مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں نہیں: برّ صغیر کی فکری تاریخ

جمشید اقبال

مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں نہیں: برّ صغیر کی فکری تاریخ

از، جمشید اقبال

علم اور جہالت میں تفریق ممکن ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عام طور پر طاقت ور کی جہالت علم اور کمزور کا علم جہالت سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے علم اور جہالت کا فیصلہ طاقت نے کیا ہے اور طاقت سے مُراد کوئی علمی و فکری صلاحیت نہیں بَل کہ عسکری طاقت رہی ہے۔ ’تشدد اور نسل کشی کی بنیاد بننے والی تاریخ‘ میں اس بات پر روشنی ڈالی جا چکی ہے کہ حملہ آور بر تر ثقافت اور علم کا تحفہ لانے والے کے بہروپ میں آتا ہے۔ اس لیے اس پر لازم  ہو جاتا ہے کہ وہ مقبوضہ تہاذیب کے علم و ہُنر، فن و فکر کا انکار اور ابطال کرے۔

ہمارے ہاں مُروجہ تاریخ چُوں کہ بیرونی، خاص طور پر عرب، حملہ آوروں کے حملوں کو جائز قرار دینے کی غرض سے لکھی گئی ہے اس لیے مقامی لوگوں کو تاریخی علم کے نام پر اس غلط فہمی کا شکار کر دیا گیا ہے کہ اگر خاص طور پر عرب حملہ آور نہ آتے تو وہ جاہلوں اور وحشیوں کی اولاد تھے۔ اسی غلط فہمی کی بنیاد پر ہماری اکثریت اعتماد سے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتی اور جو سماج اعتماد سے پیچھے نہیں دیکھ سکتا اُسے آگے بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

دائیں بازو کے دانش ور تو ایک طرف، ہمارے ہاں بائیں بازو کے دانش وروں کے ہاں یہ رجحان عام رہا ہے کہ جب بھی عقل پسندی کی بات چِھڑی تو تان متعزلہ کے فسانے پر ٹوٹی۔ یہاں تک کہ جب علی عباس جلالپوری نے نشاۃِ ثانیہ کے دور کے فرانسیسی لغت نویسوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خِرد افروزی کے فروغ کے لیے اُردو زبان کا ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ’خرد نامہ جلالپوری‘ تحریر کیا تو مقامی لوگوں کو ’اُن کا‘ روشن ماضی یاد دلانے کے لیے معتزلہ کی یاد دلائی۔ ان سے پہلے اور بعد میں بھی دیگر دانش وروں نے بھی اسی مثال پر عمل کیا یا پھر مغربی عقل پسندانہ رجحانات اپنانے کی وکالت کی۔

مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں نہیں: برّ صغیر کی فکری تاریخ

یہ سب علمی کاوشیں اپنی جگہ قابلِ ستائش ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپروچز مقامی لوگوں کو تاثر دیتی ہیں کہ عقل پسندی اور انسان دوستی کے رجحانات اپنانے کے لیے انہیں کوئی در آمد شدہ ماڈل اپنا کر اپنے حقیقی آبا و اجداد سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ اس سے اس علمی کج فہمی کو رواج ملتا ہے کہ برّ صغیر میں ایسے فکری رجحانات و دبستان سِرے سے موجود ہی نہیں رہے کیوں کہ ہم اس استعماری بیانیے کے قائل ہیں کہ بیرونی حملہ آور لوٹنے کی بجائے بَر تر ثقافت اور علم کا تحفہ لائے تھے اور ان کی آمد سے قبل نہ یہاں علم تھا اور نہ ثقافت۔ تاہم حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ برّ صغیر کی فکری تاریخ یونان سے بھی قدیم ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم چار ہزار سال پیچھے جائیں تو ہمارا تعارف نیا درشن نامی فلسفیانہ دبستان سے ہوتا ہے۔ نیا درشن دو الفاظ کا مر کب ہے۔ نیا سے مراد ”سیدھا“ جب کہ درشن کا مطلب رُو نمائی ہے۔ یہ فلسفہ مقامی فلسفی گوتم نے پیش کیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ نہیں ہیں۔


مزید دیکھیے: نئی صدی کی افسانوی ثقافت  از، فرخ ندیم

برّ صغیر کو  کبھی عظیم کیوں نہیں لکھا؟  از، نصیر احمد


گوتم شاید دنیا کے اولین لوگوں میں سے تھا جس نے یونانی فلسفیوں سے ہزاروں برس پہلے ان عناصر کی بات جو ہماری دنیا کی بنیاد بنتے ہیں۔ گوتم کے نزدیک یہ عناصر چھ اصول ہیں جن میں: مادہ، زمان، مکان، انواع، اجذاب اور تعمیر شامل ہیں۔ گوتم ہوا، پانی، آگ اور آکاش کو بھی مادہ گردانتا ہے جب کہ زمان و مکاں، حیات اور روح کو مادہ سے خارج کر تا ہے۔ گوتم کہتا ہے:

انسان خام عناصر کا علم حواس سے جب کہ زمان و مکاں، شعور اور وفورِ حیات کا علم قوتِ ادراک کی مدد سے حاصل کرتا ہے۔ گوتم شاید وہ پہلا فلسفی ہے جو مادے کو حقیقت مانتا ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’تخیل بھی متحرک ہونے کے لیے کسی مادی وجود پر انحصار کرتا ہے۔ تخیل محض اپنے اوپر کام کر کے نئے تصورات پیدا نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ مادہ حقیقت ہے۔‘‘ گوتم کے نزدیک قوتِ فکر جملہ انسانی حِسّیات کے مربوط و مر کوز عمل کا نام ہے۔ اس کے نزدیک حسّیات چھ ہیں: پانچ ظاہری اور چھٹی باطنی۔ تاہم وہ چھٹی حس کو ’مانس‘ کہتا ہے جس کا مطلب ضمیر یا تکمیل یافتہ ذات (actualized self) ہو سکتا ہے۔ گوتم کے نزدیک بصارت کی صلاحیت مادی اجسام کی مانع صلاحیت سے ممکن ہوتی ہے۔ روشنی کا ارتعاش اجسام سے ٹکرا کر آنکھوں کے لطیف آلاتِ بصارت پر اپنا عکس چھوڑتا ہے، رنگ آنکھوں کے مختلف احساسات ہیں اور ان کا انحصار اجسام سے ٹکرا کر منعکس ہونے والی روشنی کے حجم، جذب ہونے کی صلاحیت اور رفتار پر ہے۔ گوتم سماعت کی تقریباً وہی وضاحت پیش کرتا ہے جو ہندوستان کے اولین برطانوی مؤرخ الیگزینڈر ڈاؤ کے بقول اٹھارہویں صدی میں مغربی سائنس دان کر رہے تھے۔

الیگزینڈر اس بات پر حیران ہوتا ہے کہ ایک شخص بغیر کسی لیبارٹری کے اور اُس خطے میں رہتے ہوئے جہاں لاش کی چِیر پھاڑ ممنوع ہو، تجربے کی کمی دھیان سے کیسے پوری کر سکتا ہے ؟

گوتم کے نزدیک منطقی عقل شعور کی وہ حالت ہے جو مادی دنیا کا علم حاصل کرنے کے لیے عطا کی گئی ہے اور مادی دنیا کا علم حِسّیات کے جملہ تجارب کا مجموعہ ہے۔ یہاں وہ حسیات اور فکر کے تعلق کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب آنکھ دُھواں دیکھتی ہے تو منطقی عقل یہ نتیجہ اخذ کر لیتی ہے کہ کہیں آگ جل رہی ہے۔ آنکھ رسی کا ایک سِرا دیکھ کر دُوسرے (اَن دیکھے) سرے کا سراغ پا لیتی ہے۔ منطقی عقل، حسیات اور عِلت و معلول کے قانون کے ما بین رشتوں پر بات کرتے ہوئے گوتم ملحدین کی منطقی غلطی پر بات کرتا ہے۔

گوتم پرم آتما (خُدا) پر یقین نہ رکھنے والوں اور تخلیقِ کائنات کو حادثہ قرار دینے والوں کو ’باید‘ کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ باید دنیا کو حادثہ کی پیدا وار مانتے ہیں لیکن کائنات اور انسان کی تخلیق حادثاتی ہر گز نہیں ہو سکتی کیوں کہ حادثہ پانی کے بلبلے کی مانند اس پل ہے، اور دُوسرے پل نہیں ہے۔ اس کے بر عکس ربطِ حیات اور جوشِ تخلیق منطقی ربط کا پتا دیتے ہیں۔ تخلیق کا انحصار ”اصل“ واقعات کے مربوط سلسلے سے ہے جس میں سے ہر واقعہ مخصوص فطری علت (natural cause) کا مہمیز کردہ ہے۔

لہٰذا واقعات کے اس تسلسل میں حادثہ کسی ایسے واقعہ کو کہا جا سکتا جس کی علت ہنوز ہماری علمی سطح سے اوجھل ہے۔ انسان کی علمی سطح مزید بلند ہو گی تو ایسے حادثات کی منطقی کڑیاں بھی مل جائیں گی کیوں کہ ہر واقعہ علت کا پتا دیتا ہے لہٰذا حادثے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

گوتم کے اس بیان سے ایک طرف تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام دنیا میں مذاہب کے ماننے والوں کو ایک ہی طرزِ کے فکری چیلنجز کا سامنا رہا ہے تو دُوسری طرف اس غلط فہمی کا بھی ازالہ ہوتا ہے کہ الحاد اور عقیدہ شکنی کوئی جدید مظہر ہے۔ گوتم کے دلائل ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں برس پہلے بھی مُلحدانہ رجحانات موجود تھے۔

اگر مثبت انداز میں دیکھا جائے تو مذہبی اور ملحدانہ دونوں رجحانات بظاہر ایک دُوسرے کے مخالف دکھائی دیتے ہیں، لیکن اگر ایک نہ ہو تو دُوسرے کی فکری پرواز بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر ایک کو بات کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو دُوسرا خود بخود سطحی پن کا شکار ہو جاتا ہے۔

قدیم ہندوستان کو، بقول کیرن آرم سٹرانگ، دنیا میں روحانی و نفسیاتی فکر کے امام کا درجہ حاصل ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ یہاں مذہبی فکر کے ساتھ ساتھ مادی فکر اور الحاد پسندی کو بھی عروج نصیب ہوا ہو گا۔ اس صداقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذہب پر جن مُلحدانہ اعتراضات کو گوتم چار ہزار برس پہلے منطقی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ مغرب میں با قاعدہ طور پر منطقی اثبات پسندوں نے پہلی بار بیسویں صدی (1920) میں پیش کیے۔

گوتم کا ملحدین کے خیالات پر بات کرنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ برّ صغیر میں فکر و اظہار کی آزادیوں کو ہزاروں سال پہلے نہ صرف تسلیم بَل کہ ان کا احترام بھی کیا جاتا تھا۔ گوتم کا ملحدین کے تصورات پر بات کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اظہار کی مکمل آزادی حاصل تھی اس لیے ان کے افکار عام تھے، ورنہ گوتم کو ان خیالات پر بات کرنے کی کوئی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

مغرب میں ملحدین اگرچہ 500 قبل از مسیح یونان میں موجود تھے لیکن جان ہنری ’دی انلائٹنمنٹ ورلڈ‘ (2004) میں لکھتا ہے کہ مغرب میں انہیں پہلی بار نشاۃ ثانیہ اور خرد افروزی کے ادوار (1400-1800) میں کھل کر بات کرنے کا موقع ملا جب کہ گوتم کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ مغرب کے بَر عکس برّ صغیر میں ملحدین کئی ہزاروں سال پہلے بھی اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر رہے تھے۔ برّ صغیر کی وسیع المشربی کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ گوتم کسی بھی مقام پر مُلحدین کو محض کافر و زندیق اور واجب القتل کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش نہیں کرتا بَل کہ اُن کے ہر اعتراض کا عملی و عقلی جواب دینا ضروری سمجھتا ہے۔

الیگزینڈر گوتم کی سائنسی فکر کا قدر دان ہے اور وہ اٹھارہویں صدی تک مغرب میں مقامی فکر کے تعارف سے مطمئن نہیں تھا۔ گوتم کے تعارف کے بعد وہ یہ بتاتا ہے کہ چار ہزار برسوں میں گوتم کی صرف ایک کتاب بچی ہے جو برٹش میوزیم میں رکھوا دی گئی ہے۔ الیگزینڈر خواہش کرتا ہے کہ مقامی فکر مغرب میں رُو شناس کرائی جائے تا کہ لوگ اس خطے کی فکری گہرائی کا اندازہ لگا سکیں جسے ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی تعصب زدہ آنکھ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

مغرب میں مقامی فکر کا پہلا بھرپور تعارف جرمن فلسفی شوپنہاوا (1788-1860) نے الیگزینڈر کی وفات کے کئی سال بعد انیسویں صدی کے وسط میں کرایا۔ اس سے نطشے اس قدر متاثر ہوا کہ اُس نے منو سمرتی کے قوانین کو غلام ساز سامی اخلاقیات کا بہترین متبادل قرار دیا۔ نطشے کی سپر مین سے ملاقات (جسے اقبال نے مردِ مومن کا نام دیا) ہندوستانی کتاب منو سمرتی کے قوانین کے مطالعے کے دوران ہوئی۔ (Nietzsche, The Anti-Christ-1895)

بیرونی حملہ آوروں کے نزدیک منو سمرتی ہندوستان میں طبقاتی تفریق کا بانی کہا جاتا ہے جس نے شودر جیسا مظلوم طبقہ پیدا کیا۔ تاہم نطشے کا خیال ہے کہ ہندوستان دنیا کی وہ پہلی تہذیب ہے جہاں لوگوں کی ان کی صلاحیت کے مطابق درجہ بندی کر کے انہیں نشو و نما پانے کا موقع دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نطشے مغربی مذاہب کے مقابلے میں منو کے قوانین کو دیکھ رہا تھا جہاں غلامی کا تصور اور کار و بار دورِ جدید تک جاری رہا ہے۔ برّ صغیر میں شودر کا درجہ سب سے نچلا سہی، لیکن وہ اپنی حیثیت بدل سکتا تھا اور شودر ہونا پھر بھی عرب و غرب میں غلام ہونے سے کہیں بر تر تھا۔ شودر کے غلام سے بر تر مقام کو شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے اپنی کتاب ’’اسلام میں روا داری کی تعلیم‘‘ میں تسلیم کیا ہے۔ وہ الفسٹن کی کتاب کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ رومۃ الکبریٰ میں غلاموں کی حالت ہندوستان کے شودروں سے بدتر تھی۔ (ص 26)

ہندوستانی فکر و فلسفہ کے سلسلے میں سامراجی بد دیانتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ مسلمان عُلَمائے کرام اکیسویں صدی میں بھی جنسی غلامی کے حق میں مذہبی دلائل پیش کرتے ہیں اور مغرب میں انیسویں صدی میں بھی غلامی کو جائز قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن جب ہندوستان کی بات ہو تو عرب و غرب کو اپنے ہا ں غلامی کے کی بجائے یہاں وہ شودر دکھائی دیا جو آزاد تھا اور اس کی حالت ہزاروں برس قبل بھی غلاموں سے قدرے بہتر تھی۔ بیرونی حملہ آوروں نے مقامی لفظ ’داس ‘ اور ’داسی‘ کا مطلب غلام لیا ہے لیکن کوتلہ چانکیہ ارتھ شاستر میں ہزاروں برس قبل معبد کے داسیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔

اپنے بنیادی موضوع یعنی مقامی فکر کی جانب واپس آ کر اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ مغرب میں مقامی فکر کا الیگزینڈر سے شروع ہونے والا سفر کہاں تک پہنچا ہے۔

مغرب میں شوپنہاوا اور نطشے سے شروع ہونے والا ہندوستانی فکر کا مغرب میں مقبولیت کا سفر آج یہاں تک پہنچا ہے کہ مغرب میں قدیم مقامی اور یونانی فکر کے مشترکہ ماخذ تلاش کیے جا رہے ہیں اور انڈو یورپین فکر (جس میں فلسفہ یونان بھی شامل ہے) کا سر چشمہ برّ صغیر قرار پا رہا ہے۔ مغرب میں ہندوستانی فلسفہ عام ہوتے ہی مباحث کا آغاز ہو چکا تھا لیکن یونانی اور مقامی فکر کے مشترکہ فکری ماخذ پر 2014 میں 17 عصری محققین اور مفکرین نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں مقالے پڑھے جنہیں 2016 میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے کتابی شکل دے کر اس اپروچ کی علمی حیثیت تسلیم کر لی ہے۔

سامراجی تاریخ کی آنکھ سے دیکھنے والے غرب پرستوں کے علاوہ ہمارے دائیں بازو کے عرب پرست عربوں کے علمی و فکری کار ناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ عربوں نے اُس دور میں علم کی شمع روشن رکھی جب مغرب تاریک دور (Dark Age) سے گزر رہا تھا۔ تاہم درسی کتب لکھنے والے کلرک یہ نہیں بتاتے کہ جسے وہ مغرب کا تاریک دور کہا جاتا ہے وہ در اصل کلیسائی سیاست کا دور تھا اور یوں ہر وہ خطہ تاریک دور سے گزر رہا ہے جہاں مذہب اور سیاست ہنوز جدا نہیں ہو پائے۔

اس کے علاوہ جہاں تک عربوں کے علمی و فکری کار ناموں کا تعلق ہے تو پاکستان میں درسی کتب لکھنے والوں کی سینکڑوں کتب کے مقابلے میں بیسویں صدی کے مفکرِ اعظم برٹرینڈ رسل کا فلسفۂ مغرب کی تاریخ سے لیا گیا یہ اقتباس کہیں زیادہ قابلِ اعتماد اور علمی قدر کا حامل ہے:

’’عربی فکر اصل افکار کا مجموعہ نہ ہونے کی بنا پر غیر اہم ہے۔ بُو علی سینا اور ابنِ رشد جیسے لوگ (مفکر نہیں) محض شارحین تھے۔ عربوں نے ارسطو سے سائنسی، نو فلاطونیوں سے مابعد الطبعیاتی و منطقی، گالین سے طبی، ہندوستان سے ریاضیاتی و فلکیاتی جب کہ ایرانیوں سے باطنی فکر مستعار لی۔‘‘ (ص 433)

عرب فکر کا مستعار شدہ افکار کا ملغوبہ ہونا مسلم دنیا (خاص طور پر پاکستان) کے علاوہ دنیا بھر کے علمی حلقوں میں مُسلَّم ہے لیکن خود علامہ اقبال تہذیبی دعوؤں کا پردہ بھی چاک کر چکے ہیں۔ علامہ اپنے خطبات میں لکھتے ہیں:

’ایران سے اسلام کو وہی کچھ ملا ہے جو کچھ مسیحیت کو یونان سے ملا تھا۔‘

یونان سے مسیحیت کو کیا ملا؟ فکر ملی، ثقافت ملی، تمدن ملا، فنون ملے، المیہ و طربیہ ملا، ڈرامہ ملا، موسیقی ملی۔ اقبال کا دعوٰی فی ذاتہ دلیل ہے کہ اس مذہب کا دامن پہلے ان سب سے خالی تھا۔

اقبال یقیناً قبل از انقلاب ہزاروں سالہ تہذیب کے امین زرتشتی ایران کی بات کر رہے تھے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ

اگر اسلام پر فارس کا رنگ (جسے اقبال بعض مقامات پر عجمی رنگ کہتے رہے ہیں) چڑھنا اس مذہب کو مالا مال کر گیا تو مقامی رنگ چڑھنے میں کیا قباحت تھی؟ اگر قبل از اسلام ایران اتنا کچھ دے سکتا تھا تو وہ بر صغیر کیوں نہیں دے سکتا جس نے یونان کو بھی مالا مال کیا ہے؟ اُس یونان کو جو اُس مغربی فکر کی جائے پیدائش ہے جس کی محض شرح کرنے والوں کو مفکر اور سائنس دان قرار دے کر عرب پرست فلسفہ اور سائنس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟

آج اگر مغرب اپنے علوم و افکار کی جائے پیدائش پر مقامی فکر کے نشانات تسلیم کر رہا ہے تو پھر مقامی لوگوں کو ان کی شناخت، نام، لباس، رسومات، موسیقی اور زُبان پر شرمندہ کرنے کی بجائے ان کی تعظیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مقامی شناخت فخر سے اپنا کر شناخت کے بحران سے باہر نکلیں کیوں کہ وہ ان لوگوں کی اولاد ہیں جو انسانی فکری ترقی کے سفر میں میرِ کاروان تھے۔

اگر عورتوں کی برابری ترقی کا پیمانہ ہے تو یہاں خواتین الوہیت (divinity) میں بھی برابر کی شریک تھیں۔ یہ پیمانہ اگر آزادئِ فکر و اظہار ہے تو یہاں ہزاروں سال پہلے ملحدین کو بھی بات کرنے کی پوری آزادی تھی۔ یہ پیمانہ اگر شخصی آزادیاں ہیں تو یہاں اُس غلامی کا نام و نشان نہیں ملتا جسے غرب میں تہذیبی و فکری اور عرب میں مذہبی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔

ہمارے دانش وروں کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیائے علم و دانش میں تاریخی ڈی کالونائزیشن کے بعد فکری ڈی کالونائزیشن (intellectual decolonization) کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

اب جو دو تہاذیب یا ثقافتوں نے لوگوں کے میل ملاپ اور باہمی اثر و نفوذ سے اپنایا ہے وہ فطری کہلائے گا لیکن جو کچھ گن پوائنٹ پر، بزورِ شمشیر یا توہم پرستی کے ذریعے منوایا اور پھر پھیلایا گیا ہے وہ کبھی تہذیب یا علم نہیں بَل کہ غصب ہی کہلائے گا۔

آج جب تاریخ اور مذہب سے سامراجی بیانیوں کی کالک دھوئی جا رہی ہے اور ہر وہ بیانہ استحصالی قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینکا جا رہا ہے جس کی مدد سے مقبوضہ تہاذیب کو ہیچ گردان کر اُس کا مٹاؤ جائز قرار دیا جاتا رہا ہے تو ہمارے دانش وروں کو بھی چاہیے کہ وہ متروک و مدقوق تصورات اگلی نسلوں تک پہنچانے سے گریز کریں۔ انہیں بتائیں کہ آج کولمبس ہیرو نہیں لٹیرا ہے۔ انہیں آگاہ کریں کہ آج یہ کُلیہ تشدد اور نسل کشی کا بیج سمجھا جا رہا ہے کہ علم اور جہالت کا فیصلہ ہتھیار اور عسکری طاقت کرتی ہے۔

اس مضمون کے حصۂِ دوئم کا لنک: کیا مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں ہیں؟

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.