شہرِ محبت کوئٹہ اور کوئٹہ وال (قسطِ اوّل)

شہرِ محبت کوئٹہ اور کوئٹہ وال
Photo courtesy wikimedia

شہرِ محبت کوئٹہ اور کوئٹہ وال (قسطِ اوّل)

از، نعیم بیگ

کوئٹہ کے بارے میں کہتے ہیں جس نے ایک بار کوئٹہ کا پانی پی لیا وہ وہاں دو بارہ ضرور جاتا ہے۔ ہمارے والد 58-1957ء میں پہلی بار سینے کے علاج کی خاطر لاہور سے کوئٹہ گئے۔ سینی ٹوریم نے طویل علاج کے لیے چند برس روک لیا۔ تب ہم بھائیوں نے وہیں یٹ روڈ سکول میں پڑھا۔ تفصیل الگ سے رقم کروں گا۔

والدہ بتاتی ہیں کہ انھی دنوں اُنھوں نے طے کر لیا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسی پُر سُکون جگہ پر رہوں گا اور وہی ہوا۔ 1968ء میں وہ پِرِی میچُؤر ریٹائرمنٹ لے کر دو بارہ کوئٹہ سیٹل ہو گئے۔ اس بار میں فرسٹ اِیئر کا سٹوڈنٹ تھا۔

یوں کوئٹہ کو شُعُوری حالت میں دیکھنے کا پہلی بار موقع ملا۔ کیا شہر تھا۔ کیا امن و سکون تھا۔ زندگی اس قدر لطیف تھی کہ پرندے بھی سہل پرواز کرتے اور چاند کو ڈوبنے کا سہارا درکار تھا۔

 میں چند روز پہلے معروف ادا کار  عابد علی پر ایک مضمون لکھنے کے دوران کچھ دیرینہ اور خواب ناک یادوں میں کھو گیا۔ سوچا بچنے کا یہی طریقہ ہے کہ آنکھوں کی نمی اور ان یادوں کو آپ سب سے شیئر کیا جائے۔

حضرتِ میر سے بے حد معذرت کے بعد:

کوئٹہ جو اک شہر تھا عالم میں انتخاب

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے  

1935ء کے زلزلے کے بعد کوئٹہ کو دو بارہ متوازی/ کراس سڑکوں پر مشتمل کھڑا کیا گیا۔ تین اہم بازار جو انگریزی کے حرف، اَیل شیپ میں تھے۔ شمالاً جنوباً ایک اہم سڑک تھی جو ٹھنڈی سڑک کہلاتی۔ لِٹن روڈ نام تھا اس کا۔ اس پر آج گورنر/ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس واقع ہیں۔ اس کے متوازی ایک بازار تھا جسے جناح روڈ کہا جاتا ہے۔ اس پر انگریزوں کے زمانے سے ہی بڑی بڑی دُکانیں ہوا کرتی تھیں جو سڑک سے دو تین فٹ اونچی ہوا کرتی تھیں۔ ان دُکانوں کی سیڑھیوں پر اکثر بعد اَز شام کوئٹہ کے معززین جن میں نوابین اور سردار بھی شامل تھے قہوہ پیتے نظر آتے۔

راقم نے ان سرداروں کو جن میں بگٹی صاحب، مینگل صاحب، بزنجو صاحب، خاران والے نوشیروانی صاحب چھاؤنی جاتے ہوئے دائیں جانب کی میڈیکل دُکانوں کی سیڑھیوں پر بیٹھے دیکھا ہے۔ سامنے فرح ہوٹل کی سائیڈ پر صمد اچکزئی صاحب اور دیگر پٹھان معززین بیٹھتے تھے۔

بگٹی صاحب ہمیں اکثر لارڈز ہوٹل کے لان پر بھی بیٹھے نظر آتے جہاں ان کے ارد گرد کچھ دیگر زُعَماء بھی ہوتے۔ ان دنوں لارڈز ہوٹل میں سرِ شام ہی اس کے بڑے لان میں بار کھل جاتا، اور اور احباب بار سے لطف اندوز ہونے کے لیے سرِ شام  چلے آتے اور دیر گئے تک محفلیں رہتیں۔ دوسری طرف ہم جیسے فُقرے بھی کبھی لارڈز کے بار اور کبھی تھڑوں پر بیٹھے قہوہ سے لطف اندوز ہوتے۔

یہ وہ دن تھے جب کوئٹہ چھاؤنی میں عوام کے پیدل چلنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ ہم جناح روڈ سے چند لڑکے نکلتے پیدل چلتے ہوئے پانی تقسیم تک پہنچتے پھر فورسز سِنِیما کی کینٹین سے چائے پیتے اور پیدل آرڈیننس ڈِپُو سے ہوتے ہوئے واپس جناح روڈ کی طرف نکل جاتے جہاں ایک بار پھر لبرٹی یا میٹروپول پر محفل جمتی۔

فیس بک پر ایک نا معلوم دوست کوئٹہ کے بارے دُرُست لکھتے ہیں:

آرڈیننس ڈِپُو کا صبح شام بجنے والا سائرن، 601، قلی کیمپ، پانی تقسیم، میر قلم کا کھوکھا، پاک فورسز کی کینٹین، ہزارہ ہوٹل، سٹاف کالج، نیپئر لین، توپوں والا باغ، رابرٹ مارکیٹ، چلتن مارکیٹ، شارع گلستان، بجلی روڈ، چلتن بابا، مکڑی گراؤنڈ، گورا قبرستان، نو گزا بابا، اسپین کاریز، ولی تنگی۔ یہ تمام وہ جگہیں ہیں جو کوئٹہ کینٹ میں واقع تھیں یا تعلق تھا، ان ہی جگہوں پہ ہمارا وقت گزرا۔ 

کبھی سکول سے بھاگتے تو چھاؤنی کا رخ کرتے کہ کوئی ھمیں پکڑ نہ سکے۔ ہماری ساری تفریح گاہیں ساری یادیں کوئٹہ چھاؤنی سے وابستہ ہیں۔ کول مائینز پہ کام کرنے والے سواتی بھائی ہفتے میں ایک مرتبہ شہر آتے، ان کی گہما گہمی، کوئٹہ کے قندھاری نان، تاتا بلبلی کے چھولے، نمکین رَوش، سڑکوں کے کنارے توے پہ بُھونی جانے والی کلیجی کی خوش بُو۔ کجی والی مٹکے کی کھٹی ترش لسی،
پاک فورسز کے پکوڑے، بسم اللہ کے پائے، بلدیہ اور سوزا کے پیٹیز، بابو کے تِکّے، ماما ہوٹل پرنس روڈ کی چھت، یگل، امداد، اور راحت سِنِیما کے ہنگامے،…  

ٹکٹ نکالنے کے ماہر دوست، سیٹوں پرجھگڑا، والی بال اور فُٹ بال کے ٹورنامنٹس، کوئٹہ فِش کی مچھلیاں، چلغوزے اور شینے کی رھیڑیاں، کروت، بڈی، باڑی، رواش اور خھٹول (جنگلی ٹیولپ) ھنہ روڈ کے جنگلی گلاب، سنجد (جنگلی عناب) اور جنگلی چمبیلی، لیونڈر کے کاسنی پھولوں سے لدی وادیاں۔ …  

فائر بریگیڈ کا بوڑھا ہزارہ اسٹاف، قلعہ کاسی کے شوخ نو جوان، سریاب کی بسوں کے آوارہ کنڈکٹرز اور چرسی ڈرائیورز، شلدرہ اور ہدہ سے والدین کا بچوں کو ڈرانا، ہر سال آنے والے یورپین سیاح، اور ان کے کاروان۔ سیون ٹائپ مکانوں کی ٹین کی چھتوں سے لٹکتی برف کی قلفیاں، 6 ٹخی چاقو کھول کر ڈرانے والے ہزارہ بدمعاش، کوئٹہ کی معصوم بوہرہ برادری، قندھاری نان بائی۔ اردو بولنے والے بابو، بڑے لانگ کوٹ اور قراقلی پہننے وضع دار پٹھان، شرمیلے بلوچ، ذہین پنجابی، سخت گیر سرائیکی اساتذہ، معصوم مری، اِتراتے براہوی، خاموش کشمیری، کٹ کٹ دیکھتے اچکزئی، مسجد کی روٹی مانگتے طالب سبھی اس شہر کا حسن تھے۔

میں نے اوپری سطروں میں عرض کیا ہے کہ1957ء میں جب والد اپنے سینے کے علاج کے لیے بروری روڈ پر واقع سینی ٹوریم آئے تو انھیں بتایا گیا کہ آپ کے سینے میں بلیک ہولز ہیں جن کے لیے آپ کو دو تین برس تک مسلسل علاج کرانا پڑے گا، اور ایک برس سینی ٹوریم میں رہنا ہوگا۔

والد نے اپنے محکمے سے بات کی، دو برس کی چھٹی لی اور پورے خاندان سمیت جس میں ہماری والدہ اور تین بھائی شامل تھے، کوئٹہ پہنچ گئے۔ کوئٹہ پہنچنے پر ہمارے پاس رہائش کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ پہلے ٹرِپ میں جب والد آئے تھے تو والدہ کی ایک سہیلی کوئٹہ میں بن گئی تھیں۔ انھوں نے ہماری رہائش کا کانسی روڈ پر خان عبدالغفار خان مسافر خانہ میں بند و بست کر دیا۔

اِن دنوں کا کانسی روڈ آج کی میزان مارکیٹ سے شروع ہو کر مشرق کی طرف دور تک کوہِ مردار کی طرف نکل جاتا اور اِس کا اختتام کانسی قبرستان پر ہوتا تھا۔

اس سڑک کی خوب صورتی یہ تھی کہ وہ ان دنوں بھی کافی چوڑی تھی۔ اس کے ابتداء میں بائیں جانب ایک بڑی چوکور شکل میں مٹن مارکیٹ تھی؛ اس کے دو بڑے مرکزی دروازے تھے ایک میزان چوک کی طرف تھا جہاں مرکزی دروازے کے دونوں جانب اخبار، رسالے اور کتب فروش عارضی تختوں پر اپنی دُکانیں سجائے بیٹھے رہتے۔

مارکیٹ کا دوسرا مرکزی دروازہ سبزی منڈی کانسی روڈ پر کھلتا۔ یہاں سڑک کے دونوں جانب سبزی منڈی ہوا کرتی تھی جس کی دُکانیں کئی کئی فٹ تک سڑک پر تجاوز کرتیں۔ اس سے کچھ آگے چل کر بیسیوں ٹھیلے کھڑے ہوتے تھے، جنھیں ہم زبانِ عام میں ریڑھیاں کہتے ہیں۔ اس پر رنگ برنگے موسمی پھل لدے ہوتے۔

زیادہ تر ان ریڑھیوں پر شینے اور خشک میوے/ مونگ پھلیوں کے انبار ہوتے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ روپے/دو روپے کا سامان بھی لیں تو جب تک دُکان دار آپ کو شینے یا میوہ کاغذ کے لفافے میں بند کر کے نہ تھما دے، آپ مسلسل اس ڈھیر سے پھکے لگاتے رہیں، ریڑھی والا کبھی منع نہیں کرے گا۔ اگر کوئی بڑا اپنے بچے کو منع کرے تو دُکان دار یا ریڑھی والا اُسے منع کر دیتا۔ بچے کو کھانے دو، کچھ نہیں ہوتا۔

ان ریڑھیوں کے ختم ہوتے ہی حاجی محکم الدین کی صابن کی بڑی دُکان تھی جس سے مُلحَقہ عبدالغفار مسافر خانے کا بڑا سا لکڑی کا مرکزی دروازہ ہوتا۔ یہ مسافر خانہ خیراتی ہوا کرتا تھا، صرف کھانا پینا اپنا تھا۔ رہائش کے لیے مسافر کو کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی تھی۔ میرا خیال ہے کہ ہم کوئی دس بارہ دن اس مسافر خانہ میں رہے ہوں گے جس کے بعد کانسی روڈ پر ہی آگے چل کر ایک کرسچیِئن بستی تھی اس کے سامنے ایک مختصر سی کالونی تھی جس میں ہم نے ایک گھر کرایے پر لے لیا تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ گھر مالی باغ کے پچھواڑے میں تھا۔ ہم ایک پتلی سی گلی سے گذر کر مالی چلے جایا کرتے۔ یہ باغ اپنی نوعیت کا خوب صورت باغ تھا۔

 اس کے وسط میں چیئرمین کونسل خورشید صاحب کا دفتر تھا۔ جو اعزازی طور پر چیئرمین تھے۔ (خورشید صاحب کوئٹہ الیکٹرک کمپنی میں ملازم تھے ۔ بروچہ صاحب اس کمپنی کے مالک تھے شاید) جس کا مرکزی دروازہ اسلامیہ ہائی سکول میکانگی روڈ کی طرف تھا۔

اس آفس کے پیچھے طویل قطار در قطار گھنے درخت اور پھر ٹیکنیکل سکول کی دیوار آ جاتی۔ مالی باغ کے جنوب میں رحیم کالونی تھی۔ جس میں ہم بعد میں 1968ء میں کوئٹہ دو بارہ آنے پر ریائش پذیر ہوئے۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارے والد علاج کے لیے سینی ٹوریم میں داخل ہو گئے تھے اور یوں ہماری والدہ ہمارے سبھی کام کرتی تھیں۔

والد نے یہ کام ضرور کیا کہ انھوں نے ہسپتال میں داخل ہونے سے پہلے مجھے اور بڑے بھائی کو یٹ روڈ پرائمری سکول میں داخل کروا دیا۔ اس داخلے کی تفصیل اگلی قسط میں آئے گی۔ ہم پتلی گلی سے نکل کر اسلامیہ ہائی سکول سے سامنے سے گزرتے ہوئے آرچر روڈ کے راستے پہلے اینڈرسن روڈ (حالیہ لیاقت بازار) کو کراس کرتے پھر مسجد روڈ پہنچتے اور دائیں مڑ کر یٹ روڈ سکول پہنچ جاتے۔

ہمارا صبح کا سفر پُر سکون ہوتا، لیکن واپسی پر بھوک کے ہاتھوں برا حال ہوتا۔ گلے میں لٹکے ہوئے بستے، ہاتھوں میں تختیاں، ہاتھ سیاہی اور گاچی سے لِتھڑے ہوئے، اسلامیہ سکول کے قریب پہنچتے تو تاتا بلبلی والا ہمیں دیکھ کر آواز لگاتا، بلبلی مے خور۔ اسے معلوم ہوتا کہ بچے بھوکے ہیں۔ در اصل یہ ابلے ہوئے سفید چنے ہوتے جو ہلکے سے شوربے کا ساتھ ملتے۔ شاید پانچ پیسے کی یا ایک آنے کی پلیٹ تھی۔ (یاد رہے کہ اشاری نظام جنوری 1961ء میں پاکستان میں رائج ہوا، اس سے پہلے آنے، پائیاں اور روپیہ تھا۔)

ابھی ہم تاتا کی چھوٹی چھوٹی پلیٹوں میں بلبلی کھا ہی رہے ہوئے کہ ہزارہ شریر بچے جو اسلامیہ سکول میں پڑھتے تھے ہم پر حملہ آور ہو جاتے۔ وہ سکول سے چھٹی ہونے پر ایک ساتھ باہر نکلتے تو ہمارے ساتھ مڈ بھیڑ ہو جاتی۔ ہم انھیں تاتا کہہ کر چھیڑتے جس سے وہ چڑتے اور جواباً ہم پر اپنی تختیوں سے حملہ کر دیتے۔ چند منٹوں کی اس لڑائی میں تختیاں ہماری تلواریں بن جاتیں۔ آخر میں تاتا بلبلی ہمیں چھڑا دیتے اور فارسی میں ان بچوں کو خوب گالیاں دیتے۔ در اصل ہم تاتا کے گاہکوں کی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے۔

واپسی پر اکثر یہ ہوتا کہ مالی باغ کے اندر سے شفاف پانی کے گزرتے ہوئے ایک بڑے نالے پر (تین فٹ چوڑا اور کوئی تین چار فٹ گہرا سیمنٹ سے بنا ہوا) ہم اکثر نہا لیتے۔ جو لوگ سنہ ستر سے پہلے مالی باغ، کانسی روڈ اور میکانگی روڈ پر رہتے رہے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہاڑوں سے اترتا ہوا وہ شفاف پانی، کاریزوں کی مدد سے پورے شہر کے اندر سے گزرتا تھا، جس میں یہ سینمٹی نالہ بھی شامل تھا۔

آج پچاس برسوں بعد جب میں کوئٹہ میں خشک سالی دیکھتا ہوں تو دل پتھرا جاتا ہے۔ آج واٹر ٹیبل کا لیول ہزار فٹ سے شاید نیچے جا چکا ہے۔ (تین برس پہلے کوئٹہ کی خشک سالی اور واٹر ٹیبل لیول پر لکھے میرے ایک آرٹیکل پر سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا جو نا جانے اس وقت کس سٹیج پر ہے۔)

کانسی روڈ سے ایک چھوٹی سے سڑک نچاری کی طرف جاتی اور دوسری طرف بلوچی سٹریٹ کی طرف جاتی ہوئی پشتون آباد کی طرف نکل جاتی۔ لوگوں کا عمومی سفر سائیکلوں پر ہوتا، یا پھر ٹانگہ کوئٹہ کی مقبول سواری ہوتی۔ ان دنوں کاریں صرف بڑے سرداروں یا نوابوں کے پاس ہوتیں جو کبھی کبھار جناح روڈ یا لِٹن روڈ پر لے آتے۔

مجھے آج بھی نواب مگسی کی سیاہ رنگ کی مرسیڈیز کار یاد ہے جو اکثر ان کی جناح روڈ کی رہائش گاہ جو نرسنگ ہوم کے سامنے  تھی سے نکلتی دیکھی۔ ان کے برابر یحییٰ بختیار کا گھر تھا۔ اسی کے قرب میں پارسی کالونی تھی اور اس کے سامنے ڈاکٹر جعفر کا گھر تھا جو ان دنوں بھٹو کے دوست تھے اور پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ آج نا جانے وہ سب گھر وہاں موجود ہیں کہ نہیں۔

(جاری ہے)

About نعیم بیگ 120 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔