رام کے دیس میں راون راج

معصوم رضوی

رام کے دیس میں راون راج

از، معصوم رضوی

جنگ مسائل کا حل تو نہیں پر انسانی فطرت کا حصہ ضرور ہے، تاریخ ازل سے یہ تماشہ دیکھتی آئی ہے، سیدھے سادے عوام اور پر امن معاشرے جنونیوں کے وحشت سے برباد ہوتے نظر آتے ہیں۔ بڑے بڑے ظالم اور سفاک لٹیرے ہیرو کے روپ میں نظر آتی ہیں، ہولناک روحیں اطلس و کمخواب کے پیراہن میں، ظلمت کی سیاہی پر سونے کا پانی اور جہل کی شمشیروں پر چاندی کی چمک نظر آئیگی۔ یوں تو تاریخ کے قرطاس پر انسان دوست بھی ملتے ہیں مگر آب و تاب سے محروم، سود و زیاں واسطہ نہ رکھنے والے کچھ من چلے، درباری تاریخ نویسوں کی بد دیانتی کا شاہکار، اگر چہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا کی خوبصورتی ایسے ہی من چلوں کے دم سے قائم و دائم ہے۔

ہندوستان اور پاکستان ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں، دو ایٹمی قوتیں، جن کی لڑائی پوری دنیا کو جہنم میں تبدیل کر سکتی ہے۔ چند جنونی دونوں معاشروں کی پرامن خاموش اکثریت کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ تاریخ اپنے آپ کو دھرا رہی ہے، امن کی آواز اٹھانے والے غدار اور جنگ کا طبل بجانے والے وفادار قرار دیئے جا رہے ہیں۔ حقیقت پوچھیں تو بھارت اور پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں، طول و عرض، معشیت، عسکری وسائل، یقینی طور پر بھارت کا پلڑا بہت بھاری ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ جنگ کی صورت میں بھارت کے خدشات بھی پاکستان کے مقابل بہت زیادہ ہیں۔ شاید بیس سال پہلے کا تذکرہ ہے، سعودی عرب کے اخبار سے وابستہ تھا، ساتھ بہت سارے انڈین دوست بھی کام کرتے تھے۔ میرا تجربہ ہے کہ بھارتی پاکستان کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ پاکستان بھارت کا دشمن ہے، کیونکہ انہیں دن رات یہی پڑھایا اور دکھایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل پاکستان میں بھی نہایت عقیدت و احترام سے ہوتا ہے مگر ہندوستان میں کچھ زیادہ ہی ہے۔

بہرحال رات دن کا ساتھ تھا، انڈین دوستوں میں ایک پڑھا لکھا آزاد منش نوجوان صحافی نارائن گوسوامی بھی تھا، اکثر بیٹھک رہا کرتی، ایک بار اس نے پوچھا پاکستان کی آبادی کتنی ہے، اس وقت لگ بھگ بارہ کروڑ تھی سو میں نے بتا دی۔ نارائن تھوڑی دیر بے یقینی سے مجھے گھورتا رہا پھر پوچھا۔ کیا تم سنجیدہ ہو۔ میں نے جواب دیا بھائی اتنی ہی ہے مگر مجھے پتہ ہے کہ تم حیران کیوں ہو؟ اس نے کہا اچھا بتائو کیوں؟ تو عرض کیا کہ تم سوچ رہے ہو کہ صرف اتنی سی آبادی پر یہ ملک اتنے بڑے بھارت کیلئے خطرہ کیوں بنا ہوا ہے۔ نارائن ہنس پڑا، کہنے لگا یار تم صرف اتنے سے، جتنا ہمارا کلکتہ ہے بس؟ پھر انڈیا میں ہر وقت پاکستان، پاکستان کیوں ہوتا ہے۔ بحث و مباحثے کے بعد اتفاق ہو کہ ہندوستان میں پاکستان اور پاکستان میں ہندوستان دشمنی قومی سلامتی و یکجہتی کی ناگزیر ہے۔ آپ ہی سوچیئے جب ایک انڈین صحافی پاکستان کے بارے میں اتنا نابلد ہے تو عام بھارتی کی کیا حیثیت ہے۔

خیریہ تو سچ ہے کہ ہندوستان نے تقسیم کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا، پاکستان آج بھی بھارت ماتا کا ناسور ہے، پینسٹھ اور اکہتر میں دونوں ممالک جنگیں جھیل چکے ہیں، دونوں اپنی اپنی تاریخ میں ان جنگوں کے فاتح بھی ہیں۔ آج صورتحال بڑی مختلف ہے، ہندوستان، پاکستان کے مقابلے میں کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو، ایٹمی صلاحیت دونوں کو برابر بنا دیتی ہے۔ ایسے میں جنگ کی سوچ صرف جنون ہو سکتی ہے، مفادات کی حفاظت کیلئے تعصب و نفرت کا وحشیانہ کھیل، ایسا کھیل جس میں کبھی کوئی نہیں جیتا۔ بھارت نے مئی 1998 کو پوکھران میں ایٹمی دہماکہ کیا اور باقاعدہ طور پر ایٹمی قوت بن گیا۔

پاکستان نے دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود دس، بارہ دنوں بعد چاغی میں ایٹمی دہماکہ کیا۔ کسی بھی پرامن شہری کی طرح مجھے بھی جنگ سے نفرت ہے، ایٹم بم سے زیادہ انسان دشمن کوئی چیز ہو نہیں سکتی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دس، بارہ دنوں میں بھارتی رویہ ایسا ہی تھا جیسا آج مودی سرکار کا ہے۔ پاکستان کو سبق پڑھانے کی باتیں، دھمکیاں، صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا عزم، مگر جیسے ہی پاکستان نے ایٹمی دھماکے کا جواب دیا تو بھارتی سرکار کی چوہدراہٹ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ یہ بھی درست ہے کہ دہشتگردی کا طویل عذاب جھیلنے اور زخمی معشیت کے باوجود اگر آج پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے تو یہ ایٹمی صلاحیت کے دم سے ہے، ورنہ ایٹمی ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان بھی نیپال یا بھوٹان بن چکا ہوتا۔

مودی سرکار نے اڑی حملے کے بعد پاکستان میں سرجیکل اسٹرئیک کی یا نہیں، مگر پلوامہ کے بعد بہرحال یہ اندازہ بھی نہ تھا کہ پاکستان سے اتنا موثر جواب ملیگا۔ گرچہ بھارت نے 300 ہلاکتوں کا اعلان بھی کر ڈالا، ایف سولہ کی تباہی کا شور بھی بہت مچایا مگر ثبوت ندارد، پاکستان نے نہ صرف دو طیارے مار گرائے بلکہ پائلٹ کو بھی گرفتار کیا۔ پاکستان کی جانب سے فوجی بریفنگ بھی مسلسل جاری ہے جبکہ بھارتی سول اور فوجی حکام کی پراسرار خاموشی خود ہندوستان میں زیر بحث ہے۔ گرفتار پائلٹ کی رہائی کے بعد یقینی طور پر عمران خان کا عالمی قد بلند ہوا ہے، جبکہ نریندر مودی کے پائلٹ پروجیکٹ والی پھبتی نے بھارتی سرکار کو خود ہندوستانیوں کیلئے سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ اپوزیشن کی اکیس جماعتیں پاکستان پر حملے کو الیکشن سے قبل سیاسی دائوں پیچ قرار دے رہی ہیں، مودی سرکار پر فوج کو سیاست کیلئے استعمال کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

ویسے آپس کی بات ہے ہر بھارتی انتخابات میں پاکستان دشمنی لازمی جز ہوا کرتی ہے مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ سابق فوجی جرنیل، را کے سربراہ تک مودی سرکار پر انگلی اٹھا رہے ہیں، کشمیر میں ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اڑی اور پلوامہ حملے کا الزام بھی بی جے پی پر لگایا جا رہا ہے مگر مودی سرکار نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہے۔ ہاں یہ تو بھول ہی گیا کہ اس جنگ میں میڈیا کا عظیم کردار ہے، ویسے تو پاکستانی میڈیا بھی جنگی جنون سے دوچار ہے مگر بھارتی میڈیا والی وحشت و بربریت بھلا کہاں، بھارتی نیوز میڈیا فلم سے متاثر ہے، وہی ڈرامہ، ڈائلاگ، سسپنس، بڑھکیں جو شاید پردہ سیمیں پر تو اچھا لگے مگر حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ دنیا بھر میں بھارتی میڈیا کی وحشت کے چرچے ہو رہے ہیں، اس خوفناک صورتحال میں ریٹنگ کا بھوکا پاکستانی اور بھارتی میڈیا ہر حال میں جنگ کروانے کیلئے تن من دھن کی بازی لگانے پر تلا بیٹھا ہے۔  

پاکستان سے بھارت کی تمام شکائتیں یقینی طور پر غلط نہیں ہونگی، پاکستان کشمیر میں سفارتی، اخلاقی امداد کا اعلان کرتا ہے اور کچھ امداد کرتا ہے یا نہیں، اگر نہیں تو ضرور کرنی چاہیئے۔ مشرقی پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد فوج بھیج کر بنگلہ دیش بنانے والا بھارت کشمیر کے انسانی حقوق کو کیسے بھول جاتا ہے۔ دس لاکھ فوجی، چالیس ہزار کشمیریوں کی ہلاکتیں، عزت و عصمت تاراج کرنے پر اگر پاکستان انسانی ہمدردی کی بات کرتے تو برائی کیا ہے، یہی کچھ تو آپ نے مشرقی پاکستان میں کیا تھا۔ ویسے آپس کی بات ہے کشمیر میں جدوجہد آزادی جس مقام پر پہنچ چکی ہے وہاں اسے پاکستان کی امداد کی ضرورت بھی نہیں، درد کا حد سےگزرنا ہے دوا بن جانا، مقبوضہ کشمیر میں پہلا خودکش حملہ اس کی عملی تفسیر ہے۔

یاد رکھیے ہندوستان اور انڈیا میں بنیادی فرق سیکولرازم ہے، گاندھی، نہرو اور ڈاکٹر امبیڈکر نے بھارتی آئین میں سیکولر ازم کو بنیادی حیثیت بہت سوچ سمجھ کر دی تھی کیونکہ یہی قوت مختلف النسل، زبان، تہذیب اور مذاھب کو جوڑتی ہے۔ اہنسا کے پجاری کرم چند گاندھی نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ نریندر مودی نامی شخص ہندووتا کےنام پر ملک کو جوڑنے والی قوت کو پارہ پارہ کریگا۔ مودی سیکولرازم کو تباہ کرنے کا کارنامہ انجام دیکر پاکستان کے موقف اور دو قومی نظریے کو درست ثابت کر رہے ہیں اور ہندووتا انڈیا کو ہندوستان کی طرف واپس لیجا رہی ہے۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.