استاد کی ڈائری

منزہ احتشام گوندل

استاد کی ڈائری

از، منزہ احتشام گوندل

انسان اپنی سماجی اور معاشرتی زندگی میں بہت سے دوسرے عوامل کے ساتھ کچھ رشتوں کی کڑیاں بھی لے کر آ تا ہے۔ یہ اس کی تقدیر ہوتی ہے کہ اسے ان رشتوں میں کون کون سے اور کیسے لوگ ملنے والے ہیں۔ رشتوں کی اس زنجیر میں ایک رشتہ استاد شاگرد کا بھی ہے۔ بطور شاگرد میں نے استاد کے رشتے کو ہمیشہ بہت اہم محسوس کیا۔ اپنے زمانۂِ طالب علمی میں ہر درجے میں ہمیشہ ایک نہ ایک استاد ایسا رہا جس سے میں اپنی روحانی سطح پر جُڑی رہی۔ مگر جب مجھے خود یہ منصب عطا ہوا تو میں نے اس رشتے کی بہت سی نئی پرتوں کو جانا۔

سال دو ہزار نو کے اواخر میں جب میں نے بطور لیکچرار اپنی ملازمت کا آغاز کیا تو ادارے میں نئے داخلے کیے۔ کیوں کہ میں پہلی لیکچرار تھی جو اس کالج میں آئی۔ ایک جونیئر کلرک، دو جونیئر لیکچرار، اسسٹنٹ مجھ سے پہلے اپنا تبادلہ کرا کے یہاں آ چکے تھے۔

میری آمد کالج کی نئی نویلی عمارت اور عملے کے تین لوگوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا تھی۔ دسمبر کا مہینہ تھا۔ ہم نے بی اے میں داخلے کا اشتہار دے دیا اور خود چاروں لوگ میز کرسیاں صحن میں رکھ کے بیٹھ گئے۔ ایک مہینے میں ساٹھ لڑکیوں کا داخلہ ہو گیا اور سالِ سوم (تیرہویں) کلاس کے ساتھ ہم نے با قاعدہ تَعَلّم کا آ غاز کر دیا۔

اب یہ جو طالبات تھیں ان میں اکثریت ان لڑکیوں کی تھی جو میری ہائی سکول کی ہم جماعت لڑکیوں کی چھوٹی بہنیں تھیں۔ میری اپنی چھوٹی بہن (تیسرے نمبر والی) بھی میری کلاس میں آ گئی۔ سو ان طالبات کے ساتھ جو تعلق بنا وہ استاد شاگرد والا کم اور بڑی آپی اور چھوٹی بہنوں والا زیادہ تھا۔

اب میں نو بجے سے تین بجے تک سارے مضامین پڑھا رہی ہوں، لائبریرین بھی میں ہوں، چوکیدار بھی خود ہی ہوں۔ کالج میں درجۂِ چہارم کے ملازمین کی بھرتی ابھی نہیں ہوئی تھی۔ ایک دن ہم نے کلاس میں میٹنگ کی۔ اگلے دن لڑکیاں ساز و سامان کے ساتھ کالج میں آئیں۔ سارے اہم مضامیں یکے بعد دیگرے پڑھنے کے بعد ہم نے دوپٹے کمر سے باندھے، شلواریں اوپر اڑسیں اور سارا کالج دھونا شروع کر دیا۔

فروری کا مہینہ تھا۔ پانچ بجے شام اتر آتی ہے۔ لڑکیوں کی مائیں ساری کالج آ گئیں۔ دیکھا استانی بھی ساتھ ہی سر سے پاؤں تک بھیگی ہوئی ہے۔ اور پانی کا پائپ لگا کے دھڑا دھڑ کمروں کے فرش دھوئے جا رہے ہیں۔ کچھ ماؤں نے شور مچایا کچھ ہم بھی تھک گئی تھیں۔ مگر کالج سارا ایک بار گرد و غبار سے صاف ہو گیا تھا۔ اسی پہلے سیشن میں میری ایک طالب علم نے سرگودھا یونیورسٹی کے بی اے کے امتحان میں مجموعی طور پر دوسری پوزیشن لی۔ آج کل وہ بچی یونیورسٹی میں لیکچرار ہے۔

اس سیشن کے بعد اگلے سیشن میں میری مدد کے لیے کچھ اساتذہ آ گئے۔ مگر ایک سے زاید مضامین پڑھانے کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ ایک شام مجھے اپنے فون پہ کسی ان جانے نمبر سے کال آ ئی۔ میں نے فون اٹھایا تو ایک طالبہ تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے ماموں کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ ساتھ اس کا بھائی بھی تھا۔ دونوں بہت بری حالت میں ہیں۔ میڈم آ پ دعا کریں۔ ہمیں یقین ہے آ پ کی دعا سے وہ بچ جائیں گے۔ ساتھ ساتھ وہ رو بھی رہی تھی۔

میں نے اسے تسلی دی، دعا دی، اس شام مجھے پہلی دفعہ یہ ادراک ہوا کہ استاد کا شاگرد کی نظر میں کیا مقام ہوتا ہے۔ وہ استاد کو اپنے لیے ولی، ہمدرد، محسن، غم گُسار اور پتا نہیں کیا کیا سمجھتا ہے۔ اپنے ذاتی کردار میں استاد بھلے کچھ بھی ہو۔ کوئی بھی ہو، مگر شاگرد کے لیے اس کی شخصیت باعثِ رحمت ہوتی ہے۔


مزید و متعلقہ: استاد کا مقام، طاقت کے ادارے اور باہمی یگانگت  از، سید عمران بخاری

ایک ٹیچر ہونے کا احساس  از، عابد میر


اس کے بعد میں تسلسل سے فون کرکے اس طالبہ کے گھر پتا کرتی رہی۔ چند سال اسی طرح گزرے۔ ہر سیشن جس میں، میں نے پڑھایا طالبات کی بے پناہ محبتیں سمیٹیں۔ پھر جب اردو کی متبادل استاد ملنا شروع ہوئی اور دفتر کا کام بڑھا تو دو تین سال کے لیے میں طالبات سے دور ہو گئی۔

اب میں پرنسپل تھی۔ نئے سیشن کی طالبات مجھ سے خوف کھاتی تھیں۔ مجھے اس بات کا بہت احساس رہتا کہ یہ دوری اور خوف میرے اپنے اندر کمی لا رہے ہیں۔ میرے پاس جو کچھ بھی ہے (اچھا یا برا) یہ ان بچیوں کی امانت ہے۔ جس میں علم کے ساتھ ساتھ محبت بھی ہے۔ ایک پرنسپل کا طالب علم کے ساتھ وہ رشتہ نہیں ہوتا جو ایک استاد کا ہوتا ہے۔

اس سال میں نے دوبارہ یہ رشتہ جوڑا۔ سالِ اوّل کو ایک ہفتے میں تین لیکچر دیے۔ کیوں کہ لیکچر شروع ہی ہفتے کے درمیان میں کیے تھے،کہ دو دن پہلے ایک طالبہ آئی۔ رو رہی تھی اور کانپ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے کہہ پائی کہ میڈم میرے سر پہ ہاتھ رکھیں۔ میں نے سر پہ ہاتھ رکھا۔ سینے سے لگایا۔ اس کا جو دکھ تھا وہ میں بتا نہیں سکتی مگر میں نے اٹھا لیا کہ اس نے شاید مجھے ہی اس قابل سمجھا تھا۔

استاد شاگرد کا رشتہ بہت گہرا اور اتنا ہی بلند ہے۔ میں نے خود اپنے دکھ، سکھ اپنی کمزوریاں،اپنے استادوں سے ہی شیئر کی ہیں۔ پہلے اپنے اساتذہ سے رابطہ رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ مگر پھر لگا کہ ان کے شاگردوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اور ہمارا ہر وقت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے ان سے رابطہ کرنا انہیں اچھا نہیں لگتا تو ان کی سہولت کی خاطر چھوڑ دیا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اب بھی کوئی دکھ جب کلیجہ کاٹتا ہے تو انہیں یاد کر کے رو لیتے ہیں۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.