دیر سے رکی ہوئی زندگی

der se ruki hui zindagi short story
دیر سے رکی ہوئی زندگی

دیر سے رکی ہوئی زندگی

افسانہ از، حفیظ تبسم 

وہ سمندر کے کنارے زندہ تھا مگر خشک علاقے کی طرف جانا چاہتا تھا۔

سمندر اسے زندہ رہنے کا حق دیتا بھی تھا، مگر محرومیوں کی طویل زنجیروں میں جکڑی ہوئی زندگی اسے موت سے بھی بد تر لگتی تھی۔

اس کی زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی: سمندری طوفان سے پہلے اور سمندری طوفان کے بعد کی زندگی۔

وہ انگلیوں پر دن گنتا رہا تا کہ کتنے دن پہلے اُس کی زندگی کے ایک بڑے حصے پر سمندری طوفان نے قلمِ تنسیخ پھیر دیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی زندگی نے ایک نئی کروٹ لی تھی۔

سمندری پانی کے ریلے ہر چیز بہا کر لے گئے اور جب اس کی زندگی نے نئی آنکھ کھولی تو وہ نرم نرم ریت پر اوندھا پڑا تھا۔ جسم میں اتنی کم زوری تھی کہ وہ بازو یا ٹانگ کو حرکت تک نہ دے سکتا تھا۔

زندگی سے عاری زندگی میں تھوڑا وقت گزرا ہو گا کہ دماغ نے سوچنے کا کام دوبارہ شروع کیا تو اس کی نظروں کے سامنے پانی گھومنے لگا۔ آنکھ کی پتلی میں پانی کا عکس در آنا ہی تھا کہ خشک گلے میں کانٹے سے چھبتے محسوس ہوئے۔

قدرتِ خدا کی! پانی ہی اسے دھکیل کر موت کی سَمت لے گیا تھا اور اب وہ زندگی کے لیے چند گھونٹ پانی کا متلاشی تھا۔

وہ جیسے تیسے ہمت کر کے اٹھا تو دیکھا کہ لوگ پورے علاقے میں بے ترتیبی سے بکھرے پڑے تھے۔ سمجھنا مشکل تھا کہ ان میں کون مردہ تھا اور کون حواس کھوئے پڑا تھا۔ کہیں گِدھ مردہ جسم کو کھا رہے تھے اور کہیں نیم برہنہ نیم مردہ لوگ۔

وہ پاگلوں کی طرح ہر جسم پر جھک کر چہرے شناخت کرنے لگا۔ اس نے مُنھ اوندھائے پڑی نعشوں کو بھی پلٹ کر دیکھا تا کہ شناخت میں کوئی چُوک نہ ہو۔ اس نے انسانی اجسام کو درختوں کی شاخوں میں الجھا ہوا بھی دیکھا اور جان وروں کی طعام کے مناظر بھی۔

اس کے ذہن میں ایک لفظ کا وجود نمو پانے لگا: قیامت، یومِ آخرت…

وہ بہت سے دن کھارے پانی اور کچے پکے پھل کھا کر گھومتا رہا، مگر اپنے اہلِ خانہ میں کسی ایک کو بھی تلاش نہ کر سکا۔ سمندر نہ جانے کتنے فاصلے پر انھیں بہا کر لے گیا تھا۔ ان کے بے جان اجسام جانے کس نئے جہنم میں جمع تھے یا انھیں گِدھ چاٹ گئے تھے۔

مگر اس کا جنون یا پاگل پن اس خطۂِ زمین تک لے آیا جہاں اُس کی بستی تھی۔ تباہ شدہ بستی، جس کے کھنڈرات کو زندہ بچ جانے والے لوگ دوبارہ آباد کر رہے تھے۔

در اصل بستی تو محض ایک علامت تھی جس نے اس کے ذہن میں غیر یک ساں شدت سے ایک کنبے کا تصور ابھار دیا تھا۔ اس کی بے چین نظریں اپنے کنبے کی تلاش میں پورے منظر پر ڈولتی رہتیں۔ اس کے پیٹ میں بھوک سے شدید دکھن رہتی، مگر وہ تلاش میں سرگرداں جہاں تک خود کو سنبھال سکتا تھا، گیا۔

آخر ایک دوپہر اسے پناہ گزین کیمپ میں اپنے لڑکے کی صورت نظر آئی۔

وہ فرطِ جذبات کے باوجود ہوش و حواس کو چوکس رکھ کر آگے بڑھا، لیکن لڑکا نارمل حالت میں نہیں تھا۔

اس نے نرمی سے آواز دی، مگر لڑکے کی آنکھوں میں شناسائی کی جھلک تک نہ ابھری۔

اس نے لڑکے کو بتایا: میں تمھارا باپ ہوں۔

تو لڑکا مخبوطُ الحواس حالت میں ایک سَمت دیکھتا رہا اور یک دم چیخ پڑا:

“باپ؟ باپ؟ کون باپ؟…”

وہ لڑکے کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھا تو لڑکا بھاگ پڑا اور پلک جھپکنے میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ لڑکے کے کہے ہوئے الفاظ نے اُس کے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ زمین پر بیٹھ کر گریہ کرنے لگا۔

کیا آخرت کا دن ایسا ہو گا؟ رشتوں کی پہچان کو نگل جانے والا دن…

نہایت مایوسی کے عالم میں ماتھا پیٹتے ہوئے اس کے پورے جسم پر کپکپی طاری تھی اور خود کو تسلی دینے کے لیے الفاظ بھی نہ بچے تھے۔ پھر وہ سارا وقت سمندر کے کنارے گزارنے لگا، مگر خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن وہ وحشی لہروں کی کش مکش سے بے اختیار ہو جاتا۔ سرکش پانی کے قلب میں آوازیں تھیں جو شعور کی دنیا پر چھا جاتیں اور ایک نیا طوفان سر اٹھاتا۔ جب اس کی شدت اور وسعت بڑھنے لگتی تو دماغ میں پڑی ہر چیز اُتھل پُتھل ہو جاتی اور ایک آواز سنائی دیتی:

دور… بہت دور… خشکی پر… نئی زندگی…

وہ سوچتا کہ جب پرانی زندگی وقت کے دھارے سے باہر نکل گئی تو وہ اکیلا انسان اپنی بستی کے مقام اور سمندر کے کنارے کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کیوں نہیں کہہ دیتا، تا کہ زندگی کے گذشتہ برسوں کی یادیں مٹا سکے۔ مگر یہ خیال سانس روک دینے والی پیش بینی کا لمحہ ثابت ہوتا۔ عین اسی وقت نئی زندگی کا خواب دکھائی دیتا اور وہ حقیقت سے کوسوں دور نکل جاتا۔ اسے کوئی گھر نظر آتا نہ آبادی۔ لا محدود اور خالی دنیا کے نظارے میں وہ اکیلا ہوتا… مگر سمندر سے جڑے ماضی اور یادوں سے کٹا ہوا انسان۔

آخر وہ اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یادیں ہی اس کے پیروں کی بیڑیاں ہیں اور اس نے یادوں کو سمندر برد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ویسے بھی سمندر کے کنارے پروان چڑھی یادوں کا سمندر کے علاوہ کوئی آخری مقام نہیں ہو سکتا تھا۔

آخر ایک صبح وہ سمندر کی طرف گیا تو اُس کے کندھے پر ایک تھیلا تھا۔ اس نے ایک مچھیرے سے شکار کا بہانہ کر کے کشتی حاصل کی اور تین چوتھائی مچھلیاں دینے کا وعدہ کر کے کشتی پانی میں ڈال دی۔ وہ چپوؤں پر زور لگاتے نیچے جھکا اور کشتی کو بندرگاہ کے باہر دھکیلنے لگا۔ کشتی سمندر کی طرف رواں دواں تھی اور اسے چپوؤں کے پانی میں ڈبکیاں کھانے اور دھکیلے جانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا۔

اسے اپنے بائیں طرف کشتیاں دکھائی دیں۔ ہر کشتی کا رخ سمندر کے اس حصے کی طرف تھا جدھر زیادہ مچھلیاں ملنے کی امید تھی۔ اس کا رخ دوسری طرف تھا جہاں مچھلیاں کم ہی ملتی تھیں، مگر پانی کی گہرائی بہت زیادہ تھی۔ وہ کشتی کھیتا رہا۔ اس کام کے لیے اسے زیادہ زور نہیں لگانا پڑ رہا تھا۔ سمندر کی سطح پر سکون تھا۔ کبھی کوئی ریلا آتا تو چھوٹا موٹا تلاطم پیدا ہو جاتا۔ اس نے ایک تہائی کام سمندری رو کے سپرد کر دیا تھا۔

جب سورج پوری طرح طلوع ہو چکا تو وہ کھلے پانیوں تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے چاروں جانب پانی ہی پانی تھا، جس سے اس کی زندگی ایک غیر مرئی دھاگے میں بندھی ہوئی تھی۔ یا شاید ایک کھیل، جس میں وہ سب کچھ ہار چکا، مگر پانی سے جڑے مقدر کو بدل نہ سکا تھا۔

جب وہ اپنے دیکھے بھالے اور مطلوبہ مقام پر پہنچا تو چپوؤں کو رسی کے ساتھ باندھ کر کشتی کو پانی کے بہاؤ پر آزاد چھوڑ دیا اور دونوں بازو پھیلا کر جسم کی اینٹھن کو دور کر کے بیٹھ گیا۔ جیب سے بیڑی نکال کر سلگائی اور سمندر کے پانی کو ایک ٹک دیکھنے لگا، یہاں تک کہ بیڑی آخری کش تک پہنچ گئی اور اس کی آنکھیں ایک ہی منظر سے اکتانے لگیں۔

پھر اس نے تھیلے کا مُنھ کھولا اور اندر ہاتھ ڈال کر جب باہر نکالا تو اس کے ہاتھ میں ایک یاد تھی:

چاند کی روشنی تھی… کیا ہی دل رُبا روشنی تھی! وہ اونچے درختوں کی شاخوں پر سے بہتی اور گھاس کی پتیوں پر سے گزرتی ہوئی چھوٹے بڑے سایوں کے پاس چمک رہی تھی۔ تمام فضاء، دور اوپر آسمان سے لے کر زمین تک، اس میں رقصاں تھی۔ بستی سے ذرا پرے سر سبز درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان ایک لڑکی اور وہ، ایک دوسرے کے پہلو سے لگے بیٹھے تھے جیسے پُر سکون جنت کے دو باسی۔ لڑکی زیادہ سے زیادہ مچھلیاں شکار کر کے بازار میں بیچنے کی تلقین کرتی ہے تا کہ بیاہ کے لیے پیسے اکٹھے ہو سکیں۔ لڑکا بس ایک ٹک لڑکی کی طرف دیکھتا جا رہا ہے اور وقفے وقفے سے لڑکی کے گال پر انگلیاں پھیرتا ہے۔

اس نے یاد کو نرمی سے سمندر میں بہا دیا، مگر اس کے کان میں لڑکی کی آواز گونجتی رہی، جس کے ہونٹ بوسوں کی شدت سے بند کر دیا کرتا تو وہ دونوں جذبات کے بھنور میں ڈوب جاتے۔ ذرا سوچنے پر بے اختیار آنکھ سے آنسو رِک گیا مگر اس نے پونچھے بغیر تھیلے سے ایک اور یاد باہر نکال کر ہاتھ پر رکھ لی:

لالٹین کی زرد اور ٹمٹماتی روشنی میں دو بچے کہانی سن رہے ہیں۔ ایک مچھیرے کو کسی نے بتایا کہ سمندر میں ایک مچھلی ہے جس کے پیٹ میں سونا ہے۔ غریب مچھیرے کے دل میں لالچ آ گیا اور وہ مچھلیاں پکڑ کر پیٹ چاک کرتا تو کچھ نہ نکلتا۔ وہ روز خود کو دلاسا دیتا کہ کل پیٹ میں سونے والی مچھلی ضرور ملے گی۔ اگلا دن، اور اگلا دن… مگر کچھ نہ ملا۔ سالوں گزر گئے اور آخر مچھیرا کہنے پر مجبور ہو گیا کہ جو محنت اور خدا کی رضا سے ملے وہی سونا ہے۔ کہانی سنتے سنتے دونوں بچے اونگھنے لگتے ہیں۔

دونوں بچوں کی یاد نے تیزی سے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ اس نے زرد رو بچی کو دیکھا تو اپنے نرم اور ترحم آمیز احساسات کا شدت سے احساس ہوا، مگر وہ جان نہ سکا کہ بچی کی آنکھیں ہلکی سرمئی تھیں یا بالکل نیلی؟ اس نے مشاہدہ کیا کہ بچی اسے غور سے دیکھے جا رہی تھی گویا اس کا وجود دوسرے لوگوں کی نسبت ایک خاص معنی رکھتا تھا۔ چند ثانیوں میں اس کے ذہن سے کئی منظر گزر گئے۔ وہ ذرا دیر کے لیے بھول گیا کہ اس نے یاد کو پانی کے سپرد کرنا تھا۔ وہ چونک کر یاد کو پانی میں پھینک دیتا ہے۔ یاد لہروں پر ڈولتی، ڈالتی آگے بڑھتی ہے۔

پھر اس نے تھیلے سے ایک اور یاد باہر نکالی:

وہ صاف ستھرے مگر چھوٹے سے کمرے میں چارپائی پر لیٹا ہے اور ایک عورت اس کا سر دبا رہی ہے۔ اسے بڑا آرام ملتا ہے اور نیم غنودگی کی سی کیفیت وہ لڑکے کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھا تو لڑکا بھاگ پڑا اور پلک جھپکنے میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ لڑکے کے کہے ہوئے الفاظ نے اُس کے اعصاب کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ زمین پر بیٹھ کر گریہ کرنے لگا۔

کیا آخرت کا دن ایسا ہو گا؟ رشتوں کی پہچان کو نگل جانے والا دن…

مایوسی کے عالم میں ماتھا پیٹتے ہوئے اس کے پورے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی تھی اور خود کو تسلی دینے کے لیے الفاظ بھی نہ بچے تھے۔ پھر وہ سارا وقت سمندر کے کنارے گزارنے لگا، مگر خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن وہ وحشی لہروں کی کش مکش سے بے اختیار ہو جاتا۔ سرکش پانی کے قلب میں آوازیں تھیں جو شعور کی دنیا پر چھا جاتیں اور ایک نیا طوفان سر اٹھاتا۔ شدت بڑھتی تو دماغ میں ہر چیز الٹ پلٹ ہو جاتی اور ایک آواز گونجتی:

دور… بہت دور… خشکی پر… نئی زندگی…

وہ سوچتا کہ جب پرانی زندگی وقت کے دھارے سے باہر نکل گئی تو وہ اکیلا انسان اپنی بستی کے مقام اور سمندر کے کنارے کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کیوں نہ کہہ دے تا کہ ماضی کی یادیں مٹائی جا سکیں۔ مگر یہ خیال سانس روک دینے والی پیش بینی بن کر رہ جاتا۔ اسی لمحے نئی زندگی کا خواب اسے حقیقت سے کوسوں دور لے جاتا۔

اسے کوئی گھر دکھائی نہ دیتا، نہ آبادی۔ لا محدود اور خالی دنیا کے منظر میں وہ اکیلا رہ جاتا… مگر سمندر سے جڑے ماضی اور یادوں سے کٹا ہوا انسان۔

آخرِ کار اس نے فیصلہ کیا کہ یادیں ہی اس کے پیروں کی بیڑیاں ہیں اور اس نے انھیں سمندر بُرد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آخر ایک صبح وہ سمندر کی طرف گیا تو اُس کے کندھے پر ایک تھیلا تھا۔ اس نے ایک مچھیرے سے شکار کا بہانہ کر کے کشتی لی اور تین چوتھائی مچھلیاں دینے کا وعدہ کر کے پانی میں اتر گیا۔

کشتی کو کھلے پانی میں دھکیل کر اس نے چپوؤں پر زور لگایا۔ جب تک سورج پوری طرح طلوع ہوا، وہ گہرے پانیوں تک پہنچ چکا تھا۔ وہاں اس نے چپو باندھ دیے، تھیلا کھولا اور ایک ایک یاد نکال کر پانی کے حوالے کرنے لگا۔

چاندنی میں لڑکی کے پہلو میں بیٹھنا، محبت بھری سرگوشیاں، بیوی کے خواب پر یقین نہ کرنا، بچوں کے ساتھ کہانی سنتے لمحے، بیوی کے کندھے پر بیٹھا طوطا…

یادیں ایک ایک کر کے سمندر میں ڈولتی چلی گئیں۔ تھک کر اس نے پورا تھیلا پانی میں الٹا دیا۔

اُس نے سوچا: اب میں آزاد ہو کر زندہ رہ سکوں گا…

یہ خیال آتے ہی وہ تازہ دم ہو گیا اور چپو سنبھال کر کنارے کی طرف چلنے لگا۔ سہ پہر تک جب وہ کنارے پہنچا تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ ریت پر قدم رکھتے ہی اُس کے قدم رک گئے۔ جیسے زمین میں دھنس گئے ہوں۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

ریت پر وہی یادیں بکھری پڑی تھیں… وہ یادیں جو اس نے سمندر میں بہا کر سکون کا سانس لیا تھا۔ ہر طرف بے ترتیب پڑی یادیں شوخیاں کر رہی تھیں، چیخ رہی تھیں۔

اس کے دل میں جذبات کا ریلا امڈ آیا اور وہ بے اختیار ریت پر بیٹھ گیا۔ اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی:

“سمندر مردہ چیزیں اپنے اندر نہیں رکھتا!”

اس نے بے اختیار یہ الفاظ دُہرائے تو رخساروں پر آنسو بہنے لگے۔

اب وہ جان چکا تھا کہ…

“سمندر طاقت ور دیوتا ہے جس سے چالاکی نہیں ہو سکتی۔ دھوکا دہی سے مردہ چیزیں سپرد نہیں کی جا سکتیں!”

اندھیرا پھیل گیا۔ مگر وہ ریت پر بیٹھا سمندر کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں سوچتا رہا، یہاں تک کہ بے خبر ہو گیا…

جب یادیں ایک ایک کر کے اٹھیں اور دوبارہ آ کر اس سے لپٹ گئیں۔