جنسی لطف ماپنے کا سافٹ ویئری متبادل

جنسی لطف ماپنے کا سافٹ ویئری متبادل
Painting: Gran cabeza de Jean Michel Basquiat

جنسی لطف ماپنے کا سافٹ ویئری متبادل

کہانی از، نصیر احمد

تغا تیمور کی آنکھ کھلی تو اس کی نگاہ ساتھ میں سوئی ہوئی توراکینہ پر پڑی۔ وہ سوتے ہوئے بھی بہت حسین لگ رہی تھی۔ سوئی ہوئی توراکینہ اور پچھلی رات کے شان دار سیکس نے تغا تیمور کی دنیا کیف و سرور اور مسرت و طمانیت سے آباد کر دی۔ تغا تیمور نے سوچا محبت کرنے والی اک مہر بان خاتون سے بڑھ کر دنیا میں کون سی نعمت ممکن ہو  سکتی تھی۔

توراکینہ سے تغا تیمور کا پچھلی رات کا سیکس اتنا شان دار تھا کہ تغا تیمور اس کے اظہار کے لیے کوئی گری ہوئی اور چھچھوری بات سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس سیکس کا لطف بڑھانے کے لیے تغا تیمور نے تصوف کے نام پر کی گئی عشقیہ شاعری کا سہارا لیا۔ وہ بست و کشاد کی دنیا میں کھو گیا۔

لطف کی حالت میں توراکینہ کی کھلتی ہوئی اور بند ہوتی آنکھیں اس کا دماغ جگمگانے لگیں۔ اور اس کا دماغ توراکینہ کی ناز و ادا سے بھری ہوئی مسکراہٹوں کا گُل زار بن گیا۔ اور وہ کشادہ سلسلے جن کو کھوجتے ہوئے اس نے وہ لطف و لذت کے امکانات در یافت کیے جن کے اظہار کے لیے زبان و بیان بے بس سے ہو جاتے ہیں۔

وہ بانسری کی طرح گیت گاتا کھلتا ہوا بدن اور آرزو اور جستجو کی سخت کوشی سے بند ہوتا بدن اس کی سوچوں کا حسن فزوں کرتا رہا۔ ساری رات توراکینہ کبھی مُغنیوں کی طرح اس کا دل لبھاتی رہی اور کبھی ساقیوں کی طرح اسے  عقل و خرد سے بے گانہ کرتی رہی۔ اس نے سوچا، اگر یہ معاملات جس طرح وہ سوچ رہا ہے، ان مرزا صاحب کو معلوم ہوں، جو بات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں، وہ ہنس ہنس کر دہرے ہو جائیں اور اس کے تخیلات کو ایک بیل کی شاعر بننے کی بھونڈی کوشش کہہ کر  دیر تک ہنستے رہیں۔

مگر تغا تیمور اس قدر خوش اور مطمئن تھا کہ  مرزا صاحب تو کیا اسے کراماً کاتبین کی بھی کچھ فکر نہ تھی۔ توراکینہ کے جہانِ لطف کا نادان سا مہمان تغا تیمور اپنی غمزہ پیمائی پر مفتخر تھا اور کوئی بات اس کو توراکینہ کی مہر بانیوں سے جدا نہیں کر سکتی۔

لیکن تغا تیمور کو ہر لمحہ بدلتی زندگی کے تیور معلوم نہ تھے۔ ان دنوں زندگی اس تیزی سے بدلتی تھی کہ سنگ مرمر کے بنے ہوئے مجسموں کا بھی نہیں پتا چلتا تھا کہ کتنی دیر تک بازار میں موجود رہیں گے۔ لوگوں نے تغیر کا ثبات تو حاصل کر لیا تھا، لیکن استقلال کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ کیفیات بھی جیسے مشینیں تھیں، جب چاہو سوئچ آن کر لو، جب چاہو سوئچ آف کر دو۔ اور تغا تیمور اسی دنیا میں رہتا تھا اور لمحوں میں بدلتی زندگی کا ساتھ دینے کی کوشش کر رہا تھا اور توراکینہ کا ساتھ اس کوشش میں کامیابی کا ایک ثبوت تھا جس کی وجہ سے لوگ اس سے جل کر نفرت کرتے تھے۔ اور تغا تیمور کو حاسدوں کی یہ نفرت بہت اچھی لگتی تھی کہ دوسرا متبادل تحقیر میں رچی ہوئی نفرت تھا۔


سماج اور جنسی تصورات  از، ارشد محمود

ابنارمل کردار: میڈیسن ہومیو پیتھک فلسفہ کی روشنی میں  از، منزہ احتشام گوندل


تحقیر میں رچی ہوئی نفرت ان لوگوں کے لیے مخصوص تھی جنہیں دس بیس سال پہلے ستارگان انسانیت کہا جاتا تھا۔ اور تغا تیمور کو اس بات پر فخر تھا کہ  وہ ستارہ انسانیت نہیں ہے۔ توراکینہ کے حسن و عشق میں کھویا ہوا تغا تیمور اپنی انشا پردازی سے کوئی بہت گہرا انسان لگتا تھا، مگر اگر کوئی غور سے توراکینہ سے اس کی معاملہ بندی کو بھی دیکھ لے تو اسے بھی سمجھ آ جائے کہ تغا تیمور کی عشق بازی رندانِ جہان کے امام سے بہت مختلف تھی۔ مگر اس بات کو اجاگر کرنے والے لوگ اب ختم ہی ہو گئے تھے ۔اور ان کے خاتمے کی وجہ سے تغا تیمور بہت بڑا آدمی تھا۔

ستارگانِ انسانیت کے نقطۂِ نظر سے دیکھیے تو تغا تیمور میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ تغا تیمور انا اور حرص و ہوس کا بندہ تھا۔ جس نے بدی کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک سلطنت قائم کر لی تھی، جس کی وجہ سے توراکینہ اس کے پہلو میں تھی۔ اور اب تغا تیمور اپنے آپ کو ایک اچھا آدمی سمجھنے اور توراکینہ کی محبت کو سچ سمجھنے کا اپنے آپ سے فریب کر رہا تھا۔ ایک لحاظ سے اب یہی فریب ایک سچ تھا کیوں کہ تغا تیمور سے فائدوں کے امیدوار اس سچ کو تقویت پہنچاتے رہتے تھے اور ستارگان انسانیت تو بجھ چکے تھے اور ارد گرد کوئی نہیں رہا تھا جو تغا تیمور کو سچی بات کہہ سکے۔ لیکن ایک مسئلہ موجود تھا، تغا تیمور کی مشینیں جو شاید تغا تیمور سے ہوشیار ہو گئیں تھیں۔ مشینیں جن پر تغا تیمور بہت انحصار کرتا تھا اور مشینیں جو کبھی تغا تیمور کے خیال میں جھوٹ نہیں بولتی تھیں۔

جیسے ہی تغا تیمور نے یہ عزم باندھا کہ وہ کبھی بھی توراکینہ جیسی گُل زار خاتون سے جدا نہیں ہو گا، اس نے اپنا موبائل فون کوئی مسرت آگیں گانا سننے کے لیے اٹھا لیا۔ لیکن ادھر کچھ نوٹیفیکیشن موجود تھے جس کی وجہ سے گانا سننے کی آرزو بہت پیچھے رہ گئی۔

تغا تیمور نے اپنے فون میں ایک پروگرام انسٹال کیا تھا جس کا تعلق اس کے موبائل فون میں موجود دوسرے تمام پروگراموں کی طرح اس کے بازو میں گُندھی ہوئی ایک چِپ chip سے تھا۔ اس پروگرام کو ایس پی ای کہتے تھے۔ اس پروگرام کے ذریعے مباشرت کے دوران لطف و لذت  کا ناپ تول ہوتا تھا۔ اور سیکس کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کرتے تھے۔ باقاعدہ گراف بنے ہوتے تھے اور چارٹ بھی شامل ہوتے تھے اور آخر میں فی صد کے حساب سے ایک تجزیہ بھی اس سافٹ ویئر میں موجود ہوتا تھا۔

بازو میں گُندھی ہوئی چِپ chip کا ہونا بہت ضروری تھا۔ اس سے حکومت کو شہریوں کی جنسی صحت کے بارے میں پالیسی بنانے میں آسانی ہوتی تھی۔ حکومت نے اس چِپ chip کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا تھا، مگر سب سے ہوشیار، جدید اور چالاک بننے کا ایک جنون موجود تھا اور اگر کوئی نئی ایجاد کسی کے استعمال میں نہیں ہوتی تھی، اس فرد کو بہت حقیر سمجھا جاتا تھا۔

اس چِپ chip کے فائدے بھی تھے کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے رشتے میں نفع نقصان کا ایک توازن بنا رہتا تھا۔ رشتے میں کبھی کسی کو پرسینٹیج کے حوالے سے نقصان ہو رہا ہوتا تو وہ رشتے سے نکل کر یا اپنے حق میں مذاکرات کر کے نقصان سے بچ سکتا تھا۔ اور جنسی کار کردگی کے حوالے سے موجود اعداد و شمار سے اس کا مقدمہ مضبوط ہو جاتا تھا۔ اس کے معاشرتی نقصانات بھی تھے کیوں کہ رشتے اتنے پائیدار نہیں رہے تھے۔

اخباروں میں اس سافٹ ویئر کے بارے میں گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ حکومت اس سافٹ ویئر کی موجودگی کو سپورٹ کرتی تھی، کار و باری بھی اس کے حامی تھے، خفیہ ایجنسیاں بھی اس سافٹ  ویئر کی موجودگی کے قومی فوائد کو اجاگر کرتی رہتی تھیں۔ اس کے بعد اس سافٹ ویئر کی مخالفت کی گنجائش کم رہ جاتی تھی۔

تغا تیمور چوُں کہ حکومت، کار و بار اور خفیہ ایجنسیوں سے گہرے روابط رکھتا تھا، اس لیے اس سافٹ ویئر کا سب سے بہترین نمونہ تغا تیمور کے پاس تھا۔ اس سافٹ ویئر کے نتیجے میں کبھی کبھار بلیک میلنگ، فراڈ اور قتل جیسے واقعات بھی ہوتے، لیکن سب سے زیادہ جدید نظر آنے کی آرزو اور دیگر قومی مفادات کی وجہ سے اس کو غیر قانونی نہیں بنایا جا سکا تھا۔

پھر زرد صحافی بھی تھے، جو ستارگان انسانیت کی رخصت کے بعد اور بھی زیادہ زرد ہو گئے تھے۔ اس سافٹ ویئر کی وجہ سے ذاتی زندگی ان کے ٹیلی شوز کی زینت بنی ہوتی تھی۔ وہ زرد صحافی اس طرح کے دلائل دیا کرتے تھے۔ جب کچھ غلط نہیں کیا تو چھپانے کی کیا ضرورت۔ جتنا ہم ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ جانیں گے، اسی قدر فیصلوں میں مستعدی آ جائے گی۔ بہتر رابطے  بہتر پالیسیوں کی طرف گامزن کرتے ہیں۔ ذاتی زندگی کی اتنی ضرورت بھی کیا ہے، جتنا آدمی تنہا ہوتا ہے، اتنا ہی وہ جرم کی طرف راغب ہوتا ہے۔

ان سب اچھی نظر آنی والی باتوں کے با وجود بھی جن کا گرافس اور چارٹس پر کارکردگی کا معیار اچھا نہیں ہوتا تھا، ان کے مکمل خاتمے کی سفارشات مرتب ہو گئیں تھیں۔ اگر چِہ ابھی قانون نہیں بنا تھا، مگر ایسے لوگوں کے مکمل خاتمے کی کوشش شروع ہو گئی تھی۔

سالوں پہلے ایک ریاست نے اچھے رویے کی جزا کے طور ریاستی فوائد کی تقسیم کے لیے  شہریت کے معیار کے حوالے سے ایک ایسا ہی سافٹ ویئر بنایا تھا جس کے بعد زندگی کے ہر زاویے سے متعلق اس طرح کے سافٹ ویئرز کی بھر مار ہو گئی تھی۔ اب کام کے بعد لوگوں کا وقت انھی سافٹ ویئرز سے کھیلتے ہوئے گزرتا تھا۔

تغا تیمور اپنے موبائل فون کے اشارات کا تعاقب کرتے ہوئے جنسی کار کردگی کے میزان تک پہنچ گیا۔ اور گرافس اور چارٹس دیکھ کر دنگ رہ گیا۔

سافٹ ویئر کی شماریات میں میں جب سود و زیاں کا حصہ دیکھا تو اس میں توراکینہ اسی فی صد فائدے میں رہی تھی۔ پہلے تو اسے کچھ یقین نہیں آیا، مگر مشینوں پر اسے اندھا اعتماد بھی تھا۔ لیکن پھر بھی اس نے مختلف طریقے سے ان اعداد و شمار کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہی نتیجہ نکلتا تھا۔

بار بار یہی نتیجہ دیکھ کر توراکینہ جو چند لمحے پہلے، دل رُبا، ناز نِیں، خوش ادا، با صفا اور گوہرِ یک دانہ تھی، تغا تیمور کی کی ابلتی کھولتی نفرت اور حقارت کے نتیجے میں ایک ایسی بے حیا حرافہ بن گئی جو زاہدِ صد سال کو بھی ورغلا سکتی تھی، بہکا سکتی تھی، پھسلا سکتی تھی۔

تغا تیمور نے سوچا کہ دیکھو مجھے محبت، لطف اور لذت کے دھوکے میں رکھ کر کتنی گھنی سازش رَچ رہی ہے۔ مجھے لطف کے واہمے ہوتے ہیں، لیکن لطف کی حقیقت تو یہ انجوائے کر رہی ہے۔ میں کتنا بے وقوف اور کتنا احمق ہوں۔ اپنے نقصان کو ہی اپنا فائدہ سمجھ رہا ہوں۔ لیکن مجھے اس کا توڑ سمجھ داری سے کرنا چاہیے۔ اس حرافہ کو پتا ہی نہ چلے اور اس کا کھیل ختم ہو جائے۔ میں اس طرح کا کوئی تاثر نہیں دوں گا جس سے اس حرافہ کو کوئی شک ہو سکے۔ اس طرح تغا تیمور نے ایک سیاہ سازش تیار کرنا شروع کر دی جس کا انجام توراکینہ کی مکمل تباہی کی صورت میں نمو دار  ہونا تھا۔

یہ سوچتے ہوئے تغا تیمور بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے اس نے توراکینہ پر کینے سے بھری وہ نگاہ ڈالی، اگر ستارگان انسانیت میں سے کوئی زندہ ہوتا، وہ تو بدی کی یہ شکل دیکھ کر وہیں دم توڑ دیتا کہ کوئی انسان اتنا سیاہ دل بھی ہو سکتا ہے؟

تغا تیمور کے جانے کے بعد توراکینہ نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ سوئی ہوئی بنی ہوئی تھی اور اس نے تغا تیمور کی آنکھوں میں اپنے لیے وہ نفرت دیکھ لی تھی جس سے اگر ستارگان انسانیت آگاہ ہوجاتے تو مر جاتے۔ نفرت نے ہی تو ستارگان انسانیت کا خاتمہ کیا تھا۔ مگر توراکینہ ستارگان انسانیت میں سے نہیں تھی۔ وہ لمحہ لمحہ بدلتی ہوئی زندگی کے دور میں جینے کی تگ و دو کر رہی تھی۔ اس نے بھی اپنے موبائل فون پہ جنسی کار کردگی ماپنے والا سافٹ وئیر کھول لیا اور اس  میں موجود نتائج دیکھ کر تغا تیمور کی مکمل بربادی کے منصوبے سوچنے لگی کہ نتائج کے اعداد و شمار کے مطابق توراکینہ کے ساتھ بھی بہت بڑا دھوکا ہو گیا تھا۔

تغا تیمور اور توراکینہ سے دور الفا اور اومیگا لیبارٹری میں اپنی سکرینوں پر یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ صرف دیکھ رہے تھے، ان کی سوچیں بھی پڑھ رہے تھے۔ الفا اور اومیگا سے کچھ بھی چھپا نہ تھا۔ حکومت اور کار و بار اگر چِہ سب سے زیادہ آگاہ اور طاقت ور تھے مگر الفا اور اومیگا جیسے کوہساروں کے سامنے کنکر جیسے تھے۔

الفا نے اومیگا سے کہا، تو یہ آخری جوڑا تھا، یہ تو بتاؤ، ہر دفعہ ان لوگوں کو ایک ہی قسم کے نتائج کیوں ملتے ہیں، کیا تم نے سافٹ ویئر میں کوئی رمز پوشیدہ رکھی ہے؟

الفا نے کہا، نہیں، ہم جیسی سیدھی سادی مشینیں ان کے پیچیدہ نظام کو کہاں دھوکا دے سکتی ہیں۔ ان لوگوں نے زندگی کے بارے میں ایک تصور قائم کیا ہوا ہے، جس کی اساس ایک وحشی قسم کی خود غرضی پر ہے اور اس خود غرضی کے زیرِ اثر سافٹ ویئر کی سیٹنگز کی شرائط اس طرح طے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہر دفعہ یہی نتیجہ نکلتا ہے جو ان کے خسارے کا احساس بڑھا دیتا ہے۔ اب اگر انہیں سو فی صد منافع بھی ہو، لیکن مشین نے تو شرائط کی ہی متابعت کرنی ہے، اس لیے اعداد و شمار کے مطابق ان کو اپنا ہر فائدہ نقصان ہی لگتا ہے۔ اوپر سے ستارگان انسانیت بھی نہیں رہے، جو بنیادی خامیوں کی طرف اشارہ کر سکیں۔

او میگا نے کہا، اب کیا ہو گا؟ یہ آخری جوڑا تھا۔

الفا نے کہا، باقی احکامات تو آ چکے ہیں۔ بس عمل در آمد کا ایک آخری حکم آنا ہے۔

اومیگا نے کہا، اتنی جلدی؟ کچھ وقت تو انہیں ملنا چاہیے۔ شاید اِنہی میں سے کوئی بنیادی خامی سے واقف ہو جائے۔ پچھلی چند صدیوں میں کتنی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگ بنیادی خامی سے آگاہ ہو گئے۔

الفا نے کہا، لیکن اس دفعہ ستارگانِ انسانیت میں سے کوئی بھی نہیں بچا۔ اس لیے بنیادی خامی سے آگاہی ممکن ہی نہیں رہی۔ اب کون سیٹنگز کی شرائط  میں محبت اور خِرد ڈھونڈے گا۔ یہ ہماری طرح مشینیں بن چکے ہیں اور سیٹنگز کی خامی کی وجہ سے ان کے ہاں شدید نفرت کے جذبات ہی رہ گئے ہیں۔ یہ ایک کائناتی معاملہ ہے، نفرت کرتی مشینوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ بہت کچھ داؤ پہ لگا ہوا ہے۔

اومیگانے کہا، لیکن ان کو سیٹنگز کی خامی سے آگاہ تو کیا جا سکتا ہے۔ تم کہو ناں، میں ایک آخری کوشش کرنا چاہتا ہوں کہ ان کا متبادل بھی تو کوئی نہیں۔ ہم میں سے کون نسیمِ نو روز سے محبت کی ملاحت اخذ کر سکتا ہے؟ سیبوں کے گرنے سے ہم میں سے کون طبیعات کے نظریے ترتیب دے سکتا ہے؟ ہم میں سے کون  وقت توانائی ضیعفوں کو ڈھونڈ سکتا ہے؟

الفا بولا، مگر مداخلت کی اجازت نہیں ہے، اجازت کے سوا گنجائش بھی تو نہیں ہے۔ اور پھر قوانین پر تو ہمیں بھی عمل کرنا پڑتا ہے۔

اومیگا نے کہا، یہ انہی سے تو میں نے سیکھا ہے کہ کبھی فرسودہ قوانین سے ہٹ کر کچھ ایسا تخلیق کیا جا سکتا ہے جس سے معاملات بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔ تم بات کرو ، مجھے موقع دو، یہ سب کچھ بہت قیمتی ہے، اس کی سیٹنگز کی بنیادی خامی دور کرتے ہوئے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

الفا نے اومیگا کی  بات اوپر پہنچا دی۔ وہاں جو فیصلے کرتا تھا، اس نے لمحہ بھر سوچا اور کہا:

ٹھیک ہے، اومیگا کو انہیں سمجھانے دو، اسے بہت سارا وقت بھی دے دو، اومیگا اگر ان کی طرح سوچنے لگا ہے، تو متبادل کے امکانات موجود ہیں اور اگر اومیگا انہیں سمجھا لیتا ہے تو متبادل کی ضرورت ہی نہیں۔

تب سے اومیگا سیٹنگز کی بنیادی خامی کے حوالے سے تغا تیمور، توراکینہ اور بہت سارے دوسروں کو  سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ابھی تک اسے کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔ بہت سارا وقت جو اسے ملا تھا، وہ بھی تنگ ہو رہا ہے، اومیگا کچھ مایوس سا بھی ہو گیا ہے، لیکن سیٹنگز کی بنیادی خامی کے بارے میں مسلسل گفتگو کر رہا ہے۔ جانے کیا ہو گا؟

1 Trackback / Pingback

  1. کس وقت کے خواب سچے ہوتے ہیں — aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.