سٹالن، مارکس کا مطالعہ کرتا چنگیز خان
خاقانِ اعظم بھی سمجھتے تھے کہ انھیں افلاک سے مِشن عطا ہوا ہے کہ وہ دنیا فتح کریں۔ اور صوفی بھی حقائق اُولیٰ سے انتہائی قربتوں کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ […]
خاقانِ اعظم بھی سمجھتے تھے کہ انھیں افلاک سے مِشن عطا ہوا ہے کہ وہ دنیا فتح کریں۔ اور صوفی بھی حقائق اُولیٰ سے انتہائی قربتوں کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ […]
یہیں سے سیاست اور مذہب کی وہ سرحد دُھندلی ہونا شروع ہوتی ہے جہاں اقتدار صرف دلائل نہیں دیتا؛ اقتدار اپنے لَبوں پر مقدس زبان کی کَیسِٹ چلا دیتا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حیران کُن تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ طاقت ور رہ نماؤں نے بارہا اپنے سیاسی مقاصد کو مذہبی زبان کی تختی میں ڈھالا۔ […]
آپ بیتی بھی ہے، لیکن جگ بیتی بھی ہے۔ میر صاحب اپنے زمانے کا حال بھی بھی بتاتے ہیں۔ اور حال کیا ہے مغل سلطنت کی ابتری کے بعد نراجیت، انتشار، قتل و غارت، لوٹ مار، چوری چکاری […]
کیا آپ جانتے ہیں شنکر جے کشن نے فلمی موسیقی کو عوام اور خواص کا مشترکہ خواب کیسے بنا دیا؟ اس جوڑی کے کمال دھن، جاز فیوژن اور راگوں کی بے مثل پیشکش کی کہانی پڑھیے، وہ جو آج بھی دلوں پر راج کر رہی ہے! […]
سجاد حسین کی زندگی اور موسیقی کی داستان: مینڈولین کو کلاسیکل موسیقی میں مقام دلانے والا یہ با کمال موسیقار اپنی کاملیت پسندی اور اصول پسندی کے باعث فلمی دنیا میں تنہا رہ گیا۔ پڑھیے خالد فتح محمد کی تحریر “ون مین آرکسٹرا”۔ […]
ایسے شخص کی کہانی ہے جو سمندری طوفان کے بعد ماضی کی یادوں سے نجات چاہتا ہے۔ کیا وہ اپنی بکھری ہوئی یادوں کو سمندر میں بہا کر ایک نئی زندگی شروع کر پائے گا؟ ایک گہری جذباتی اور پُر اسرار داستان۔ […]
رحیم معینی کرمانشاہی کی بصری شاعری، نیّر مسعود کا دلگ داز ترجمہ صبرِ خدا، اور ایرانی شعری روایت کے جمالیاتی اور فکری پہلو… ڈاکٹر ارسلان راٹھور کے اس مضمون میں گیت، نظم، تنہائی اور تخلیق کے اسباب پر ایک خوب صورت اور بصیرت افروز گفتگو […]
خیبر پختون خوا کے ادبی منظرنامے کے مہکتے چراغ، ناصر علی سید کی فکری، تخلیقی اور تہذیبی جہتوں کا ایک خوب صورت تعارفی نوٹ۔ خیالِ خاطرِ احباب میں ان کے اسلوب کی لطافت، ادب سے دوستی اور تخلیق کار سے دل کی بات سننے کا ہنر جھلکتا ہے۔ […]
جنگی خبط، عوامی دکھ، اور رابطوں کی شکست و ریخت
کیا پاکستان اور ہندوستان کبھی نفرت سے آگے بڑھ کر عوامی روابط کی میز پر آ سکیں گے؟
خالد فتح محمد کے اس فکرانگیز […]
گوگی وا تھیونگو کی فکری و ادبی مزاحمت کا جائزہ، جو زبان، طاقت، اور شناخت کے درمیان گہرے رشتوں کو آشکار کرتا ہے۔ یہ تحریر دکھاتی ہے کہ ادب صرف جمالیاتی اظہار نہیں، بَل کہ آزا […]
حوالہ اور لنک دے کر شائع کیا جا سکتا ہے۔