) میں لتا کے گائے ہوئے چھ گانے۔
لتا نے سجاد حسین کے صرف چودہ گانے گائے ہیں، لیکن یہ وہ گانے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ لتا نے سجاد حسین کا پہلا گانا فلم ہَل چَل کے لیے “آج میرے نصیب نے🔊🎶” گایا۔ لتا منگیشکر نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا:
“ان (سجاد حسین) کے متعلق طرح طرح کی باتیں مشہور تھیں کہ بہت مغرور ہیں، بات نہیں مانتے، پروڈیوسر کو تنگ کرتے ہیں۔ ایسا کچھ نہیں تھا، وہ ایک نہایت سریلے موسیقار تھے۔ وہ سازندے یا گانے والے سے مکمل درستی مانگتے تھے، اسی وجہ سے وہ بہت کم فلمیں کر سکے۔”
فلم سیّاں کا ایک گانا جس کا گراموفون کمپنی نے ریکارڈ نہیں بنایا کیوں کہ اس کی ریکارڈنگ بہت ناقص تھی، وہ بہت کم سنا گیا۔ اسے شاید انھوں نے تھالی پر ریکارڈ کیا تھا۔ وہ گانا ہے: “قسمت میں خوشی کا نام نہیں،🔊🎶” نہایت ہی سریلا گانا۔
لتا منگیشکر اور سجاد حسین کے ہلکے معاملے پر کافی کچھ لکھا جاتا رہا جس کی وجہ سے یہ حقیقت پسِ پردہ چلی گئی کہ اس نے ہر اہم گانے والی کی آواز کو استعمال کیا۔ در اصل فلم سنگ دل پر کوئی بحث مکمل نہیں ہو سکتی جب تک گیتا دت کے گائے بھجن درشن پیاسی پر بات نہ کی جائے، جس میں سجاد حسین کی اختراعی تخلیق عرُوج پر ہے۔ یہاں اس نے مندر کی گھنٹیوں کو ظاہر کرنے کے لیے علاؤالدین خان سے ترنگ بجوایا اور گیتا دت سے اس کی زندگی کے بہترین گانوں میں سے ایک گانا گوایا۔
خاموش فلموں کے بعد جب بولتی فلموں کا آغاز ہوا تو ڈائریکٹر اور ایڈیٹر کے ساتھ میوزک ڈائریکٹر بھی اہم سمجھے جانے لگے۔ سجاد حسین ان موسیقاروں میں اپنی اہلیت کی بنا پر سب سے اہم تھا۔ وہ ایک مضبوط آدمی تھا اور اس نے کبھی کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ وہ اپنی دھن کا پکا اور موسیقی کے ساتھ اس کی بے انتہا لگن نے اسے اتنی طاقت دی کہ اس نے ہر بیرونی دباؤ کو اپنی فنی صلاحیت کے زور پر سر کیا۔ انل بسواس، جو خود ایک اہم میوزک ڈائریکٹر تھا، اس کے مطابق سجاد حسین واحد مستند موسیقار تھا۔
تو پھر سجاد حسین کو اتنی کام یابی کیوں نہ ملی جس کا وہ اہل اور حق دار تھا؟ یہ بھی درست ہے کہ چند ایک پراجیکٹس پایۂِ تکمیل تک نہ پہنچ پائے۔ اس میں سجاد حسین کے لوگوں کو ناراض کرنے کی عادت کو بھی کافی دخل تھا۔ اس کے بیٹے مصطفیٰ کا اپنے والد کے دفاع میں کہنا ہے: “میرے والد ایک راست گو شخص تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر وہ کسی کانے سے ملیں تو اسے دو آنکھوں والا کیسے کہہ سکتے ہیں!” مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ کبھی کچھ ذاتی نہیں تھا: “وہ ایک مکمل پیشہ ور تھے۔ اگر انھوں نے کچھ لوگوں کو ناراض کیا تو ایسے بھی لوگ تھے جو ان کے کام کو تعریفی نظر سے دیکھتے ہوئے بار بار ان کے پاس آتے تھے۔ ان میں سے ایک آر سی تلوار تھے جنھوں نے سنگ دل بنائی تھی۔”
تجربہ کار صحافی راجو بھر رتن نے آشا بھوسلے کی سوانحِ حیات میں لکھا ہے کہ سجاد حسین کو جب معلوم ہوا کہ رخسانہ کے لیے مینا کماری کے مقابل کشور کمار ہے تو اس کی خوشی اور تجسس جاتا رہا۔ یہ 1955ء کی بات ہے۔ اپنی عادت کے مطابق سجاد حسین نے دل اور پُر جوش گائیک اشوک کمار کا نام شور کمار رکھا ہوا تھا، جیسے طلعت کو غلط محمود کہتا تھا۔ رتن نے لکھا ہے کہ تیرا درد دل میں بسا لیا کے بعد لتا کی طبیعت ناساز ہو گئی اور اس نے پوری فلم کے لیے مزید گانے نہیں گائے۔ یہی اہم وجہ تھی کہ اس فلم کو سنگ دل جیسی کام یابی نہ مل سکی۔ کسی حد تک اس فلم کے گانے سجاد حسین کے مِعیار پر پورا نہیں اتر سکے۔
یہاں لتا کی طبیعت کی نا سازی کے متوازی ایک اور کہانی بھی ہے۔ سجاد حسین نے اگلا ریکارڈ کرنے سے پہلے ریہرسل سیشن کا کہا تو لتا کا جواب تھا کہ بغیر ریہرسل کے ریکارڈ کروا لے گی۔ سجاد حسین نے کہا کہ اس کا گانا ریہرسل کے بغیر ریکارڈ نہیں ہو سکتا۔ یہاں ان دونوں کے ساتھ کا اختتام ہوا، لیکن دونوں ایک دوسرے کے آخری وقت تک مداح رہے۔ در اصل سجاد حسین ایک کاملیت پسند تھا۔ اسے شاید کاملیت ورثے میں ملی تھی۔ اس کا باپ ایک درزی تھا اور درزی گری اور دیگر سوئی دھاگے کے کاموں میں نہایت باریکی اور کاملیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر میں یقیناً ایسا ماحول ہو گا جس میں کاملیت سب سے اہم پہلو ہو گی اور یہ کاملیت بچپن سے ہی اس کے ذہن میں نقش ہو گئی ہو گی۔ اس نے آنے والے وقت میں اپنی موسیقی کو اسی سوئی کے نکے میں سے نکالا اور کسی قدم پر، ہر قسم کے نقصان کے قطع نظر، اپنی کاملیت پسندی کو پہلی ترجیح دی اور اپنے اصولوں پر چلا۔
سجاد حسین کی موسیقی روایت اور وسط ایشیاء کی موسیقی کا نہایت نازک امتزاج ہے، کہیں بھی عربی نہیں جیسا کہ شنکر جے کشن کے ہاں فلم ہلاکو میں ہے۔ یہ امتزاج رستم سہراب کے گانوں میں اپنی تمام تر خوب صورتی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ سجاد حسین ایک مشکل پسند موسیقار تھا جس کی واضح مثال اس فلم کے دو گانے، یہ کیسی عجب داستان اور پُر تاثیر اور دل پذیر گانا، “اے دل رُبا،🔊🎶” ہیں جن میں لتا کا فن بامِ عروج پر ہے۔ سجاد حسین کے بیٹے مصطفیٰ کے مطابق ان گانوں میں مصری بربط، جاز ٹرمپٹ بجانے والے مشہور نام فرینک فرنینڈ نے بجایا تھا۔
ان دو گانوں نے اسے مشاہیر میں سے ایک کا درجہ دے دیا تھا لیکن اس نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا۔ اس نے سننے والوں کو اسی فلم میں ایسی قوالی دی جس کے پایے کی، گو بعد میں متعدد بنیں، دوبارہ نہیں بن سکی۔ وہ قوالی ہے: “پھر تمھاری یاد آئی🔊🎶”۔
اس فلم کے بعد سجاد حسین کی فلمی دنیا تقریباً اختتام پذیر ہو گئی۔ اس نے فلموں کے ملنے کا انتظار کرنے کے بجائے مینڈولین کو ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کا ساز منوانے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والا وہ پہلا آدمی نہیں تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں آغاز ہو چکا تھا لیکن وہ بار آور نہیں ہو پا رہی تھیں۔ سجاد حسین کے بیٹے مصطفیٰ کے مطابق 1956ء میں سجاد حسین نے کلکتہ میں ایک میوزک فیسٹیول میں مینڈولین بجایا جو اس کی سولہ سال کی ریاضت اور کوشش کا نتیجہ تھا۔ اس پرفارمنس کے لیے سجاد حسین نے مینڈولین کی ساخت میں تبدیلیاں بھی کیں۔
موسیقی کے ایک ماہر نے اس فیسٹیول کے بارے میں لکھا: “میں حیران تھا کہ وہ ساز (مینڈولین) کو کس طریقے سے استعمال کرتا ہے، خاص طور پر اس انداز میں کہ تار کو دباتے ہوئے وہ مینڈ یا سروں کی اڑان پیدا کرتا اور پھر انھیں (تاروں اور سروں کو) واپس ان کے استھان پر لے آتا۔ یہ پرفارمنس ہمیشہ میرے دماغ میں رہے گی۔” (ترجمہ: سلیم ہارون)۔
سلیم ہارون کی تحقیق کے مطابق اس فیسٹیول میں سجاد حسین کے علاوہ استاد بڑے غلام علی خان، ونائک راؤ پٹوردن، علی اکبر خان، احمد جان تھرخان اور نکھیل بینرجی نے شرکت کی۔ سجاد حسین نے مینڈولین پر راگ شیور بھرتی اور ہری کونش پیش کیے۔ ان راگوں کی کلاسیکی انگ میں حیرت زدہ کر دینے والی پیش کش، خصوصی طور پر بھیرویں ٹھاٹ کے راگ ہری کو مالکونس کو مالکونس اور چندرکونس بجا کر کسی مغربی ساز پر اضافتوں کے ساتھ پیش کرنا ایک خدائی وصف سمجھا گیا۔ یہی نہیں، اسی تقریب میں سجاد حسین نے استاد بڑے غلام علی خان کے ساتھ سنگت کرتے ہوئے لڑی دار تانوں کو جوں کا توں مینڈولین پر بجا کر لوگوں کو ورطۂِ حیرت میں ڈال دیا۔
سجاد حسین کو فلموں کے لیے مینڈولین بجانے کی اکثر پیش کش ہوتی رہتی تھی، لیکن اس نے سوائے دو کے سب ٹھکرا دیں۔ ایک اس کے پرانے دوست وسنت ڈیسائی کی تھی جو فلم دو بہنیں کے ٹائٹل میوزک میں مینڈولین بجانے کی تھی اور دوسری 1975ء میں ایک تیلگو فلم تھی جس میں مینڈولین کا پانچ منٹ کا ایک ٹکڑا تھا۔ کچھ عرصہ اس نے کمال امروہوی کی فلم آخری مغل (جو بہادر شاہ ظفر کی زندگی پر تھی) بھی کام کیا۔ یہ فلم امروہوی کے غیر ضروری تقاضوں اور سرمایے کی کمی کی وجہ سے منسوخ کر دی گئی۔ فلم میں جان نثار اختر کا لکھا ایک گانا بھی ریکارڈ ہوا جو کمال امروہوی کے خاندان کے علاوہ کہیں دست یاب نہیں۔ مصطفیٰ نے یہ گانا حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔
سجاد حسین کے باپ محمد امیر خان نے اپنے بیٹوں کو موسیقی سے دور رہنے کا کہا تھا، جب کہ سجاد حسین نے اپنے بیٹوں کو ساتھ شامل رکھا۔ وہ مصطفیٰ اور اس کے چھوٹے بھائی یوسف کو مشہور موسیقاروں کے پاس ان کے فن کا مظاہرہ کرنے لے کر جایا کرتا تھا۔ سی رام چندر نے انھیں ڈبہ بند بینجو دیا، او پی نئیر نے دونوں کو سو سو روپے دیے اور شنکر جے کشن نے اپنے وابین سیباسچئن ڈی سوزا اور دتہ رام سے کہا کہ دونوں لڑکوں کو ہر ریکارڈنگ پر بلایا جائے تا کہ وہ اپنے ساز بجا سکیں۔ ان کا مقصد ان کے لیے آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا تھا۔
سجاد حسین کا انتقال 21 جولائی 1995ء کو ماہم، ممبئی میں ہوا۔ مشہور فلمی لوگوں میں صرف خیام اور پنکھج ادھاس نے اس کے جنازے میں شرکت کی۔ دکھ کی بات کہ اس انتقال پر کوئی یادگاری محفل یا تحریر نہیں لکھی گئی۔
سجاد حسین ایک حساس فن کار تھا۔ اسے اپنی تخلیق پر بے پناہ ناز تھا جس کی وجہ اس کی ہندوستانی فلمی صنعت میں ناکامی بنی؛ شاید ہندوستان کی فلمی صنعت اس کی موسیقی کے لیے تنگ نائے غزل تھی۔ ہر کوئی اس کی فنی اہلیت قبول کرتے ہوئے بھی نا پسند کرتا تھا۔ اپنے ہم عصروں میں وہ صرف انل بسواس کو پسند کرتا تھا۔ ایک گانے کی ریہرسل میں اس نے لتا سے کہا: “یہ نوشاد میاں کا گانا نہیں ہے۔ آپ کو محنت کرنا ہو گی۔”
ایک بار اس سے اس کے پسندیدہ گانے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کافی اصرار کے بعد ایس ڈی برمن کی فلم شرمیلی کے گانے “میگھا چھائے آدھی رات” کا نام لیا، پھر کافی سوچ کر کہا کہ کمال طرز کا نہیں بَل کہ لتا نے اس گانے کو خوب صورتی عطا کی ہے۔ موسیقار نوشاد کا کہنا تھا کہ سجاد حسین ایک با کمال فن کار تھا جو موسیقی کو سمجھتا تھا لیکن اس کا مزاج ہی اس کا دشمن تھا۔ اسے کوئی مشورہ دیتا تو فوراً جواب دیتا: “تم موسیقی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟”
اس کے مزاج کے نتیجے میں اس کی فلموں کی تعداد اس کی بے پناہ اہلیت کے مقابلے میں کم رہی۔ وہ کسی کی دخل اندازی یا مشورے قبول نہیں کرتا تھا اور اگر اسے محسوس ہوتا کہ کسی کو اس سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے تو وہ اس کو سخت نا پسند کرتا تھا۔ مدن موہن سے وہ ناراض تھا کہ اس نے فلم آخری داؤ کے گانے، “تجھے کیا سناؤں🔊🎶” کی طرز سنگ دل کے گانے یہ ہوا، یہ رات سے لی ہے۔
ایک میوزک کانسرٹ پر مدن، سٹیج کو جاتے ہوئے سجاد حسین کے پاس سے گزرا تو سجاد حسین نے بلند آواز میں کہا کہ لوگ سن لیں: “اب سایے بھی باتیں کرنے لگے۔”
مدن موہن نے اپنی بصیرت اور موقع شناسی سے وقت سنبھال لیا۔ اس نے بلند آواز میں اعتراف کیا:
“مجھے کوئی افسوس نہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے سجاد حسین جیسے بڑے موسیقار کی نقل کی ہے۔” سجاد حسین مطمئن ہو گیا۔
سجاد حسین فلمی تاریخ کا ایک اہم مگر ناکام فن کار تھا۔ اس نے مصطفیٰ کے ساتھ ایک گفتگو میں ظاہر کر دیا تھا:
“شہرت اہم ہو گی، لیکن ’مقام‘ کے سامنے غیر اہم ہے۔”
