کیا مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں ہیں؟ حصہ دوئم

جمشید اقبال

کیا مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں ہیں؟ حصہ دوئم

از، جمشید اقبال

مغرب میں مقامی فکر کا پہلا بھرپور تعارف عظیم جرمن فلسفی شوپنہاوا (1788-1860) نے الیگزینڈر کی وفات کے کئی سال بعد انیسویں صدی کے وسط میں کرایا۔ اس سے نطشے اس قدر متاثرا ہوا کہ اُس نے منو سمرتی کے قوانین کو غلام ساز سامی/ ابراہیمی مذہبی اخلاقیات کا بہترین متبادل قرار دیا۔ نطشے کی سپر مین سے ملاقات (جسے اقبال نے کلمہ پڑھا کر مردِ مومن بنایا) ہندوستانی کتاب منو سمرتی کے قوانین کے مطالعے کے دوران ہوئی۔ (Nietzsche, The Anti-Christ-1895)

بیرونی حملہ آوروں کے نزدیک منو سمرتی ہندوستان میں طبقاتی تفریق کا بانی کہا جاتا ہے جس نے شودر جیسا مظلوم طبقہ پیدا کیا۔ تاہم نطشے کا خیال ہے کہ ہندوستان دنیا کی وہ پہلی تہذیب ہے جہاں لوگوں کی ان کی صلاحیت کے مطابق درجہ بندی کر کے انہیں نشو و نما پانے کا موقع دیا گیا تھا۔ اگر چِہ سماجی درجہ بندی ہر قدیم تہذیب میں موجود تھی اور اس کے منفی پہلو بھی تھے، مگر ہندوستان میں اس درجہ بندی کے پیچھے ایک حکمت کارِ فرما تھی اور وہ یہ کہ یہاں کے حکماء کو اس بات کا علم تھا کہ وہ معاشرہ جس میں ہر ایک مذہب اور عسکری راستہ اختیار کر لے ایک انتشار کا شکار شدت پسند معاشرہ ہو گا۔

آج کے پاکستان کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے، جہاں ہر ایک کو مذہبی اور عسکریت پسند بنادیا گیا ہے، تو سطحی نگاہ سے دکھائی دینے والی ذات پات کی درجہ بندی کے پیچھے چھپی اس حکمت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کسی سماج کے ہر شخص کو مذہبی اور عسکریت پسند بنانا کس حد تک خطر ناک ہو سکتا ہے۔

نطشے کی طرف واپس آتے ہیں۔ وہ بھی مغربی مذاہب کے مقابلے میں منو کے قوانین کو جس زاویے سے دیکھ رہا تھا وہ یہ تھا کہ ابراہیمی مذاہب میں غلامی کا تصور اور کار و بار دورِ جدید تک جاری تھا۔ وہ ہندوستانی سماج کو اس لیے ابراہیمی مذاہب کی تعلیمات کے تحت تشکیل پانے والے سماج سے زیادہ اہمیت دیتا تھا کیوں کہ بر صغیر میں شودر کا درجہ سب سے نچلا سہی لیکن وہ اپنی حیثیت بدل سکتا تھا اور شودر ہونا پھر بھی عرب و غرب میں غلام ہونے سے کہیں بر تر تھا۔

شودر کے غلام سے بر تر مقام کو شیخ محمد اسماعیل پانی پتی نے اپنی کتاب ’’اسلام میں روا داری کی تعلیم‘‘ میں بھی تسلیم کیا ہے۔ وہ الفسٹن کی کتاب کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ رومۃ الکبریٰ میں غلاموں کی حالت ہندوستان کے شودروں سے بد تر تھی۔ (ص 26)

انسانی غلامی کے تناظر میں ہم ہندوستانی سماجی کے بر عکس اگر ہم عرب و غرب کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ آج بھی کچھ مسلمان علماء جنسی غلامی کے حق میں مذہبی دلائل پیش کرتے ہیں۔ یہ ابھی آج کا واقعہ ہے کہ جہاں بھی داعش، طالبان اور بوکو حرام جیسی تنظیمیں طاقت حاصل کرتی ہیں غلام اور لونڈیاں بنانے کا نیک کام فوراً شروع کر دیا جاتا ہے۔

عرب اخلاقیات کے بر عکس مغرب میں انیسویں صدی میں بھی غلامی کو جائز قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن جب ہندوستان کی بات ہو تو عرب و غرب کو اپنے ہاں غلامی کی بجائے یہاں وہ شودر دکھائی دیا جو آزاد تھا اور اس کی حالت ہزاروں برس قبل بھی غلاموں سے قدرے بہتر تھی۔ یہاں پر لفظ ’داس‘ کو غلام کا مترادف جاننے والوں کو بھی ایک بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ بیرونی حملہ آوروں نے مقامی لفظ ’داس‘ اور ’داسی‘ کا مطلب غلام لیا ہے، لیکن کوتلہ چانکیہ ارتھ شاستر میں ہزاروں برس قبل معبد کے داس اور داسیوں کے بنیادی حقوق کی بات کرتا ہے۔

اپنے بنیادی موضوع یعنی مقامی فکر کی جانب واپس آ کر اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ مغرب میں مقامی فکر کا الیگزینڈر سے شروع ہونے والا سفر آج کہاں تک پہنچا ہے۔

مغرب میں شوپنہاوا اور نطشے سے شروع ہونے والا ہندوستانی فکر کا مغرب میں مقبولیت کا سفر آج یہاں تک پہنچا ہے کہ مغرب میں قدیم مقامی اور یونانی فکر کے مشترکہ ماخذ تلاش کیے جا رہے ہیں اور انڈویورپین فکر (جس میں فلسفۂِ یونان بھی شامل ہے) کا سر چشمہ دانش وروں کی بڑی تعداد کے نزدیک بر صغیر قرار پا رہا ہے۔

مغرب میں ہندوستانی فلسفہ عام ہوتے ہی مباحث کا آغاز ہو چکا تھا لیکن یونانی اور مقامی فکر کے مشترکہ فکری ماخذ پر 2014 میں 17 عصری محققین اور مفکرین نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر (Exeter) میں مقالے پڑھے جنہیں 2016 میں ایڈینبرا یونیورسٹی نے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔


مزید و متعلقہ: ہندو مسلم دشمنی کی کہانی ہے کہ تقسیم در تقسیم کی شعوری کار روائی  از، ڈاکٹر عرفان شہزاد

کیا سیکولر مسلم کی اصطلاح درست ہے؟  از، طارق احمد صدیقی

دلت اور مسلمان ڈسکورس: برہمنی فکریات کے خطرناک پہلو  از، ابرار مجیب

فرمودات نطشے: کِن کے ہاتھ آن لگے  انتخاب و ترجمہ از، نصیر احمد


مقامی اور یونانی فکر کے مشترکہ فکری ماخذ کا عالم گیر علمی سطح پر تسلیم کیا جانا عرب فکر اور خاص طور پر معتزلہ کو مقامی فکر کا امام بنانے والوں کی کاوشوں پر پانی پھیر کر بے وقعت کر دیتا ہے کیوں کہ خواہ ابنِ رشد، ابنِ سینا ہوں یا پھر معتزلہ نامی عقل پسند سب اُس یونانی فکر کے شارِح تھے جس پر ہندوستانی فکر کی چھاپ مُسلّم ہو چکی ہے۔

اس کے علاوہ اس بات کی بھی کوئی علمی و تاریخی حیثیت نہیں رہ جاتی کہ عربوں نے اُس دور میں علم کی شمع روشن رکھی جب مغرب تاریک دور (Dark Age) سے گذر رہا تھا کیوں کہ جسے یہ لوگ مغرب کا تاریک دور کہتے ہیں وہ در اصل کلیسائی/مذہبی سیاست کا دور تھا۔ اگر ان کی یہ بات تسلیم کر لی جائے تو ہر وہ خطہ تاریک دور سے گذر رہا ہے جہاں مذہب اور سیاست ہنوز جدا نہیں ہیں اور یوں خود ان نام نہاد مفکرین کے دور سے لے کر عالم اسلام میں آج تک کا دور تاریک دور کہلائے گا کیوں کہ یہاں دین اور سیاست مخلوط کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جہاں تک عربوں کے علمی و فکری کارناموں کا تعلق ہے تو پاکستان میں درسی کتب لکھنے والوں کی سینکڑوں کتب کے مقابلے میں بیسویں صدی کے مفکر اعظم برٹرینڈ رسل کا فلسفۂ مغرب کی تاریخ سے لیا گیا یہ اقتباس کہیں زیادہ قابلِ اعتماد اور علمی قدر کا حامل ہے:

’’عربی فکر اصل افکار کا مجموعہ نہ ہونے کی بنا پر غیر اہم ہے۔ بُو علی سینا اور ابنِ رشد جیسے لوگ (مفکر نہیں) محض یونانی فکر کے شارحین تھے۔ عربوں نے ارسطو سے سائنسی، نو فلاطونیوں سے مابعد الطبعیاتی و منطقی، گالین سے طبی، ہندوستان سے ریاضیاتی و فلکیاتی جب کہ ایرانیوں سے باطنی فکر مستعار لی۔ ‘‘ (ص 433)

عرب فکر کا مستعار شدہ افکار کا ملغوبہ ہونا مسلم دنیا (خاص طور پر پاکستان) کے علاوہ دنیا بھر کے علمی حلقوں میں مُسلَّم ہے لیکن خود علامہ اقبال تہذیبی دعوؤں کا پردہ بھی چاک کر چکے ہیں۔ علامہ اپنے خطبات میں لکھتے ہیں:

’ایران سے اسلام کو وہی کچھ ملا ہے جو کچھ مسیحیت کو یونان سے ملا تھا۔‘

یونان سے مسیحیت کو کیا ملا؟ فکر ملی، ثقافت ملی، تمدن ملا، فنون ملے، المیہ و طربیہ ملا، ڈرامہ ملا، موسیقی ملی۔ اقبال کا دعوٰی فی ذاتہ دلیل ہے کہ اس مذہب کا دامن پہلے ان سب سے خالی تھا۔

اقبال یقیناً قبل از انقلاب ہزاروں سالہ تہذیب کے امین زرتشتی ایران کی بات کر رہے تھے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام پر فارس کا رنگ (جسے اقبال اور بعد میں ان کے فکری جانشین مثال کے طور پر غلام احمد پرویز مقامات پر عجمی رنگ کہتے رہے ہیں) چڑھنا اس مذہب کو مالا مال کر گیا تو بر صغیر کا مقامی رنگ چڑھنے میں کیا قباحت تھی؟

اگر قبل از اسلام ایران اتنا کچھ دے سکتا تھا تو وہ برصغیر کیوں نہیں دے سکتا جس نے اس یونان کو بھی مالا مال کیا جس کی فکر کے عرب شارحین نے ابھی تک اسلامی میں افکار کا سارا بوجھ اٹھا رکھا ہے؟ مقامی فکر نے تو یونان کی فکر کو متاثر کیا ہے جو اُس مغربی فکر کی جائے پیدائش ہے جس کی محض شرح کرنے والوں کو مفکر اور سائنس دان قرار دے کر عرب پرست فلسفہ اور سائنس کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج اگر مغرب اپنے علوم و افکار کی جائے پیدائش پر مقامی فکر کے نشانات تسلیم کر رہا ہے تو پھر مقامی لوگوں کو ان کی شناخت، نام، لباس، رسومات، موسیقی اور زُبان پر شرمندہ کرنے کی بجائے ان کی تعظیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مقامی شناخت فخر سے اپنا کر شناخت کے بحران سے باہر نکلیں کیوں کہ وہ ان لوگوں کی اولاد ہیں جو انسانی فکری ترقی کے سفر میں میر کاروان تھے۔

اگر عورتوں کی برابری ترقی کا پیمانہ ہے تو یہاں خواتین الوہیت (divinity) میں بھی برابر کی شریک تھیں۔ یہ پیمانہ اگر آزادئِ فکر و اظہار ہے تو یہاں ہزاروں سال پہلے ملحدین کو بھی بات کرنے کی پوری آزادی تھی۔ یہ پیمانہ اگر شخصی آزادیاں ہیں تو یہاں اُس غلامی کا نام و نشان نہیں ملتا جسے عرب میں تہذیبی و فکری اور عرب میں مذہبی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔

آج جب تاریخ اور مذہب سے سامراجی بیانیوں کی کالک دھوئی جا رہی ہے اور ہر وہ بیانہ استحصالی قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینکا جا رہا ہے جس کی مدد سے مقبوضہ تہاذیب کو ہیچ گردان کر اُس کا مٹاؤ جائز قرار دیا جاتا رہا ہے تو ہمارے دانش وروں کو بھی چاہیے کہ وہ متروک و مدقوق تصورات اگلی نسلوں تک پہنچانے سے گریز کریں۔ انہیں مقامی فکر کے نام پر معتزلہ کا تعارف کرانے کی بجائے مقامی فکر سے متعارف کرائیں۔ مقامی نسل کو تدبر کے ذریعے مستعار شدہ آسمان نہیں ان کا اپنا گردوں دکھا کر بتائیں:

یہ وہ گردوں ہے تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

اس مضمون کا حصۂِ اوّل: مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں نہیں