بینک انڈسٹری، رُوئی کا پھاہا اور نقطۂِ اذیت (طنز و مزاح)

Naeem Baig

بینک انڈسٹری، رُوئی کا پھاہا اور نقطۂِ اذیت (طنز و مزاح)

از، نعیم بیگ

نادر شاہ نے تو اپنی ولدیت، شمشیر، ابنِ شمشیر، ابنِ شمشیر بتا کر بد خواہوں اور مؤرخوں کا مُنھ بند کر دیا تھا۔ لیکن یہ عوام فقیر، ابنِ فقیر، ابن آدم  وہاں اپنا شجرہ کیا بتائے؟ جہاں نادر شاہ کے مُنھ سے ایسی لپٹ آ رہی ہو جیسے رُوئی کے پھوئے سے آتی ہے جو انجکشن سے پہلے نقطۂِ اذیت پر رگڑا جاتا ہے۔ ماحول ساز گار ہو تو پنکھے چلا کر فضا کو مصفّا کر دیا جاتا ہے۔

بینک کاری کے اسرار و رموز تو کجا، ہم نے کسی مسلمان بینکر کا نام تک نہ سنا تھا۔ بزرگوں سے صدیوں پہلے کفایت شعاری کو ہندوانہ رسم سمجھ کر ترک کر دیا تھا۔ ‘سو پشت سے جن قوموں اور قبیلوں کا پیشۂِ آباء سِپَہ گَری (یعنی پہلے دشمن بنانا، اور پھر انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر موت کے گھاٹ اتارنا، یا وہ اس پر رضا مند نہ ہوں تو خود اتر جانا) رہا ہو،’  وہ تجارت کو پتلی دال کھانے والے بقّالوں کا حق سمجھ کر اس سے اجتناب کریں تو تعجُّب نہ ہونا چاہیے۔

 ‘مَہا بَلی اکبر نے بھی آخرِ کار محکمۂِ مال کا چارج راجہ ٹوڈر مل کو تفویض کر دیا تھا اور فیضی کو بھگوت گِیتا اور مہا بھارت کے فارسی ترجمے میں جوت دیا تھا۔’

‘یہ ایک رِیت پڑ گئی تھی کہ مسلمان رؤسا اور جاگیر داروں کی آمدنی کا حساب تو ہندو منیم رکھتے اور خرچ کا حساب خود عدالت کو قُرقی کے وقت بتانا پڑتا۔ ایک انگریز رابرٹ کلائیو کے ہم عصرکا قول ہے۔ ”روپیہ بچا کر رکھنے کے معاملے میں مسلمان چھلنی کی طرح ہوتا ہے اور ہندو اسفنج کی مانند۔’“

‘ایسے میں جب مملکتِ خدا داد معرضِ وجود میں آئی تو اس کی مسلمان رعایا نے  تجارت کو شانِ قلندری کے خلاف سمجھا۔ اس لیے کہ اندیشہ تھا کہ ذرا سی غفلت یا بے پروائی سے کہیں منافع نہ ہو جائے۔’ دوسری بات کہ کھاتوں کا حساب رکھنا شانِ مسلمانی کے منافی  تھا۔ لیکن وقت تھا کہ بدلتا گیا، اور پھر وہ وقت آ گیا کہ ’دِلّی کے چنیوٹی تاجروں کی سوجھ بوجھ کے سامنے مارواڑی بھی کان پکڑنے لگے۔ مشہور ہے کہ چنیوٹی، یا میمن پاگل ہو جائے، تب بھی دوسرے کی پگڑی اتار کر اپنے گھر ہی میں پھینکتا ہے۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ لوگ۔‘

تعجُّب کی بات تو یہ ہے کہ ’اردو کی داستانوں میں سودا گروں کا ذکر اگر کہیں آتا ہے تو وہ محض قزاقوں سے لٹنے کے لیے۔‘  اور وہ بھی اس لیے تاریخ کی ڈسٹورشن میں پڑھنے والوں کی اخلاقی ہم دردی ہمیشہ لُوٹنے والوں کے ساتھ رہتی ہے۔ ’اردو غزل میں ہمیں یاد نہیں کہ کسی شاعر نے سودا گر کو کلمۂِ خیر کے ساتھ یاد کیا ہو۔‘

اگر صلیبی جنگیں بند کرنے میں فریقین اور مولانا عبدالحلیم شرر اتنی عجلت سے کام نہ لیتے، تو آج آدھے پاکستانیوں کی قبریں قسطنطنیہ، رومانیہ، ہسپانیہ یا کسی اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتیں۔ ہم نے خود کو ہر رُوپ، ہر سوانگ میں دیکھا سوائے بینکر کے۔ یہ وہ چوتھی کھونٹ تھی، جس طرف جانے کی داستانوں میں سخت مناہی ہوتی تھی۔ لیکن جانے والا جاتا ہے اور اب خوب رُسوا ہوتا ہے۔

لیکن صاحب! پھر کیا وقت آیا کہ کیا مرد و عورت، خود حافظ و  متشرع، تہجّد گذار، ملازم و تاجر اور سادہ و نیک طِینت مسلمان طاقچے سے صندوقڑی نکال کر بینکوں پر ایسے فدا ہوئے کہ جے پور کے میوزیم میں پڑی صدیوں پرانی مورتیوں اور بتوں کی طرح لوگوں کا مال و زر بینکوں میں چلا آیا۔

اعتماد کی فضا جو انگریوں نے قانون بنا کر اور بَنییوں نے سُود در سود کی لَت لگا کر مال و زر کا کشٹ اپنے سر لے لیا تو مسلمانوں کو کچھ ہوش آیا اور وہ دیگر عقلی اور سائنسی علوم کی طرف بھی رفتہ رفتہ متوجُّہ ہونے لگے۔

مجھے یوسفی صاحب کی تَتَبُّع میں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ایچ آر کے ہیڈ کو میرے انٹرویو میں پوچھنے پر میری پھولی ہوئی جیبوں میں جب مختلف اشیاء کی تفصیل معلوم ہوئی، تو اُس نے مجھے کھڑے کھڑے وہیں مجھے خوش گوار حیرت میں مبتلا کر دیا کہ آج سے تم اپنے آپ کو بینک کا  آفیسر سمجھو۔

اسے سمجھ آ چکی تھی کہ حفاظت کے جس نظام کو میں سینے سے لگائے پیدل چل رہا ہوں وہ بینکنگ کی رُوح ہے۔

’اُس نے ہمیں تقرّری پر مبارک باد دی؛ ہم نے بھی جی کھول کر اس کے حسنِ انتخاب کی داد دی۔ ابھی ہم نے انگریزی کا دوسرا جملہ اپنی خراد پر چڑھایا ہی تھا کہ اس نے پوچھ لیا۔ ”اسکاٹ لینڈ کی کس چیز کی سارے دنیا میں دھوم ہے؟“  صرف ایک جواب کی اجازت ہے۔

”بیگ پائپ میوزک، وسکی یا کنجوسی“۔‘ ہم نے بَہ خُدا کسی بخالت سے اجتناب برتتے ہوئے فوراً، ’کنجوسی‘ کو منتخب کیا، تو وہ بے حد خوش ہوا اور اسی وقت خلعتِ فاخرہ عطا کر دی۔

لیکن حیرت سے کہیں زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ وقت کہاں سے کہاں پہنچ گیا، اگر نہیں بدلے تو دنیا میں صرف ہم نہیں بدلے۔ ہمارے نوکری پیشہ سرکاری کارندے جو جلد ہی کنٹریکٹ مکمل ہونے پر چلے جائیں گے، اپنے شاہی خزانوں کے خالی ہونے کے خدشے پر اب اپنی عِلّتوں کو کہاں چھپائیں۔

آج اُن قذاقوں کی طرح سودا گروں کے سفر کرتے قافلے لوٹنے سے تو رہے، لیکن ہم بین الاقوامی اِنٹِگریٹِڈ بینکوں (کار و باری قافلے، جو ملکوں کے درمیان لین دین کو سنبھالتے ہیں) میں بلا قانونی جواز گھسے چلے جا رہے ہیں۔ آج بھی مسلمانوں اور ان کے حکم رانوں کو اس مملکت میں یہ باتیں زیادہ خوش کُن نہیں لگتیں کہ قانون کی بالا دستی ہو۔

وہ ٹیکس کے معاملات ہوں یا خزانہ خالی ہونے کی نوید ہو، انھیں صرف اپنے درباریوں کو خلعتِ فاخرہ دینے اور سیکورٹی کے لیے مال و زَر کی تلاش ہے اور اور بینکوں کے اندر گُھسے جا رہے ہیں، کیوں کہ وہاں انھیں رعایا کی برس ہا برس کی بچتوں کے مل جانے کی امید ہے۔

آج میڈیا میں یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستانی بینکوں نے ایف بی آر کو لکھ کر دے دیا ہے کہ وہ اپنے کھاتہ داروں کی نجی تفصیل نہیں بتا سکتے۔

 بینکنگ اس ملک کی واحد ایسی ایک آزاد اور قانون پسند انڈسٹری ہے، جو خود اپنے قدموں پر کھڑی ہے۔ کروڑوں لوگوں کی امانتوں کی امین ہے اور لاکھوں خاندانوں کو رزق مہیا کر رہی ہے۔ مملکت کو اربوں روپے کی ٹیکس دے رہی ہے۔ پوری دنیا میں اپنے وجود کے احساس کو بلند تر درجے پر رکھتی ہے۔ راقم دیرینہ کوالیفائڈ بینکر ہونے پر فخر محسوس کرتے ہوئے یہ عرض کرتا ہے کہ بینک اس ملک کی مالی عزت و شان کو  برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دوسرے اداروں کی طرح کسی طرح ملک کے لیے نقصان دِہ ثابت نہ ہوئے ہیں۔

تمام بینک بَہ شمُول سٹیٹ بینک آف پاکستان لوگوں کی اِن امانتوں کے امین ہیں۔ مجھے  یقین ہے کہ بینک کسی صورت ملکی اور عالمی قوانین کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔

نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں جنابِ محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب کی کتاب زر گزشت  سے لیے گئے چند جملے راقم نے محض مزاح اور تَفنُّنِ طبعِ قارئین، اور چند جملے تحریف کرتے ہوئے بَہ طورِ تحریم شامل کیے ہیں۔ اپنے استادِ محترم اور سینئر بینک کار، اردو ادب کی بلندیوں پر فائز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی سے بے حد معذرت کے ساتھ ۔ واوین میں جملے محترم یوسفی صاحب کے ہیں۔

About نعیم بیگ 120 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔