پاکستان، بھارت: سماجی ترقی کے اشاریوں کی جنگ کا منظر نامہ

وقاص احمد
صاحب مضمون، وقاص احمد

پاکستان، بھارت: سماجی ترقی کے اشاریوں کی جنگ کا منظر نامہ

از، وقاص احمد

کچھ دن پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاک بھارت عسکری تناؤ کے حوالے سے بیان دیا جس میں انہوں نے پاکستان کی عوام اور حکمرانوں کو واضح چیلنج کیا کہ ہتھیاروں کی دوڑ کی بجاۓ عوام کی خوشحالی اور بہتری کے حوالے سے مسابقت کو پروان چڑھایا جاۓ۔ تعلیم کے فقدان اور غربت جیسے مسائل کے حل کے حوالے سےایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سعی کی جاۓ۔ نیز بڑھک لگائی کہ اس میدان کارزار میں بھارت پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہے۔

اس تناظر میں ہمیں بحیثیت ایک قوم اور معاشرہ ٹھنڈے دماغ سے ایک درست تجزیہ کرنے کی ضرورت ہےکہ اگلے دس سالوں میں کیا واقعی بھارت ہمیں اپنے بنیادی سماجی، معاشی اور تعلیمی مسائل کے حل کے حوالے سے پیچھے چھوڑ دے گا جو دونوں اقوام کا کئی دہائیوں سے مشترکہ المیہ ہیں۔ ان سطور کا مقصد اسی مفروضے کی سنگینی کا غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لینا ہے.ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ قوم پرستی کا حقیقی تصور دشمن کی ہر تنقید کو پروپیگنڈا سمجھ کر آگے بڑھ جانا ہے یا صحیح معنی میں حالات کی معرفت کا شعور حاصل کرنا ہے۔ کیوں کہ بعض اوقات وقتی جذباتیت اور ہیجان آپ کو درست سمت میں بروقت فیصلہ سازی کے ہنر سے محروم کر دیتا ہے۔ اس لئے نریندر مودی کے اس دعوی کو نہایت حکیمانہ انداز میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔

ذیل کے مندرجات میں پاکستان اور بھارت کے مشترکہ معاشی، سماجی اور معاشرتی مسائل کا تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ممالک نے کس حد تک ان مسائل کو حل کرنے کا بیڑا درست طور پہ اٹھایا ہے اور کون کتنا کامیاب ہے؟

غربت میں کمی کے حوالے سے بہت سارے آزادانہ ذرائع سے حاصل شدہ رپورٹس اور سروے موجود ہیں۔ مگر ان کے اعداد و شمار میں بہت حد تک باہمی تفاوت موجود ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان سب میں سے کون حقیقت کے زیادہ نزدیک ہے۔ دونوں ممالک میں مختلف غیر جانبدارانہ اداروں کے کیے گئے سروے موجود ہیں۔ مگر ان کے درمیان کوئی ایسی مناسبت نہیں کہ ہم وثوق سے کہہ سکیں کہ کون سا سروے کتنا قابل اعتبار ہے۔ اس حوالے سے ماضی قریب میں منظرعام پر آنی والی ورلڈ ڈویلپمنٹ انڈیکیٹرز ٢٠١٥ کی رپورٹ اہم ترین دستاویز میں سے ایک سمجھی جا سکتی ہے۔ اس کے نمایاں ترین پہلو یہ ہیں کہ یہ رپورٹ ورلڈ بنک کے فورم سے جاری کی گئی ہے اور اس میں دیئے گئے اعداد و شمار اکثر اوقات سرکاری سطح سے حاصل کئے گئے ہیں چنانچہ اس رپورٹ کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔


مزید دیکھیے:  نئی عالمی سیاسی بساط اور پاکستان


اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں شدید غربت کا شکار افراد کی تعداد ٢١.٣ فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان میں یہ تعداد ٢٩.٢ فیصد ہے۔ یاد رہے کہ غربت کی حد کا پیمانہ قومی معیارات کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک میں ایک اچھی خاصی بڑی تعداد شدید غربت کا شکار ہے اور ایک اندازے کے مطابق دو ڈالر روزانہ سے بھی کم آمدنی رکھتی ہے۔ جب کہ کم غربت والی آبادی دونوں ممالک میں پچاس فیصد کے آس پاس ہے۔ جس کی حد تقریباً سوا تین ڈالر روزانہ ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ ایک گھر کی کم سے کم اخراجات کی حد ہے۔

مندرجہ بالا اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ غربت کے حوالے سے دونوں ممالک تقریباً ایک ہی سطح پر ہیں اور دونوں میں کوئی واضح فرق نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ممالک اس معاملے میں ایک جیسی غفلت کا شکار ہوۓ؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام کی خوشحالی کا اندازہ محض جیب میں موجود پیسوں سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ عوام کو صحت، تعلیم، رہائش، لباس اور روزگار کے مواقع کس حد تک میسر ہیں اور ان کی تعلیمی، جسمانی اور معاشی ضروریات کس حد تک پوری ہو رہی ہیں۔ یقیناً ایک پانچ سو روپے کمانے والے شخص سے تین سو روپے کمانے والا شخص بہتر ہے اگر وہ کم پیسوں میں بہتر خوراک، بہتر لباس اور بہتر تعلیم و تربیت کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہا ہو۔

اس تناظر میں دیکھیں تو ہمیں ایک اور رپورٹ پر نظر ڈالنی پڑے گی جو بنیادی طور پہ اسی تضاد کو مدنظر رکھ کر ہر سال پیش کی جاتی ہے، اور وہ رپورٹ ہے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس۔ یہ انڈیکس اقوام متحدہ کے فورم سے جاری کیا جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس انڈیکس کا بنیادی خاکہ ایک پاکستانی اورایک بھارتی معیشت دان نے مشترکہ طور پہ تیار کیا تھا۔ یہ انڈیکس ایک مخصوص جغرافیائی علاقے، جو کسی منظم سیاسی بندوبست کے زیر انتظام ہو ( یعنی دنیا کے مختلف ممالک) میں ترقی اور خوشحالی کا ایک بڑا متوازن تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس انڈکس میں ایک ملک کو انسانی ترقی کے حوالے سے مختلف معیارات میں کچھ نمبر دیے جاتے ہیں۔ ان معیارات میں تعلیم، صحت، اوسط آمدنی، عدم مساوات، صنفی صورتحال، غربت میں اضافہ یا کمی، امن و امان،روزگار، تجارت وغیرہ شامل ہیں۔ پھر ان معیارات میں کارکردگی کے مطابق سکور کو یکجا کر کے ممالک کا تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان پچھلے دس سالوں میں کبھی بھی ہندوستان سے اس تقابلی جائزے میں آگے نہیں بڑھ پایا۔ بلکہ ٢٠٠٥ میں پاکستان اور بھارت کا فرق صرف سات درجے کا تھا جو ٢٠١٥ میں بڑھ کر سترہ درجے ہو چکا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے؛ بھارت میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد تقریباً چوہتر فیصد ہے جبکہ پاکستان میں شرح خواندگی ٢٠١٣ میں ساٹھ فیصد سے کم ہو کر ٢٠١٥ میں اٹھاون فیصد پر آ گئی ہے۔ پاکستان میں اوسطا بچے آٹھ سال سے کچھ کم سال اسکول میں پڑھتے ہیں۔ بھارت میں یہی شرح تقریباً ساڑھے گیارہ سال ہے۔ بھارت میں اوسط عمر بھی پاکستان سے دو سال زائد ہے، یعنی تقریباً اڑسٹھ سال۔ بھارت میں ہر ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے سنتالیس موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ تعداد تریسٹھ ہے۔ آبادی کے تناسب سے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں بھی بھارت ہم سے آگے ہے، یعنی تقریباً تیس فیصد بہتر.صحت کا شعبہ مجموعی طور پر پاکستان سے ستائیس فیصد بہتر ہے۔ جس میں اخراجات، معیار اور سہولیات سب کا جائزہ شامل ہے۔ صرف ڈاکٹرز کی تعداد کے حوالے سے ہم ہندوستان سے تقریباً تئیس فیصد آگے ہیں۔

اگے چلتے ہیں۔ بھارت میں معاشی ترقی کی رفتار موجودہ سال تقریباً سات فیصد سے زائد ہے اور ہم حکومتی اندازوں کے مطابق چار فیصد پہ براجمان ہیں۔ امن و امان کے حالات، افراد کے تناسب سے مجموعی ملکی آمدنی اور روزگار کے مواقع کے مقابلے میں بھی ہم پیچھے ہیں۔ ان حالات میں یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ نریندر مودی نے ہماری توجہ اس جانب صحیح طور پہ مبذول کرائی ہے۔ چاہے اس کا مقصد منفیت اور حوصلہ شکنی کی فضا پیدا کرنے کے ہوں، مگر ہمیں ان اعلانات کو ایک بروقت تنبیہ سمجھ کر اپنے مستقبل کو سنوارنے کے اقدامات آج سے ہی شروع کر دینے چاہئیں۔ اور غور کرنا چاہئے کہ ایسا نا ہو کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ہم اپنے اندرونی نقائص کے باعث اتنے لاغر ہو جائیں کہ دشمن کو ہمیں کمزور کرنے کی ضرورت ہی نا پڑے۔

یاد رکھیں، عدل کی بنیاد پر معاشی خوشحالی، سیاسی استحکام کی بنیاد پر معاشرتی انصاف اور امن نیز تعلیمی نظام کی مضبوطی کی بنیاد پر افراد کی تربیت اور ذہن سازی، یہی اساسی اصول ہیں جو کسی مملکت کے قائم رہنے کا حقیقی جواز بن سکتے ہیں۔ اسلحہ اور افواج کے سہارے ملک کی سرحدوں کا دفاع تو کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کی بقا کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

About وقاص احمد 10 Articles
وقاص احمد پیشے کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ بچوں کے امراض میں پوسٹ گریجوایشن کر رہے ہیں۔ خود کو پاکستانی تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی اوسط مجموعی فہم کا نمائندہ خیال کرتے ہیں اور اسی حیثیت میں اظہار خیال کے قائل ہیں۔

1 Comment

  1. ڈاکٹر وقاص نے ایسے وقت میں جبکہ لوگ بے تکی باتوں میں آسمان و زمین ایک کر رہے ہیں سیاسی سماجی اور معاشی انڈیکیٹرز سے یہ بات بہتر انداز سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دونوں قوموں کو جنگی جنون میں مبتلا ہونے کے بجاءے اپنی تواناءیاں مضبوط سیاسی نظام ,بہتر سماجی سٹرکچر اور معاشی خوشحالی پر صرف کرنا چاہءے

Comments are closed.