ترجمے زبان و ادبِ دیگراں

مغربی فکر کتنے چھٹانک ہونی چاہیے؟

مغربی فکر کتنے چھٹانک ہونی چاہیے؟ از، سید کاشف رضا مسلم آبادی والے علاقوں کے مغربی فکر سے تعامل کی دو بڑی لہریں ہمیں تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ پہلی بڑی لہر عباسیوں کے شروع […]

ترجمے زبان و ادبِ دیگراں

دفاع کا’’پیدا کردہ‘‘ بیانیہ

(قاسم یعقوب) دفاع کیا ہوتا ہے؟ اور دفاع کو پرورش کرنے والے تصورات کن محرکات کے نتیجے میں پیداہوتے ہیں؟ یہ دنوں مختلف سوالات ہیں۔دفاع اور دفاع کے ساتھ تصورات دو الگ الگ حیثیت سے […]

aik Rozan writer's photo
مطالعۂ خاص و فکر افروز

کراچی پر قبضے کا نیا نقارہ

کراچی پر قبضے کا نیا نقارہ (ڈاکٹر علمدار حسین بخاری) وطن عزیز میں وقت دائروں میں سفر کرتا ہے اور یہاں ماضی کے لمحوں کو یاد کرتے ہوئے یہ خواہش کرنے کی ضرورت ہی نہیں […]

جنید الدین
ترجمے زبان و ادبِ دیگراں

ہتھوڑا، درانتی اور لیپ ٹاپ

جنیدالدین معاشرہ تاریخی جدلیات کے باہمی ٹکراؤ کے مجموعہ سے جنم لیتا ہے۔ نظریات کسی معاشرے کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کی منازل کے زینہ کے استعارے ہیں۔ کوئی معاشرہ جس قدر مضبوط نظریات […]

خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے

بس،اب کوئی بلڈی سویلین کیچڑ نا اچھالے

  فاروق احمد بس میاں ہم تو بھر پائے … ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے … جسے دیکھو موٹر وے آپریشن کو لے کر فوج کو تختہ مشق بنائے بیٹھا ہے۔۔۔ اوئے کوئی […]

خوش ہونا منع ہے ، یہ پاکستانی معاشرہ ہے
مطالعۂ خاص و فکر افروز

خوش ہونا منع ہے ، یہ پاکستانی معاشرہ ہے

خوش ہونا منع ہے ، یہ پاکستانی معاشرہ ہے از، ارشد محمود اس ملک میں خوشی کا مطلب کھانا کھانا ہے۔ خوشی کا کوئی بھی موقع ہو، تان کھانے پر ٹوٹتی ہے۔ کسی بھی تقریب […]

جمالِ ادب و شہرِ فنون

ایور گرین ٹین ایجر: ممتاز مفتی

(نیلم احمد بشیر) ٹیگور کی ایک خوبصوت نظم ہے: شام کے ڈوبتے ہوئے مغرور سورج نے سوال کیا: ’’کوئی ہے جو میرے بعد میری جگہ لے سکے؟‘‘ مٹی کے ننھے سے دیے نے سر اُٹھا […]

خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے

قانون کی حاکمیت: اٹک قلعہ اور موٹر وے

یاسر چٹھہ موٹروے پر آئیے۔ آپ کو اپنےملک سے متعلق ایک اچھی علامت نظر آتی ہے۔ ایک حوالے سے نہیں، بلکہ کئی ایک  حوالوں سے؛ آپ کی ایک ٹوٹی آس بندھنے لگتی ہے کہ ملک […]

ترجمے زبان و ادبِ دیگراں

ادارے یا شخصیات، ہمارا قومی معمہ؟

نعیم بیگ کسی بھی گفتگو یامکالمے کا پہلا پڑاؤ  اس کے وہ فکری و فلسفیانہ اثرات ہوتے ہیں جو گفتگو میں اولاً شامل سامعین اور ثانیاً پورے معاشرے پر اپنے دیرپا نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ […]