سلطانئِ عمران کا آتا ہے زمانہ

سلطانئِ عمران کا آتا ہے زمانہ
خانِ اعظم پاکستان جناب عمران خان کی ایک یادگار تصویر

سلطانئِ عمران کا آتا ہے زمانہ

از، سید کاشف رضا

زیرِ نظر مضمون میں میں ان فیوض و برکات کا ذکر کروں گا جن سے پاکستان عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی مستفید ہونا شروع ہو جائے گا لیکن اس سے پہلے میں ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہوں گا۔

عمران خان کے مخالفین کہتے ہیں کہ عمران خان جیتے گا کہاں سے؟ سندھ اور بلوچستان سے وہ پہلے ہی فارغ ہے اور آیندہ بھی فارغ رہے گا۔ خیبر پختونخوا والے ایک بار جسے ووٹ دے دیتے ہیں اسے اگلی بار ووٹ نہیں دیتے۔ رہا پنجاب تو وہاں اس نے پہلے چھ نشستیں جیتی تھیں ابٖ پچاس ساٹھ بھی لے گیا تو کیا ہو گا؟ حکومت بنانے کے لیے جن ایک سو بہتر نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ کہاں سے آئیں گی؟ ان احمقوں کے لیے عرض ہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اگر نواز شریف نا اہل ہو سکتا ہے تو باقی بہت سے بھی ہو سکتے ہیں۔ اور نہ بھی ہوئے تو ایک طاقت ایسی ہے جو مسبب الاسباب ہے۔ طاقت کے لفظ سے کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ یہاں بھی میری مراد اللہ میاں سے ہے۔

اس غلط فہمی کے ازالے کے بعد اب ذکر ان فیوض و برکات کا جو عمران خان کی ذاتِ بابرکات کے طفیل پاکستان کو ملیں گے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں۔ ہماری فوج اسلامی دنیا کی سب سے بڑی اور پیشہ ور فوج ہے۔ یہ ہمارا ہی سپہ سالار تھا جسے دنیا کی پہلی اسلامی فوج کی کمان سونپی گئی۔ ہمارا وزیراعظم وہ ہونا چاہیے جو اس فوج کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرے۔ ملک کے خارجہ اور داخلہ امور نہایت حساس معاملہ ہیں۔ عمران خان یہ معاملات فوج کے سپرد کریں گے۔باقی ماندہ امور میں وہ بہترین حکم رانی کی مثال قائم کریں گے۔

ملک بھر میں درختوں کا جال بچھایا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں ایک سال میں ایک ارب درخت لگائے جا سکتے ہیں تو پورے ملک میں ہر سال دس ارب درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ پانچ برسوں میں ان درختوں کی تعداد پچاس ارب ہو سکتی ہے جب کہ دس پندرہ برسوں میں پاکستان میں درختوں کی تعداد ایمیزون سے زیادہ ہو جائے گی۔ خیبر پختونخوا میں ساڑھے تین سو ڈیم تعمیر کیے گئے۔ درختوں سے جو جگہ بچ جائے گی وہاں چار پانچ ہزار ڈیم تعمیر کیے جائیں گے، جب کہ صحراؤں کو نواز شریف کی بنائی ہوئی موٹر ویز پر شفٹ کیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے تمام کرپٹ سیاست دانوں کو جیلوں میں بند کیا جائے گا۔ ان کے خلاف ثبوت ہمارے صحافی فراہم کریں گے اور سزائیں ہماری آزاد عدلیہ دے گی۔ انصاف فوری ہو گا مقدمہ کھلتے ہی مجرموں کو جیلوں میں بند کر دیا جائے گا۔ تاہم تفصیلی فیصلہ بعد میں بھی جاری ہو سکے گا کیونکہ سزا کی وجوہات کا تعین ایک اہم کام ہے جس کے لیے ہر ممکن احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اسے بعد میں تاریخ کا حصہ بھی بننا ہوتا ہے۔ تفصیلی فیصلے کے اجراء میں تاخیر انصاف کا تقاضا ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو فوری طور پر برخواست کیا جائے گا کیونکہ ظاہر ہے وہ دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہیں۔ اس کے بعد وہاں انتخابات تبھی ہوں گے جب ان انتخابات کے شفاف ہونے کا یقین ہو جائے۔ شفاف انتخابات کے بعد وہاں صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی کا غلغلہ بلند ہو گا اور ہم مقبوضہ کشمیر میں ایسے ہی شفاف استصواب کا مطالبہ کر سکیں گے۔


سید کاشف رضا کی ایک روزن پر شائع شدہ دیگر تحریروں کے برقی صفحہ کا لنک


ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا مسئلہ ہو یا فاٹا کے مستقبل کا، عمران خان تمام سیاسی جماعتوں سے افہام و تفہیم کے لیے اپنی وہ مسکراہٹ پیش کریں گے جو اس سے پہلے جمائما، ریحام اور ایک ناقابل ذکر خاتون کو متاثر کر چکی۔ اس مسکراہٹ کے نتیجے میں افہام و تفہیم ہو گئی تو ٹھیک ورنہ آپ جانتے ہی ہیں کہ ملک کے عوام کی اکثریت نے عمران خان کو منتخب کیا ہے اور وہ جو مناسب فیصلہ کر دیں گے وہ ملکی عوام کی اکثریت کو قبول ہی ہو گا۔

چھوٹے صوبوں کے عوام اور رہ نماؤں پر خاص نظر رکھی جائے گی کیونکہ ان میں غداری کے موٹے موٹے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ آصف زرداری، محمود اچکزئی اور اسفندیار ولی کو جیلوں میں بند کیا جائے گا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے جو ارکان حکومت کی حمایت کریں گے ان کے علاوہ دیگر کو ایم کیو ایم لندن کا کارکن قرار دے کر انسداد دہشت گردی عدالت کے سپرد کیا جائے گا۔ چھوٹے صوبوں میں کچھ عناصر اپنے حقوق کی پامالی کا شور کریں گے لیکن عمران خان واضح کر دیں گے کہ یہ عناصر غدار ہیں جب کہ ثبوت ڈی جی آئی ایس پی آر فراہم کر دیں گے۔ کسی کو ان ثبوتوں پر یقین نہ ہو تو وہ آزاد عدلیہ سے رجوع کر سکے گا۔

ملک کی معاشی ترقی کے لیے عمران خان سے بہتر کوئی آپشن نہیں۔ ان کے وزیراعظم بنتے ہی بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا سیلاب اُمڈ آئے گا۔ عمران خان کی برکت سے ہماری فصلیں دوگنی چوگنی پیداوار دینے لگیں گی جن کی کٹائی کے لیے انگلینڈ اور امریکا کے بے روزگار ویزا لے کر پاکستان آئیں گے۔ درآمدات پر پابندی لگا دی جائے گی تو درآمدات و برآمدات کا عدم توازن دو دن میں ختم ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کے قرضوں پر لخ لعنت بھیج کر پاکستان منٹ کو چوبیس گھنٹے چلا کر نوٹ چھاپے جائیں گے جو بین الاقوامی مارکیٹ میں پھیل کر ڈالر کو پسپائی پر مجبور کر دیں گے۔

عمران خان سڑکوں اور پلوں کی تعمیر پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے صحت اور تعلیم کو اولیت دیں گے۔ پاکستان بھر کے تمام اسپتالوں اور اسکولوں کے معیار کو خیبر پختونخوا کے معیار تک لایا جائے گا۔ ڈینگی کو شریف برادران کی نشانی قرار دے کر تینوں کی پرزور مذمت کی جائے گی۔ فن تعمیر کی حوصلہ افزائی کے لیے پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں کم از کم ایک ڈی ایچ اے تعمیر کیا جائے گا جس کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کسی حاضر سروس افسر کو اس کا سربراہ بنایا جائے گا۔ زراعت کی ترقی کے لیے ملک بھر میں اوکاڑہ فارمز کی طرز کے فارمز قائم کیے جائیں گے۔

سلطانئِ عمران کا آتا ہے زمانہ

خارجہ پالیسی کے میدان میں عمران خان پاکستانی تاریخ کے کام یاب ترین کپتان ثابت ہوں گے۔ خارجہ پالیسی سیکیورٹی ادارے اپنی لیبارٹری میں انتہائی غور و خوض کے بعد بنائیں گے جس کے بعد اس میں کسی خامی کی گنجائش نہیں رہے گی۔ رہی سہی کسر عمران خان اپنے انگریزی خطاب سے پوری کر دیں گے اور اگر پھر بھی کوئی کسر رہ گئی تو دو تین عالمی کانفرنسوں میں ٹرمپ اور مودی کے سامنے تقریر کے کاغذ پھاڑ کر دنیا بھر میں پاکستان کی بہ جا بہ جا کرا دیں گے۔

عمران خان سے متاثر ہونے والی تمام خواتین کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ عمران خان ماشاء اللہ خوب صورت اور فٹ ہیں۔ متعدد خواتین ہمہ وقت ان سے شادی کے لیے تیار رہتی ہیں۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں جرمن چانسلر اور برطانوی وزیراعظم کے بارے میں یقین واثق ہے کہ وہ ان سے پہلی ہی ملاقات میں متاثر ہوں گی۔ امریکی صدر ٹرمپ سے بھی عمران خان کی خوب گاڑھی چھنے گی۔ دونوں ایک ہی لائن کے آدمی ہیں۔ ٹرمپ نے تین شادیاں کی ہیں اور عمران خان نے دو۔ ٹرمپ جتنی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ ایک آدھ اور بھی کر لیں گے۔ جو خواتین بیوی کے علاوہ ازیں ہوتی ہیں ان کے بارے میں بھی دونوں ہم خیال ہیں۔ جب عمران خان ٹرمپ کی ران پر ہاتھ مار کر اپنا ایک آدھ قصہ سنائیں گے تو دونوں ہمیشہ کے لیے پکے دوست بن جائیں گے۔ نظریاتی طور پر دونوں پہلے ہی متفق ہیں۔ عمران خان اسلام کا سپاہی ہے تو ٹرمپ تثلیث کی مالا جپتا ہے۔ دونوں مل کر دنیا کو اخلاقیات کی نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔

بھارت کی تمام سابق اور موجودہ فلمی اداکارائیں اس کی فین ہیں۔ بھارتی عوام پاکستانی سیاست دانوں میں سے صرف عمران کو جانتے ہیں۔ عمران اگر کشمیر یا کسی اور معمولی مسئلے پر کوئی رعایت مانگے گا تو بھارتی عوام مودی کے بجائے عمران پر بھروسہ کریں گے۔ نواز شریف کے گھر آمد کی پاداش میں مودی کے پاکستان کے دوروں پر مکمل پابندی لگا دی جائے گی البتہ کوئی ضروری بات کرنی ہو گی تو واٹس ایپ پر کر لی جائے گی۔ اگر وہاں بھی بات نہ ہو سکی تو سرحد پر منھ توڑ جواب دے دیا جائے گا۔ افغانستان اور ایران کو وہاں سے آنے والے دہشت گردوں سے متعلق ثبوت دکھائے جائیں گے جنھیں دیکھ کر وہ دنگ رہ جائیں گے اور ان میں پاکستان سے کسی شکوے کی ہمت نہیں رہے گی۔ چین سے شہباز شریف کی حمایت سے متعلق بیان پر جواب طلبی کی جائے گی مگر قوم کے وسیع تر مفاد میں اس سے تعلقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ پچھلے عام انتخابات میں جن علاقوں میں محب وطن عوام کی تعداد کم پائی گئی تھی وہاں چینیوں کی آبادکاری کی جائے گی۔

ایک روزن لکھاری
سید کاشف رضا، صاحب مضمون

 آئین میں بھی بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ حب الوطنی کا معیار مقرر کر کے ایک ماڈل قمیض تیار کی جائے گی جو ہر شخص کو پہنا کر اس کی حب الوطنی چیک کی جائے گی۔ قمیض پوری نہ ہونے کی صورت میں اس شخص میں مناسب کٹوتی کی جائے گی یا اسے نااہل قرار دے کر پاکستانی آبادی سے خارج کر دیا جائے گا۔ گو نواز گو کو پاکستان کا قومی نعرہ قرار دیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ نہ آ جائے۔ امپائر کی انگلی کو پاکستان کا قومی نشان قرار دیا جائے گا۔ آئی ایس او سرٹیفیکیٹ کی جگہ حلال سرٹیفیکیٹ کا اجراء کیا جائے گا۔ اخبارات، فیس بک اور ٹویٹر پر ہر بیان اور پوسٹ کے لیے اس سرٹیفیکیٹ کا حصول لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس سرٹیفیکیٹ کی تقسیم کے لیے ادارہ برائے سیاسی خرد حیاتیات کی مدد لی جائے گی اور اس سرٹیفیکیٹ کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

About سیّد کاشف رضا 27 Articles
سید کاشف رضا شاعر، ادیب، ناول نگار اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے ’محبت کا محلِ وقوع‘، اور ’ممنوع موسموں کی کتاب‘ کے نام سے اشاعتی ادارے ’شہر زاد‘ کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکے ہیں۔ نوم چومسکی کے تراجم پر مشتمل ان کی دو کتابیں ’دہشت گردی کی ثقافت‘، اور ’گیارہ ستمبر‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلوچستان پر محمد حنیف کی انگریزی کتاب کے اردو ترجمے میں بھی شریک رہے ہیں جو ’غائبستان میں بلوچ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ سید کاشف رضا نے شاعری کے علاوہ سفری نان فکشن، مضامین اور کالم بھی تحریر کیے ہیں۔ ان کے سفری نان فکشن کا مجموعہ ’دیدم استنبول ‘ کے نام سے زیرِ ترتیب ہے۔ وہ بورخیس کی کہانیوں اور میلان کنڈیرا کے ناول ’دی جوک‘ کے ترجمے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کا ناول 'چار درویش اور ایک کچھوا' کئی قاریانہ اور ناقدانہ سطحوں پر تحسین سمیٹ رہا ہے۔ اس کے علاوہ محمد حنیف کے ناول کا اردو ترجمہ، 'پھٹتے آموں کا ایک کیس' بھی شائع ہو چکا ہے۔