شنکر جے کشن: راگ، جاز اور فلمی موسیقی کے سنہری سال
از، خالد فتح محمد
ایک حیدر آباد (دکن) میں پیدا ہوا اور طبلہ بجاتا تھا اور دوسرے کا جنم صوبہ گجرات کے قصبہ بنسڈ میں ہوا اور اس کا شوق باجا بجانا تھا جو الٹے ہاتھ سے بجاتا تھا۔ دونوں اپنے فن میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تلاشِ روزگار اور اپنے فن کو زندگی بہتر کرنے کے لیے، جیسا کہ تب دستور تھا، ہر نو جوان ہیرو بننے اور موسیقی کے رسیا بمبئی (ممبئی) قسمت آزمانے آتے تھے۔ چُناں چِہ یہ دونوں بھی قسمت آزمانے پہنچ گئے۔
ایک پرتھوی راج تھیئٹر کے آرکسٹرا میں مختلف ساز بجاتا، چھوٹے موٹے رول کرتا اور بَہ وقتِ ضرورت کلاسیکل ناچتا، جب کہ دوسرا ایک مل میں کام کرتا تھا۔ دونوں فلموں میں موسیقار بننا چاہتے تھے۔
ایک دن دونوں کسی گجراتی موسیقار کے دفتر کے باہر ملاقات کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ ان کی ملاقات ہوئی۔ ایک کا نام شنکر تھا اور دوسرے کا جے کشن۔
شنکر، جے کشن سے چند سال عمر میں بڑا تھا۔ شنکر طبلہ بجاتا تھا اور جے کشن باجا۔ دونوں ایک دوسرے کے مزاج کو مختصر وقت میں سمجھ گئے اور شنکر نے جے کشن کو پرتھوی تھیئٹر آنے کو کہا کہ اسے کام دلوا سکے۔ چُناں چِہ شنکر نے جے کشن کو بابا جی (پرتھوی راج کپور) سے ملوایا جنھوں نے اسے ہارمونیم سننے کے بعد رکھ لیا۔
راج کپور روزانہ پرتھوی تھیئٹر آتا تھا۔ وہ اپنی پہلی فلم “آگ” کے بعد دوسری فلم “برسات” کی تیاری میں مصروف تھا۔ “آگ” میں رام گنگولی میوزک ڈائریکٹر تھا اور نئی فلم میں بھی اسی نے ہونا تھا کہ دونوں کے درمیان اختلاف کے نتیجے میں رام گنگولی کو الگ کر دیا گیا۔ ہوا یوں تھا کہ رام گنگولی نے “برسات” کے لیے بنایا ہوا ایک گانا کسی دوسرے کی فلم کو دے دیا، جس کی اطلاع جب راج کپور کو ہوئی تو اس نے اسے الگ کر دیا۔ نتیجے میں ایک مختلف انداز کے موسیقار کی تلاش ہوئی۔
وشواہ مہرہ، جو راج کپور کا ماموں تھا، نے بتایا کہ ہیرا تو اس کی ناک کے نیچے موجود تھا۔ بہ قول جاوید اختر راج کپور ایک جوہری تھا اور وہ ہیرے کو فوراً شناخت کر گیا۔ شنکر کے ساتھ معاملات طے ہوئے تو اس نے جے کشن کو ساتھ رکھنے کی شرط رکھی جس کی راج کپور نے اجازت دے دی۔
یہاں سے ایک ایسی فلمی موسیقی کی سنگت کا آغاز ہوا جس نے برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔
بمبئی کے ایک مشاعرے میں شیلندر نے امرتا پریتم کی نظم “اج آکھاں وارث شاہ نوں” کی طرز پر ایک انقلابی نظم “پنجاب جل رہا ہے” پُر جوش انداز میں سنائی۔ ان دنوں اداکار، ہدایت کار اور موسیقار مشاعروں پر بھی جاتے تھے۔ راج کپور وہ مشاعرہ سن رہا تھا۔
مشاعرے کے بعد اس نے اپنی فلم “آگ” میں استعمال کرنے کے لیے شیلندر کو پانچ سو روپے کی پیش کش کی تو شیلندر نے انکار کر دیا کہ وہ کسی سرمایہ دار کے ہاتھ اپنا فن بیچنا نہیں چاہتا۔
ملک نیا نیا تقسیم ہوا تھا، بے روزگاری تھی، گھروں میں غربت تھی اور بیماری۔ شیلندر کی ماں شدید بیمار تھی اور علاج کے لیے پیسے نہیں تھے۔ وہ راج کپور کے پاس ادھار کے لیے آیا جس نے پانچ سو روپے دیے۔ شیلندر کو کہیں کام مل گیا اور وہ رقم واپس کرنے آیا تو راج کپور نے واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے اسے “برسات” کے لیے گانے لکھنے کو کہا۔
جیسے راج کپور کی ملاقات شیلندر سے ہوئی تھی اسی طرح ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کپور نے حسرت جے پوری کو سنا۔
حسرت جے پوری بس کنڈکٹر تھا اور راتوں کو فٹ پاتھ پر سوتا اور شاعری کا شوق رکھتا تھا۔ مشاعرے میں اس نے عورت پر نظم پڑھی جو پرتھوی راج کپور کو پسند آئی۔ اس نے حسرت جے پوری کو تھیئٹر آنے کو کہا اور راج کپور کو اس سے گانے لکھوانے کی ہدایت کی۔
اس طرح شنکر جے کشن کے ساتھ شاعروں کی ایک جوڑی “شیلندر حسرت جے پوری” بھی متعارف ہوئی۔ یہ ٹیم “میرا نام جوکر” کے بننے کے دوران جے کشن اور شیلندر کی بے وقت طبعی موت تک جاری رہی۔
شنکر، جے کشن سے سات سال بڑا تھا اور اس سنگت کا ذمے دار بھی۔ اس نے راج کپور کو مشورہ دیا کہ فلم میں شمشاد بیگم کے بجائے نئی گلوکارہ لتا منگیشکر کی آواز کو استعمال کرنا چاہیے۔ راج کپور نے لتا منگیشکر کے ساتھ رابطہ کر کے جے کشن کو اسے اپنی کار میں لانے کے لیے بھیجا۔
لتا خوب رُو، دراز قد، انیس سال کے ایک نو جوان کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ بعد میں ایک انٹرویو میں لتا نے بتایا:
“میں نے اپنی چھوٹی بہن مینا سے کہا کہ راج صاحب جتنے خوب صورت ہیں وہ ملازم بھی اتنے ہی خوب صورت رکھتے ہیں۔”
اسے نئے موسیقاروں کو میوزک روم میں دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ اس کے خیال میں یہ نا تجربہ کار نو جوان کیا موسیقی دیں گے۔ مگر جب ان کی دھنیں سنیں تو بے پناہ مرعُوبیّت ہوئی۔ وہ ایک حیرت میں گم ہو گئی: اتنی کم عمری اور اتنی پختگی!
بعد میں بی بی سی کو اپنے موسیقاروں کے بارے میں ایک طویل انٹرویو میں کہا:
“بغیر کسی شک کے، میں نے شنکر جے کشن سے زیادہ ذہین موسیقار نہیں دیکھے۔”
فلم آوارہ بن رہی تھی اور ایک رات شنکر، جے کشن، شیلندر، حسرت جے پوری اور دتہ رام شنکر جے کشن کے میوزک روم میں، جو مہا لکشمی میں تھا (کرشن چندر کے ایک مشہور افسانے کا عنوان بھی مہا لکشمی کا پل ہے)، شراب کے نشے میں دھت تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ جنّوں، بھوتوں اور جان وروں کی آوازیں نکالی جائیں۔ کمرے میں شور تھا: گیدڑ ہانک رہے تھے، کتے بھونک رہے تھے، شیر دھاڑ رہے تھے اور جنّ اور بھوت بھی کچھ کر رہے تھے کہ اچانک راج کپور نے سب کو خاموش کروا دیا۔ اس نے کہا:
“ایک لڑکا اور لڑکی محبت کرتے ہیں اور پھر بچھڑ جاتے ہیں۔ لڑکی انتظار کرتی ہے، لڑکا بدی اور اچھائی کی جنگ لڑ رہا ہے، اور پھر وہ مل جاتے ہیں۔ مجھے یہ گانا چاہیے۔”
اس گانے کے تین متضاد پہلو تھے اور انھیں فلم کی کہانی کے مطابق ایک ترتیب میں لانا تھا، جو آسان کام نہیں تھا۔ راج کپور تین الگ الگ گانوں کے بجائے ایک ہی گانا چاہتا تھا، اور وہ بھی جلد از جلد، تا کہ محبوب خان کی فلم آن کے ساتھ ایک ہی دن ریلیز کر سکے۔
اس گانے پر کام شروع ہو گیا۔ شنکر جے کشن نے انھی آوازوں کو بنیاد بنا کر ایک ایسی تمثیل تخلیق کی جس سے بہتر خواب سِکُوئنس فلمی موسیقی میں آج تک نہیں آ سکا۔ اس گانے کی ریکارڈنگ میں بھی بارہ سے زیادہ گھنٹے لگے۔ اس ایک گانے کے تین حصے تھے: پہلے حصے میں نرگس انتظار میں بیٹھی “تیرے بنا…” گا رہی ہے اور ہر ساز کا ہر سر بھی انتظار کی کیفیت لیے ہوئے ہے۔ اس کے بعد راج کپور جنّوں، بھوتوں کے درمیان بدی سے بچنے کے لیے بھاگ رہا ہے اور گاتا ہے “یہ نہیں ہے زندگی”۔ پھر دونوں مل جاتے ہیں اور سِکُوئنس کا آخری گانا “گھر آیا میرا پردیسی” ہے۔
اس گانے کی فلم بندی اعلیٰ پایے کی تھی اور اس فلم بندی کو سنبھالنے کے لیے موسیقی اور گانا بھی اسی پایے کے چاہیے تھے۔ شنکر جے کشن کے اس گانے نے اس سِکُوئنس کو سکرین اور ریڈیو پر مقبولیت کی انتہا پر پہنچا دیا۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ایک اچھی فلم کم زور گانوں کے سبب سطحی مقام سے اوپر نہیں آ پاتی۔ شنکر جے کشن کا کمال تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے ڈائریکٹر سے ایک قدم آگے رہے۔ فلم آوارہ کے گانے “اب رات گزرنے والی ہے” اور فلم جال کے گانے “یہ رات، یہ چاندنی” نے ہندوستانی فلمی موسیقی میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔
فلم آوارہ کے گانے میں طرز کے اندر تضاد ہے: لتا گا رہی ہوتی ہے اور پسِ منظر میں گانے کی دھن کے متضاد ساز پر ایک اور دھن بج رہی ہوتی ہے۔ یہ تجربہ پرتوں میں کیا گیا اور یہی شنکر جے کشن کا کاؤنٹر میلوڈی کا پہلا تجربہ تھا، جسے انھوں نے فلم داغ اور بعد کی فلموں میں سیبسچین ڈی سوزا کے ساتھ مل کر مزید بہتر کیا۔
در اصل کاؤنٹر میلوڈی ایک مغربی اصطلاح ہے جسے ہندوستان میں پچھلی صدی کی تیسری دھائی کے آخری برسوں میں آر سی برال اور پنکھج ملک نے اپنے آرکسٹراز میں بجانا شروع کیا۔ تب ہی محسوس کر لیا گیا تھا کہ فلم ایک سرمایہ دارانہ وینچر ہے، اور سرمایہ دار نے اس میں سرمایہ کاری کو محفوظ جانا اور موسیقی کو ایک محفوظ تر صنف۔
آوارہ کے اس گانے کے اندر تین طرزیں ہیں جو کاؤنٹر میلوڈی کا ہی حصہ ہیں، جنھیں شنکر جے کشن نے کم عمری اور کم تجربے کے باوجود فن کارانہ باریکی اور کمال ہنروری سے نبھایا۔ ایسا تجربہ کرنے کے لیے مہارت کے ساتھ اعتماد بھی ضروری ہوتا ہے، کیوں کہ روایت کو توڑنا آسان نہیں ہوتا۔
فلم جال کے گانے میں پہلی بار جنسی احساسات اور خواہش کو اس انداز میں لکھا گیا۔ اگر چِہ اس سے پہلے کی ایک فلم میں جوش ملیح آبادی نے بھی ایسے گانے لکھے تھے، لیکن ان میں جوش کی روایتی جارحیت تھی اور گانے اکسانے کے بجائے حکم منوانے کا تقاضا کرتے تھے۔
سیبسچین ڈی سوزا گوا کا رہنے والا ایک ارینجر اور کنڈکٹر تھا، جسے پیانو اور وائلن بجانے میں مہارت حاصل تھی اور وہ مغربی کلاسیکل موسیقی کا ماہر تھا۔ بعد میں اس نے شنکر جے کشن کے ساتھ ساجھے داری میں ہندوستانی کلاسیکل موسیقی سیکھی اور دونوں نے مل کر ہندوستانی کلاسیکل اور مغربی کلاسیکل موسیقی کے امتزاج کا کام یاب تجربہ کیا۔
ڈی سوزا شنکر جے کشن کے ساتھ ان کی زندگیوں کے اختتام تک رہا۔ اس ٹیم نے ہندوستانی فلمی موسیقی کو ایک ایسی شکل دی، جو آج بھی، ان کے جسمانی طور پر موجود نہ ہونے کے باوجود، قابلِ تقلید ہے۔ مشہور موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی موسیقی پر شنکر جے کشن کی گہری چھاپ ہے۔
ڈی سوزا نے شنکر جے کشن کے ساتھ مل کر ہندوستانی فلمی موسیقی میں کاؤنٹر میلوڈی کو پروان چڑھایا، جس کا آغاز شنکر جے کشن فلم آوارہ میں کر چکے تھے۔ گو ڈی سوزا محدود سطح پر او پی نئیر کے ساتھ بھی یہ تجربہ کر چکا تھا۔ بعد میں موسیقار خیام نے بھی فلم فٹ پاتھ کے گانے “شامِ غم کی قسم” میں کاؤنٹر میلوڈی کا کام یاب استعمال کیا۔
سنہ 1952ء میں ڈی سوزا شنکر جے کشن کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بن گیا اور یہ ساتھ 23 سال قائم رہا۔ شنکر جے کشن پہلے بھی اپنی موسیقی میں نئے تجربات کرتے آئے تھے اور ڈی سوزا کے شامل ہونے سے ان کے مقام کو گویا نا قابلِ تسخیر بنا دیا۔ در اصل فن میں کوئی کسی کو تسخیر یا شکست نہیں دیتا، لیکن وہ بلا شبہ ہندوستانی فلمی موسیقی کے نوشاد، ایس ڈی برمن، سجاد حسین اور سی رام چندر جیسے عظیم موسیقاروں کی موجودگی میں بے تاج بادشاہ بن چکے تھے۔
ڈی سوزا نے شنکر جے کشن کی کئی دھنوں میں کاؤنٹر میلوڈی تخلیق کرنے کے لیے سیلو آلہ اور پیانو کا خوب صورت استعمال کیا۔ شنکر جے کشن کے چند یادگار گانے جنھیں ڈی سوزا نے ارینج کیا، یہ ہیں:
- کیا ہوا مجھے (جس دیش میں گنگا بہتی ہے)
- رات کے ہم سفر (این ایوننگ ان پیرس)
- آ جا رے آ (لو ان ٹوکیو)
- بول ری کٹھ پتلی (کٹھ پتلی)
- آج کل میں ڈھل گیا (بیٹی بیٹے)
- آ جا آئی بہار (راج کمار)
شنکر جے کشن کو فلم کا مُنھ مانگا معاوضہ ملتا اور فلم ساز اس یقین دہانی پر کہ موسیقار شنکر جے کشن ہیں، سرمایہ کار سے جتنا چاہیں سرمایہ حاصل کر لیتے۔ وہ فلم کی کام یابی کا سبب ہی نہیں، بل کہ اس کی ضمانت ہوتے تھے۔
ڈی سوزا کے شامل ہونے کے بعد ان کی پہلی فلم داغ تھی، جس کی موسیقی آج بھی اتنی ہی دل کش اور جوان معلوم ہوتی ہے جتنی تقریباً پچھتر سال پہلے تھی، خاص طور پر “اے میرے دل کہیں اور چل” کے تینوں حصے اور طلعت محمود کے دو دیگر نغمے۔
شنکر جے کشن: حقیقت اور افسانہ
کہا جانے لگا کہ شنکر جے کشن صرف مقبول عام دھنیں بناتے ہیں جب کہ وہ نیم کلاسیکل گانے بھی مسلسل بنا رہے تھے اور جاز فیوژن کے ماہر مانے جاتے تھے۔ انھوں نے اپنے معترضین کو 1956 میں فلم “بسنت بہار” کی موسیقی دے کر غلط ثابت کر دیا۔
کچھ گانے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ کہانی کو ان کی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ گانے اس لیے کہ کہانی ان کے گرد گھومتی ہے۔ “بسنت بہار ” ایک پرانی اساطیری کہانی تھی جسے گانوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن موسیقی ایسے معیار کی تھی کہ فلم کی کہانی گانوں کے گرد گھومتی ہے۔ اس فلم نے ثابت کر دیا تھا کہ شنکر جے کشن کی موسیقی کا فہم نہایت وسیع اور گہرا ہے۔ اس فلم کا ایک دل چسپ واقعہ منا ڈے کی زبانی،” مجھے شنکر جے کشن نے بلا کر ایک ریہرسل کروائی۔ میں نے پوچھا کہ یہ دو گانا ہے، میرے ساتھ کون گائے گا۔ شنکر نے بتایا کہ پنڈت بھیم سین جوشی۔ میں خوف زدہ ہو گیا اور چپکے سے کھسک کر گھر پہنچ کر بیوی کو بتایا کہ ہم فوری بمبئی ہمیشہ کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ اس نے وجہ پوچھی تو میں نے بتا دی۔ اس نے ہمت بندھائی۔ پنڈت جی نے بھی میری تعریف کی تو میں گا سکا۔”
شنکر جے کشن کی خوبی تھی کہ وہ استادوں کو اپنے آرکسٹرا میں بلاتے تھے۔ فلم بسنت بہار کے گانے “تو مانے یہ نہ” میں پنا لال گھوش سے بانسری بجوائی اور کیا عمدگی سے بجائی گئی۔ ایسے ہی استاد علی اکبر خان سے “سیما” کے گانے “سنو چھوٹی سی گڑیا کی لمبی کہانی” سرود بجوایا ہے جس نے گانے کو امر کر دیا۔ سیما کے گانے “تو پیار کا ساگر ہے” کی بحث کا راوی شیلندر کا بیٹا ہے۔” تو پیارکا ساگر ہے” گانے کے ایک مصرعے”آئیں کون سی دشا پر” انکل شنکر کو اعتراض تھا۔ انھوں نے کہا کون سی سے کیا مطلب؟ چار دشائیں ہیں۔ ڈیڈی نے کہا۔ آٹھ۔ بحث اور گالی گلوچ شروع۔ انکل راج نے پھر بحث ختم کروائی کہ دونوں درست ہو۔”
ان کے کام یاب گانوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ اے آر رحمان کے آنے تک فلم فئیر کے قومی ایوارڈ کی تعداد شنکر جے کشن کی سب سے زیادہ تھی۔ اگر شنکر وہ گانے بناتا جن میں جاز فیوژن اور کلاسکیت ہوتی تو جے کشن کے گانوں میں جدت کے ساتھ کلاسیکل رنگ بھی ہوتا؛ شنکر اپنی ٹیم کا سربراہ تھا اور اس سربراہی کی وجہ اس کا اپنے فن پر مکمل عبور تھا۔ اس کے ساتھ شنکر کو رقص کے گانے بنانے میں بھی مہارت تھی کیوں کہ وہ خود بھی کلاسیکل رقاص تھا اور “بسنت بہار” کے زیادہ گانے بھی شنکر نے ہی تخلیق کیے تھے۔” آوارہ ” کو جیسے راج کپور اور خواجہ احمد عباس کی اعلی پایے کی تخلیق تصور کیا جاتا ہے، اور پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ اسے اصل کام یابی شنکر جے کشن کی وجہ سے ہی حاصل ہوئی۔
اسی طرح سیما کو وجینتی مالا اور بلراج ساہنی اور “کٹھ پتلی” کو بھی انھی کی فلم کہا جاتا ہے لیکن در اصل یہ فلمیں شنکر جے کشن کی بدولت ہی اپنی شہرت کے مقام کو پاسکیں۔ کئی غیر معروف ہدایت کاروں نے غیر معروف اداکاروں کے ساتھ فلمیں بنائیں تو شنکر جے کشن کو موسیقار لیا اور فلموں نے گانوں کی بدولت نہ صرف اپنا نام بنایا، جوبلیاں بھی کیں۔
فوجیوں کے فرمائشی پروگرام میں حسرت جے پوری نے بتایا کہ ایک سہ پہر شنکر، جے کشن، شیلندر اور وہ کسی پراجیکٹ پر بات کر رہے تھے کی ایک خوب صورت عورت بغیر وقت لیے گئی۔ تعارف ہوئے، باتیں ہوئیں، شعر کہے اور سنے گئے، گانے گائے اور سنے گئے۔ اندھیرا ہونے لگا تو عورت معذرت کر کے چلی گئی اور پیچھے خاموشی اور اداسی چھوڑ گئی۔ وہیں شیلندر نے لکھا ” تیرا جانا دل کے ارمانوں۔۔۔” جو فلم ” اناڑی” کو دیا گیا۔
ایک وقت آیا کہ کام کی مقدار اتنی ہو گئی کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ جے کشن رومانوی، دوگانے اور غزلیں بنانے گا جیسے فلم پروفیسر کا گانا” آواز دے کر مجھے بلاو” یا فلم ” لال پتھر” کی غزل ” ان کے خیال آتے چلے گئے” اور شنکر کے فلم ” شاگرد” میں”ٹھنڈی ٹھنڈی ہو اچلے” اور فلم ” چوری چوری” میں” رسکے بلما۔” یہ بھی طے ہوا کہ ہر گانے پر گفتگو ہو گی اور جب منظور ہوا تبھی ریکارڈ کیا جائے گا۔ یہاں سے ان کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
شنکر جے کشن اپنی طرز بناتے ہوئے کہانی اور بولوں کو تو مد نظر رکھتے ہی تھے، اداکار بھی ان کے پیش نظر ہوتا۔ راج کپور کے لیے ان کی دھنوں میں جو مخصوص لے، تال اور پیٹرن تھا وہ دلیپ کمار کے لیے نہیں تھا۔ وہ شمیل کپور کے لیے بالکل مختلف انداز میں آتے اور کئی طرزیں شمیل کپور کا مخصوص لب و لہجہ لیے ہوتیں یا اس کا یہ انداز بنانے میں شنکر جے کشن کو ہی دخل ہے سنیل دت کے لیے ان کی طرزوں کا انداز مختلف ہوتا اور ایسے ہی دیو آنند کے لیے، جس کی مثالیں “پتیتا (خاص کر ہیمنت کمار کے گانے)”، ” اصلی نقلی” اور “روپ کی رانی چوروں کا راجہ” وغیرہ ہیں جب کہ راجندر کمار کے لیے اس کے کردار کے ساتھ اس کی پردہ فلم سے باہر کی دکھنے والی شخصیت کو بھی نظر میں رکھا جاتا۔
یہ شنکر جے کشن کا ہی کمال تھا۔ بعد میں میں یہ چلن عام ہو گیا۔ یہ شنکر جے کشن کا ہی کمال تھا۔ ان کی طرز کہانی سے کبھی الگ نہیں ہوتی تھی۔” جس دیش میں گنگا بہتی ہے” کہ کہانی کے سلسلے میں راج کپور نے پران کو آر کے سٹوڈیو میں اپنے “کاٹیج” میں فلم کی کہانی کے سلسلے میں بلایا، پر ان میک اپ میں تھا۔ اس کے بہ قول، ” راج صاحب نے اپنے بار مین جان کو دو وہسکیاں بنانے کو کہا تو میں نے انکار کر دیا کہ میک اپ میں نہیں پیتا۔
راج صاحب بولے پہلے کیوں نہیں بتایا، میں بھی نہیں پیا کروں گا (پی کہ نہیں؟) ساتھ ہی انھوں نے اپنے اسسٹنٹ کو شنکر جے کشن سے رابطہ کر کے کہانی سنانے اور یہ بھی کہا کہ موسیقی کی تیاری شروع کریں۔ مجھے انھوں نے کہا کہ تمھارے لیے خاص رول اور میں نے کچھ مختلف کرنا ہے۔ تب تک ان کے نائب نے بتایا کہ شنکر جے کشن نے انکار کر دیا ہے کہ ہم پتھروں پر موسیقی نہیں دے سکتے۔ (شنکر جے کشن نے جیتے جی راج کپور کی آر کے فلمز میں بننے والی تمام فلموں سوائے جاگتے رہو اور اب دلی دور نہیں کے سب فلموں میں موسیقی دی تھی) راج صاحب نے شنکر کو ٹیلی فون کیا، ایسے کہانی سنائی کہ میرا رول بھی واضح ہو گیا۔ راج صاحب کو کہا گیا کہ ایسی موسیقی دیں گے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ “ایسے ہی ہوا۔” اوہ میں نے پیار کیا” سن کے پتھر مستی میں جھوم کے مسکرا اٹھے تھے جب کہ “او بسنتی پون پاگل” سن کر رو پڑے تھے۔
ان کی طرز کہانی سے الگ نہیں ہوتی تھی لیکن سجتی اسی اداکار پر جس کے لیے بنائی گئی تھی۔ شنکر جے کشن گلوکار پر ہمیشہ توجہ دیتے۔ راج کپور کے لیے ہمیشہ مکیش کو ترجیح دیتے لیکن انھوں نے منا ڈے کو بھی راج کپور کے لیے چنا اور راج کپور نے، جو خود موسیقی کو سمجھتا تھا، اس انتخاب کی داد بھی دی۔
دلیپ کمار کے لیے شنکر جے کشن نے “شکست” اور “داغ” میں طلعت محمود کی آواز استعمال کی تھی۔ شنکر جے کشن “یہودی” میں مکیش کو لانا چاہتے تھے۔ کافی گرما گرم بحث بھی ہوئی۔ آخر میں شنکر نے کہا دلیپ گانا سن لے۔ اگر نہ پسند آیا تو طلعت ہی گائے گا، دلیپ کمار ہے گانا سنا اور شنکر کو گلے لگا کر اس کا ماتھا چوما۔ وہ گانا تھا، “یہ میرا دیوانہ پن ہے یا محبت…” آوازوں کے ذکر پر یہ بتانا ضروری ہے کہ مکیش کی آواز پر کندن لال سہگل کا رنگ نمایاں تھا، شنکر جے کشن نے اسے ملتی جلتی مگر مختلف آواز کے ساتھ راج کپور کے لیے منتخب کیا اور پھر مکیش راج کپور کے لیے برانڈ بن کر رہ گیا۔
کہا جاتا تھا کہ منا ڈے صرف کلاسیکل گانے گا سکتا تھا۔ انھوں نے منا ڈے سے اپنے لیے پہلا گانا فلم “آوارہ” کے خواب والے سِکُوئنس میں،” یہ نہیں ہے زندگی” گوایا اور بعد میں مقبول عام اور رومانوی گانے بھی۔
یہاں ایک واقعے کا ذکر ضروری ہے۔ بہ قول منا ڈے، “مجھے شنکر جے کشن نے بلا کر کہا’ منا دا آپ بڑے گائیک ہیں۔ آپ سے ایک پاپولر گانا گوانا جس میں کوئی مُرکی وغیرہ نہیں چاہیے۔ گائیں گے تو بتائیں ورنہ کسی اور سے گوا لیں گے۔” گانا فلم “شری 420” کا “پیار ہوا اقرار ہوا” تھا۔ پنڈت بھیم سین جوشی کے ساتھ “بسنت بہار ” میں گوایا، یعنی ہر نوعیت کے گانے گوائے اور انھوں نے ہندوستان کی فلمی صنعت کو منا ڈے کی آواز کی کثیر الجہتی سے متعارف کروایا۔
محمد رفیع کی آواز کسی بھی موسیقار کے لیے کام یابی کی ضمانت تھی لیکن محمد رفیع نے سب سے زیادہ گیت ان کے ساتھ گائے ہیں۔ ہیمنت کمار کی آواز ایک جادوئی ریشمی عکس لیے یوئی تھی جس کا بھر پور فائدہ فلم ” بادشاہ” کے بے مثل رومانوی گانے”آ نیل گگن تلے” میں لیا۔ اس گانے کی بد قسمتی یہ رہی کہ فلم مکمل نہیں ہو سکی۔ جب لتا منگیشکر فلموں میں وارد ہوئی تو شمشاد بیگم اور نور جہاں کا طُوطی بولتا تھا اور کسی نو وارد کے لیے پاؤں جمانا مشکل تھا۔
لتا بلا شبہ ایک سریلی گانے والی تھی لیکن وہ دور بھری ہوئی آوازوں کا تھا جب کہ لتا کی آواز باریک تھی۔ فلم “محل “کے موسیقار کھیم چند پرکاش اور فلم کمپنی کے مشیر (اعلیٰ پایے کے موسیقار ) انل بسواس لتا سے اہم ترین گانا گوانا چاہتے تھے جب کہ فلم کے ہدایت کار کمال امروہوی شمشاد بیگم سے۔ اسے لتا کی آواز باریک لگتی تھی۔ انل بسواس نے قائل کیا کہ لتا سے بہتر کوئی نہیں گا سکتا اور گانا، “آئے گا آنے والا” ایک اچھی فلم کی کام یابی میں برابر کا شریک تھا۔ لتا کو آگے کے سفر میں لے کر چلنے میں شنکر جے کشن کا بھی ہاتھ ہے جس کا مُنھ بولتا ثبوت فلم “برسات” ہے۔
سجاد حسین، نوشاد، سلیل چودھری اور سی رام چندر ایسے استاد موسیقاروں نے راگوں کی اشکال کو تکنیکی انداز میں پیش کیا جو کلاسیکی طریقہ بھی ہے لیکن گانے خواص کی سطح سے اوپر نہیں جا سکے۔ فلمی صنعت ایک سرمایہ کارانہ تجارت ہے جس میں عوام سرمایہ کار کے صارف ہیں اور شنکر نے یہ پہلے دن ہی جان لیا تھا۔
انھوں نے استادوں کے بر عکس آرکسٹرا اور گائیکوں کو بلند آہنگ میں استعمال کرتے ہوئے، مشکل تالوں کو عام فہم انداز میں لاتے ہوئے، خاص و عام کے سامنے راگوں کی مختلف اور پیچیدہ اشکال عام فہم بنا کر فلمی موسیقی کو ایک نئی بلندی، ایسی بلندی جس شہرت عام سے یہ آشنا نہیں تھی، پہنچا دیا۔ راگوں کو ان کی صحیح شکل میں پیش کر کے گانوں کو مقبولِ عام بنانے کی چند مثالوں میں ایک مثال فلم “سیما” کے لتا منگیشکر کے گانے راگ جے جے ونتی میں گانے، “من موہنابڑے جھوٹے” کی ہے۔ جے جے ونتی کی اس سے بہتر شکل کسی اور فلم میں نہیں ملتی۔ کہا جاتا ہے کہ استاد بڑے غلام علی خان کی اس ٹھمری کے بعد اگر کسی نے اسے اگرا پایے کاگایا ہے تو فلم “سیما” میں لتا نے۔ ایک اور دل چسپ بات، بہ قول لتا، “میں نے جب فلم دیکھی تو یہ سنتے ہوئے مجھے لگا کہ میں نے نہیں (یہ گانا) نوتن نے گایا ہے۔”
شنکر جے کشن نے موسیقی کی پرانی ڈگر سے ہٹتے ہوئے ہر صنف کو خواہ وہ غزل ہو یا مقبول عام گانا جیسے فلم “اجالا” میں لتا اور منا ڈے کا دوگانا “جھومتا موسم مست مہینہ” بھجن ہو یا قوالی، ایک نئی شکل دی جسے آج تک اپنایا جا رہا ہے۔ ان کے گانوں میں آرکسٹرا بھی طرز کے ساتھ مل کر گانے کی مجموعی اثر پذیری میں اضافہ کرتا ہے۔
شنکر جے کشن کی ایک خوبی تقریباً ہر گانے کا انٹَرول میوزک ہے۔ عموماً ہر گانے میں دو ایسے وقفے ہوتے ہیں اور تقریباً تمام موسیقار دونوں وقفوں میں ایک ہی طرز پر آرکسٹرا بجاتے ہیں لیکن وہ دوسرے میں پہلے سے مختلف بجاتے اور ان کے تخلیقی وفور کا یہ عالم تھا کہ اگر فلم میں بارہ گانے ہیں تو وہ ہر گانا دوسرے سے بڑھ کر ہو گا۔ دوسرے موسیقاروں کی طرح نہیں جو دو یا تین اچھی دھنیں بجا کر باقی گانے بھرتی کر لیتے تھے۔ ان کے گانوں میں، گانا کسی بھی نوعیت کا ہو، ایک شدت ہوتی تھی۔ یہ شدت بولوں، گلوکار کے آواز کے اتار چرھاؤ، آرکسٹرا کے اثر یا فلم کی سچوئیشن کی وجہ سے نہیں، بل کہ ہر گانے کا ایسا مزاج تخلیق کرتے تھے کہ وہ ذہن اور یادداشت پر نقش ہو کر رہ جاتا۔ مزاحیہ گانے سننے تک ہی لطف دیتے ہیں لیکن ان کا تخلیق کیا فلم ” گُم نام” کا گانا “ہم کالے ہیں تو کیا ہوا”
بھی اپنے اندر ایک شدت لیے ہوئے ہے جس کی وجہ آرکسٹرا کا مجموعی تأثر ہونے کے ساتھ محمد رفیع کی آواز کی وسعت کا بھرا ہوا جادو بھی ہے۔ جاوید اختر کے بہ قول شنکر حیدر آباد(دکن) کا رہنے والا تھا اور گانے میں حیدر آبادی محاورہ بھی اسی نے استعمال کروایا جو گانے کی خوب صورتی بھی بنا۔ فلمی موسیقی میں گانے والا اپنی طرف سے بہت کم اختراع کر سکتا ہے کیوں کہ وہ وہی ہوتا ہے جو موسیقار چاہے، سو گائیک گاتا تو ہے لیکن وہی جو موسیقار چاہے۔
ہر عروج کو ہمیشہ زوال ہوتا ہے۔ وہ مہنگے تھے، اتنے مہنگے کہ نام ور فلمی ہیرو بھی ان سے لم معاوضہ لیتے۔ وہ ایک برانڈ بن گئے تھے۔ ان کے خلاف مہم بھی چل رہی تھی۔ کلیان جی آنند جی، لکشمی کانت پیارے لال اور آر ڈی برمن کم معاوضہ پر دست یاب تھے۔ 1965 میں رامانند ساگر (جو اردو کا فکشن نگار بھی تھا) نے فلم “آرزو” بنائی۔ شنکر جے کشن نے فلم کی موسیقی کے لیے پانچ لاکھ معاوضہ لیا۔
فلم ساز محسوس کرنے لگے کہ جب کم معاوضے پر موسیقار دست یاب ہیں تو پھر اتنے مہنگے موسیقار کیوں لیے جائیں؟ یہی دور تھا جب جے کشن کی موت واقع ہو گئی۔ فلم سازوں نے معاوضہ کم دینا شروع کر دیا کہ جب موسیقار ایک ہے تو معاوضہ بھی آدھا۔ شنکر اکیلا ہی شنکر جے کشن کے نام سے موسیقی دیتا رہا لیکن اس معیار کو نہیں پایا جو جو شنکر جے کشن نے حاصل کیا تھا۔
کلیاں جی آنند جی کے آنند جی نے ایک بار اعتراف کیا تھا کہ انھیں اپنے اندر کی موسیقی نہیں دینے دی جا رہی، فلم ساز ان سے شنکر جے کشن کے انداز کی دھنیں بنانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ شنکر جے کشن صرف موسیقار نہیں ایک عہد تھے۔ انھوں نے بر صغیر کی فلمی موسیقی کو وقت سے آگے پہنچا دیا۔
پاکستان کے مشہور طبلہ نواز طافو خان نے کہا تھا کہ شنکر جے کشن ایک الگ کلاس تھے، کسی اور کے بارے میں پوچھو۔ سجاد حسین، نوشاد اور سی رام چندر ایسے استاد موسیقار راگوں کو اہمیت دیتے خو ایک طرح سے خواص کے لیے تھا لیکن شنکر جے کشن بلند آہنگ میں راگوں کی اشکال بناتے جو خواص کے لیے الگ لطف رکھتا اور عوام ان سے اپنے طور والہانہ انداز میں لطف اندوز ہوتے۔
پنڈت ہردے ناتھ منگیشکر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھوں نے جے کشن سے زیادہ ذہین موسیقار نہیں دیکھا۔جے کشن کشن پسِ پردہ موسیقی کا ماہر مانا جاتا تھا اور پنڈت ہردے ناتھ منگیشکر نے یہ بات اسی حوالے سے کی تھی۔ جے کشن اپنے کسی اسسٹنٹ کے ساتھ کسی ڈائریکٹر کے پاس پرنٹ دیکھنے جاتا تو سٹاپ واچ فلم دیکھتے ہوئے سٹارٹ، سٹاپ کہے جاتا اور اسسٹنٹ وہ وقت لکھتا جاتا۔ میوزک روم میں واپس آ کر جب جے کشن کتاب پر وقت دیکھتا تو اپنے اسسٹنٹ کی فوری دُرُستی کرتا کہ یہ سات نہیں ساڑھے نو سیکنڈ ہیں۔
فلم “میرا نام جوکر” کی پسِ پردہ موسیقی نہایت مشکل تھی کیوں کہ سرکس اور فلم کے اپنے مزاج کو واضح کرنے کے لیے پس پردہ موسیقی گانوں سے بھی زیادہ اہم تھی۔ جے کشن نے زیادہ تر وہ موسیقی ڈی سوزا کی مدد سے تخلیق کی کیوں کہ فلم کے دوران میں ہی وہ فوت ہو گیا تھا۔ فلم “سنیاسی” جو جے کشن کے بعد شنکر نے کی، اس کی تمام پسِ پردہ موسیقی راگ بھیرویں میں ہے کیوں کہ یہ راگ جے کشن کو پسند تھا اور یہاں تک کہ اس نے بیٹی کا نام بھی بھیرویں رکھا تھا۔۔ڈی سوزا نے کہا کہ یہ ایک نہایت مشکل کام تھا جو شنکر نے اپنے دوست اور ساتھی کی یاد میں کیا۔
دونوں اپنی اپنی طرزیں بناتے تھے، اسی طرح دونوں کے شاعر بھی اپنے تھے۔ شیلندر، شنکر کے لیے گانے لکھتا اور حسرت جے پوری جے کشن کے لیے۔ یہ کوئی فارمولا نہیں تھا، کئی بار الٹ بھی ہو جاتا۔ طرزیں الگ تو بنتی تھیں لیکن آرکسٹرائزیشن اور ریکارڈنگ مل کر کی جاتی۔
دونوں کم تعلیم یافتہ تھے لیکن انھوں نے اس کمی کو موسیقی کے علم سے پورا کیا۔ دونوں پر یک جان دو قالب والی بات صادق آتی تھی لیکن دونوں کے مزاج بالکل مختلف تھے اور اختلاف بھی رہے۔ شنکر نہایت محنتی اور ذمے دار آدمی تھا۔ وہ فالتو وقت میں موسیقی جاننے والے لوگوں سے ملتا، تبادلۂِ خیال کرتا، مختلف سات بجانے سیکھتا۔ کلاسیکل رقص میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مشق کرتا اور ورزش کے لیے بھی وقت نکالتا کیوں کہ اسے پہلوانی کا بھی شوق رہا تھا۔ وہ ذیابیطس کا خطرے کی حد تک مریض تھا۔ اسے دکھ تب ہوا جب ڈاکٹر نے ستار بجانے سے منع کر دیا کہ اگر انگلی پر زخم آ گیا تو ٹھیک نہیں ہو گا، اس کے بجائے گانوں میں ستار ہمیشہ نمایاں ہوتا تھا۔
پھر شنکر نے ستار کے بجائے پیانو بجانا شروع کر دیا۔ جے کشن جو ایک خوب رو شخص تھا، عورتوں کی صحبت کو ترجیح دیتا۔ وہ ایک “پارٹی مین” تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کسی پارٹی میں اگر دلیپ کمار، راج کپور یا دیو آنند ہوتے تو خواتین کا جمگھٹا جے کشن کے گرد ہی ہوتا۔
شنکر نے جے کشن کے انتقال کے بعد، اپنے آخری وقت تک، اپنے میوزک روم میں، جے کشن کی میز پر اس کے انتظار میں، اس کا باجا اسی طرح رکھا ہوا تھا۔ شنکر کو جب پدما شری کا اعلان ہوا تو اس نے انکار کر دیا کہ جے کشن کو بھی ساتھ دیا جائے ورنہ نہیں دیا جائے۔
جے کشن کی وفات نے اس عظیم جوڑی کا باب بند کر دیا لیکن بر صغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ میں وہ سنہری الفاظ میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہیں گے۔ جے کشن کی موت کے بعد شنکر نے نیم دلی سے فلموں میں موسیقی تو دی لیکن وہ گانے تخلیق نہیں کر سکا جو شنکر جے کشن کیا کرتے تھے۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور آخری دَم تک شنکر جے کشن کے نام سے موسیقی دیتا رہا۔ شنکر جے کشن نے راگ بھیرویں پر ایک مغربی سازوں اور ستار سے ایک البم بھی بنایا ہے جو خاصا نام پیدا کیا تھا۔
ہندوستان کے ماہر ِمعاشیات اور تاریخ دان اشوک مودی نے اپنی کتاب ” انڈیا از بروکن” میں ہندوستان کی تاریخ کا عکس مختلف فلم سازوں کی فلموں سے بھی دیا ہے جن میں راج کپور کی فلمیں بھی شامل ہیں۔
ان فلموں کے”آوارہ ہوں”، ” میرا جوتاہے جاپانی” ،”جہاں دل میں سچائی رہتی ہے” گانے اور فلمیں اپنے دور کی بے روزگاری، بے چینی اور محرومی کا عکس ہیں۔ اس نے راج کپور کی اور فلموں کا بھی ذکر کیا ہے جن کی موسیقی شنکر جے کشن نے نہیں دی تھی لیکن وہ فلمیں ویسی شہرت اور پذیرائی حاصل نہ کر سکیں جو شنکر جے کشن والی فلموں کے حصے میں آئی؛ ان فلموں کے مجموعی تأثر کو شنکر جے کشن کی موسیقی نے ہی ابھارا تھا۔ بہ قول راجیو وجے کر وہ ایک ایسی میراث چھوڑ گئے جسے حاصل کرنے کے لیے ہر آنے والا کوشاں رہے گا۔
ان کا ملنا ایک افسانہ، کام یابی حقیقت اور جدا ہونا بھی ایک افسانہ
