تخلیق کار، دھرتی ماں سے محبت اور تخلیق: ایک گفتگو

Rozan Social Speaks
ایک روزن سوشل

تخلیق کار، دھرتی ماں سے محبت اور تخلیق: ایک گفتگو

از، ایک روزن رپورٹس

علی احمد فرشی: میرا عقیدہ ہے کہ جو تخلیق کار اپنی دھرتی ماں سے پیار نہیں کرتا وہ اپنی سگی ماں سے بھی پیار نہیں کر سکتا۔ اور جو اپنی سگی ماں سے پیار نہیں کرتا، وہ کسی سے بھی پیار نہیں کر سکتا۔ جو کسی سے پیار کر سکتا، وہ تخلیق کار ہو ہی نہیں سکتا۔ (مجھ سے اتفاق کرنا ضروری نہیں، تاہم اس پر غور کرنا غیر ضروری نہیں۔)

قُربِ عباس:

ایک آرٹسٹ تضادات اور تنازعات کو ابھار کر سامنے رکھتا ہے تا کہ اس کا سماج تصویر کے دونوں رخوں کو واضح طور پر دیکھ سکے کیوں کہ کسی بھی conflict کو مٹانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو عوام بہتر طور سمجھتے بھی ہوں۔

اس لیے ضروری ہے کہ وہ کسی طرح سے بھی اس معاملے میں جانب دار نہ ہو، جانب دار وہ اس وقت ہو گا جب اس کے اندر “قوم پرستی” کا عُنصر پایا جائے گا جب کہ بہترین آرٹسٹ حب الوطن تو ہوسکتا ہے لیکن قوم پرست نہیں ہو سکتا۔ اگر قوم پرست ہے تو پھر ایک بہترین اور آفاقی آرٹ تخلیق ہی نہیں کر سکتا کیوں کہ قوم پرستی کا مطلب ہی دوسری قوم کے لیے نفرت کا عُنصر رکھنا ہے۔

کسی دوسری قوم کے لیے یہ نفرت کا عُنصر شعوری ہو کہ غیر شعوری، اس کی تخلیقی صلاحیتوں پر جمود کی مہر ہے۔ اس کا تخیل محدود دائرے میں بندھ جاتا ہے کیوں کہ آرٹ محبت کا پرچار ہے اور آپ اس وقت تک محبت کو پینٹ نہیں کر سکتے جب تک آپ اپنے اندر سے نفرت کے زہر کو ختم نہیں کر لیتے۔

ایسی صورتِ حال میں آرٹسٹ چاہے انڈیا کا ہو یا پاکستان کا، اس کو اس جنگ کے کار و بار میں اپنی آرٹ کے ذریعے محبت کا پیغام دیتے رہنا ہے۔ یہ جھڑپیں ہو سکتا ہے کہ ختم ہو جائیں لیکن نفرتیں آپ کے تخلیل کو گُہن لگا کر چلی جائیں گی اور آپ فکری اور تخلیقی طور پر نا بینا ہو جائیں گے۔

ماضی کے وہ مصور، وہ لکھاری، وہ ادا کار، وہ گلُو کار، وہ تمام آرٹسٹ جنہوں نے بارود کی بُو سے لتھڑی فضا میں امن کے پرچم بلند کیے، کل بھی عظیم تھے، آج بھی عظیم ہیں، زندہ ہیں اور جنگ چاہنے والے جنگ کے ختم ہوتے ہی بے نام راکھ میں ڈھل گئے۔

 

یاسر چٹھہ:

ہمیں سورج کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا نہیں آتا!

ہم بھلا کوئی مشرک ہیں؟ نہیں پیارے ہم ایسے مشرک نہیں۔

ہم وطن سے ویسی محبت کیوں نہیں کر پاتے، جیسی آپ چاہتے ہیں، میرے ہم مکان و ہم زماں

پتا نہیں کیوں ہمیں ہر طرف انسان کیوں نظر آ جاتے ہیں، ورنہ ہم بھی صرف ایک دھرتی ماں سے پیار کرتے۔

دھرتی ویسے کہاں ہوتی ہے؟

کیا یہ دھرتی بہت بڑی نہیں ہوتی؟ یا کہ یہ اسے حلوے سے بنے صنم کی طرح جب جی چاہا کاٹ لیا جاتا ہے؟ کسی بھی وقت میں، کسی بھی سپیس میں؟

بچے بڑے ہو جائیں تو کیا ماں کا پارے پارے کر لینا جائز ہے؟

اپنے پیار کو زمانے کی چھوٹی چھوٹی چابی اور سیلوں والی کھلونا گاڑیوں ایسی زمانی و وقتی اکائیوں میں بدلتی سرحدوں کے مَلملِیں غلاف میں لپیٹ لیتے۔

اس پیار کو ہوا نا لگنے دیتے۔

اس پر پڑنے والے سورج کا باہم ٹکڑے ٹکڑے کر لیتے۔

پارہ پارہ چُنتے چُنتے، یا پھر نوچتے اور کہتے کہ…

ہم نا سمجھ ہیں۔

یا شاید، ہم نا قابلِ فہم ہیں، یا فہم و نا فہمی کے دیسوں سے پار چاند گُم ہیں۔

پیار کا قد چھوٹا بڑا کرنا ہم ایسوں کو سب سے بڑا شرک لگتا ہے۔

کیا کریں پھر؟

بُھلّے آؤ نا ہمیں بتاؤ کہ ہم کہاں جائیں؟

بُھلیا دَس ناں، اسیں کِتھے رہندے آں

علی محمد فرشی:

جنابِ من! مجھے بھی “پتا نہیں کیوں ہمیں ہر طرف انسان کیوں نظر آ جاتے ہیں” ؟؟

صلاح الدین درویش: (فرشی صاحب) آپ (پنے بالائی متن میں) غیر ضروری طور پر جذباتی ہو رہے ہیں۔

علی محمد فرشی: شاعر کے پاس جذبات کے علاوہ ہوتا بھی کیا ہے۔ (مسکراہٹیں) جب آپ ضروری طور پر بھی جذباتی نہیں ہوتے تو آپ کا بوجھ بھی میرے کندھوں پر آ جاتا ہے۔ (مسکراہٹیں)

بینا بخاری:

ہم پنکھیرو ہیں بگوامادر پدر آزاد۔ سرحدیں نہ رکاوٹیں، گولاٹیاں کھاویں یا اڑتے جاویں بس جشن مناویں ہیں۔ دھرتی ماتا، آسماں باپو، فضا چاچی، ہوا، مامی پچھم، بُوا پورب، خالہ سارا جگ، اپن کا پھیملی ہے۔ پھر بھی کسی روڑتے گھن چکر کو نہ مانیں ہیں۔

سعید سادھو: بنیادی محبت سے انکار کے ساتھ آفاقی محبت کا دعویٰ فقط فیشن ہے۔

شمیل حسن: بات میں شگاف ڈالتے ہوئے ایک ماڈرن مصور کی بکواس۔ یہ سیارہ زمین میری دھرتی ماں ہے۔ میری روح، میرے جذبات کہاں سے نزول کر آتے ہیں، وہ نامعلوم بھی میری کسی محبوبہ یا سہیلی کا ہی ٹھکانہ ہو گا ۔ (قہقہہ)

علی محمد فرشی: شمیل حسن اور بینا بخاری، آپ دونوں کو ابھی نند کے ساتھ ہی روانہ ہو جانا چاہیے تھا۔ اب بھی وقت ہے، یہ نہ ہو  کسی غوری میزائل پر چڑھ کے جاؤ۔ بینا کو تو ویسے اونچی جگہوں پر چڑھنے کا شوق ہے۔ دل نہ لگا تو پرتھوی پر چڑھ کر واپس آ جانا۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔
پھولوں جیسے دو ماہیے
دل دونوں کـو دے بیٹھی
گئے پاگل ہو ماہیے
فـرشی

فضل حسین شمیم:

سعید سادهو نے دھرتی ماں” کے حوالے سے ابھرنے والی اس بحث کے سارے سوال سانس لیتے ہیں، زندہ ہیں، جواب چاہتے ہیں۔ کچھ جواب بھی ابھرے ہیں۔ لیکن آپ  نے کیا اچھی دلیل دی ہے۔ تاہم سوال ابھی بھی بھوکے ہیں بحث ترسی تریائی ہے۔

شمیل حسن:

علی احمد فرشی، نہیں ہم یہاں کے نحوست زدہ دوستوں اور سہیلیوں کو چھوڑ کر دوسرے منحوس کلچر میں نہیں جانا چاہتے۔ دھرتی ماں کا تصور ایک مِتھ ہے اور مِتھ صرف خیال کی دنیا میں ہی بھلی لگتی ہے۔ حقیقی دنیا میں یہ ایک بکواس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ماڈرن دنیا میں اسے بہ طور ذہنی ہتھیار کے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ محافظ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھائیں۔ ہمیں پروپیگینڈہ کے لیے استعمال نہ کریں۔ پرانے وقت گئے جب شاعروں سے جنگوں میں دشمن پر ہِجو گوئی کروائی جاتی تھی۔ ہمارے ضمیر اب مر چکے۔ یہی بات ہے ناں؟ (قہقہہ)

نوشابہ ہاشمی:

سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا
بولیے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
سلیم کوثر

ایف جے فیضی:

سر جی ذرا دھرتی ماں کی وضاحت بھی کر دیجیے۔ کیا کسی ریاستی بند و ست کو دھرتی ماں کہا جائے، یا ہزاروں سالوں سے جس دھرتی سے وابستگی ہو، اسے دھرتی ماں کہا جائے؟ مثال کے طور پر جو جس بنگالی کے والدین بہ طورِ پاکستانی پیدا ہوئے، اُن کی دھرتی ماں کون سی ہے؟ اور جن پاکستانیوں کے والدین بہ طورِ ہندوستانی پیدا ہوئے، اُن کی دھرتی ماں کون سی ہے؟ ریاستی بند و بست اور دھرتی ماں فرق واضح کر دیں سر جی۔

علی محمد فرشی:

ایف جے فیضی صاحب، سر جی! مجھے تو، قطعیت کے ساتھ، اپنی وضاحت کرنے کے لیے بھی الفاظ نہیں مل رہے۔ اب اس کا کیا کروں کہ میں پوٹھوہار میں پیدا ہوا اور پوٹھوہاری بن گیا، اتفاق سے پوٹھوہار پنجاب میں واقع ہے تو پھر میں پنجابی کہلایا۔ پنجاب کا یہ خطہ پاکستان میں ہے لہٰذا مجھے پاکستانی شہریت مل گئی۔ پاکستان ایشیا میں موجود ہے تو میں ایشیائی بھی ہوں۔ ایشیا زمین پر واقع ہے تو اس اعتبار سے ارضی ہوں۔ پھر زمین کائنات کا حصہ ہے تو کائناتی بھی ہوں! شناختوں کی یہ زنجیر میں نے خود کو اپنے اختیار سے نہیں پہنائی!

یہ تمام شناخت نامے کسی دوسرے کی ضد کے باعث مجھ پر مسلط ہیں۔ جب تک میں زندہ ہوں پوری دنیا کے انسان مجھے سب سے پہلے پاکستانی قرار دیں گے، کیوں کہ میرے پاسپورٹ پرپاکستان کی مہر لگی ہوئی ہے۔ میں خود کو کائناتی کہلانا پسند کرتا ہوں۔ شاید آپ بھی یہی پسند کریں۔

لیکن کیا کائنات بھی مجھے اپنا حصہ سمجھتی ہے؟ یا پوری دنیا کے انسان بھی مجھے اپنا حصہ سمجھتے ہیں؟ کیا آپ کو اپنے پسندیدہ ملک میں وہاں کے شہری اپنا حصہ مان لیں گے؟

اگر کسی کو یہودی پسند ہیں تو وہ اپنی خواہش سے یہودی بن سکتا ہے؟ آپ کو معلوم تو ہو گا کہ دنیا کا کوئی انسان بھی یہودی نہیں بن سکتا سوائے پیدائشی یہودی کے! مجھے مکہ بہت پسند ہے، لیکن سوچنا پڑے گا کہ سعودی عربیوں کو بھی میں پسند ہوں۔ لندن اور پیرس شاید ہی کسی با ذوق انسان کو خوب صورت نہ لگیں۔

لیکن کیا انگریز اور فرینچ بھی ان با ذوق حضرات کو اپنے درمیان برداشت کر لیں گے؟  مجھے تو اپنے اور آپ کے ان اجداد پر غصہ آ رہا ہے جو مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ سارا کیا دھرا انھی کا ہے۔ نہ وہ مسلمان بنتے نہ یہ مصیبت ہمارے گلے پڑتی۔

لیکن پھر ایک بات راستہ روک لیتی ہے کہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے، مزے میں ہیں؟ مثلاً 1950 میں تین ہم نام انسان تھے، ایک ہی شہر میں، ایک ہی طبقے میں پیدا ہوئے۔ تینوں کا نِک نیم nick name پرسو پڑ گیا۔ اب ایک ہی پرسو بچا ہے بے چارہ۔ دوسرا دس برس پہلے ہیڈ کلرک کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوا ہے۔ اسے پرس کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ تیسرا زرا چالاک تھا اور اتفاق سے پولیس میں سپاہی بھرتی ہو گیا۔ اگر چِہ سپاہی کے طور ہی ریٹائرڈ ہوا لیکن اس اپنی ‘ذہانت’ اور ‘محنت’ سے خوب دَھن کمایا۔ آج پرسو رام کہلاتا ہے اور مزے اڑاتا ہے۔ اب بولو، سرجی؟

ایف جے فیضی:

علی محمد فرشی صاحب، یعنی کشمیر اور فلسطین کے لوگوں کو اپنی دھرتی ماں سے محبت نہیں. پس وہ تخلیق کے قابل نہیں۔

علی محمد فرشی: ایف جے فیضی، میرے خیال میں آپ میرے ابتدائی نوٹ کو ایک بار بہ غور پڑھ لیں۔

ایف جے فیضی: علی محمد فرشی صاحب، جی سر جی۔

رفیع رضا:

میں سمجھتا ہوں یہ عارضی جذباتی بیان ہے۔ یا عمومی ماحول کے اثر سے لہو لگا کے شہیدوں میں ملنے والی بات ہے۔ برٹرینڈ رسل نے ایسی حب الوطنی کے بارے فرمایا تھا، اور عین درست فرمایا تھا کہ  “Patriotism is the willingness to kill and be killed …۔۔۔حب الوطنی۔۔۔ قتل کرنے اور قتل ہونے پر آمادگی کا نام ھے۔۔۔۔ جزاک اللہ۔۔(جو کہیں نہیں)

علی محمد فرشی:

آپ کے ارشادات درست بھی ہو سکتے ہیں اور نا درست بھی! ویسے آپ نے ابھی تک  اپنا نام کیوں تبدیل نہیں کیا؟ یہ مسلمانوں کا لگتا ہے؟ شاید عربی الاصل ہے۔ آپ رفیع رضا ہیں ناں! یا رفی رذا؟ میں نے چند باتیں آپ سے پہلے ایف جے فیضی سے کی ہیں، پلیز وہ بھی پڑھ لیں۔

ویسے آدمی بڑے مزے کی شے ہے۔ بس ایک عیب ہے اس میں کہ غصہ کھاتا ہے۔ کتا کھا لے،سؤر کھا لے، گوشت پسند نہیں تو آلو کیلے کھا لے۔ احمق غصہ کھاتا ہے اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ غصہ اسے کھاتا جا رہا ہے! پیارے میں ذرا کِھسکا ہوا آدمی ہوں اور ہر کِھسکے ہوئے آدمی سے پیار کرتا ہوں۔

رفیع رضا:

میں جب بھی رفیع کو بوزن رفی استعمال کرتا ہوں تو عروض دان چیختے چلاتے ہیں۔

دوسری بات، ھم اردو بَکتے ہیں جو ہم پر مسلط کی گئی۔ جب کہ پنجابی ہیں ہم۔ اب بچپن میں اپنی پیدائشی پر اپنا نام تو خود نہیں رکھ سکتا تھا۔ میرے ماں باپ بے چارے برین واشڈ ہی تھے۔ کیا کریں۔ میں نہین ہوں۔ آپ کو یہ بات خوب پتا ہوگی کہ جناح ریٹائرمنٹ بمبے میں اپنے کوٹھی میں گزارنا چاھتے تھے۔ آپ کو یہ بات سمجھ آ جانا چاہیے۔

……

سدرہ سحر عمران:

بغیر وطن کے آپ اپنی ترجیحات کا تعین کرسکتے ہیں؟ جن کے پاس وطن کی شناخت نہیں ان کے حالات دیکھے ہیں ؟ کتوں سےبدتر زندگی گزارتے ہیں۔ روہنگیا سے لے کر کشمیر تک میں دیکھ لیں۔

جن کے پاس اپنے مکان نہ ہوں وہ تک فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ مٹی اور بے گھری کی قیمت اونچے مکانوں میں رہنے والے کیا جانیں۔

صلاح الدین درویش:

سدرہ سحر عمران،  ہر فرد کسی نہ کسی زمین پر چلنا سیکھتا ہے۔ اس زمین کی زبان، ثقافت، سماج اور تاریخ سے ایک تعلق بھی ضرور استوار ہو جاتا ہے۔ لیکن تعلق کے اس نظام پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ اس نظام کی ہر سطح پر ایک اشرافیہ بھی موجود ہے کہ جس کی تقدیس کے ترانوں کے ذریعے زبان ثقافت سماج اور تاریخ کو الوہی عظمت عطا کی جا رہی ہوتی ہے۔ مثلاً زمین طاقت ور طبقوں کی ملکیت ہوتی ہے۔ جب ہم اس کی عظمت کے گیت الاپتے ہیں تو ہم بے خبر ہوتے ہیں کہ ان طبقوں کے محض آلۂِ کار بنے ہوئے ہیں۔ جب ہم مذھب کی عظمت کے گُن گاتے ہیں تو ہجوم اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ مذھبی اشرافیہ کی hegemony کے قیام کی تدبیر میں شامل کر لiے گئے۔ ایسے ہی ہم قوم کے” سپوتوں” کی خاطر بستے شہروں کی گلیوں کو خون اور بارود کے کیچڑ سے بھر دیتے ہیں۔۔۔۔وغیرہ۔

وطن کا تصور مجھے آفاق میں پرواز سے روکتا ہے مجھے دوسرے اوطان و عقائد و نظریات و رنگ و نسل و ثقافت سے عصبیت اور دشمنی پر اکساتا ہے۔

ایک برتری کا اضافی احساس پیدا کرتا ہے کہ جس کی فصل پر میرا کوئی حق نہیں ہوتا۔ یہ فصل رنگ و نسل و ثقافت و زمین مذاھب کی اشرافیہ کھاتی ہے۔ روہنگیا کو وطن پرستی نے ہی بے زمین landless کیا ہوا ہے۔ اچھی مثال ہے۔

سدرہ سحر عمران:  صلاح الدین درویش، عذاب کی طرح مسلط کی ہوئی اشرافیہ سے بچ کر کہاں جائے ۔شائد یہئ تقسیم توازن کا باعث ہے ورنہ نظام تلپٹ ہوجائے ہر شاہ کو وفادار چاہئے ہوتے ہیں اس بیانیے سے جتنی بھی نفرت کی جائے مگر اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔کوئی جوتے بنانے والا جوتے بنائے گا تو پہننے والا پہنے گا۔ وطن پرستی انسانی مجبوری ہے اسے پنا ہ چاہئے ۔حتی کہ مرنے کے بعد بھی وہ زمین کا محتاج ہے

عابد میر:  صلاح الدین درویش، ذات زمین کے کسی نہ کسی ٹکڑے پر ہی ہوتی ہے، خلا میں تو نہیں۔ زمین کے اس ٹکڑے کے کچھ لوازم بھی ہوں گے۔ انفرادی شخصیت کوئی خلائی وجود نہیں۔ ہم زمیں زاد ہیں، زمین کے بچے ہیں۔ پوری زمین ہمارا کنبہ ہے۔ مگر زمین کے جس ٹکڑے پہ ہمارے پاؤں ہیں اس سے جڑت فطری ہو گی اسے کسی نصاب کی ضرورت تو نا ہو گی۔

صلاح الدین درویش: عابد میر یار، میں زمین سے جڑی عصبیت کی بات کر رہا ہوں۔۔۔۔باقی اپ کی بات سے کوئی انکار نہیں۔

……..

نعیم بیگ:

اس گفتگو اور مکالمے کے دو ابتدائی پہلو ہیں ۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر گفتگو سے پہلے میں انسانی اکائی کی بنیادی آزادی اور اس کے وجودی میسر ہونے کے سماجی، سیاسی، اور معاشی حقوق کی حفاظت کو ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر کسی اکائی کو یہ آزادی میسر نہیں اور جبر و خوف کی فضا ریاستی یا سماجی سطح پر کارِ فرما ہے تو حب السان و حب الوطنی ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ دنیا بھر میں صدیوں سے ہجرت اس کی بہترین مثال ہے۔

اب مکالمے پر گفتگو کر لیتے ہیں۔ جیسا میں نے عرض کیا  کہ دو جہات ہیں۔ پہلی جہت تخلیقی سطح پر اور دوسری نظریاتی سطح جس کے سامنے کئی ایک جہات ہیں۔

جب ہم صرف دھرتی ماں کہتے ہیں تو اس میں یقینی طور پر ہمارے جنم لینے کے بعد ازاں وہ عوامل پنہاں ہوتے ہیں جس میں ہمارا خاندان، سماج ، کلچر اور ہمیں نوزائیدگی سےلے کر شعوری عمر تک کی پہچان اور حفاظت مہیا کی گئی ہوتی ہے۔

یہ سماج چُوں کہ متعلقہ جغرافیائی یونٹ کے اندر رہتے ہوئے ہمیں اپنی حفاظت میں رکھتا ہے تو اس لیے اسی زمین اور اس کے ارد گرد  ریاستی حفاظتی حصار جس میں ہم آزادی سے اپنی فکری و جسمانی نشو و نُما اور اس کے بعد اپنی نسلوں کی حفاظت کا سامان دیکھتے ہیں، تو ایک حب پیدا کر لیتے ہیں۔ جب کہ اس میں مختلف اوقات و اطراف سے ذہن سازی بھی ملوث ہوتی ہے۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایکسٹرنل فورسسز کے عملی، رجعتی رحجانات و مفادات اور طبقاتی کش مکش ہمیں جبر و ستم کے اس کنارے پر لے آتی ہے، جہاں حب کی طرفین میں جبر اور خوف کا عُنصر بھی اس اکائی کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ جب ریاستی سطح پر کوئی خطرہ در پیش ہوتا ہے تو یہی یونٹ اسی ذہن ساز ریاستی ہتھکنڈوں سے حب الوطنی کا علمی خراج وصول کرنے کا ٹھان لیتا ہے۔ اس اکائی کو یا پورے سماج کو یَک سَر یہ آزادی میسر نہیں ہوتی کہ وہ آزادی سے اپنے فیصلے کرے۔
دوسری جہت چُوں کہ ادب سے متعلق ہے تو یہ عرض کروں گا کہ کسی بھی تخلیقی کام کے لیے فن کار کو ہر قسم کی پرستی سے اوپر اٹھنا لازم ہے، ورنہ تخلیق جمالیات اور آفاقی و فطری فکری سطح سے نیچے رہے گی اور جلد ہی ہجوم میں تحلیل ہوحائے گی۔ اسی لیے قوم پرستی، وطن پرستی، مذہب پرستی سے نکلنا ایک فن کار کی ضرورت ہے ورنہ وہ پرستیوں کے حصار میں فن کو امر نہیں کر سکے گا۔


مزید دیکھیے: جنگ ہے یا کج ادائی اور انا کی معبودیت کا لمحہ

یو ڈیم سالا  افسانہ از، نعیم بیگ


دوستی کا ہاتھ، ہندوستانی دانش وروں کے نام

احمد فراز

گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں
اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں
فقط تمہیں کو نہیں رنج چاک دامانی
کہ سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی ہیں
تمہارے بام کی شمعیں بھی تاب ناک نہیں
مرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد سے ہیں
تمہارے آئینہ خانے بھی زنگ آلودہ
مرے صراحی و ساغر بھی گرد گرد سے ہیں
نہ تم کو اپنے خد و خال ہی نظر آئیں
نہ میں یہ دیکھ سکوں جام میں بھرا کیا ہے
بصارتوں پہ وہ جالے پڑے کہ دونوں کو
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ماجرا کیا ہے
نہ سرو میں وہ غرور کشیدہ قامتی ہے
نہ قمریوں کی اداسی میں کچھ کمی آئی
نہ کھل سکے کسی جانب محبتوں کے گلاب
نہ شاخ امن لیے فاختہ کوئی آئی
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشقِ ستم رہے جاری
ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں
تمہیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں
ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سے
ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے
الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہار
عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے
تو اب یہ حال ہوا اس درندگی کے سبب
تمہارے پاؤں سلامت رہے نہ ہاتھ مرے
نہ جیت جیت تمہاری نہ ہار ہار مری
نہ کوئی ساتھ تمہارے نہ کوئی ساتھ مرے
ہمارے شہروں کی مجبور و بے نوا مخلوق
دبی ہوئی ہے دکھوں کے ہزار ڈھیروں میں
اب ان کی تیرہ نصیبی چراغ چاہتی ہے
جو لوگ نصف صدی تک رہے اندھیروں میں
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلے
چراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوں
چراغ جن سے ضیا امن و آشتی کی ملے
چراغ جن سے دِیے بے شمار روشن ہوں
تمہارے دیس میں آیا ہوں دوستو اب کے
نہ ساز و نغمہ کی محفل نہ شاعری کے لیے
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے
….

دوستی کا ہاتھ

علی سردار جعفری
( فراز) کے جواب میں

 

تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیے
مرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھ
وہ ہاتھ شاخ گل گلشن تمنا ہے
مہک رہا ہے مرے ہاتھ میں بہار کا ہاتھ
خدا کرے کہ سلامت رہیں یہ ہاتھ اپنے
عطا ہوئے ہیں جو زلفیں سنوارنے کے لیے
زمیں سے نقش مٹانے کو ظلم و نفرت کا
فلک سے چاند ستارے اتارنے کے لیے
زمینِ پاک ہمارے جگر کا ٹکڑا ہے
ہمیں عزیز ہے دہلی و لکھنؤ کی طرح
تمہارے لہجے میں میری نوا کا لہجہ ہے
تمہارا دل ہے حسیں میری آرزو کی طرح
کریں یہ عہد کہ اوزار جنگ جتنے ہیں
انہیں مٹانا ہے اور خاک میں ملانا ہے
کریں یہ عہد کہ ارباب جنگ ہیں جتنے
انہیں شرافت و انسانیت سکھانا ہے
جئیں تمام حسینان خیبر و لاہور
جئیں تمام جوانان جنت کشمیر
ہو لب پہ نغمۂ مہر و فا کی تابانی
کتاب دل پہ فقط حرف عشق ہو تحریر
تم آؤ گلشن لاہور سے چمن بردوش
ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر
ہمالیہ کی ہواؤں کی تازگی لے کر
پھر اس کے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.