جنگ کیوں؟ آئن سٹائن کا سیگمنڈ فرائیڈ کے نام خط

 زیریں درج نگارش کے سیاق و سباق کے متعلق  ادارتی عرضی:

پچھلے کچھ دنوں سے پورا پاکستان اور پورا کے پورا ہندوستان واہگہ بارڈر کا وسیع تر استعاراتی منظر پیش کررہا ہے۔ اب یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں ہونا چاہئے کہ واہگہ بارڈر پر ہر روز کس دیوی کی پوجا کرکے پاکستان اور ہندوستان کے جھنڈوں کو ہوا میں لہرانے کے بعد تہہ کیا جاتا ہے۔ اگر پھر سے سننا چاہتے ہیں تو سنئے کہے دیتے ہیں کہ اس دیوی کا نام ہے: جنگجوئیت اور عسکریت۔ وہاں وہ لوگ روز امید کے ایک اور سورج کے غروب ہونے کا جشن کرتے ہیں۔ جھنڈے بعد میں تہہ ہوتے ہیں، انسانیت اور اس سے منسلک انس و محبت، برداشت و تحمل اور پر امن بقائے باہمی کی کسی سوچ کی امید پہلے تہہ ہوجاتی ہے۔ افسوس کہ روز طیش اور غصے کی رسم اونچی اونچی آوازوں میں نبھائی جاتی ہے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کہ تالیاں پیٹنے والے بھی روز پہنچتے ہیں اور اپنی آنکھوں کے علاوہ ہتھیاروں کو بھی لہو رنگ کرتے ہیں۔

اس منظر نامے میں ہر دو ملکوں میں سرکاری حب الوطنی  کے تقاضے مشکل سے مشکل تر کئے جارہے ہیں: ہوش اور خرد کی بات کرنے اور جنگی جنون کو نقارہ خدا قرار دینے سے روکنے کی التجائیں بلند کرنے والوں کو سرکاری محبان ہندوستان، دیس نکالا دے کر پاکستان جانے کی صلاح دے رہے ہیں، تو اپنے وطن کے جوش کے ٹھاٹھیں مارتے ساگر کے شناور، محبان یہاں والوں کو ہندوستان چلے جانے کے دھکے نما مشوروں سے نواز رہے ہیں۔ ان حالات میں بھی ہم اپنے شوریدہ سروں کو البتہ اپنی آنکھوں میں اتری لالی کو تھوڑا کم کرنے کی سماجتیں ضرور کرتے رہیں گے۔ اسی سلسلے میں پہلے قدم کے طور پر ہم آپ قارئین کی خدمت میں یہ ایک مکتوب پیش کرتے ہیں۔

اس خط کا ترجمہ ہمیں ہمارے دوست اور کرم فرما، سفیراللہ خان صاحب کے ذریعے میسر ہوا ہے، لیکن آئن سٹائن کے اس خط کا ترجمہ جناب احسان قاضی نے کیا ہے۔ انہی صاحب کے ہاتھوں ترجمہ شدہ، سیگمنڈ فرائیڈ کے آئین سٹائین کے نام جوابی خط کو الگ پوسٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مدیر

—————————————————

(تعارف و ترجمہ: احسان قاضی)

 

ان خطوط کا سلسلہ 1931ء میں اس وقت شروع ہو اجب لیگ آف نیشنز نے انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انٹلکچوئل کو آپریشن کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ممتاز دانشوروں اور نامور شخصیات کو مختلف اہم موضوعات پر خطوط لکھنے کی دعوت دے۔ یہ خطوط لیگ آف نیشنز کے مقاصد اور اہم فکری مسائل کے تعلق رکھتے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اس سلسلے میں سب سے پہلے آئن سٹائن سے رابطہ قائم کیا جس نے مکتوب الیہ کے طور پر فرائیڈ کا نام تجویز کیا۔چنانچہ جون 1932ء میں انسٹی ٹیوٹ کے سیکرٹری نے فرائیڈ کو خط لکھنے کا دعوت نامہ بھیجا جسے اس نے فوراً قبول کر لیا۔ آئن سٹائن کا خط غالباً اگست کے پہلے ہفتے میں پہنچا جس کا جواب فرائیڈ نے ستمبر میں دیا۔ انسٹی ٹیوٹ نے دونوں خطوط پیرس سے 1933ءمیں شائع کیے۔ یہ خطوط بیک وقت جرمن، فرنچ اور انگریزی زبانوں میں شائع ہوئے۔ تاہم بوجوہ جرمنی میں ان کی سرکولیشن روک دی گئی۔

ان خطوط کی اشاعت سے پہلے دونوں اصحاب ایک دوسرے سے بہت اچھی طرح واقف نہ تھے۔ اور صرف ایک مرتبہ 1927ءمیں ملے تھے۔ یہ ملاقات برلن میں فرائیڈ کے سب سے چھوٹے بیٹے کے گھر میں ہوئی تھی۔ فرائیڈ نے بہر صورت فرنیزی کو ملاقات کے متعلق بے حد دلچسپ الفاظ میں آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں کےدرمیان چند دوستانہ خطوط کا تبادلہ ہوا۔ ذیل میں پہلے آئن سٹائن کا خط در ج ذیل ہے۔

————————————————————————————————————

نزد پوسٹ ڈیم

30 جولائی 1932ء

ڈیئر پروفیسر فرائیڈ

لیگ آف نیشنز اور انٹر نئیشنل انسٹٰی ٹیوٹ آف انٹلکچوئل کو آپریشن کی تجویز نے مجھے آپ سے وہ سوال پوچھنے کا بہت عمدہ موقع فراہم کیا ہے جو یقیناً انسانی تہذیب و بقاء کو پیش آنے والے مسائل میں اہم ترین ہیں۔ لیگ آف نیشنز نے مجھے تبادلہ خیالات کے لیے اپنی پسند کادانشور منتخب کرنے کا موقع بھی دیا جسے میں نے آپ کی صور ت میں استعمال کیا ۔ وہ سوال جو میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ”کیا انسان کو جنگ کی لعنت سے نجات دلانے کا کوئی طریقہ ہے؟” کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد یہ مسئلہ انسانی تمد ن کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کے حل کے لیے بڑھ چڑھ کر کوششیں کی گئیں لیکن ہر کوشش ناکامی سے دو چار ہوئی۔

مزید برآں اس مسئلے کو عملاً اور پیشہ ورانہ انداز میں حل کرنا جن افراد کی ذمہ داری ہے وہ اپنی بے بسی سے واقف ہیں اسی لیے میں دیگر دانشوروں کی رائے بھی اس معاملے میں لینا چاہتاہوں جو اگرچہ سائنس کے مختلف میدانوں میں کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی اپنے اپنے تناظر میں عالمی مسائل کو دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے میں انسانی فطرت اور جذبات کے گہرے اور تاریک حصوں کی بابت زیادہ معلومات کا مالک نہیں چنانچہ میری موجودہ تخقیق کا مقصد یہی ہے کہ میں اس مسئلے پر مزید علم حاصل کروں تاکہ اس کا کوئی پائیدار حل نکل سکے۔ مزید برآں آپ انسانی جبلت پر اپنی گہری نگاہ کی روشنی میں جنگ کی وجوہات کا احاطہ کر سکیں اور تدارک کی تدبیر بتا سکیں۔ کچھ نفسیاتی رکاوٹیں ایسی ہیں جنہیں یقیناً عام آدمی معمولی سا سمجھ سکتا ہے لیکن ان کا باہمی تعلق اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل وہ کسی طرح بھی نہیں جان سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ لازماً ہمیں ایسے طریقے بتائیں گے جو غیر سیاسی ہوتے ہوئے ہمیں ان رکاوٹوں کو عبور کر نا سکھا ئیں گے جنہیں ہم مدد کے بغیر پار نہیں کرسکتے۔

چونکہ میں ذاتی طور پر قومی تعصبات سے پاک ہوں چنانچہ میرے پاس اس مسئلے کا ایک سطحی ساحل موجود ہے جو در حقیقت انتظامی نوعیت کا ہے۔ میرے خیال میں عالمی برادری کی رضامندی سے ایک ایسا قانونی یا عدالتی ڈھانچہ قائم کیا جانا چاہیے جو دو اقوام کے درمیان پیدا ہونے والے کسی بھی تنازعے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کرے ۔ اس ادارے کے ہر فیصلے کا احترام تمام اقوام عالم پر لازم ہو۔

اس ٹریبیونل کے پاس اتنے اختیارات اور طاقت ہو کہ اپنے تمام فیصلوں کو منوا سکے اور نافذ العمل کر سکے ۔ لیکن ساتھ ہی مجھے اپنے اس مشورے کی کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ یقیناً یہ ادارہ اتنی طاقت مرتکز نہ کر پائے گا کہ اپنی بات سب سے منوا سکے چنانچہ اس کو ماورائے عدالت دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے کہ قانون اور طاقت پہلو بہ پہلو چلتے ہیں چنانچہ قانون کو کسی طاقتور کے مفادات کا آلئہ کار بننے سے روکنے کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ فیصلے کا اختیار فر د واحد کی بجائے جیوری کے پاس ہو اور یہ جیوری مختلف ممالک کے شہریوں پر مشتمل ہو ۔ لیکن ہمارے لیے یہ بھی ممکن نہیں کہ کوئی ماورائے ملک وملت ادارہ قائم کر سکیں جس کے ارکان کوئی قومی یا ملکی وفاداری یا رجحان نہ رکھتے ہوں۔ ایسی غیر جانبدار باڈی کا قیام اور پھر اس کے فیصلوں کا نفاذ، اس کے فیصلوں کی بین الاقوامی پذیرائی یا قبولیت ، یہ سب عوامل شک و شہبے سے بالا نہیں ۔ چنانچہ میں پھر اپنے پہلے نکتے کی طرف آتا ہوں کہ عالمی امن اور تحفظ عامہ کے لیے ضروری ہے کہ ہر قوم اپنی آزادی و خودمختاری کا کچھ حصہ تج دے اور ایسے ادارے کی حاکمیت کو تسلیم کرے بصورت دیگر کوئی اور راستہ امن عالم کی منزل تک نہیں پہنچ پائے گا۔

گزشتہ عشرے کے دوران ہونے والی ایسی تمام کوششیں رائیگاں گئیں جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ کوئی طاقتور نفسیاتی عامل ان کے خلاف متحرک ہے جو ان تمام مساعی کو ناکام بنا رہا ہے۔ ایسے کچھ عوامل کی نشاندہی مشکل بھی نہیں۔ حکمران طبقات کی ہوس جاہ و طاقت  کی ہر اس کوشش کا خاتمہ کر دیتی ہے جس کی مدد سے قومی خودمختاری میں کمی ممکن ہو ۔ ایک طرف سیاسی اقتدار کے بھوکے جتھے سرگرم عمل ہیں تو دوسری طرف وہ افراد مصروف کار ہیں جن کے معاشی اقتصادی مفادات امن سے متصادم ہیں۔ ہر ملک میں ایسے افراد موجود ہیں جو اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن اثر و نفوذ کے اعتبار سے بے حد مضبوط ہیں۔ یہ افراد اسلحہ ، گولہ ، بارود اور مہلک ہتھیار بناتے اور بیچتے ہیں، ان کی زندگی ، مفادات اور بقاء دوسروں کی ہلاکت موت اور تباہی میں مضمر ہیں۔

ان تمام مسائل کا ادراک رکھنے کے باوجود یہ ایک عظیم مقصد کی طرف پہلا قدم ہے۔ لیکن ایک اور سوال بھی یہاں اہم ہے کہ محض چند افراد کی تحریک اکثریت کو کیونکر قائل کرسکتی ہے۔ اکثریت میں میں ان سپاہیوں کو بھی شامل کرتاہوں جنہوں نے جنگ و جدل کو پیشے کے طور پر اپنا یا ہے اور وہ اپنے فرائض کو ایک عظیم مقصد کی تکمیل سمجھتے ہیں کیونکہ اپنے خیال میں وہ اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں اور جارحیت ان کے مطابق دفاع کا بہترین طریقہ ہے۔ مزید برآں تعلیمی ادارے ، مذہبی عناصر اور پریس بھی حکمران طبقات کے تصرف میں ہیں جن کی مدد سے وہ عوام الناس کے جذبات کو بھڑکاتے اور انہیں اپنے مقاصد کا آلہ کار بناتے ہیں۔

میرا یہ تجزیہ بھی مسئلے کا مکمل حل پیش نہیں کرتا بلکہ مزید سوالوں کو جنم دیتاہے۔ آخر انسانوں کو اتنی آسانی سے کیونکر اکسایا جاسکتاہے کہ وہ عقل و خرد کھو بیٹھیں اور اپنی زندگی تک کو داؤ پر لگانے سے گریز نہ کریں؟ اس کا جواب غالباً یہی ہے کہ ہر انسان کے اندر تخریب اور نفرت کے شدید جذبات موجود ہوتے ہیں جو زمانہ امن میں حالت خوابیدگی میں رہتے ہیں اور صرف غیر معمولی حالات میں بیدار ہوتے ہیں۔ لیکن ان کو ابھارنا اور بروئے کار لانا زیادہ مشکل نہیں ہوتایہ بہت جلد سرگرم عمل ہو کر اجتماعی پاگل پن کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کا حل میرے پاس نہیں اور انسانی جبلتوں کا کوئی بہت بڑا ماہر ہی اس کا علاج تجویز کرسکتاہے۔

اب میں اپنے آخری سوال کی طرف آتا ہوں۔ کیا انسان کے ذہن کو اس طرح سے کنٹرول کرنا ممکن ہے کہ اس کے اندر سے نفرت و تشدد کے جذبات نکالے جاسکیں۔ یہاں پر میں ان پڑھ اور غیر تربیت یافتہ عوام کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرا اشارہ اس نام نہاد دانشور طبقے کی طرف بھی ہے جو خود بھی ان جذبات کا نہایت آسانی سے شکار ہوجاتاہے۔اس طبقے کو زندگی کا کوئی براہ راست شعور نہیں ہوتا اور اس نے زندگی کو صرف اخباروں اور کتابوں کے اوراق پر برتا ہوتاہے۔

آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ اب میں صرف قوموں کے درمیان جنگوں کی بات کرتا رہا ہوں جو کہ بین الاقوامی ٹکراؤ کے زمرے میں آتی ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ تشدد کے جذبات دیگر لبادوں میں بھی فعال رہتے ہیں مثلاً خانہ جنگیاں، نسلی تصادم اور فرقہ ورانہ فسادات وغیرہ ۔ لیکن یہاں میرا مقصد انسانوں کے درمیان ہونے والی سب سے ظالمانہ، متشدد اور خونریز کارروائی کو روکنا ہے جو دو اقوام یا ممالک کے درمیان مسلح تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہم یہی چاہتے کہ ایسی صورتحال پیدا کریں کہ یہ کار روائی ناممکن ہوجائے۔

میں جانتا ہوں کہ بطور نفسیات دان آپ کے پاس اس فوری اور تکلیف دہ مسئلے کا واضح یا پوشیدہ حل موجود ہے۔ یہ یقیناً ایک بہت بڑی خدمت ہوگی کہ آپ اپنی تازہ ترین دریافتوں کی روشنی میں اس مسئلے کا کوئی حل تجویز کریں جو کسی ناقابل عمل طریقہ کار کی راہ ہموار کر سکے۔

مخلص

البرٹ آئن سٹائن