آ میرے بچے مشین گن کی لوری سن

آ میرے بچے مشین گن کی لوری سن

آ میرے بچے مشین گن کی لوری سن

ترجمہ کار، یاسر چٹھہ

تین سال پہلے جنگ کے دنوں ہمارے گھر میں ڈاکا پڑا

جب میں گھر لوٹی تو ہر چیز الٹی سیدھی پڑی تھی

ہمارے گھر کی چیزیں اجنبی ہاتھوں کے رکھے پن اور کرختگی کی گواہ تھیں

۔۔۔۔

انہوں نے میری سونے کی انگوٹھی چرا لی، میری کتنی ساری وائن کی کی بوتلیں اٹھا لیں

شاید وہ بہت جلدی میں تھے، صرف درازوں پر ہی ہاتھ صاف کر کے گئے

انہوں نے شیلفوں میں سے کچھ  نہیں چھیڑا

۔۔۔۔

پھر بھی میں ان کی شکر گزار تھی کہ انہوں نے ہمارا اپنا گھر نہیں جلایا

نا ہی میری کتابیں پھاڑیں، اور ہاں، وہ گھر کی جان تو چھوڑ کر چلے گئے

ہمیش واسطے میرے تشکرات میں سے یہ والا شرمندگی سے  بھرپور تشکر ہی رہے گا۔

۔۔۔۔

اور دیکھو آج، بالکل شہر کے پاس، بل کہ گلی کے نکر پر فوجی مشقیں جاری ہیں

یہ توعین میرے بچے کے سونے کا وقت ہے

دیوار پر ٹنگے کلاک کی ہر ٹک ٹک کی آواز جیسے منھ پر لگتے تھپڑ کی طرح ہے۔

۔۔۔۔

فرد واحد خود ہی سلطنت ہوتے ہیں، اور ہر شے پر بھاری ہوتے ہیں

ہمارے پنجر ان کے لیے صرف پتھر اور چھڑیاں ہی  تو ہیں

ایسے لگتا ہے وہ آپس میں ہماری ہڈیوں کو ہتھیار بنا کر لڑیں گے

اور ہم کیا کریں؟ یہاں سے اپنے دروں کی بادشاہتیں اٹھا کر کہیں اور کسی اپنے سے دیس چل نکلیں

کہ سب آنکھیں ان دیسوں کو دیکھیں جہاں تاج ہمارے سروں پر سجتے ہوں، جہاں سب فصلیں ہماری اپنی ہوں۔

آئیں اپنے سَروں کی بادشاہتیں اٹھا کر چلیں، اور اُسی سُکھ  سائے میں اپنا عارضی مسکن بنائیں

اُس وقت تک وہاں رہیں جب تک سب کمزور اور شہ زور بڑھتے بڑھتے  اُن کی صفوں میں گھس آئیں، انہیں کچل دیں۔

۔۔۔۔

میرے بچے یہ کہانیاں سناتے آپ سے شرمسار ہوں۔

میرے بچے آپ ایسی کہانیوں پر مت بہل جانا جو یہ زہریلے سبق سنائیں کہ “دیر ہے، اندھیر نہیں”

میری جان ایسا کچھ نہیں ہوتا؛ گر ایسا لگنے لگے تو ایسی خواہشوں کو تلف کر دینا، نا سوچنا

۔۔۔۔

اپنے دُروں کی بادشاہتیوں سے یہ موروثی رسولی باہر نکال پھینکیں

یہ اپنے دیس سے  نہیں بل کہ اس کی زمین سے محبت کی موروثی رسولی

یہ جو لوری مشین گن کی ہے۔

۔۔۔۔

اپنے سِحر سے کون  بھاگ سکتا ہے

جب وقت نے اتنی تن دہی سے

اور اتنی محنت و استقلال سے ہمارے بچوں کے تالُو پکائے ہوتے ہیں۔


لیلا سمنیشولی Lela Samniashvili انیس سو ستتر میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی نظمیں انگریزی، اطالوی، ڈچ اور آذربائیجانی اور روسی زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور ان کے مجموعے کتابی صورت میں برطانیہ اور جرمنی میں شایع ہوئے۔ آپ مختلف ادبی اعزازات کے لیے نام زد ہونے کے ساتھ ساتھ کئی ایک اعزازات کے حصول میں بھی کام یاب رہیں۔  آپ کی کتابوں میں نمایاں چند ایک کتابیں یہ ہیں:

Abstract Prayer (Intelekti Publishers, 2014)

Fractals (Siesta Publishing, 2010)

A Permanent Tattoo (Siesta Publishing, 2006)

The Snake Year (Caucasian House, 2004)

Photo-Pills (Merani, 2000).

آپ نے ورجینیا وولف Virginia Woolf کے شہرہ آفاق ناول:

A Room of One’s Own (Taso Foundation, 2007)

اور سلویا پلاتھ Sylvia Plath کی

Poems (Merani, 1999) اور  The Bell Jar (Taso Foundation, 2009; Diogene, 2014)

کو جارحیائی زبان کے قالب میں ڈھالا۔


متعلقہ: دُور کی بستیوں کی آوازیں: کولمبیا کے ویتُو آپُشنا کی شاعری ترجمہ، یاسر چٹھہ

بیا داد بونیت (Piedad Bonnett): کولمبیا کی شاعرہ کی دو نظمیں  ترجمہ و تعارف، یاسر چٹھہ

کولمبیا کے شاعر فریدی چکانگانا کی دو نظمیں  تعارف و ترجمہ، یاسر چٹھہ


Original Text Source: Words Without Borders Magazine, the September 2018 Issue. 

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About یاسرچٹھہ 93 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.