ریت پر گرفت، عہدِ نو اور قائداعظم یونیورسٹی کا نوحہ

ایک روزن لکھاری
راجہ قیصر احمد ، صاحب مضمون

ریت پر گرفت، عہدِ نو اور قائداعظم یونیورسٹی کا نوحہ

راجہ قیصر احمد

وقت ایک پنجرہ ہے جس کی دیوار پر لٹکے کلینڈر پر روز تاریخ بدلتی ہے اور ایک دن مرجھا کر نیچے جا گرتا ہے اور تاریخ کے کوڑے دان میں گرا یہ دن نئے دن کے  لیے جگہ خالی کردیتا ہے ۔ میں نے یہ سحر انگیز الفاظ رشید امجد کے کسی افسانے میں پڑھے تھے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اِس سیاسی انتشار جو کہ درحقیقت ثقافتی انتشار ہے اور جس کی جڑیں ہماری تاریخ میں پیوست ہیں کے اوپر کتنا لکھا جائے۔اپنی ایک پرانی تحریر میں لکھا تھا اور آج بھی بر محل محسوس ہوتی ہے کہ ہم ایک انتہائی سطحی ذہنیت کی حامل قوم ہیں جس کا تمدنی شعور اشتعال انگیزی کی جانب مائل ہے۔ ہم تاریخی شعور سے عاری اور وقت کے مزاج سے نا آشنا ہجوم ہیں۔ کتابیں نہ پڑھنے والا ہجوم۔ باخدا اس معاشرے کے سیاسی اور اجتماعی شعور نے اسی دن خودکشی کرلی تھی جب جوگندر ناتھ منڈل، بڑے غلام علی خان اور قرۃ العین حیدر واپس بھارت لوٹ گئے تھے، جس دن فاطمہ جناح کو انتخابات میں ایوب خان کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا اور جس دن حبیب جالب پر ڈنڈے برسائے گئے تھے۔ جانے درد کی کس رو میں بہہ کر ناصر کاظمی نے لکھا تھا

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں

جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں نے گزشتہ دنوں قائدِ اعظم یونیورسٹی کی نصف صدی کی تابناک مسافرت پہ ایک تحریر لکھی تھی اور ابھی اس کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ یونیورسٹی  میں طلباء کی طرف سے کی گئی ہڑتال نے تدریسی اور انتظامی معاملات کومکمل طور پر معطل کر دیا۔ آخری اطلاعات تک ہڑتال پندرہویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔ میں حالیہ دنوں میں مقالہ جاتی تحقیق کے سلسلے میں انگلینڈ میں مقیم ہوں۔ میری تمام تر معلومات کا ماخذ فیکلٹی ای میل، سوشل میڈیا، احباب سے موصولہ اطلاعات اور میڈیا رپورٹس ہیں لہذا تجزیے میں معروضی حقائق کے ضمن میں غلطی کا بہر حال احتمال ہے۔ اس بابت کسی بھی غلطی کی پیشگی معذرت۔ یہ گزشتہ ایک  ڈیڑھ سال کے اندر ہونے والی چوتھی بڑی ہڑتال ہے۔ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا منصفانہ اور غیر جانبدرانہ تجزیہ کیا جائے۔ کسی ایک فریق کو مورود الزام ٹھہرا کر اور ذمہ داران کا تعین کر کے بات تو لپیٹی جا سکتی ہے مگر جامع اور متوازن مکالمے کی عدم موجودگی اس طرح کے بحران کی مراجعت کا موجب ہو گی۔ صورتحا ل کا موزوں احاطہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اس کو ریاست اور معاشرے کے باہمی تقابل، ایک بڑے پیرائے اور تاریخی تسلسل میں سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ یہ ایک سرسری سی ہی کاوش ہو گی۔ احمد فراز یاد آئے

اس عہدِ ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے

مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا

مشہور اطالوی مفکر دانتے الغیری نے کہا تھا کہ ان لوگوں کو جہنم کے تاریک ترین مقامات کی نظر کر دینا چاہیے جو سنگین اخلاقی بحران میں بھی غیر جانبدار رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آمنہ مفتی نے لکھا تھا ایک قلم کار پہ اُن لوگوں کا حق ہوتا ہے جو اپنے لئیے نہیں بول سکتے۔  سچ بولئیے اور سچ لکھئیے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کی حالیہ شورش کے پسِ منظر میں کچھ معروضات پیشِ نظر ہیں جو خالصتا میری ذاتی اور فکری رائے پر مبنی ہیں۔ کسی کی دل آزاری اور طرفداری ہر گز مقصود نہیں:

1)  ہمارے ملک کی سیاسی ثقافت نے جو عمرانی معاہدہ ترتیب دیا ہے اُس میں استحصال، غیر منصفانہ اختیارات کی تقویض اور طاقت کا غلط استعمال نمایاں ہیں۔  ہماری نئی نسل اسی سوچ کے زیر اثر پروان چڑھی ہےاور اس سے شاکی بھی ہے۔ مشیل فوکو نے کہا تھا جہاں طاقت ہوگی وہاں مزاحمت ہو گی۔ ہمارے طلباء عمر کے اُس حصے میں یونیورسٹی آتے ہیں جب مارکسی اخلاقیات اور مزاحمتی سوچ و فکر ذہن اور دل دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ یوں بھی بہت سے فلسفیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر آپ پچیس سال سے قبل انقلابی سوچ کے حامل نہیں تو آپ دل سے عاری ہیں اور اگر آپ پچیس سال بعد بھی انقلابی ہیں تو آپ دماغ سے پیدل ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اپنے دامن میں مزاحمت کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ ضیاءالحق کے مارشل لا کی مخالفت ہو، جامعہ کی زمین پر ہاوٗسنگ سوسائٹی کا قیام ہو یا ججز بحالی تحریک اس یونیورسٹی کے طلباء اور فیکلٹی نے مزاحمت کے باب میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ جامعہ کا ثقافتی تنوع اور ترقی پسندانہ سوچ ایک روشن حقیقت ہے جس سے انکار محض زمینی حقائق سے رو گردانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ طلباء کے تحریکی اور احتجاجی مزاج کی تاریخ میں نے نہ صرف سنی ہے بلکہ گزشتہ ایک عشرے میں پھلتے پھولتے دیکھی بھی ہے۔

2)  اس دلیل کے بطن سے دو اہم سوال جنم لیتے ہیں کہ کیا احتجاجی تاریخ اور ثقافتی تنوع کو جواز بنا کرجامعہ کے امن و امان اور  کوطلباء کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور نظم و ضبط کے حوالے سے بنی قانونی مسطور اور صریحی اٖختیاری کمیٹیز کو معطل کر دیا جائے اور یونیورسٹی انتظامیہ محض ایک تماشائی کے کردار تک محدود ہو جائے؟ اور دوسرا یہ کہ اس نوعیت کے مسائل وفاق اور صوبوں کی دوسری جامعات میں کیوں نہیں پنپتے۔ کیا نسٹ اور لمز کو طلباء کی طاقت کے زور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ جواب صریحا نہیں ہو گا۔ کچھ دوست اور احباب کا خیال ہے کہ اس معاملے کو غیر ضروری طول دیا گیا ہے وگرنہ یہ ایک معمولی سے پولیس ایکشن کی مار ہے اور طاقت کا یہ استعمال نہ صرف مسائل پیدا کرنے والے طلباء سے خلاصی کا سبب ہو گا بلکہ یونیورسٹی کی رٹ کو بھی بحال کر دے گا۔ میرے وہ احباب جو یونیورسٹی کی رہائش گاہ میں قیام پزیر ہیں اور اس ہڑتال سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں اُن کا بھی بالعموم یہی خیال ہے۔ میں اپنے ان احباب کے دکھ اور تکلیف میں مکمل شریک ہوں۔

اب آتے ہیں بنیادی سوالوں کی طرف۔  پہلے سوال کے جواب کے  لیے ہمیں اُن تمام عوامل کا احاطہ کرنا ہوگا جو جامعہ کی رٹ کو کمزور کرنے کا باعث بنے۔ اس ضمن میں خود احتسابی بھی ضروری ہے۔ ہمیں ماننا ہو گا کہ ہماری انتظامی کمزوریوں اور جامعہ کے متعین کردہ قوانین سے ارادی یا غیر ارادی انحراف اس کے آئینی اور قانونی تقدس کو مجروح کرنے کا باعث بنا ہے۔ آپ قوانین کے دوہرے اور تہرے معیار نہیں متعین کر سکتے۔ قانون کے اطلاق کی بنیادی اکائی ہی  مساوی برابری ہے نہ کہ تناظر۔ انتظامیہ کو اس بابت میں ایک جیسے معیار قائم کرنے ہوں گے ورنہ طلباء امتیازی سلوک کی منطق پہ بار بار احتجاج کی جانب مائل ہوں گے جیسا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے بار بار ہو رہا ہے۔انتظامی مسائل کا حل انتظامی ہی ہوتا ہے۔ دوسرے سوال کا جواب پہلی معروض میں ہی درج ہے کہ ہر ادراے کا اپنا ایک مزاج اور تاریخی تسلسل ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے لے کر کراچی یونیوسٹی تک اور پشاور یونیورسٹی سے لے کر اسلامک یونیورسٹی تک طلباء کی سیاسی فعالیت کی وجوہات مختلف ہیں۔ کہیں مذہب تو کہیں قومیت۔ قائد اعظم یونیورسٹی کا مزاج بالعموم چند واقعات کو چھوڑ کر متشددیت پہ مبنی نہیں ہے۔

3)  ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی پالیسیوں اور حکومتی سطح پر تعلیم ایک بنیادی ترجیح نہ ہونے نے جامعات کے مسائل کو گونا گوں بڑھا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ایچ ای سی کے فنڈز کم کر دئیے گئے اور یوں جامعات کی مالی معاونت بھی کم ہوگئی۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئیے قلیل مدتی حکمت عملی اختیار کی گئی جس میں نئے داخلوں کی تعداد کو بڑھا دیا گیا۔ میرے طالب علمی کے زمانے میں جس یونیورسٹی کی تعداد چار سے پانچ ہزار تھی وہ اب تیرہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ یونیورسٹی کا بنیادی ڈھانچہ جوں کا توں ہے۔ تین سے چار ہزار طلباء ہاسٹل میں مقیم ہیں جن کا مسئلہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ فیسوں کے اضافے نے طلباء کے مسائل کواور کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ یہ مسائل زمینی حقائق ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ یہ عوامل طلباء کو احتجاج کو مسلسل جواز فراہم کرتے ہیں۔

4)  بحثیت اساتذہ کرام ہم ایک ضمن سے چشم پوشی کر رہے ہیں اوروہ یہ ہے کہ جس نسل سےاب ہمارا واسطہ پڑا ہے یہ ابلاغ عامہ اور سماجی مواصلات سے آہنگ نسلِ نو ہے۔ ہماری تدریس اور طلباء سے راہ و رسم ابھی تک روایتی فکر و سوچ سے باہر نہیں نکل سکی۔ ہمیں نظامِ تدریس کو جدید تیکنیکی تقاضوں کے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ آج کا طالب علم کلاس میں بیٹھے بیٹھے استاد کی علم اور معلومات کی نہ صرف پڑتال کر سکتا ہے بلکہ اس پر سوال بھی اٹھا سکتا ہے۔ ہمیں نظامِ تعلیم، اس کے تقاضوں اور اس کی مقصدیت کو ازثرِ نو پرکھنا ہو گا ورنہ یہ اپنی ساکھ کھو دے گا۔ ہم سب کو “Paulo Freire” کی کتاب Pedagogy of the Oppressed” ” پڑھنے کی ضرورت ہے کہ کیا کہیں ہم صرف سامراجی نظام کے گماشتے ہی تو نہیں تیار کر رہے اور تعلیم کے بینکاری طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہو گا کہ ہمارے تعلیمی، تدریسی اور تحقیقی طریق کار متروک ہو چکے ہیں اور اُن کی فعالیت کے سامنے ایک بڑا سا سوالیہ نشان ہے۔

5)  ہمیں اس ضمن میں بھی غور کرنا ہو گا کہ کہیں ہم بیماری کا علاج کرنے کے بجائے بیمار ہی مار دینے کی منطق پر تو عمل پیرا نہیں۔ ہمارے ایک نہائیت ہی عزیز دوست جو ایک اور یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں نے ایک واقعہ سنایا کہ اُن کی یونیورسٹی میں ایک جوڑا ایک بڑے چھاوٗں والے درخت کے نیچے غیر اخلاقی حرکتوں کا مرتکب پایا گیا۔ ادارے کی انتظامیہ نے ہنگامی میٹنگ بلائی اور تحقیقات کا آغاز کردیا۔ کئی دن کے پُر مغز تجزیے کے بعد انتطامیہ نے مستقبل میں ایسی صورت حال کے سدِباب کے طور پر ایک اہم قدم اٹھایا اور یوں بڑا درخت کاٹ دیا گیا۔ کیا ہماری معاملہ فہمی اور مسئلے کی تشخیص کہیں اسی کج فہمی کے تابع تو نہیں؟

اداری جاتی نظم و ضبط بے حد ضروری ہے اور اس کو قائم ہونا چاہیے۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ آج کے کاروبارانہ نظامِ تعلیم کے غلبے میں کیا ہم طلباء کو تخلیقی طور پر مصروف کیا ہے اگر نہیں تو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ جہاں تحقیق کا راستہ بند ہو جائے وہاں سے تخریب کا راستہ شروع ہوتا ہے۔ جہاں آزادانہ مکالمہ بند ہو جائے وہاں منافقت عام اور کھلی ہو جاتی ہے جہاں متشددیت غلبہ پا لے وہاں عقلیت موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے اور جہاں عقلیں مر جائیں وہاں نسلیں مر جاتی ہیں، جہاں دلیل دفن ہو اس کے پہلو میں قبیل کی قبر بنتی ہے، جہاں تخلیق فنا ہو جائے وہاں بقا کا باب بند ہو جاتا ہے۔ آئیے اس حقیقت پہ سوچیں اور چپکے چپکے افتخار عارف کو پڑھیں۔

مصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں

اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے

فغان خلق اہل طائفہ کی نذر ہو گئی

متاع صبر وحشت دعا کی نذر ہو گئی

امید اجر بے یقینیٔ جزا کی نذر ہو گئی

نہ اعتبار حرف ہے نہ آبروئے خون ہے

سکون ہی سکون ہے

مصاحبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں

اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے

خلیج اقتدار سرکشوں سے پاٹ دی گئی

جو ہاتھ آئی دولت غنیم بانٹ دی گئی

طناب خیمۂ لسان و لفظ کاٹ دی گئی

فضا وہ ہے کہ آرزوئے خیر تک جنون ہے

سکون ہی سکون ہے

مصاجبین شاہ مطمئن ہوئے کہ سرفراز سر بریدہ بازوؤں سمیت شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں

اور ہر طرف سکون ہے سکون ہی سکون ہے

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About راجہ قیصر احمد 4 Articles

راجہ قیصر احمد قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور سیاست، تاریخ، ادب، مذہب اور ثقافت ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*