کس وقت کے خواب سچے ہوتے ہیں

Yasser Chttha

کس وقت کے خواب سچے ہوتے ہیں

از، یاسر چٹھہ

کل رات اس نے بہت ڈراؤنے خواب دیکھے۔ رات کے پچھلے پہر ایسے ہی ایک خواب میں کچھ زیادہ ہی خوف ناک دیکھا۔ خواب سے اچانک جاگنا مقدر ہوا۔ اس نے فوراً سرہانے پڑا موبائل فون پکڑا۔ اس کی نیت تھی کہ خوابوں میں ہارے اور مجروح دوستوں کی خیریت پوچھوں۔

دوسرے ہی لمحے ایک خیال بجلی بن کر کوندا، اس پہر جو حال پوچھوں تو وہ زیادہ ڈر جائیں گے۔

اس نے یہ کرب سینے میں دبا کر باقی ماندہ رات کو آنکھوں کے سپرد کر دینا چاہا۔ سوچوں میں چلتے  بَل کہ دوڑتے بھاگتے دماغ نے آنکھوں کو سونپی نیند کے ساتھ بہت دیر جھگڑا لپڑا کیا۔

جانے کتنے وقت بعد خیالوں کے دوڑتے گھوڑوں کے سُموں کی دماغ کی شاہراہ پر حرکت و اذیت جاری رہی اور آنکھیں سونپی نیند کی سپرد داری لینے کا انتظار کرتی رہیں۔ بہ ہر حال تصفیہ ہو گیا ہو ہی گیا ہو گا۔ جلد یا بہ دیر۔ وقت کے بارے اس قدر الجھنا کیا۔

جیسا کہ رات کو کم خیال آئے ہوں، صبح بھی وہ اسی رفتار سے آتے رہے۔ خیال اور سوچ بھی عمل کی سی قوت رکھتے ہیں، بَل کہ عمل بن جاتے ہیں۔ جبھی تو لوگ سوچنے سے ڈرتے ہیں، اور معاشرت و طاقت کے دیگر سنگھاسن نشین نا خدا سوچوں اور سوچنے والوں سے ڈرتے ہیں۔

یہاں بھی سوچ عمل بننے کے نویں مہینے میں تھی۔ صبح کو وہ اٹھا تو اس نے اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھ لینے کا فیصلہ کیا۔ کیا یہ رات کے ڈراؤنے خوابوں کے خلاف رد عمل تھا؟ اپنے خوابوں کو اپنے ہاتھ لینے سے پہلے انتہا درجے کے خوف سے بچ نکلنا ضروری ہوتا ہے کیا؟ شاید!

دن کے وقت جاگتے ہونے کارن اس نے اپنے خوابوں پر ضبط رکھنے کی مشق کرنا شروع کی۔ کچھ وقت کی مشق کے بعد اس کے خواب اس کے اپنے ضبط میں آنے لگے۔ نتیجہ کے طور پر دن میں اس نے اپنی مرضی کے خواب دیکھے۔

دن میں وہ خواب دیکھ رہا تھا، تو کئی سارے لوگ ڈر گئے۔

رات کے خوابوں میں ڈرے آدمی کا دن میں خواب دیکھنا مجہول عمل البتہ نہیں تھا۔ یہ ایک مشترکہ سماجی اور معاشرتی عمل بن گیا تھا۔ اب کیا ہونا تھا اور کیا ہوا؟

جو خوابوں پر پہرے بٹھاتے ہیں انہیں یہی تو ڈر تھا کہ یہ کہیں اپنے خواب اپنے ہاتھ نہ لے لے، دن اور شام کے بیچ کے وقت تعبیر نا ڈُھونڈنا شروع کر دے۔ اور دوسروں کو اپنے خوابوں میں شامل نا کرنا شروع کر دے۔ تو انہوں نے اپنا دفاعی نظام چالو کر دیا۔

عالموں کی مدد مانگی گئی۔ عالموں نے بتایا؛ ہر بار کی طرح۔ عالم بتانے میں طاق ہوتے ہیں؛ فرمائشی  بتانے اور پھیلانے میں طاق ہوتے ہیں۔ اس بتانے کی دیگر آن اور آف لائنوں اور کیبل اور وائرلیس کے نئے ڈھولچیوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ مقدس ہتھیاروں کی نوک پر بتایا گیا کہ کہ خواب سچے نہیں ہوتے۔ ان کے دیکھتے رہنے  سے رزق چھن جاتا ہے۔ ایمان جاتا رہتا ہے، اور نکاح وہ تو ہے ہی رشتۂِ نازک!


مزید و متعلقہ:  دھند میں لپٹا ہوا لا یعنی وجود  کہانی از، محمد عاطف علیم

جنسی لطف ماپنے کا سافٹ ویئری متبادل  کہانی از، نصیر احمد

اپوکریفہ (Apocrypha)  افسانہ از، جواد حسنین بشر


اچھے اچھے ادیبوں اور دانش وروں نے عالموں اور ڈھولچیوں کی بات کو ملکی آئین میں شامل کرنے کی ضرورت پر دن رات خطبات گھڑے، مضمون رقم کیے، کہانیاں لکھیں۔

اور نقاد کا حافظہ کمزور ہی رہا۔ بنائے ہوئے کو بتانے، بتائے ہوئے کو عام فہم بنانے کی صنعت اور قبول کر لینے والوں کے باہمی شعوری جڑتیں اور ربط ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ یاد داشت کی تلاش میں لگے رستہ گم کر بیٹھے البتہ شعور کے آپریشن تھیئٹر میں سلنڈروں والی آکسیجن سے سانسیں چلتی رہیں۔

About یاسرچٹھہ 99 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.