چودہ اگست کا تہوار اور اپنے ہم فکر احباب سے عرضی

Yasser Chttha

چودہ اگست کا تہوار اور اپنے ہم فکر احباب سے عرضی

از، یاسر چٹھہ

اپنے ہم فکر یا فکر کے قریب قریب کے احباب سے درخواست کرنی ہے، اگر سنتے ہیں تو۔ یہ چند سُنے سُنے سے سوال اور احساس ایک بار پھر سُنیے:

■ پاکستان کی آزادی کی خوشیاں کیوں منائیں؟ کیا جواز ہے ان کا؟

■ یہ اسٹیبلشمنٹ کا دن ہے! وہ ہر قومی موقع اور تہوار کو توپ و تفنگ کے سایے نیچے کر دیتے ہیں۔

■ یہ اس اشرافیہ کا دن ہے جن کی جھولی میں مرتبے، مواقع اور فوائد آن گرتے ہیں۔

۔۔۔ (وقت کے بہاؤ کو دو لمحوں کی آسانی کی خاطر پاٹنے دیجیے۔… ویسے اپنی ماہیت میں یہ نا قابلِ تقسیم ہوتا ہے… ۔ اس برس میں ہی رکیے، دیکھیے: کسی نے کہا یہ آزادی کی جد و جہد کا نقطۂِ آغاز ہونا چاہیے؛ کوئی کہتے پِھرتا ہے کہ اس برس زیادہ جوش و خروش سے یوم آزادی منانا ہے۔ اس برس ہی کیوں؟… اپنے جواب سوچتے جائیے۔)

■ یہ شب گزیدہ سحر… یہ سحر وہ سحر تو نہیں؟….

■ “دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے

پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہے

بہت عزیز تھی لیکن رخِ سَحر کی لگن

بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن

سُبک سُبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن…”

فؔیض

آزاد لوگوں کا گیت

غلام لوگو
تمہیں تمہارے غلام آقا کا حکم یہ ہے
کہ آج کے دن کو اپنا یومِ نجات سمجھو
یہ بات سمجھو
۔۔۔
وہ آدمی جو چبوترے پر کھڑا ہوا ہے
ہمارے حاکم بدیسیوں نے جسے سلامی کا حق دیا ہے
وہ جس کو افواج کے سپاہی سلام کرتے گزر رہے ہیں
وہ جس کے در پر کھڑے ہیں کاسہ بدست سارے ادیب شاعر
وہ جس کے آگے جھکے ہوئے ہیں تمام سوداگرانِ مذہب
غلام لوگو غلام ہے وہ
ابھی چلا جائے گا یہاں سے
ہمارے حاکم بدیسیوں کو سلام کرنے
مزید ہم کو غلام کرنے
۔۔۔
غلام لوگو
زمین کے تشنہ کام لوگو
خدا کی بستی کے عام لوگو
تمہارا یومِ نجات در اصل واہمہ ہے

امداد آکاش

لیکن! اے میرے آزاد منش اور ترقی پسند دوستو کیا ہمیں ایک پَل کے لیے رک کر سوچنا نہیں چاہیے:

پاکستان اب ایک تاریخی حقیقت ہے۔ قومی دن اور تہوار اقوام اور خطوں کی معاشرتی و سماجی تشکیل و انضباط، اور جُڑت کا باہمی احساس دینے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں۔

کیا یہ سوال اس قدر اہم ہے کہ پاکستان 14 اگست کو بنا، یا 15 اگست کو اس کو نام ملا؟ یہ ایک علمی اور academic معاملہ ضرور ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے ارد گرد سب کے سب معلاملات میں اسی قدر تفصیل پسند detail oriented ہیں جو اس معاملے کو بھی اس کسوٹی پر پرکھنے ہی کو اپنا مطمح نظر بنائے رکھیں؟ یا یہ کوئی selectively cut moment ہے؟

ہم میں سے کتنے لوگ روز گھڑی لگائے بغیر گھر سے نکلتے ہیں اور اسی قدر وقت کی اکائیوں کو محترم و مکرم جانتے ہیں؟ ہم میں سے کتنے سارے لوگ ہیں جن کی اپنے سکول کے ریکارڈ میں درج تاریخ پیدائش ایک تاریخی اور کیلنڈرانہ سچ calendar truth ہے؟ ہم میں سے کتنے ہیں جن کے والد اور بزرگوار والد اپنی حتمی قابلِ یقین تاریخِ پیدائش کو جانتے ہیں؟ ہم چاند کا حجم دیکھ کر مہینے کے دن شمار کرنے والے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم جو کچھ بھی ہیں، اس سے اس قدر شرمسار کیوں ہوتے پھریں۔

امریکہ جیسے ملک سے اس پہلو کی مثال لیتے ہیں کہ وہاں کئی ایک معاملات ہیں جہاں فلانے مہینے کا پہلا سوموار یا منگل یا فلاں دن کسی اہم ریاستی اور ثقافتی معاملے کے انعقاد کا دن قرار پاتا ہے۔ ہم اس قدر کیوں قرار واقعی ہو جائیں؟ یہ ایک تہوار ہے، اس کا کوئی بھی دن مقرر کیا جا سکتا ہے، یہ کوئی سائنسی تجربہ نہیں کہ سٹاپ واچ ہاتھ میں رہنا ضروری ہے۔ بس ایک دن کی یاد میں ایک دن مخصوص ہو گیا۔ سورج کی حرکت کے تحت ترتیب دیا گیا کیلنڈر، اور چاند کے ساتھ منسلک مہینے بھی کیا اسی قدر accurate ہیں، ہم کس چیز پر خواہ مخواہ کی ضد لگائے رہیں؟

بھلے جیسے بھی ہوا اب پاکستانی عوام کے لیے پاکستان ان کی بہت ساری شناختوں کے اندر سے ایک اہم شناخت سے متعلق دن کا تہوار ہے۔ عمومیت کی نظر سے بھی بے شک ذرا ایک  دیکھیے: لوگ خوش ہونا چاہتے ہیں۔ انہیں کوئی سیاق اور وجہ چاہیے۔ ہم میں سے کچھ خواہ مخواہ اس دن کو سینہ کوبی و ماتم کُناؤں جیسی کیفیت سے جوڑ لیتے ہیں۔ بھئی لوگ اگر مناسب حد تک خوش ہیں تو ہن کیوں مُنھ بنائے ایک طرف بیٹھے رہیں کہ ہم تنقیدی فکر والے لوگ ہیں، ہم نے صرف وہی سوچنا ہے جو متبادلِ محض ہو۔

سُنیے! گیت گاتے لوگوں کے گیت گاتے لمحوں میں مرگ کا، فکر کا پیغام اور جلی کٹی سنانا بنیادی انسانی جذبۂِ ترحم و انسیت و دل داری empathy سے میل نہیں کھاتا۔ ہمیں واقعی اپنی سوچ کے اندر سے اُجلتا متبادل سوچنا ہو گا۔ لطف آتا ہے، کوشش کر دیکھیے۔ یہ ہماری بنیادی فکریات و علمیات کا اہم جُزو بھی ہے۔

لیکن کیا رویوں اور سوچ میں اپنے آدرشوں کے مطابق تبدیلی صرف ذہنی و فکری space کے باہر بیٹھ کے ہی ہو سکتی ہے؟ کیا یہ Puritanical سوچ کا انداز نہیں؟


مزید دیکھیے: جشن آزادی کی اصل روح  از، شیخ محمد ہاشم

بنجر ذہنوں کی زمین: مکالمے کی موت کیوں ہوگئی  از، معصوم رضوی

رسومات و احساس گناہ کے تصورات سے ماحولیاتی بحران کے حل کی ٹوٹی سانسیں جڑ سکتی ہیں؟ از، یاسر چٹھہ

روزن کیوں کھولنے ضروری ہوتے ہیں  از، یاسرچٹھہ


ہمیں اپنے فکری، اور آدرشی جزیروں سے زیادہ نہیں تو کم از کم کچھ لمحوں کے لیے خود کو لمحۂِ موجود میں لانا چاہیے۔ خوشیوں کی anatomy کرنے کو کچھ دیر کے لیے موقوف کرنے کی درخواست ہے۔ دھمال ڈالنے والوں کے ساتھ دھمال ڈال کر ایک ہو جائیے، خوشیاں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔

پر ساتھ ہی یاد رہے کہ اپنے خیالوں اور خوابوں پر کسی کو قابض بھی نہیں ہونے دینا۔ انہیں مقامی محاورے اور فکری شکلوں کی قبول صورتوں میں ڈھالنے میں ہمیں بہت محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہے؛ ہمیں اپنے ہاتھوں اور ہتھیلیوں سے سرکتی فکری زمینوں کی باز یافت کرنا ہے۔ وطن کی محبت پر توپ و تفنگ کی اور جنگ و جدل کے نمائندوں کے بڑھتے سایے اور اجارہ داری  کو انسانی محبت، باہمی احترام، سماجی و معاشی انصاف کی جد و جہد، قابلیت کی ترویج meritocracy اور مواقع کی رسائی کی مساوات equality of opportunity  سے بدلنا ہے۔ ساتھ ہی  پِسے اور دھتکارے ہوئے جغرافیائی اور ایقانی علاقوں spaces کے لوگوں، گروہوں اور طبقات کے لیے آواز اٹھانا اور ان کی آواز بلند کرنے میں مدد دینا موقوف کرنا کسی طور منظور نہیں۔

ساتھ ہی ہمیں اس مؤقف کا خوب اور بھلے انداز سے ابلاغ جاری رکھنا ہے کہ اہلِ وطن سے محبت اس قدر کم تر جذبہ و احساس نہیں کہ یہ کسی “دوسرے” اور تصورِ دشمن کی کُھونٹی پر لٹکنے سے اپنا وجود پاتا ہو۔ محبت کی طرح آزادی ایک آزاد تصور ہے، اس کو نفرت کے رشتوں سے نَتھی کر کے اس کا قد چھوٹا نہیں کرنا۔ محبت کی طرح آزادی عظیم تر جذبہ بنانا ہے۔
اپنے متبادل محبت نامے ضرور تیار کرتے جانا ہے۔ راقم تو جگہ جگہ اپنے ذمے کا نعرہ مارتا جاتا ہے کہ پاکستانی عوام زندہ باد۔ کسی غَبی فسطائی Fascist کو شاید پتا لگتا ہو گا یا نہیں کہ ہماری ترجیح میں شہری، عوام اور لوگ پہلے ہیں، کوئی مجرد شناختی تصور یا محض جغرافیہ بعد میں ہے۔

بھائی اپنا متبادل خیال زندہ رکھیے، دُہرائیے، گردان کیجیے۔ یاد کروائیے، اجتماعی یاد داشتوں collective memory کی space میں اس کی جگہ نا کھونے دیجیے، پر اپنا ہونے کا احساس دے کر؛ کہنا ہے کہ، اپنے حصے کا ایک چراغ جلاتے جائیے، بھلے طوفان جس قدر بھی تیز ہو!

About یاسرچٹھہ 221 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔