پاکستان اور ہندوستان جنگی خبط، عوامی دکھ اور رابطوں کی بحالی کی امید

Khalid Fateh Muhammed
خالد فتح محمد

پاکستان اور ہندوستان جنگی خبط، عوامی دکھ اور رابطوں کی بحالی کی امید

از، خالد فتح محمد

پاکستان اور ہندوستان کی فضائی اور چند زمینی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوئی اور اسرائیل و ایران کی فضائی جنگ کے بعد وہاں بھی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ کیا یہ جنگیں ان ملکوں نے اپنی مرضی سے لڑیں؟

محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ ان کی مرضی شامل نہیں تھی، گو چاروں ممالک ایک دوسرے کو جنگ کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے، لیکن جنگ کے آثار نہیں تھے کیوں کہ یہ ممالک ایک دوسرے کے خلاف ایک طرح کی غیر اعلانیہ جنگ تو لڑ ہی رہے تھے۔ یہ جنگ در اصل manipulators کے کہنے پر نہ صرف شروع، بَل کہ ختم بھی کی گئی۔

ان manipulators کے اپنے مفادات ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اپنی سیاسی، سماجی اور عسکری بالادستی اور برتری کو قائم رکھنا ہے چناں چہ حکم دیا گیا کہ کھل جا سم سم اور جنگ شروع، حکم ہوا کہ اب بس اور جنگ ختم۔

یہ چلتا رہنا ہے، صرف manipulator تبدیل ہونے ہیں کیوں کہ دنیا میں ہمیشہ سے ایسا چلا آ رہا ہے؛ پہلے سرکار برطانیہ تھی جس کی جگہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے لی شاید نصف صدی کے بعد عوامی جمہوریۂِ چین یہ منصب سنبھال لے۔

 ہم یعنی پاکستان جس مسلسل کشیدگی میں جی رہے ہیں، اس کے کب تک متحمل ہو سکتے ہیں اور کچھ کچھ ایسا ہی المیہ ہندوستان کا ہے۔ وہ لاکھ ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت سہی، لیکن عوام کے اتنے بڑے جمِ غفیر کو پالنا اتنا آسان بھی نہیں۔ سو دونوں ممالک اپنے اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ دفاع پر جو خرچ کرتے ہیں، عوام کی بہتری کے لیے کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ بہ ظاہر یہ ایک درسی قسم کا سوال ہے اور دونوں ہی فوری جواب دیں گے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں۔ کیوں ممکن نہیں؟

 روز اول سے دونوں ممالک باہمی عدمِ اعتماد کا شکار چلے آ رہے ہیں اور ایک کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دوسرا فوری طور پر شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اب یہ شک ایک طرح سے دونوں ممالک کے جینیاتی نظام کا حصہ بن گیا ہے۔ کیا یہ شکوک یوں ہی دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے رہیں گے؟

 ہندوستان نے جب ایٹمی دھماکا کیا تو پاکستان نے اسے ایک طرح سے اپنی شکست سمجھا اور مجھے یاد ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا جتنا صدمہ قوم کو تھا، دھماکے کا اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھا اور حکومت کے لیے یہ لازم ہو گیا کہ وہ ایٹمی اہلیت حاصل کرے، جس کی متعدد وجوہات تھیں۔

خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا تو تھا ہی لیکن یکے بعد دیگرے دو صدموں کو برداشت کرنے والی قوم کو کو کسی قسم کی خوش خبری دینا بھی مقصود تھا۔ کیا دونوں ملکوں کے لیے ایٹمی توانائی کا بہتر استعمال ممکن نہیں تھا جو ترقی کا سبب بنتا نہ کہ عسکری muscle کو مزید مضبوط کرتا؟ سیاست دانوں نے عسکری muscle کی مضبوطی کو اہمیت دی، نتیجہ دونوں ممالک کے عوام نچلی سطح سے اوپر نہیں آ پائے، خواص کی بات نہیں ہو رہی۔

دونوں ممالک نے خطرے کا ایک ہوّا کھڑا کرکے اور اپنے اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے دفاعی بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو کافی حد تک نظر انداز کر دیا ہے، ہمارے ہاں زیادہ اور ادھر کچھ کم ۔ ملک عجیب بے سر و سامانی کی حالت میں سے گزر رہا ہے جب کہ اہلِ حَکَم سب اچھا سمجھ اور اسی اچھے کے گُن گا رہے ہیں۔

یہاں manipulator کا کردار مختلف ہے۔ وہ اہلِ حَکَم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تا کہ اپنا اسلحہ بیچ سکے، ضرورت پڑنے پر جنگ شروع کروا کر جب محسوس کرے تو دونوں فریقین کو تولیہ پھینکنے پر مجبور کر دے۔ کیا یہ manipulator ایسے ہی ہمیں ٹشو پیپر بنائیں رکھیں گے؟

وقت ہے کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد کی طرف بڑھیں۔ یہ آسان کام نہیں، سات دہائیوں سے زیادہ کی کم اعتمادی اس تحریر سے ختم نہیں ہو جانی۔ سب سے پہلا قدم عوام کے باہمی رابطے بحال کرنا ہے۔ ایک عام آدمی کے دل میں جو نفرت بھر دی گئی ہے، وہ ایسے ہی کم ہو گی، ختم ہوتے شاید چند دہائیاں لگیں کیوں کہ اس نفرت کی جڑیں صدیاں گہری ہیں۔

عوامی رابطوں میں کرکٹ کی بحالی بھی ہے ضروری ہے، گو اسے ایک طِفلانہ سوچ سمجھا جائے گالیکن یہ کھیل سرحد کے دونوں اطراف ایک جنون ہے، قطعِ نظر کہ کون جیتتا ہے۔

جس ملک کی معیشت کا انحصار خود پیداواری کے بجائے قرضوں پر ہو وہ جنگ جیسے مشغلے کا متحمل نہیں ہو سکتا، امریکہ جیسا معاشی طور پر مستحکم ملک بھی جنگوں کی بدولت غیر مستحکم ہو گیا ہے۔ پاکستان تو کسی کھیت کی مولی نہیں۔ ہم قرضوں کے ذریعے جنگ لڑنے کے وسائل حاصل کرتے ہیں اور جنگ بھی قرضوں ہر انحصار کرتے ہوئے لڑتے ہیں اور جب manipulator کا حکم ملے تو تولیہ پھینک دیا جاتا ہے اور بہ ظاہر یہی ہمارا مقدر ہے۔

سو بہتر نہیں کہ تولیہ پھینکنے کی نوبت ہی نہ آئے اور جیسے کہا جا چکا ہے کہ کم اعتمادی کو کم کرنے کے حالات پیدا کرنے چاہییں۔

عوامی رابطوں میں ڈاک اور کتابیں بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک میں چَھپنے والی کتابیں اب بھی پڑھی جاتی ہیں لیکن کتابوں اور رسائل کے براہ راست تبادلہ کچھ الگ مفہوم رکھتا ہے۔ گو آج کے دور میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے سماجی اور سیاسی حالات سے بہ خوبی واقف ہیں لیکن کتابوں کے ذریعے جاننا اور سمجھنا ایک طرح سے ننگی آنکھ سے دیکھنے کے مترادف ہے۔ سو مواصلات کے اس سلسلے کا آغاز ہونا چاہیے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ اس آمد و رفت سے، کچھ ادارے یہ سوال اٹھائیں گے کہ جاسوسوں کی آمدورفت رفت میں سہولت ہو جائے گی، کیا پہلے یہ کم ہے؟ اس کام کے لیے تیسرے ملک جیسے ایران ہندوستان کے لیے اور نیپال پاکستان کے لیے جاسوسی کے اڈے ہیں۔

سرد جنگ کے دوران میں امریکہ اور سویت یونین کے جاسوسی پر مبنی ایک شدید جنگ لڑی جاتی رہی تھی۔ امریکہ کا نشانہ مشرقی یورپ اور روس کا امریکہ بذات خود تھے اور دونوں افریقہ، لاطینی امریکہ اورا مشرق وسطیٰ کو زیرِ اثر لانے کے لیے یہ جنگ لڑ رہے تھے۔

ہمارے ہاں تو یہ مسائل نہیں، صرف علیحدگی پسندوں کو سہولیات فراہم کرنی ہوتی ہے، امریکہ اور سوویت یونین تو حکومتیں بھی بدلتے تھے۔ سو ہمارے دونوں ممالک کو اس معاملے میں منفی سوچ اپنانے کے بجائے مثبت سوچ رکھنی چاہیے۔ جاسوسی ہمیشہ جاری رہتی ہے چاہیے آپ کا پڑوسی بھائی ہی کیوں نہ ہو؟

عوامی رابطوں کے سلسلے میں مواصلات کی بحالی اہم تر ہے۔ ڈاک کی سہولت مل جائے تو سینے پر رکھا ہوا ایک بھاری پتھر ہٹ جائے گا اور سانس لینے میں کچھ سہولت ہو جائے گی۔ عوام کے رابطوں اور کلچرل تبادلوں کے لیے سفر کی پابندیاں ختم ہونی چاہییں۔ کچھ عرصہ پہلے کلچرل تقریبات پر دونوں ممالک کے وفود اپنا اور اپنی ریاست کا بیانیہ، جس نوعیت کی تقریب ہو، سامنے رکھتے تھے۔ میرے علم میں ہے ادھر کی کچھ خواتین یہاں بیاہی ہوئی ہیں اور وہ اپنے عزیزوں کے دکھ اور خوشی میں شامل نہیں ہو سکتیں، جو لوگ معاشی طور پر آسودہ ہیں وہ کسی تیسرے ملک میں مل لیتے ہیں جو ہر کوئی نہیں کر سکتا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ باہمی آمد و رفت رفت پر پابندی سے دونوں ریاستوں یا حکم رانوں کو حاصل کیا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ورلڈ کپ کے پاکستان اور ہندوستان کے میچ میں کچھ تماشائی جن کے پاس دوسرے ممالک کے پاسپورٹ تھے، انھیں پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی اجازت نہیں دی گئی اور سٹیڈیم بدر کر دیا گیا۔ کیا یہ ایک ریاست کی فتح اور دوسری کی شکست تھی؟ بالکل بھی نہیں۔ یہ اس نظام کی شکست تھی جو دونوں ممالک میں پھل پھول رہا ہے۔

 تجارت تعلقات کی بحالی کا ایک اہم تر ذریعہ ہے۔ پاکستان سٹریٹجیکلی ایک اہم مقام پر واقع ہے۔یہ اگر خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے نواح میں ہے تو افغانستان کے لیے زمینی اور سمندری راستوں کی سہولت بھی یہیں سے ہے۔ اسی طرح مشرق وسطی کے ممالک کے لیے بھی ایک طرح سے تجارتی مواصلات کی سہولت مہیا کرتا ہے۔ ہندوستان، جو پہلے دن سے اور جواباً پاکستان بھی، ایک دوسرے کے خلاف کمر بستہ ہیں، اسی طرح وسطی ایشیا کی ریاستوں کو بھی زمینی رسائی پاکستان کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے، چین بھی پاکستان کے اہم پڑوسیوں میں سے ہے اور شاہراہِ ریشم کے ذریعے تجارت بھی ہو رہی ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کی اپنی اہمیت ہے۔ ایسی اہم جگہ پر واقع ہونے کے بعد پاکستان، اپنے ہمسایہ ممالک سے تجارت کیوں نہیں کرتا۔

ایران سے پٹرولیم پاکستان کو انتہائی سستے داموں سے مل سکتا ہے، اور معیشت کی بحالی کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے، بے شمار پٹرول جنگ سے پہلے روز سمگل ہوتا تھا اور پٹرول پمپ اس سمگل شدہ پٹرول سے چلتے تھے جو اج کل عارضی طور پر بند ہیں تو یہ سرکاری طور پر کیوں نہیں؟

معاشی بحالی کا ڈھنڈورا تو بہت پیٹا جاتا ہے لیکن شاید ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا جا سکا اور منصوبے کے تحت ملک کو اشرافیہ کی ریاست بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تجارت کی طرف آتے ہوئے، یہ ایک دور میں بحال تھی اور دونوں طرف کے عوام کو سب سے پہلے perishables کی تجارت کا کافی فائدہ تھا۔ اگر پاکستان میں پیاز اور ہندوستان میں ٹماٹر کی کمی ہوئی تو اگلے دن ہی ضروری جنس پہنچ جاتی تھی۔ مضحکہ خیز پہلو تو یہ ہے کہ ہندوستان سے افغانستان کو تجارتی اشیا پاکستان کے راستے جاتی ہیں لیکن ایک طرف ہٹ دھرمی اور دوسری طرف نظریاتی اور ضرورت کے فارمولے کے تحت تجارت شجرِ ممنوعہ ہے۔ تجرباتی نظر سے ایک بار پھر کھول کر سہولیات کا انبار تو دیکھیں۔

 حکومتی سطح پر دونوں ممالک میں کوئی رابطہ نہیں۔ آج ہندوستان تیسرے ملک کی معرفت بھی مذاکرات نہیں چاہتا۔ دونوں ممالک کے درمیان میں سنگین نوعیت کے اختلافات ہیں جو یہ جنگ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آخرِ کار انھیں مزید بڑھاتی ہے۔ ویسے بھی جنگ حل نہیں۔ جہاں جنگ کےذریعے حل نکالا گیا وہاں تباہی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ یہ مسائل ایک ملاقات میں حل نہیں ہونے اور ان ملاقاتوں کو، مختلف سطحوں پر جاری رکھنا چاہیے۔ یہ بھی نہیں کہ ایک کشمیر کے مسئلے حل کرنے کے لیے دونوں وفود ناکام ہو کر جنگ پر اتر آئیں۔ مذاکرات کا آغاز چھوٹے مسائل سے اہم مسائل کی طرف بڑھنا چاہیے نہ کہ بڑے مسئلے کی ناکامی تمام تعلقات کے اختتام کا باعث بنے۔