کراچی کی امی آپا اور تہذیبی دہشت گردی

کراچی کی امی آپا اور تہذیبی دہشت گردی

کراچی کی امی آپا اور تہذیبی دہشت گردی

از، عاصم بشیر خان

‘زمانہ بدل گیا ہے محاورے بدل گئے ہیں’

یہ ایک ڈرامے کا مکالمہ ہےجس میں مرکزی کردار اسے دُہراتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے محاورے بھی بدل گئے ہیں مثلاً حرام میں برکت ہے، اور جہالت میں عظمت ہے۔

ڈرامے میں ان صاحب کا تکیہ کلام ہے ‘بے غم ہوجاؤ’ جہاں وہ ایک خاتون سے جبری نکاح کی تگ و دو میں ہے، اور کہتا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے یہ محاورہ بھی بدل گیا ہے، بے غم ہو جاؤ سے بیگم بن جاؤ۔

الیکٹرانک میڈیا کا ایک اچھا پہلو ہم نے یہ دیکھا ہے کہ گالم گلوچ اور غیر پارلیمانی مُغلظات کی جگہ اکثر ایک بِیپ beep کی آواز آتی ہے اور

گالی موزوں کرنے کا ذمہ سننے والے پر چھوڑ دیا جاتا ہے، یا یوں کہیں کہ ناظرین سماعت خراشی سے محفوظ رہتے ہیں، اِلاّ یہ کہ چند خاص کرداروں کو کچھ خاص مواقع پر میڈیا نے گالم گلوچ کی کھلی چھوٹ دی اور ان مُغلظات کو براہِ راست نشر کیا۔ پیمرا نے بھی آنکھیں موندے رکھیں۔

تو صاحبو اس داستانِ ستم کو جُوں کا تُوں بیان کرنے کا نہ مجھ میں حوصلہ ہے اور نہ ہی قارئین میں پڑھنے کا۔ مگر تقریب کو کچھ تو بہرِ حال بیاں چاہیے۔ ایک تو یہ کہ ہم نے بھی زمانے کی تبدیلی کی رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور ماؤں بہنوں کی تعظیم ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ‘ماں بہن ایک کرنے جیسے غیر مہذب غیر پارلیمانی طرزِ بیان ‘کو ‘امی آپا’ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بعض مقامات پر ہم مجبوراََ تحریر ی بیپ beep بجائیں گے، آپ سمجھ جائیے گا!


مزید دیکھیے: اردو اور گالیوں کی دکان بند ہونے کا خدشہ  از،  فاروق احمد

اردو زبان میں گالیوں کے ارتقا کا مختصر تنقیدی جائزہ  از، ابو عزام


ویسے تو اس شہِر پریشاں کے دامن میں اپنے اور پرائے سب ایک ہیں سب ہی اس کی محبتوں میں برابر کے حق دار ہیں۔ ہم بھی ٹھہرے شہِرِ یاراں کے باسی اور اتنے زیادہ باسی ہو چکے ہیں کہ اب وجود میں اس کی باس اتنی سمو گئی ہے کہ دُور سے محسوس کی جا سکتی ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا من دیگرم تو دیگری۔  تو یہ داستان ہے اس شہر کے تہذیبی اور تمدنی زوال کی۔ شہر کے سٹیک ہولڈرز کی مہربانیوں سے ایک ایسا دور بھی گزرا جب بوریوں میں آٹا، چینی، چاول اور دیگر اجناس کے ساتھ ساتھ انسان بھی ملا کرتے تھے۔

یہ اسی دور کی ایک تلخ یاد کا ذکر ہے جب میں ریگل چوک پر الیکٹرانک اشیاء کے بازار میں بس کے انتظار میں کھڑا تھا۔ لائن سے سجائی گئی کئی ٹی وی اسکرینوں پر الطاف بھائی حَسبہ بِل پر قرآن اور سنت کی رُو سے اپنا مؤقف بیان کر رہے تھے۔ بس کے انتظار کی کوفت میں کرنے کو کچھ نہ تھا تو میں بھی یہ ایمان افروز مذہبی خطاب سننے لگا۔

اتنے میں دُکان میں موجود ایک شخص نے آ کر مجھ سے پوچھا، کیا دیکھ رہے ہو؟ کیا سمجھ آیا؟ میں نے کہا، بھیا اتنی عقل کہاں ہماری کہ اتنا ثقیل موضوع سمجھ سکیں، مگر ایک بات ہے کہ بھائی آیات تلاوت کر تے وقت اِملاء، تلفظ اور مخارج کی ادائیگی صحیح نہیں کر پا رہے۔

ایک اور اُفتاد کی بِپتا سنیے۔ لیاقت آباد ڈاک خانہ کے اسٹاپ پر غلط سمت سے آتی ایک موٹر سائیکل کا سوار ما بدولت کے پیر پر چڑھ گیا۔ میرے نیم غصے اور نا گواری کے اظہار پر موصوف نے پہلا ستم تو یہ کیا کہ مجھے اپنا سسرالی رشتے دار بنا لیا پھر شرمندگی اور معذرت تو دور، دھمکاتے ہوئے گویا ہوئے، “ابے سارا سہیر (شہر) رانگ سائیڈ آ ریا (آ رہا) ہے تپڑ ہیں تو روک کے دکھا دے، تیری تو۔”

چُوں کہ ہم آں جناب کی رفتار اور سفر میں مدخل ہوئے تھے چُناں چہ وہ ایف سولہ موٹر سائیکل سوار ہمیں مزید کوسنوں سے نواز کر پھر سے ٹیک آف کر گیا۔ میں سوچتا رہ گیا کہ ایک تو اجتماعی سمت کی طرح اس کی سمت بھی غلط اور برق رفتاری ایسی کہ

‘نے ہاتھ باگ پر ہےنے پا ہے رکاب میں’ اور پھر غلطی بھی اپنی نہیں۔

خیر اس اُفتاد کے بعد ہم نے اپنے جوتے کی طرف دیکھا۔ وہ بے چارا یہ حملہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ متوفی تو نہ ہوا پر قریب المرگ ہو گیا۔ سنا ہے تیمور لنگ ایک ٹانگ پر بادشاہت کر گئے، لیکن ہم ایک جوتے پر کیسے چلتے، فوری فیصلہ کیا کہ اب ہم آہنی جوتے خریدیں گے جس کے تین فائدے ہوں گے: ایک تو یہ کہ ایسی نا گہانی بلاؤں سے حفاظت رہے گی۔ دوسرا تادم مرگ بلا چُون و چِرا ہمارے بھاری بھرکم وجود کا بوجھ ڈھوتے رہیں گے؛ اور تیسرا یہ کہ مرنے کے بعد کتابوں کی طرح یہ مضبوط جوتے تَرکے میں میرے بچوں کو منتقل ہو جائیں گے۔

ایف سولہ موٹر سواروں کو معراج پہ دیکھنا ہو تو رمضان کا انتظار کیجیے۔ حالتِ روزہ میں آپ کو جذبۂِ ایمانی کے ساتھ وہ مُغلظات سننے کو ملیں گی کہ آپ سَر پِیٹ لیں گے، اور غلطی کسی کی بھی ہو، ہرشخص کے پاس ایک ہی معذرت ہو گی ‘بھائی روزے سے ہوں۔’

بد تہذیبی کی یہ نا زیبا داستان میرے چند سابقہ افسرانِ بالا کے تذکرے کے بغیر ادھوری رہ جائے گی۔ میرے ایک سابق باس اپنے ماتحتوں کو گالیوں سے نوازنے میں حِفظِ مراتب کا کماحقہ خیال رکھتے تھے، مثلاً پڑھے لکھے افسران کو انگریزی زبان میں، صفائی کا عملہ، چوکیدار اور اسٹاف وغیرہ کو قومی یا صوبائی زبان میں گالیوں سے سرفراز کرتے۔ فرانسیسی زبان پر خاصا عبور تھا لیکن شاید نیوٹن کےقانون کا پاس رکھتے ہوئے فرانسیسی گالیاں نہ دیتے کہ کہیں دیوار سے ٹکرا کر واپس نہ آ جائیں۔

ایک دوسرے افسر اکثر بلند فشارِ خون کی کیفیت میں کافی گڑ بڑا جاتے تھے۔ انگریزی، قومی اور صوبائی زبان میں ممزُوج مُغلظات کا وہ سلسلہ شروع کرتے کہ الامان الحفیظ۔ ممزُوج ادبی اصناف اپنی طرزکا خاصا مسحور کُن تجربہ ہیں مثلاً

زحالِ مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں

میں دو زبانوں کاحسین امتزاج اور چاشنی، خیال اور بیان کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ مگر ہماری بد قسمتی ہمیں تو اس دور کی سہ زبانی ممزُوج مُغلظات پر ہی گزارا کرنا پڑا۔

ایک مرتبہ دفتر میں نے اپنے نائب قاصد سے پوچھا آج کل لیاری کے حالات کیسے ہیں؟ آپ چُوں کہ وہاں رہتے ہیں زیادہ بہتر جانتے ہوں گے۔ قدرے غصے اور جھنجھلاہٹ سے فرمانے لگے:

‘اڑے واجا! کاما کائی (خوامخواہ) ہرو بھرو کا اندر میں (بلا وجہ) ہم لوگ کا دماگ (دماغ) کراب (خراب) نِی (نہیں) کرو نے۔ گینگ وار لوگ لڑتا ہے اور پوچھتا تم ہم سے ہے۔ اڑے اُس لوگ سے پوچھو۔

یہ رد عمل دیکھ کر میں نے خود ہی معذرت کر لی کہ مجھے آپ سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا۔

پڑوسیوں کے بھی بڑے حقوق ہوتے ہیں ان کا ذکرِ خیر نا کرنا بڑی نا انصافی ہوگی۔ پڑوس میں کئی ایسے جھگڑے دیکھنے کو ملے جس میں طرفین میں سے ایک فریق یا دونوں معمولی سی بات پر ملک الموت کی گَراں ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے ہر دم تیار نظر آئے۔ تھری جی اور فور جی کا دور ہے جی تھری کی دست یابی تو مُشکل ہے، لیکن طرفین الفاظ کی فائرنگ سے مخالف کو ہلاک کرنے کی بھرپور کوشش ضرور کرتے ہیں۔

ایک لڑائی میں ایک پڑوسی نے پڑوسن کو یہ یقین دلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کہ وہ کسی کا خیال نہیں کرے گا اور اس کی کُنڈلی میں کئی خون لکھے ہیں۔

فلیٹوں کے مشترکہ حساب کتاب کی بابت میٹنگ میں حساب کی پرسش پر ایک صاحب خاصی شر انگیزی پر اتر آئے۔ تم لوگوں کی۔ بیپ۔ پلازہ کی بیپ۔ فلاں کی بیپ۔ مجھے جانتے نہیں ہو تم، فلاں ابنِ فلاں، فلاں بد معاش سب میرے جاننے والے ہیں۔ دن گزرا چند شُرَفاء اس خود ساختہ بد معاش کو گھر گھر لے کر گئے سب سے معافی دلوائی۔ بھائی سب لوگ دل سے معاف کر دیں ان کی طبعیت خراب تھی اور کار و بار میں نقصان سے دل و دماغ پر بہت بوبھ تھا۔ خیر جلد ہی معافی تلافی ہو گئی۔

سنا ہے ایک مولوی صاحب دوسرے مولوی کو گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہماری لُغت میں گالیاں کم پڑ گئی ہیں، تو عرض ہے کہ اہلِ کراچی سے مُستعار لے لو۔ جب آپ نئی گالیاں دریافت کر لیں سود سمیت لوٹا دیجیے گا۔ بہت ضخیم لغت ہے ہر طرح کی مُغلظات دست یاب ہیں، عام فہم مستعمل گالیاں، مغلظ مرکبات، کثیر لسانی ممزُوج گالیاں وغیرہ وغیرہ۔

کراچی پہلے کے مقابلے میں اب کم بد امن، کم خوف ناک شہر ہے، ضربِ عضب اور رد الفساد کی وجہ سے خاصا امن ہو گیا ہے جس کا سہرا یقیناً حکومت، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سر ہے۔

زمانہ تبدیلی کے سفر سے گزرتا رہتا ہے مگر اس شہر کے باسیوں کا بی پی مستقل مزاجی میں اپنی مثال آپ ہے ہمیشہ اوپر ہی رہتا ہے۔ الوداعی سطور لکھنے تک صورت حال جُوں کی تُوں ہے اور شہر کی تہذیبی نبض ڈوب رہی ہے۔ اور میں اکثر سوچتا ہوں اس تہذیبی دہشت گردی کے خلاف آپریشن کون کرے گا؟ کیوں کہ تمام سٹیک ہولڈرز نے مل کر بڑی محنت سے کراچی کی امی آپا ایک کی ہے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.