لب آزاد ہیں تیرے

نیا برس۔۔ کچھ خیالچے، کچھ افسانچے

31/12/2016 شکوررافع 0

(شکور رافع) ۶۱۰۲ءتمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ گزر گیا۔ میں زندہ ہوں اور اجتماعی و انفرادی غلطیوں اور ان کے اثرات کو طاقت بنا کر اس دھندلکے میں نئے خواب دیکھتا ہوں کیونکہ خواب […]

لب آزاد ہیں تیرے

ہجر کے دنوں کا لکھا ایک خط

(ذوالفقارعلی ) برفیلی پہاڑیوں کی برف پوش وادیوں میں یخ سردیوں کی چاندنی راتوں میں تیرے بازو کے سرھانے سر رکھا تواپنے ہونے کے یقین میں دلگدازی ایسی کہ من میت میت ہووے۔ دھڑکنوں کا […]

1 2 3 16