ایذاء رسانی bullying کا تدارک

ایذاء رسانی Bullying کا تدارک

ایذاء رسانی bullying کا تدارک

از، زاہد یعقوب عامر

چہرے پہ سجا ایک معمولی تاثر و اشارہ کسی دوسرے کی دل آزاری، اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے یا اس کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں نظر آنے اور نہ نظر آنے والے متعدد رویے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں، جو کہ بالواسطہ طور پر دوسرے کے لیے تکلیف اور دل آزاری کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً یہی رویے جب بڑھ جائیں تو طاقت ور طلباء و طالبات کمزور ساتھیوں کے لیے دہشت اور ایذاء رسانی کا مستقل ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں بہت سے کمزور طلباء یا تو سکول جانے سے ہچکچاتے ہیں یا تعلیم کی طرف توجہ نہایت کم ہو جاتی ہے۔

اس سے قبل کہ ہم ایذاء رسانی bullying کے منفی اور شخصیت شکن اثرات کا ذکر کریں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ایک طالب علم دوسرے ساتھی کو یہ ’’ایذاء رسانی‘‘ کن مختلف طریقوں سے بہم پہنچاتا ہے۔ ایک طالب علم اس وقت اس مشق ستم bullying کا شکار ہوتا ہے جب ایک یا متعدد طلباء نا قابلِ قبول رویوں، مثلاً گالی گلوچ، دھکا دینا، دھینگا مشتی، ہاتھا پائی، مختلف نا قابل قبول اشارے، کسی کو کمرے میں بند کرنا، کسی گروپ سے دوسرے ساتھی کو نکال دینا یا اس کا سوشل بائیکاٹ کر دینا شامل ہے، کے ذریعے دوسرے کو ایذاء رسانی کرتے ہیں۔ یہ کارِ روائی مسلسل جاری رہتی ہے اور مفعول کے لیے یہ مشکل ٹھہرتا ہے کہ وہ اس کا دفاع کر سکے۔

بالعموم ہم بچپن کی معصوم شرارتوں اور معصومیت کو طِفلی خوب صورتی کے خوب صورت الفاظ کے لبادے میں نظر انداز کر دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ان منفی رویوں کے دوسرے بچوں کی شخصیت پرگہرے اثرات ہیں۔

بڑوں کو اس بات کا بخوبی احساس رہنا چاہیے کہ ان کارِ روائیوں کے مستقبل پر دور رس کیا نتائج و اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال کے جنم لینے کو کچھ زیادہ وقت بھی درکار نہیں ہوتا۔ جب شرارتی اور کم فہم طلباء کا ایک گروپ کسی ایک طالب علم کو مسلسل نشانہ تنقید و تضحیک بنا سکتا ہے۔ اساتذہ کے لیے اس امر اور پہلو کا ادراک اشد ضروری ہے۔

ایذاء رسائی کے مختلف طریقے اور انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ براہِ راست یا مختلف غیر محسوس حرکتوں و سر گرمیوں سے بھی ہو سکتی ہے۔ براہ راست ایذاء رسانی ایک طالب علم زبانی کلامی یا فزیکل طریقوں سے دوسرے کو تکلیف دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک طالب علم جب کسی کو دھکا دے، لات مارے، گُھتم گُھتا ہو، یا اس پر تھوکے تو یہ براہِ راست ایذاء رسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ براہ راست شرارت و ایذاء رسانی دوسرے کے لیے تا حیات افسوس، بے سکونی، اور جسمانی معذوری کا موجب بن سکتی ہے۔

میرے ایک کلاس فیلو کا ٹوٹا ہوا دانت ماضی کے اس نا خوش گوار واقعے کی یاد دلاتا ہے جب اس کو ساتھی طالب علموں کی طرف سے ایذاء و تکلیف اور چھیڑ خانی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان منفی رویوں کے اثرات مخفی انداز میں دوسروں کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایک تلخ اور تکلیف دہ حصہ۔ زبانی کلامی ایذاء رسانی بھی ہمارے سکولوں میں عام ہے۔ اور اس میں دوسرے ساتھیوں کو جھاڑ پلانا، ڈانٹنا، تنگ کرنا ہتک آمیز فقرے کسنا، برے برے ناموں سے پکارنا وغیرہ شامل ہے۔


مزید و متعلقہ: اساتذہ بھی کئی قسموں کے ہوتے ہیں  از، اظہر وقاص

استاد کی ڈائری  از، منزہ احتشام گوندل

روشنی کا ہالہ  افسانہ از، بلال مختار

تعلیم پر ایک نظر از پروفیسر شیو وسوناتھن   ترجمہ و تلخیص از، ابو اسامہ

غرفشی اور تشدد: تعلیمی اداروں کے لیے اہم چیلنجز  از، فیاض ندیم


اس اہم مسئلے کی طرف اساتذہ اور والدین کی توجہ نہایت ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگ نظریاتی اختلافات میں بہت کَٹّر اور شدید ہیں اور یہ ان کی پسند نا پسند تقاریر و مباحثوں اور ان کے مختلف انداز سے کی جانے والی گروہ بندی سے بھی عیاں ہوتی ہے۔

جب ایک ہی مکتبہ فکر کے سٹوڈنٹ اکھٹے ہوتے ہیں تو وہ دوسرے طلباء کا مقابلہ اپنے اپنے انداز اور تلخ مکالمات سے کرتے ہیں او ر یہ مکالمات بہت جلد bullying یعنی ایذاء رسانی کا سبب بن جاتے ہیں۔

ایذاء رسانی کا ایک نہایت گھمبیر اور پیچیدہ انداز مختلف اشاروں کنائیوں سے کی جانے والی ایذاء رسانی ہے۔ اس طریقہ یا انداز میں جنسی خوف و ہراس، ‘دھمکیاں‘، غیر اخلاقی اشارے اور غیر محسوس انداز میں کیے جانے والے نا قابل قبول انداز شامل ہیں۔

یہ عوامل نہ صرف اخلاقی زوال کا سبب بنتے ہیں بَل کہ غیر اخلاقی عادات کی پختگی کا موجب بھی ٹھرتے ہیں۔ اس طرح ایذاء رسانی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ جس میں طلباء ساتھی طلباء کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ دوسرے ساتھی کی مار پیٹ کی جائے، اس کو تنگ کیا جائے، اس کے خلاف مختلف افواہیں پھیلائی جائیں اور اسے دانستہ طور پر گروپ سے نکال دیا جائے یا اس کے خلاف بد کلامی کی جائے۔

ایذاء رسانی کے یہ تمام طریقے اور قسمیں طلباء کی شخصیت پر نہایت نا خوش گوار اور تباہ کن اثرات چھوڑتے ہیں۔ یہ نہ صرف ان کو عدم تحفظ کا احساس دیتے ہیں بَل کہ خوف و ہراس ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن جاتا ہے۔

ایک سکول میں اس منفی رویے سے خطر ناک ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ یہ المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں یہ سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا موضوع ہے اور اس مسئلے کی طرف توجہ کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ بات نہایت توجہ طلب ہے کہ ایذاء رسانی بچوں میں عزت نفس کو مجروع کرنے،‘بیماری‘، سکولوں سے غیر حاضری، ڈپریشن اور اعصابی بیماریوں جیسے مسائل کا سبب بنتی ہے۔

ایذاء رسانی نہ صرف اس طالب علم کی شخصیت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے جسے براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہو بَل کہ ہم راہوں کے لیے بھی تقصان دہ ہے۔ وہ اپنے آپ کو کمزور اور کم حوصلہ متصورکرتے ہیں۔ جیسے ان کی شخصیت غیر معنی ہو اور نشانہ بننے والے سے عملی ہمدردی نہ کر سکتے ہوں۔

ایک معمولی واقعہ سے تمام صورت حال پریشان کن اور گُھٹی گُھٹی بن جاتی ہے۔ اساتذہ نہ تو پُر اثر انداز میں پڑھا پاتے ہیں اور نہ ہی طلباء کو پڑھائی کے لیے ایک موزُوں ماحول میسر آتا ہے اور تمام کوششیں ضائع جاتی ہیں۔ ا

ایذاء رسانی  bullying کا شکار بننے والے اور ایذاء رساں دونوں کو نفسیاتی طریقوں سے توجہ اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کو گائیڈینس اور کونسلنگ ﴿رہنمائی و مشاورت﴾ بہم پہنچانی چاہیے اور مختلف نفسیاتی طریقوں اور تکنیکوں سے ماہرین کو اپنا کردار بطور ’’بڑے‘‘ ادا کرنا چاہیے۔

ایذاء رسانی bullying کے رحجان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس منفی رویے کے مختلف ظاہر و مخفی طریقوں کی نشان دہی کی جائے اور ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سکولوں کے اندر اس رویے کو قابو کرنے کے لیے نگران و ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور نگرانی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔

ان رویوں سے نمٹنے کے لیے نتائج و سزا کا عمل شفاف بنایا جائے تا کہ طلباء درست و غلط، اچھائی و برائی اور نیکی و بدی کے درمیان ایک واضح حد مقرر کر سکیں۔ سکول انتظامیہ کو طلباء کی طرف سے ساتھیوں کو ایذاء رسانی کے معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تا کہ طلباء کے ذہنوں میں سنگین نتائج کا واضح عکس ثبت ہو۔

ذہنی و جسمانی ایذاء رسانی نہ صرف والدین اور اساتذہ کے لیے توجہ طلب معاملہ ہے، بَل کہ سکول انتظامیہ، اساتذہ اور معاشرے کے تمام افراد اس منفی انداز عمل کو روکنے کے لیے ذمہ داریوں کے حامل ہیں۔

بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا دانش مندی نہیں۔ ان کے گرد و نواح میں بڑوں کی موجودگی مثبت انداز میں رہنی چاہیے۔ یہ وقت کا نہایت اہم تقاضا ہے کہ بچوں کی تعلیمی بنیادیں نہایت مضبوط اور جدت پر منبی ہوں جو کہ ان کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں اور رویوں کا احاطہ کر سکیں۔ طلباء کا ایک دوسرے کی طرف مثبت، صحت مندانہ رویہ و انداز عمل، معاشرے کی دور رس ترقی کا آئینہ دار ہے۔

اس مضمون کو کیمرج یونیورسٹی برطانیہ نے او لیول کےاردو سلیبس کا حصہ بنایا ہے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.