ایک روزن آج اپنی اشاعت کا پہلا سال پورا کر رہا ہے ۔۔۔ اداریہ

ایک روزن آج اپنی اشاعت کا پہلا سال پورا کر رہا ہے ۔۔۔ اداریہ

ایک روزن آج اپنی اشاعت کا پہلا سال پورا کر رہا ہے ۔۔۔ اداریہ

جون کی سترہ تاریخ سنہ 2016 میں ایک روزن نے سائبر دنیا میں اپنی موجودگی کا اعلان کیا۔ ہمیں بہت اچھا لگتا رہا کہ ہم قارئین کے اعتماد اور ذوق سلیم کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے رہے ہیں۔

ہماری اس کاوش میں یقینا بہت سی خامیاں اور سقم رہ جاتے ہیں جو ہماری انسانی کمزوریوں کی مثال ہیں۔ کچھ بہت عمدہ لکھی ہوئی تحریروں سے بوجوہ انکار کرنے کی صعوبت سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن زندہ رہنا اور کسی حد تک متبادل آوازوں کو بچانے کے لئے اپنے عزیز حصوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اس بابت ہماری دل شکستگی کے احساس کو اپنے تخلیقی اعتماد کے لئے لفظ ضروری جانیے گا۔

ایک سال کے بعد ہمیں اپنی تحدیدات کا اور زیادہ احساس ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس تکنیکی افرادی قوت کی شدید کمی ہے، بلکہ نا ہونے کے برابر ہے۔ ہم اپنے لئے جمع کا صیغہ اپنے بھرموں کو قائم رکھنے کے لئے لگاتے ہیں؛ اسے کسی صورت ہمارے کسی بڑی فوج ظفر موج پر محمول مت کیجیے گا۔ اپنی اس متذکرہ کمی کا شدید احساس بھی ہوتا ہے۔

ہماری ویب سائٹ تکنیکی طور پر مناسب حد تک مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہے۔ ایک روزن سے ہمارے کرم فرماؤں کا لگاؤ ہمارے اوپر ذمے داری کا احساس بڑھاتا رہتا ہے۔ کسی نئے سے نئے توازن کی کوششوں میں رہنا، ہمیں زندگی کی ہمہ دم حرکت کا احساس ضرور دلاتا رہتا ہے۔

البتہ چند مسائل اور چیلنجز ایسے ہیں جو مستقل بالذات ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کس طرح اپنے تئیں ایک خاص اور منفرد موادی مزاج کو بحال رکھتے ہوئے تازگی کے تصور کی ارتقائی آزمائشوں سے مناسب انداز میں ہمکنار رہنا، اور دوسرا اہم چیلنج اپنے بطور متبادل ذریعۂ ابلاغ کا کردار ہوشمندی سے برقرار رکھنا ہیں۔

اپنے سیاق میں رہتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے ہم عصروں میں سے کچھ کے اندر مرکزی دھارے کی چکا چوند میں جا کر شناوری کرنے کی کشش بہت اچھے اچھے مراکز کی روح کو خوار کراتی نظر آتی ہے۔ امید ہے کہ اگلے آنے والے وقت میں ہم آپ کی تجاویز و تنقید سے حوصلہ بھی پائیں گے، اور آگے بڑھنے کے لئے روشنی بھی۔

آئیے ہم آپس میں اپنی اپنی روشنی دوسروں سے بانٹیں تاکہ اندھیرے کچھ تو چھٹیں؛ روشنی کی رسائی منازل آسان کردیتی ہے۔ ساتھ ہی عہد کریں کہ ہم اپنے اندر کے اندھیرے کو بھی خود احتسابی کی لو سے اجالتے جائیں گے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*