کولمبیا کے شاعر فریدی چکانگانا کی دو نظمیں

کولمبیا کے شاعر فریدی چکانگانا کی دو نظمیں

کولمبیا کے شاعر فریدی چکانگانا کی دو نظمیں

تعارف و ترجمہ: یاسر چٹھہ

…………………..

1۔ پرندہ روح

مادر ارضی کے لیے لکھے یہ نغمات، اپنی اصل میں کچھ سرگوشیاں ہیں جو دور دراز کے جنگلوں سے آئی ہیں؛ وہ دزدیدہ لفظ جو انسانی دل میں ایک قطرہ بننے کی تمنا رکھتے ہیں۔

یہ نرم و گداز سُریں ہمیں جیسے بتا رہی ہیں:

“زندگی کی سیلی راہوں پر ہم خاموشی سے آتے ہیں،

امید کی گھاس رات اور اس کے گھپ اندھیروں کے دورانیے میں ہماری پذیرائی کرتی ہے،

ہمارے پاؤں زمین کے سینے سے ہمکنار ہوتے ہیں

تو درختوں کے پتوں سے مقدس دعاؤں کی آواز آنے لگتی ہے

ہم ستاروں کی آگ ہیں، جو آسمان سے ٹوٹ کر آئے ہیں

نئے عہد کا اعلان کر رہے ہیں،

ہم یہاں پیلی تتلی کی پرواز کے دائرے کو بُن رہے ہیں،

صحراؤں میں پانی کی بوندوں کو بو رہے ہیں،

مختصر جو کہیں تو ہم خوابوں کے کنویں میں بستی پرندہ روح ہیں۔”

…………………………..

2۔ مٹھی بھر مٹی

انہوں نے مجھے زندہ رہنے کے لیے مٹھی بھر مٹی دی

“یہ لو، تم کینچوے،” وہ بولے،

“اسی مٹھی بھر مٹی کو ہی تم کھودتے رہو گے، یہیں پر بچوں کی پرورش کرتے رہو گے،

یہیں پر مقدس مکئی کے دانے چباتے رہو گے۔”

میں نے وہ مٹی مُٹھی میں پکڑ لی

اس تھوڑی سے مٹی کے گرد چند کنکریوں سے بند باندھ دیے

خدشہ تھا کہ اس مٹھی بھر مٹی کو کہیں پانی بہا نہ لے جائے

اس مٹی کو اپنی ہتھیلی کی پیالی میں رکھا،

اسے تھوڑی سی گرماہٹ دی،

اس سے پیار کیا اور اسے سہلانے لگا…

ہر روز میں نے اس مٹھی بھر مٹی کو گیت سنائے؛

پہلے وہ چیونٹی آئی، بعد میں جھینگر، وہ شام کا پرندہ،

وہ ویرانوں کا سانپ

یہ سب اس مٹھی بھر مٹی کی طرف آنا چاہتے تھے

میں نے مٹھی بھر مٹی کے گرد کنکریوں کا وہ بند ہٹایا

ان سب کو اندر آنے دیا اور اپنا اپنا حصہ لینے دیا۔

میں اپنی خالی ہتھیلی کی پیالی کے ساتھ ایک بار پھر تنہا رہ گیا۔

اب میں نے اپنی مٹھی کو بند کیا، اور اس سے مُکا بنایا،

اب میں لڑوں گا، میں نے فیصلہ کیا

اس کے لیے لڑوں گا جو دوسروں نے ہم سے چھین لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فریدی چکا نگانا (Fredy Chicangana) مقامیت میں گُندھے ایسے شاعر ہیں جو ہسپانوی اور کوئیچوا ہر دو زبانوں میں لکھتے ہیں۔ آپ کا مقامی زبان میں نام ونے ملکی  (Winay Mallki)  ہے؛ اس مقامی زبان کے نام کا مفہوم ہے، وقت میں جڑیں رکھنے والا۔ آپ کو 1993 میں کولمبیا نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے   )Huamanity & the Word) اعزاز دیا گیا۔ سال 2008 میں آپ کو اٹلی میں عالمی کثیراللسانی )Nosside de Poesía Global Multilingüe Prize(  سے بھی نوازا گیا۔

آپ کی شاعری کولمبیا کے علاوہ کئی ایک بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ فریدی چکا نگانا کے کئی ایک شاعری کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں مجموعوں میں 2008 اور 2010 میں شائع ہونے والے مجموعے اہم شمار کیے جاتے ہیں۔

فریدی چکا نگانا کی، جیسا کہ اوپری سطور میں بتایا گیا، مقامیت سے گہری جُڑت ہے۔ اس پس منظر میں آپ یناکونا قبائل )Yanakuna) کی شناخت کی ترویج و افزائش کے لیے قائم شدہ بہت ساری تحریکوں میں سرگرمِ عمل ہیں، جن تحریکوں کا مقصد یناکونا کے لیے مقدس حیثیت کے حامل مقامات کا تحفظ  شامل ہے۔


Words Without Borders is the poems texts source

About یاسرچٹھہ 119 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.