طالب علمانہ سطح پرجنسی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت

جنسی تعلیم

طالب علمانہ سطح پر جنسی تعلیم کی ضرورت اور اہمیت

(ساجد محمود)

جس معاشرے میں’’شرم وحیا‘‘ کو الہامی سمجھ لیا گیا ہو اور اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی گئی ہو اور یہ کہا جائے کہ یہ مخصوص قسم کے عقائد، روایات کا ایک نفسیاتی ردعمل ہے وہاں بچوں کے لئے جنسی تعلیم جیسے موضوعات پربات کرنے کے لئے حوصلہ چاہئے۔
اس کو سب مانتے ہیں اچھی تعلیم بچوں کے لئے زندگی بھر کا بیش قدر تحفہ ہوسکتی ہے تو پھر اُس میں جنسی تعلیم کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟بچوں سے جنسی موضوعات پر بات کرنے سے جنسی موضوعات کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے موضوعات کے لئے بھی بے تکلفی پیدا ہوسکتی ہے۔ بچوں کو جنسی راہنمائی یا تعلیم مہیا کرنے کا مطلب ہے، والدین اُن کا خیال رکھتے ہیں اور اُن سے کسی بھی موضوع پر بات کی جاسکتی ہے۔
اگر والدین بچوں کے ساتھ جنسی موضوعات پربات نہیں کرتے اُن کو جنسی راہنمائی مہیا نہیں کرتے اور بچوں کو ان مسائل کا سامنا کرنے کے لئے یا جنسی مسئلے کو بغیر راہنمائی کے حل کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر اُن کو کوئی غلط راہنمائی مہیا کرسکتا ہے اور جو اُن کے لئے زندگی بھر کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ غلط قسم کی رہنمائی اُ ن کو بے شمار نفسیاتی مسائل کا شکار کرسکتی ہیں اور وہ نہ صرف اپنے لیے، والدین کے لیے بلکہ سوسائٹی کے لیے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔
یہ والدین کی ذمہ داری ہے جیسے وہ اُن کی خوراک، تعلیم، رہائش کا خیال رکھتے ہیں وہ اُن کو جنسی راہنمائی بھی مہیا کریں، یہ اُن کے لئے زندگی بھر کے لئے اُن کی سماجی زندگی اور جنسی صحت کے لئے بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو ’’گندا‘‘’’بری بات‘‘ کہہ کہ اُن میں’’احساس شرمندگی پیدا کرتے ہیں، شرم وحیا پیدا کرتے ہیں تو بچے بھی ساری زندگی اپنے مسائل ان سے شئیر نہیں کرتے ہیں، نہ بے تکلف ہوتے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ مناسب وقت کون سا ہے کہ بچے کے ساتھ اُن موضوعات پر بات ہوسکتی ہے یا اُنہیں رہنمائی مہیا کی جاسکتی ہے۔ یہ بہت چھوٹے سے بچے سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو بھی بہت سی باتیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک بچے کو اپنے جسم کے افعال اور جنسی اعضاء کو سمجھنا چاہیے کیوں؟ اس لیے کہ اگر بچہ اپنے جسم کو جاننے کے متعلق شرم محسوس کرتا ہے یا پریشان ہوتا ہے تو باقی تمام زندگی شرم، اُس کی جنسی زندگی کے اردگرد گھومتی رہتی ہے۔ آپ بچے کو اس کے جسم کے مختلف اعضا کو سمجھنے میں کیسے مدد کرسکتے ہیں؟
بچے کو اس کے جسم کے متعلق اعضاء کے ٹھیک ٹھیک نام بتائیں اور ہر وقت درست نام استعمال کریں۔ اُس کے جنسی اعضاء کے لئے کبھی بھی مختصر یا پیٹ نیم نہ استعمال کریں کیونکہ ا‘س سے وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ جسم کوئی چھپانے والی چیز ہے۔درست نام اُس کو اپنے جسم کو بغیر شرم کے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم کے مختلف افعال کو آپ مثبت یا منفی انداز میں کہہ سکتے ہیں ، مثال کے طور پر جب آپ بچے کا ڈائپر تبدیل کریں تو یہ نہ کہیں ’’اوہ کتنا بدبودار ہے‘‘ اس کی بجائے کہہ سکتے ہیں’’اوہ آپ نے کتنی زیادہ پوٹی کی ہے‘‘۔ ہمیشہنرم الفاظ استعمال کریں۔ ممکن ہے شروع میں ایساکہنا آپ کو بیوقوفانہ لگیلیکن یہ صحت مندانہ زندگی کا حصہ ہے۔
دوسے تین سال کی عمر میں بچہ اپنے جسم اور اردگرد کے لوگوں کے متعلق سوال کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ کھیلتے ہوئے سکول میں لڑکوں اور لڑکیوں یا مرد اور عورت کی مختلف جسمانی ساخت کو محسوس کرنا شروع کردیتا ہے، اور مختلف ناموں سے پر یشان ہونے لگتا ہے اور سوال کرنے لگتا ہے یہ اُن والدین کے لئے پریشانی کا موجب ہوسکتا ہے جن کے اپنے والدین نے کبھی بھی ایسے مسائل پر اُن سے بات نہ کی ہو اور اگر جرأت کی ہو تو ڈانٹ پڑی ہو۔
۔(1 )۔آپ بچوں کو کیسے جنسی رہنمائی مہیا کرسکتے ہیں، یہ ممکن ہے بچہ اپنے جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کررہا ہواور چھیڑ چھاڑ سے، یا چھونے سے سکون محسوس کرتا ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے وہ بہت سے لوگوں کے درمیان ایسا کرنے جبکہ ایسا کرنا مناسب نہ سمجھا جاتا ہو۔ بچے کو اس طرح سمجھایا جاسکتا ہے کہ جب جنسی اعضاء عضو خاص کو چھونے کی خواہش پیدا ہو، تو یہ چھونا اُس وقت ہونا چاہئے جب دوسرے اردگرد نہ ہوں۔
۔(2)۔اس عمر میں بچوں کو یہ بھی بتانا مناسب ہوگا کہ وہ اپنے جنسی اعضاء کو کسی کو بھی چھونے نہ دیں؟ سوائے والدین کو جب وہ اُن کو صاف کررہے ہوں یا ڈاکٹر وغیرہ
۔(3)۔ایک دوسرے کے جسم کا احترام کریں۔
۔(4)۔دوسرے کی مرضی کے بغیر اُس کے جسم کو نہ چھوئیں اُن کو’’ گڈ ٹچ ‘‘اور’’ بیڈ ٹچ‘‘کے متعلق راہنمائی مہیا کی جاسکتی ہے، جیسے گڈ ٹچ وہ ہے جب وہ اچھا محسوس کریں، اُن کے مرضی سے کوئی اُن کو چھوئے اور وہ دوسرے کی مرضی سے اُس کو چھوئیں۔ اگر اُن کو کسی کا چھونا اچھا نہ لگے تو وہ آپ کو بتائیں یا ٹیچرز کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کو اس طرح بھی بچوں کو سمجھا سکتے ہیں کہ جیسے سلیمان اور فیضان کھیل رہے ہوں اور سلیمان فیضان کے جسم کے ساتھ زیادہ کھیل رہاہے، باربار اُس کوہگ کررہا ہو یا اُس کو دھکے دے رہا ہو تو آپ فیضان کو کہہ سکتے ہیں’’فیضان سلیمان کو آپ کا اس طرح چھونا پسند نہیں ہے‘‘ اور پھر سلیمان کوکہیں کہ جب کوئی آپ سے ایسا کہے تو آپ کو رُک جانا چاہئے اور ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
اس طرح بچے جب چوتھے یا پانچویں گریڈ میں پہنچتے ہیں تو وہ والدین سے بہت سے سوال کرتے ہیں بحث کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں والدین کو بچوں کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے، اور اگر اُن کو نہ معلوم ہو تو وہ اُن کو بتائیں، آپ معلوم کرکے بتائیں گے۔
۔(1)بچوں کو مرد اور عورت کی علیحدہ علیحدہ جسمانی ساخت کے متعلق چارٹ سے سمجھایا جاسکتا ہے۔
۔(2)اگر بچے پوچھتے ہیں، بچے کہاں سے آتے ہیں؟ آپ اُن کو بتاسکتے ہیں، عورت کے اندر بڑی خاص جگہ ہوتی ہے جہاں سے آتے ہیں اُس کو’یوٹرس‘کہتے ہیں۔
۔(3)بچے پوچھ سکتے ہیں، بچے وہاں کیسے جاتے ہیں؟
آپ اُن کو کہہ سکتے ہیں، جب مرد اور عورت ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ بڑے ہوکر شادی کرتے ہیں، مرد کے پاسپرم ہوتا ہے اور عورت کے پاس انڈہ مرد کاسپرم عورت کے انڈے سے ملتا ہے اُس کو زرخیز کرتا ہے، تو پھر آہستہ آہستہ بچہ بنتا ہے۔
۔(4)بچہ پوچھ سکتا ہے سپرم اور ایگ اکٹھے کیسے ہوتے ہیں؟ اس سوال کو آپ مرد اور عورت کے اناٹومی چارٹ سے سمجھا سکتے ہیں، یہ بتایا جاسکتا ہے کہسپرم کہاں بنتا ہے، اس طرح انڈہ یا ایگ کہاں بنتا ہے وغیرہ وغیرہ
۔(5) بچوں کو چارٹ کی مدد سے بتایا جاسکتا ہے سپرم عورت کے جسم میں کیسے جاتا ہے؟ گریڈ 6 اور 7 کے بچوں کو بھی اناٹامی کے اسباق کے ذریعے مرد اور عورت کی جنسیات کے متعلق پڑھایا جاسکتا ہے، بچوں سے ماہواری، جنسی خواب(ویٹ ڈریمز) جسمانی تبدیلیوں، آواز کا تبدیل ہونا، مختلف حصوں میں بالوں کا اُگنا،سینے کا ابھار، مونچھوں کا نکلنا، جنسی خیالات آنا، جنسی اعضاء میں تبدیلی، وغیرہ کوڈسکس کیا جاسکتا ہے۔ اُن کو بتایا جاسکتا ہے یہ تبدیلیاں عمر میں کس حصے میں شروع ہوتی ہیں۔ اوریہ صحت مندانہ اور نارمل ہوتی ہیں۔ بچوں کو بتایا جاسکتا ہے اگر اُن میں جنسی خیالات پیدا ہوں تو یہ کوئی بری بات نہیں اور اُن کو ڈانٹنا نہیں چاہئے، یہ اُن کی نشوونما اور عمر کا تقاضا ہے، اگر اُن کو اپنے جنسی اعضاء کو چھونا اور اُن سے لطف اندوز ہونا اچھا لگتا ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔

اسے بھی ملاحظہ کیجئے: جنسی تعلیم کی ضرورت و اہمیت

کچھ بڑی عمرکے بچوں کوجنسیات کے متعلق بھی پڑھایا جاسکتا ہے ، کہ انزال کیا ہوتا ہے، کیسے ہوتا ہے، تمام معلومات اُن کے سوالوں کو سامنے رکھ کے اور اُن کے خیالات معلوم کرکے مہیا کی جاتیں۔ مثلاً اگر پوچھا جاتا ہے کہ سیکس کیسے کیا جاتا ہے تو اُن سے پوچھا جائے کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ ہمیشہ بچوں سے سوال پوچھیں اور اُن کے خیالات جاننے کی کوشش کریں کہ اُن کی کیا معلومات ہیں۔
اس عمر میں والدین بچوں سے محبت، تعلقات جنسی تعلقات جیسے موضوعات پر بھی بات کرسکتے ہیں اور اُن کو مناسب راہنمائی مہیا کرسکتے ہیں، بچوں کو ہر قسم کے جنسی سوال پوچھنے کی اجازت دیں، حوصلہ افزائی کریں۔ بچوں کو انٹرنیٹ کے مفید اور غیر مفید ہونے کے متعلق راہنمائی مہیا کریں۔فیملی پلاننگ کو ٹی وی یا فلم وغیر ہ دیکھتے ہوئے ڈسکس کر سکتے ہیں۔
آپ بچوں سے سوال کرسکتے ہیں جیسے اگر لفظ پریگننٹ بولا جارہے تو وہ اس کا کیا مطلب جانتے ہیں؟ اور کیا اُن کے دوست کبھی اُس موضوع پر بات کرتے ہیں۔ اس طرح ٹی وی دیکھتے ہوئے جب کوئی محبت والا (بوس وکنار) یا کسی حدتک جنسی منظر آجائے تو فوراً چینل تبدیل کرنے کی بجائےُ بچوں سے بات چیت شروع کرسکتے ہیں، اُس وقت یا بعد میں، اُنہوں نے اُس منظرکے متعلق اچھا محسوس کیا یا برا۔ کیا ان موضوعات پر بچے سکول تحقیقات کرتے ہیں ۔ یہ پوچھ سکتے ہیں۔اس عمر میں بچوں کو صحت مندانہ جنسی خود داری کے متعلق بھی بتایا جاسکتا ہے۔
ممکن ہے وہ کلاس میں اچھے طالب علم ہوں، سپورٹ میں بڑے ایکٹیوہوں۔ آپ اُن کو یہ بھی بتاسکتے ہیں جنسی توانائی قدرت کی طرف سے ایک تحفہ اور خوبصورت چیز ہے حس سے مناسب عمر میں لطف اندوز ہونا چاہئے، چونکہ یہ ایک تحفہ ہے، اس لئے اس کا احترام کیا جانا چاہئے اس کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے اس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ بھی بتانا چاہئے کہ جنسی خیالات بہت اچھی چیز ہیں مگر عملی زندگی میں ان کا مناسب وقت پر عمل کیا جانا چاہئے۔ اگر ان خیالات کا غیر موزوں شخص سے اور نامناسب وقت پر کرنے سے دکھ اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بچوں کو موبائل فون پر جنسی پیغام بھیجنے، انٹرنیٹ کے ذریعے نیکڈ تصاویر وغیرہ بھیجنے کے متعلق بھی راہنمائی مہیا کی جاسکتی ہے۔ کہ اُن کی وجہ سے اگر کسی کو تکلیف ہوگی تو اس سہولت پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔بچوں کو صاف صاف بتائیں جب وہ کلاس9سے12 تک پہنچیں،سیکس کا مقصد صحت مندانہ انداز میں لذت دینا اور لذت حاصل کرناہے۔ بغیر کسی کو دکھ دیے اور پریشان کئے، ہمیشہ باہمی رضامندی سے، معاشرتی اور مذہبی روایات کا خیال رکھتے ہوئے۔ بچوں کو بتائیں سکیس صرف خود لذت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے ساتھی کو لذت دینا بھی ضروری ہے، اور اس کے لئے ایک دوسرے کی مرضی ضروری ہے۔

2 Comments

  1. I hope Mr Sajid was not given sex education when he was of ten. Can he tell us from where ho got the valuable information he shared with us. However, his concern over this issue should be taken seriously and such platforms are better places for discussion

1 Trackback / Pingback

  1. جنسی تعلیم کی ضرورت و اہمیت - aik Rozan ایک روزن

Comments are closed.