ابھی کچھ لوگ باقی ہیں

سرفراز سخی

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں

از، سرفراز سخی

خیالات کی سڑکوں سے گرزتا، چند ایک افسانوی فقروں سے رسمی علیک سلیک کرتا، اپنے پاس سے آگے کو دوڑے چلی جاتی مغموم ہوا کے دوش پر لکھا اک اشتہار پڑھتا ہوں، تو معلوم پڑتا ہے کہ وقت کے عجائب گھر میں کسی نا معلوم شاعر کے اک شعر کی نمائش لگی ہوئی ہے، جس کے ختم ہونے کی طویل مدت کا کچھ اندازہ نہیں۔

اشتہار حفظ کرتے ہی، خراماں خراماں زمین پر تجریدی طور پر پھیلی ہوئی خاک کی اپنے قدموں سے صورتیں بدلتا ہوا، جب میں وقت کے عجائب گھر کے سامنے پہنچتا ہوں، تو ٹھٹھک کر رہ جاتا ہوں۔ گویا اچانک کششِ ثقل نے اپنا مرکز اس عجائب گھر کو قرار دے دیا ہو۔

اس قلیل سے لمحے میں ہوش و حواس کے ساتھ حیرت و استعجاب کے مریخ کو چھو کر جب واپس اپنے گولے پر آتا ہوں،تو خود کو ٹینائٹس میں گھرا ہوا پاتا ہوں۔ گویا سماعت میں کوئی چھچھورا سیٹیاں بجاتا ہوا آ بسا ہو۔ اس صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے، میں اپنا  سارا دھیان لوگوں کی بھیڑ پر دھر دیتا ہوں اور پھر سیٹیوں میں گونجتی واہ واہ کی شکل کو دھیرے دھیرے آ پہنچتا ہوں۔

یوں وہ تجسس جو ذہن کے اندر ہی کہیں محوِ آرام تھا، وہ بیدار ہوتا اور بے تاب بھی۔ آخر شاعرِ نا معلوم نے شعر کے دو مصرعوں میں کون سا ایسا جہان لا آباد کیا ہے جسے دیکھنے کے لیے لوگ ہر سَمِت سے کھنچے چلے آ رہے ہیں۔ اور دیدارِ سخن کرتے ہی، خواہ مخواہ واہ واہ کے خام ترانوں سے ماحول میں چھپی خاموشی کو بے زار کرنے پر تُلے ہیں۔

میں اپنے سست سائے کو قدم قدم اٹھاتا غبار کی طرف بڑھتا ہوں۔ اس غرض سے کے مخاطب ہوکر شعر کے بارے میں کچھ  معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔ مگر افسوس کے یہ اپنے بیمار ہونے کا بہانہ کر کے بیٹھ جاتا ہے۔ اور میں اپنے سست سائے کو تکتا ہوا، کسی مفکر کی طرح اس کے خطی ڈیل ڈول پر غور و خوض کرنے لگتا ہوں۔ اور جب تکتے تکتے سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہوں تو پھر اپنے غور و خوض پر غور خوض کرتا، دھیما سا قہقہہ لگا کر رہ جاتا ہوں۔


مزید دیکھیے: ایک لکھاری کی گفتگو  از، نصیر احمد


اس سارے عمل کے دوران میں جب سائے سے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھتا ہوں تو وقت کے عجائب گھر کو سراپا خالی پاتا ہوں۔ فقط حبس مجھے پیڑ سے ٹیک لگائے جمائیاں بھرتا نظر آتا ہے۔ یہ گتھی سلجھانے کے واسطے میں پھر سے غبار سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں، مگر غبارِ بیمار مجھے دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

میں پھر اِدھر اُدھر دیکھتا اپنے سست سائے کو قدم قدم اٹھاتا عجائب گھر کی جانب چلنے لگتا ہوں، سائے کا رنگ ہلکا پڑنے لگتا ہے، سر اٹھا کر دیکھتا ہوں تو آسمان کی وسعتوں میں کچھ آوارہ بادلوں کی ٹولیاں سورج سے چھیڑ خانیاں کرتی ملتی ہیں۔ میں مسکراتا آگے بڑھتا جاتا ہوں۔

مغموم ہوا عجائب گھر کا دروازہ میرے پہنچنے سے قبل ہی کھول کر، حبس کی اور پلٹ جاتی ہے۔ میں جب بے دستک دروازے سے اندر داخل ہوتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے  برسوں سے یہاں کوئی آیا ہی نہیں۔ وقت کا عجائب گھر کسی مجنوں کی طرح اپنی خستہ حالی پر اشک ریزاں نظر آتا ہے۔ جالے کی گویا در، دیواروں، کھڑکیوں، روزنوں پر ہی کیا عجائب گھر میں موجود ہر شے پر اجارہ داری ہے۔ مدھم مدھم سی روشنی عجائب گھر کے ویرانے میں کسی بے بس و لاچار کی طرح عجائب گھر کے وسط  میں رکھی، بوسیدہ سی میز پر، بے جان پڑے ایک چھوٹے سے کاغذ کے ٹکڑے پہ، حکایت کی سیاہی سے لکھے، شاعرِ نا معلوم کے شعر پر چپ چاپ سینہ کوبی کر رہی ہے۔ اور گرد قاری بنی شعر کو تحت اللفظ پڑھے جا رہی ہے، جس کی بدولت میری سماعت میں گرد کی آواز یہ صورت بنا رہی ہے:

سلیقے سے ہواؤں میں، جو خوش بُو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں، جو اردو بول سکتے ہیں

خواہ مخواہ کی واہ واہ کرنے والے اگر چِہ شاعر کے اس خوب صورت بیان میں یقین کو دیکھتے/سمجھتے تو، اس کی ہمت و جرات کی اپنی اپنی مادری زبان پر فخر کرتے سینہ سپر ہو داد دیتے۔ ہاں ابھی کچھ لوگ باقی ہیں ہر اس زبان میں جن کے بولنے والے نہ جانے کیوں اپنی ہی مادری زبانوں سے احساسِ کم تری کا شکار ہو کر دل بر داشتہ ہو گئے ہیں۔

روس کے جنوبی علاقے داغستان کی چھوٹی سے زبان کے ایک بہت بڑے اور خوش بیاں شاعر رسول حمزہ توف لکھتے ہیں کہ “میرے نزدیک زبانیں، آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اور میں یہ نہیں کہوں گا کہ تمام ستارے ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک بڑے ستارے کا روپ لے لیں کیوں کہ اس کے لیے تو سورج موجود ہے، لیکن سورج کے وجود کے بعد بھی یہ ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ ستارے آسمان پر چمکتے رہیں اور ہر آدمی کے پاس اپنا ستارہ ہو۔“

وہ مزید رقم طراز ہوتے کہتے ہیں کہ ”مجھے اپنے ستارے یعنی اپنی مادری زبان آوار سے محبت ہے، میں ارضیات کے ان ماہروں کی بات پر یقین رکھتا ہوں، جو کہتے ہیں کہ چھوٹی سی چھوٹی پہاڑی میں بھی سونے کی کان نکل سکتی ہے۔“

یعنی کوئی زبان یہ نہیں کہتی کہ ما سوا میرے، باقی کی زبانیں بے سُود و بے معنی ہیں۔ وہ ہم ہیں جوان میں اسفل و اعلٰی کا بیج بو کر تفریق کرتے ہیں۔ اور زبان کے حقیقی حسن اور اس کی بے بہا اہمیت سے محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.