محمد بن قاسم اور راجہ داہر کا مثالی کردار، hero، کا معاملہ… چند مزید گزارشات 

Yasser Chattha
یاسر چٹھہ

محمد بن قاسم اور راجہ داہر کا مثالی کردار، hero، کا معاملہ… چند مزید گزارشات 

از، یاسر چٹھہ 

صفتین خان شُستہ اور گہرے انداز میں معاملات فہمی اور اس پر کلام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں (مئی 2020) میں راجہ داہر اور محمد بن قاسم کے مثالی کردار کے متعلق اپنی رائے فیس بک پر تحریر کی۔ اس کو ذرا دیکھیے:

“محمد بن قاسم اور راجہ داہر کی بحث نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ تاریخ کا فہم انسان کے فکری شاکلہ ( ڈومین) کے مطابق ہوتا ہے۔ واقعات ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن اس کی تشریح ہر شخص اپنے زاویۂِ نظر کے مطابق کرتا ہے۔

“حقیقت تک پہنچنے کے لیے اس فکری زنجیر سے بلند ہو کر اس وقت کے سیاسی، سماجی اور سیاسی حالات و معروف (عرف) کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے ورنہ ناقص تاویل کے مرتکب ہوں گے۔

“یہ بھی سامنے آیا کہ مذہبی عصبیت فیصلہ کن کردار ادا کرتی یے تاریخی نتائج تک پہنچنے میں۔ چُوں کہ بنو امیہ اہلِ تشیُّع کے نزدیک مغضوب ہیں، لہٰذا اب تمام اقدامات اسی مخالفت میں سمجھیں جائیں گے۔ اگر راجہ داہر ہندو ہے تو ملکی دفاع جیسا بنیادی حق بھی ان کو حاصل نہیں۔ سادات کا دفاع مظلوم کی فریاد سے زیادہ اہم ہے، جو کسی غیر مسلم کو اسلامی حکم ران کے مقابل مقامی ہیرو بنا دیتا ہے۔ سیکولر کو عین مذہبی ردِّ عمل دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔

“توسیع پسندانہ مہمات اس دور میں سالمیت، دفاع اور خوش حالی برقرار رکھنے کا نا گزیر ذریعہ تھیں۔ موجودہ بین الاقوامی سیاسی حالات و قوانین پر قیاس کرتے ہوئے فیصلہ منطبق کرنا کم علمی ہے۔ محمد بن قاسم کی مہم جوئی کا جو بھی پسِ منظر ہو انھوں نے طبقاتی تفریق کے شکار ہندوستانی سماج کو انسانیت، اسلام اور وحدت عطا کی۔ یوں وہ ہیرو کہلائے جانے کے حق دار ہیں۔

“اسی طرح راجہ داہر کا جو بھی مذہب و کردار ہو انھوں نے اپنی خوش حال سر زمین، عوام اور روا داری پر مبنی روایات کی حفاظت کے لیے بہادری سے جان دی۔ یوں وہ مقامی تاریخ میں قابلِ ذکر شخصیت بن کر ابھرتے ہیں۔ دونوں ہیرو ہیں، بس دیکھنے والی غیر متعصب نظر در کار ہے۔”


مزید ملاحظہ کیجیے:

ہمارے شناختی کارڈ میں ولدیت کا خانہ نہیں ہے  از، سدرہ سَحَر عمران


اس معاملے اور ان کی اس رائے پر غزلِ مَن:

سادات سیکولرازم کے لیے اس سیاق میں وہی مقام رکھتے ہیں جو پاکستانی کی سیاسی تاریخ میں اس وقت احمدی رکھتے ہیں، جو آسٹریلیا اور امریکہ میں aborigines رکھتے ہیں، جیسے چائنہ میں سنکیانگ کے مسلمان: مغضوب و معتوب، زندگی کے امکانات میں بیلنے کے نیچے چیختے، روتے، کُرلاتے۔ بے یار و مدد گار

دوسری بات جب کسی کے ملک پر سمندر پار سے حملہ ہوا ہے تو اس کا حقِّ دفاع اُسے کسی حد تک انسانی ہم احساسی کا leverage دیتا ہے۔ یہ موجودہ علمیات کی دَین بھی ہے اور کسی قسم کی آفاقی حسیّت، sensibility بھی…۔

 علاوہ ازیں، بے شک راجہ داہر بھی اشرافیہ سے متعلق ہی تھے، اور تاریخ اشرافیہ نواز تھی اور رہی ہے، لیکن پھر بھی راجہ داہر زیادہ قریب کے ہی تو تھے۔ قربت اہم ناتہ اور حوالہ، بَہ ہر حال، ہوتا ہے، اور رہا ہے۔

میرا یہ نقطۂِ نظر تاریخ میں خود کو بہت پیچھے لے جا کر مقامی جغرافیائی ہندو کے طور پر دیکھنا ہے؛ میرا احمدیوں سے احساسِ ہم دردی میرے اِس وقت کے لمحے کے انسان دوست نام نہاد مصدقہ سُنی مسلمان کے طور پر دیکھنا ہے۔ مفروضیاتی منظر میں جاؤں تو احمدیوں کو بھی اگر کھلا موقع ملے تو وہ بھی دیگر مکاتبِ فکر افراد کے ایمان و عقائد پر purification plant ضرور لگاتے… یہ اکثر closed circle نظریات و عقائد کے ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ تضاد ہو جائے گا پر یہ تقریباً تمام نظریات کا ہی اندرونی تضاد ہوتا ہے۔

دیگر مثالیں: مجھے ہندوستان کے مسلمان سے ہم دردی ہے کہ اس سے ہندوتوا کی اکثریت ہمارے یہاں کے designated احمدی سا سلوک کرنے کے پَر تول رہی ہے؛ مجھے چھتیس گڑھ کے حریت پسندوں سے دل کی راہ ہے؛ مجھے عرب میں یمن سے ہم دردی ہے، فلسطینی سے ہم دردی ہے؛ پاکستان میں بلوچی سے ہے. گلگت بلتستان والوں سے ہے؛ مجھے جرمنی کے تاریخ کے معتوب یہودی سے دل اور آنکھ کے آنسو کی راہ ہے۔

ہمارے selves کا، ہماری خودی کا، ہمارے نفسیاتی-تاریخی تشخص و فردیت کا تجزیہ ہو سکتا ہے، اور وہ ہمیں نقطۂِ نظر دے سکتا ہے۔

ہم انسان شعور کا بہتا دریا ہیں، جس میں کئی statuses اور مختلف عصروں کے حوالے اور تشخص محفوظ و موجود بھی ہیں اور پسِ پشت بھی ہیں؛ ہمارا کسی وقتی تقسیم و تجزیے کا لمحہ ہمیں کوئی بھی positioning دے سکتا ہے۔

About یاسرچٹھہ 222 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔