روزن کیوں کھولنے ضروری ہوتے ہیں : ایک برس جب بیتا ہے

ایک نیم ادارتی مضمون

لکھاری کی تصویر
یاسر چٹھہ، صاحبِ مضمون

روزن کیوں کھولنے ضروری ہوتے ہیں : ایک برس جب بیتا ہے

(یاسرچٹھہ)

ہم گاؤں کے جنم پتروں میں سے ہیں۔ کھلی فضائیں، تازہ ہوائیں اور فطرت سے قربت انتخاب نہیں تھا، بلکہ ذات کا حصہ تھا۔ تازہ ہوا اور تازہ فکر اپنے مزاج و برتاوے میں ہم زاد ہی ہوتی ہیں۔ بلکہ ہم تو آج جس فکر کو اور تصور حیات کو اپنی روح کا اثاثہ جانتے ہیں وہ فکر اور تصور حیات کہتا ہے کہ ہم جڑے ہوئے ہیں؛ ہم واحد ہیں؛ اور اس ایکتا کے تقاضے ہیں کہ اجزائے ہستی و بود کو اپنے اپنے آہنگ و رنگ میں جینے، وقت بیتی کرنے اور گرہستی کا پورا اختیار ہے۔ کوئی بڑا نہیں اور کوئی اشرف نہیں؛ سر جسم کا سردار نہیں بلکہ اپنے تئیں اپنے حصے کا افعال کا ذمے دار ہے اور باقی اعضاء سے جڑا ہوا ہے، مربوط ہے۔ یہی تمثیل انسانی طبقات کو دیکھنے کی بھی آنکھ ہونی چاہیے۔

آج بہت خیالوں میں خود کو سمیٹا پڑ رہا ہے۔ بہت دشواری بھی ہو رہی ہے۔ باربار خود کو یاددہانی کرا کے واپس لانا پڑ رہا ہے۔

جسے ہم آج کل کا عہد اور پچھلی تین ساڑھے تین صدیوں سے صنعتی انقلاب کے بعد کی دنیا کے کہتے ہیں، اس میں ہم نے خوشنما نام تراشنے کا ملکہ حاصل کر لیا ہے۔ ہم اپنے مساکن اور فطرت سے دوری کو اب ترقی کا نام دیتے ہیں۔ ہم اپنی سانس بیچنے کی سوداگری کو جدت کاری کہتے ہیں؛ ہم انسانی زندگی اور تہذیب کی ماں، یعنی گاؤں سے دور اختیار کرنے کو شہرکاری کہتے ہیں۔ ہم نے اپنے حیاتیاتی تضادات کو خوبرو لسانیاتی ریشم کے دھاگوں کی صورت بن لیا ہے۔ اس خیالئے کو مختصرا کہوں تو ہمیں ترقی، پیش رفت اور شہر کاری نے گاؤں سے شہر میں دے مارا ہے۔ کسی شاعر نے کہا تھا:

اب میں راشن کی قطاروں میں نظر آتا ہوں
اپنے کھیتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں

نام نہاد ترقی کے طویل ہوتے سایے کی پرستش میں، لاہور جیسے شہر میں ٹوٹی پتنگ کے پیچھے پیچھے سر پٹ دوڑنے والے بچے کی طرح ہم اپنے اپنے راشن کی فراہمی کی براؤنین حرکات Brownian movement میں خواری کاٹ رہے ہیں۔ کچھ وقت گزرا، سانس پھولی، حلق خشک ہوا تو آکسیجن لئے پھیپھڑوں نے عرضی ڈالی؛ پتا چلا کہ پھیپھڑوں کی ضرورت، آکسیجن، میں چھوٹے چھوٹے ذرات کی شکل میں ناگ سرمہ بن کے شامل تھے؛ پانی میں کیمیاوی آلائشیں مسکن کئے تھیں۔ تو یہ تھی طبیعاتی فضا اور ماحول کا ایک طائرانہ بد خبرنامہ… ۔

اب آس پاس میں دیکھا تو خیالات خرافات کا سلنڈر بنے نظر آتے ہیں۔ اندر کے گاؤں پتر نے کہا، یہ کیا ہے؟ کیا ہے کے شبدوں پر مشتمل سوال علم کا پہلا سوال سمجھا مانا جاسکتا ہے۔ اردگرد سے شور سنتے رہے کہ پہلے کوئی سنہری دور رہا ہے، اسی کی طرف لوٹنا چاہئے۔ کسی نے کہا کہ ان کے پاس پلاٹینم عہد میں جانے کی ترکیب ہے؛ مسئلہ درپیش ہوا کہ سنہری زمانے اور پلاٹینم عہد میں لوگ کھینچ کر بلکہ دھکا دے کر لے جانے کی زورا زوری کر رہے ہیں۔ یہاں بھی گھٹن ہوئی۔ لگا کہ بیانیاتی فضا کے اس دھویں میں بھی دم نکل نا جائے۔

جب شہر آکر، تھوڑی اور سکڑتی زمین پر بزعم خود اشرف المخلوقات کی لمحاتی لذت آفرینی کے دیو کی امیبا جیسی بڑھتی آبادی کو دیکھا تو لرزاں ہوئے۔ تنگ سے مکان، آلودہ ہوا کے اندر کچھ دو ایک پھونکیں تازہ ہوا کی میسر کرنے کے لئے صبح سویرے چند ایک کمرے کے اکٹھ کے نام کے گھر کی کھڑکیوں کے کواڑ کھولنے کی عادت جانے کب سے ہے۔ آس اور امید ہمیں زندہ رکھتی ہے؛ روزن کھولا کہ آس زندہ رہے۔ ابھی تو “کیا ہے؟” کے سوال سے ہوش نہیں آیا، لیکن امید ہے کہ “کیا ہونا چاہئے” تک کا سفر روزن کے آگے رہ کر ہی وضع ہوگا۔

ایک سال گزر گیا…. ۔

لیکن شکر ہے کہ روزن ابھی بھی کھلا ہے: فیاض ندیم ساتھ رہے ہیں، قاسم یعقوب نے ہہت جان ماری کی ہے؛ بہت نفاست سے روزن کو چار چاند لگائے ہیں۔ گذشتہ ہفتوں مہینوں سے یہ دونوں احباب روزن کی عمارت کے ستون کی جگہ چھوڑ کر زندگی کی ضروریات کے سمندر میں شناوری کر رہے ہیں؛ خدا انہیں اپنے خواب تعبیر کرنے دے۔ اب روزن کی ایک نئی مجلس رو بہ کار ہے، ملک تنویر احمد ہیں اور عرفانہ یاسر ہیں۔

لیکن کتنے سارے لوگ ہیں جو روزن کو روزن بناتے ہیں: کس کس کا نام لیں: نعیم بیگ صاحب ہیں، نسیم سید صاحبہ ہیں، ڈاکٹر ناصرعباس نئیر ہیں، سید کاشف رضا ہیں، ذوالفقارعلی ہیں، عامر رضا ہیں، رضا علی ہیں، نصیر احمد ہیں اور کتنے سارے اور دوست ہیں۔

سب دل میں ہیں اور صفحے پر بھی: جو اورنگزیب نیازی کا نام نا بھی لوں تو وہ موجود ہیں، اسی طرح اصغر بشیر کیسے چھپائے چھپ سکتے ہیں؛ منزی احتشام گوندل کا نام نا بھی لوں تو ان کی تحریر و نثر کی پختگی نفیس تبسم سجائے ہمہ دم دکھائی دے جاتی ہے۔ پروفیسر شہباز علی اور محترم یاسر اقبال کے موسیقی پر مضامین کی مدھر تانیں بھی تو اپنے ہونے کا اعلان اپنے ترنم سے اپنا پتا دیتی ہیں۔

جب یہ سب احباب اپنے خوبصورت اخلاق کی مشق میں ایک روزن پر مضمون شائع ہونے پر شکریہ جیسے لفظ بولتے ہیں تو جو محسوس ہوتا ہے لفظوں میں نہیں آ پاتا؛ عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ جو خود روزن کے خلاق ہیں وہ اپنی ذات سے باہر کسے پکار کر شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

ایک روزن ، ایک نہیں، یہ بہت سے روزنوں کا اجتماع ہے۔ انہی روزن نما ذی نفسوں کو بولنا ہوتا ہے تاکہ تازگی کی آواز، ارد گرد پھیلے شور میں اپنے وجود کا احساس دلاتی رہے۔ اندھیرے، آلودگی، بیانیے کے شور، نا انصافی کے حبس کے رو برو مافی الضمیر کہنا فرض ہے تاکہ زندہ رہنے کی کچھ شرائط بچائی جا سکیں۔ زندان کو مگر روزن ہی رہنے کے قابل کوئی کمرہ بناتا ہے۔

آخر میں مرکزی بات: قارئین کے نام

آپ کا ذوق اور احساس جمال ہمارے لئے امکانات کے کئی نئے روزن کھولتا ہے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About یاسرچٹھہ 58 Articles
اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء میں شعبہ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں" ، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے مردود ہائے سماج و معاشرت کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بلکہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*