ہائبرڈُ الرّجیم

Cyril Almeida
Cyril Almeida via Daily Times

ہائبرڈُ الرّجیم

ترجمہ، یاسر چٹھہ

اس وقت تک، یہ سب پر ظاہر ہو چکا ہے… یا کم از کم ہر ایسے کسی کو، جو دیکھنے کے لیے تیار ہے، کہ یہ کیا ہے، جو کچھ ہے۔ اب کیا ہے جو پردے میں رہ گیا ہو؛ اور قانونی مُو شگافیاں، بال کی کھال اور غلط انداز امیدوں کی سب چمک اتر گئی۔ یہ ہی ہے جو کچھ ہے؛ یہ ذرا بھی خوب صورت نہیں، اور شاید چلتے چلتے، موجودہ اور نظر آتے کی حالت اس سے  بھی پَتلی ہو جائے۔

 ہائبرڈ رجیم میں خوش آمدید۔

بہت کچھ تو پہلے ہی غلط ہو چکا ہے؛ اور جو چیزیں غلط ہوئیں وہ دو وجوہات کی بناء پر نظروں سامنے ہیں۔ گھائل معیشت کو پردے میں رکھنا نا ممکن ہے؛ خاص طور پر صارفین کے زاویۂِ نظر سے دیکھیں؛ اور جب ملازمتیں ہاتھ سے نکلنا شروع ہو گئی ہوں۔ جب بھی وہ صارفین کوئی چیز خریدتے ہیں، یا نوکریوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرتے ہیں تو لوگ آسانی سے اس بات کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہو کیا ہو رہا ہے۔

عمران خان نے مدد کی۔ ان کا پیغام بہت سیدھا سادا سا تھا: میں ریکارڈ وقت میں ایک ہی سَمے میں ہر چیز کو بالکل ٹھیک کر دوں گا، بس ایک بار مجھ پر اعتماد کر کے دیکھیں، جب کہ انہوں نے جس زمین پر کاشت کاری کی تھی اس زمین اور کھیت کو پہچاننا بھی چنداں مشکل نہیں: نو آموز، پہلے سیاست سے قطعی طور پر ما وَراء، اور جنہیں بہت سے معاملات و احوال کی کچھ خاص سمجھ نہیں تھی۔

توقعات تو تھیں ہی چادر سے باہر پھیلے پاؤں ایسی، ایسی توقعات کا نصیبا اور نتیجہ کیا ہو سکتا تھا؟ جیسے ان جیسی چیزوں کا ہوتا ہے، ویسے ہی تو ہوا: ان توقعات کی سمندری لہروں کا ہمیش کی طرح حقیقت کی زمین سے ٹکرانا مقدر تھا؛ لیکن یہ حقیقت اس طور کی مایوس کن نکلی ہے، اور یہ ٹکراؤ اس دھڑام سے ہوا ہے کہ الامان الحفیظ۔

عمران نے اپنے آپ کو ایک عجیب، مَضحکَہ خیز، اور ممکنہ خطر ناک صورتِ حال میں بَہ ذاتِ خود ہی اتار لیا ہے۔

گزرے وقتوں میں بَہ راہِ نام شو کو چلانے کے لیے ایک کار آمد بے وُقوف کی آس پاس سے ڈُھنڈیا زیادہ آسان تھی: ٹیکنوکریٹ منتخب کریں، یا کوئی روایتی سیاست دان پکڑیے، بس!

ٹیکنوکریٹس تھوڑا سا کام کر لیتے ہیں، کیوں کہ پیشہ ورانہ رنگ کے رنگے یہی تو کرتے ہیں: وہ کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دکھانے کو کچھ کر بھی لیتے ہیں۔

البتہ آپ اس بات کو تو ایک طرف کر دیجیے کہ وہ جب جاتے ہیں تو معاملات کی کھچڑی سی بن جاتی ہے۔ جب وہ کام کاج میں لگے ہوں، تو ٹیکنوکریٹس ہمیشہ ایسے ہی نظر آتے ہیں، جیسے وہ ہَمہ دَم  کام، کام، اور کام میں مصروف ہوں۔ اور ایسا اُنہیں کرنا ہی ہوتا ہے۔

روایتی سیاست دان کے پاس بھی کرنے کو یہی کام ہوتا ہے کہ وہ کام کرتے دکھائی دے؛ لیکن اس کی توجہ زیادہ تر سسٹم کو تیل دے کر رَواں رکھنے مرکوز رہتی ہے؛ کیوں کہ سسٹم کو تیل نا دینے کا مطلب ہے کہ آپ کو سسٹم کی کوئی مدد نہیں ملنے والی؛ اور سسٹم سے کسی مدد کے نا ملنے کا مطلب ہے شکاریوں کے لیے آپ کسی فائدے جوگے نہیں رہے، اور اب پھر سے در و دروازے  نئے مفید بے وقوف کی تلاش کے لیے کُھل گئے۔

لیکن ہائبرڈ رجیم میں معاملات اتنے آسان نہیں ہیں۔

کسی نئی احمق روح کو ڈھونڈنے والوں کے پیشِ نظر صرف کسی ایسے کی ڈھنڈیا ہی نہیں ہوتی، جو کرنے کے واجب کام کرے، بَل کہ، انہیں کوئی ایسا دانہ چاہیے ہوتا ہے جو اس پوری کار گزاری پر قبولیت و کشش کا چوغہ بھی پہنا دے۔ ان بَلا خیز وقتوں کی تشریح و تفسیر کے لیے، محمد حنیف کے ایک یاد گاری جملے کا استعمال کافی بَر مَحَل ہو سکتا ہے:

“خان نے پوری ایک نسل سیاست آموز کی ہے، لیکن صرف اور صرف اِسے پاکستان کی اُسی پرانی مقتدرہ کے دَر کی گدا بنا دینے واسطے۔”

اگر بے وقوف روح کے ڈھونڈنے والوں کو کسی عمران خان جیسے ہی کی ضرورت تھی، تو اِس بندے بشر کی قدر کریں: بے وقوف کے لیے ڈھونڈتے پھرتے جتھے کے لیے عمران پر آ کر نظر ٹِک سی گئی تھی۔

عمران خان کی موجودگی میں ہائبرڈ رجیم کے نمائندے کے طور پر کسی ٹیکنوکریٹ یا روایتی سیاست دان کے بارے سوچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

اس خیال کے ساتھ کہ منتظمینِ کار گزاریاں نواز اور زرداری کو سیاسی منظر نامے پر دکھانے کا سوچیں، اور دوسری طرف عمران خان کے ماضی پر نظر ڈالنے سے بات واضح ہو جاتی تھی کہ ہائبرڈ رجیم کو اپنے جواز کا لبادہ اوڑھانے کے لیے رائے عامہ ہم وار کرنے کی سہولت اِن کے علاوہ کہیں اور میسر نہیں تھی۔

اس تجربے، جس سے ہمیں پچھلے برس کے دوران گزارا گیا ہے، سب سے زیادہ دل چسپ و عجیب عناصر اور اجزاء میں سے ایک یہ رہا ہے کہ عمران خان کو اس چیز کا خیال تک کیوں نہیں پھٹکا کہ جتنی ہی عمران خان کو اُن کی ضرورت ہے، اُنہیں بھی عمران خان کی اِتنی ہی ضرورت ہے۔ یہ دونوں فریق باہمی محتاج ہیں۔

 شاید عمران خان کو واقعی ایک بہتر گزری زندگی کے آخری باب کے طور پر وزیرِ اعظم بننے سے آگے کی کسی چیز میں دل چسپی نہیں؛ یا شاید ان کے موجودہ مفید تر نائب کی تلاش کے سلسلے میں قابلیت کے سَوتے توقعات و خدشات سے کہیں زیادہ خشک ہیں۔

بھلے کسی بھی طرح سے دیکھیے: ایک سال کے قلیل سے عرصے میں، اپنے میسر سیاسی سرمایے کے بڑے حصے کو ہاتھ سے سَرَکتے دیکھتے، عمران خان نے خود کو ایک مَضحکَہ خیز اور ممکنہ طور پر خطر ناک صورتِ حال سے دوچار کر لیا ہے: فہم کا ترازو ذرا ہاتھ لیجیے: یہ بات بالکل واضح نہیں ہے کہ عمران خان نے ہائبرڈ رجیم کو جتنے کا قانونی جواز کا لبادہ فراہم کیا ہے، کیا وہ عمران خان کی جانب سے رجیم کو دی جانے والی سَر درد کے پا سَنگ ہے؟

لیکن، اگر تو جو غلطی ہوئی ہے، وہ واضح ہے؛ اورجس طور پر دو گنی برق رفتاری سے ہم اس گھمبیر مقام پر پہنچ گئے ہیں، وہ بھی واضح ہے، تو بھئی ایک بات سنیے:

ہائبرڈ رجیم کے ساتھ بہت ہی بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے! یہ ہے ہی بے کار کی چیز۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی وقت میں ان کا خلیفہ کون ہے۔

جو آپ کی پسند ہو ویسے ہی ٹکرے بنا لیں۔ جیسے مَن چاہے اس کو کاٹ لیجیے، جیسے سمجھ آئے سمجھ لیجیے۔

قریباً ہر تعریف کی رُو سے رجیم ایک ارتکازی طاقت ہوتی ہیں، لیکن ثمر آوری و نتائج آفرینی قریباً ہمیشہ ہی ارتکاز سے تقسیم و تحلیل کی جانب کا سفر ہوتا ہے۔

شاید مرکز کے گرد کھِنچے حاشیے بہت تیز دھار تھے، یا پھر اس وجہ سے کہ اس منصوبے کے پیچھے مُحرّک خود ہی ایک مرتکز انداز طاقت ہے، مرکز میں کام کرنے کے قابل کوئی بند و بست کرتے کرتے ہی بہت سا وقت اور دماغی توانائی برتی گئی۔

عمران خان اسلام آباد میں، بَہ ہر طور، نا تین میں ہیں اور نا تیرہ میں۔ آئی ایم ایف نے سب کُنجیاں اپنے ہاتھ کی ہوئی ہیں، اور کلیدی وزارتوں کو اِن کے کنٹرول سے چھین کر اس بات کو یقینی بنایا ہے۔ لیکن اب بھی عمران خان کا پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں بہت حد تک دَم خَم ہے اور، دُرُست قسم کی یاوری سے، سندھ میں دخل اندازی کرنے کی بھی کافی حد تک صلاحیت ہے۔

یہ کہ عمران خان نے صوبوں کو سنبھالنے میں اپنے آپ کو انتہائی ناقص ثابت کیا ہے، اوراس طرح ہائبرڈ رجیم کی ایک اساسی منطق کو چلتا کِیا ہے، اس سوچ اور نکتے کو بھی دُھندلایا ہے کہ صوبوں کا بند و بست مرکز سے نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی رجیم صوبوں کی صورت میں طاقت کے متعدد مراکز برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس کا کوئی حل نہیں ہے۔

 یا پھر ذرا پلٹا لگائیں۔

صرف اس وجہ سے کہ عمران خود بھٹک رہے ہیں، اس کا خود کاری مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک بہتر خلیفہ کبھی نہیں تلاشا جا سکتا۔ یہ تو صحیح وقت پر زیادہ مہارت کے ساتھ صحیح مقام پر آنکھ رکھنے کے سوال سے زیادہ کی بات کسی طور نہیں۔

ہائبرڈ رجیم  کے خلیفہ کی نوکری کے لیے کسی ٹیکنوکریٹ کی سی مہارت، کسی روایتی سیاست دان جیسی معاملہ فہمی، اور کسی مجمع باز کرتُوتیے جیسی شُعبدہ بازی (کی ضرورت ہے)! اس میں مسئلہ دیکھیں؟ پاکستان میں؟ آپ قوسِ قزح سے کسی بھی خیالی تصویر کو حق سچ بنا کر پیش کرنے کا کار و بار کر رہے ہیں، اور کیا؟

ہائبرڈ رجیم کے اندرونی تضادات ایک تو ہیں ہی بہت زیادہ، اورپھر اتنی قِسموں کے ہیں کہ جو کسی تسلی بخش اور پائیدار طریقے سے سلجھانے سے سلجھتے نہیں۔

ابھی تک، یہ سب پر روشن ہے کہ یہ جو ہے، یہ کیا ہے: یہ بہت خوب صُورت نہیں ہے؛ اور شاید یہ بھّدے سے بھدّا تر ہوتا جائے گا۔ اور یہ کہ ہمارے پاس ابھی بھی عمران خان ہیں، یہ بَہ یک وقت خُوش خبری بھی ہے، اور بھد خبری بھی ہے۔

 پاکستان، ہا؟

 خدا اس سر زمین پر اپنا کرم کرے، اور ہم سب کے نصیب بھلے ہوں۔

The regime, by Cyril Almeida. Published in Dawn, September 15th, 2019

About یاسرچٹھہ 160 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔