کچھ ٹین ایجرز کی بابت

Naseer Ahmed
نصیر احمد

کچھ ٹین ایجرز کی بابت

از، نصیر احمد

آج کل کے بچے؟ اف توبہ، ہماری دختر خوش رُو کو ہی لے لیں، اتنی بڑی افلاطون ہے، دس پندرہ منٹ کی گفتگو میں سات آٹھ  ہزار اختلافی نوٹس لکھ دیتی ہے۔ ہم تو خیر ان شرمسار والدین میں سے ہیں جو اپنے بچوں میں کوئی خامی دیکھ ہی نہیں سکتے۔

اگر داتا گنج بخش بھی آ کر کہہ دیں کہ خوش رُو نے کچھ  بد تمیزی کی ہے تو داتا سے بھی جھگڑنے لگیں گے بڑے داتا بنے پھرتے ہو، کرپا نجریا نہیں کرتے تو نہ کرو، مگر خوش رُومیں خامیاں دیکھنا چھوڑ دو، ورنہ کون سا تم ایک ہی ہو، چلتے ہیں گامے شاہ کی طرف۔

ہم نے بھی کچھ نوٹ کر لیا تو پھر دیکھ  لیں۔ ایک دوست تو ایک دن باقاعدہ رونے لگے۔ پہلے ماں باپ کی غلامی کی، پھر بہن بھائیوں کی، پھر دوستوں کی، سب رشتے والوں کی، زوجہ ماجدہ کی، ان کے بہنوں بھائیوں کی، ان کے بہنوں بھائیوں کے دوستوں کی، ان کی سہیلیوں کی، ان کے سہیلیوں کے شوہروں اور کتوں کی، ان کے باڑے میں بندھے ہوئے سب مویشیوں کی، اب بچوں کی غلامی کرتے ہیں۔ اوپر سے تم آجاتے ہو، آزادی کا علم بلند کیے ہوئے، اور تمھاری غلامی بھی کرنی پڑتی ہے۔

لیکن بچوں کی غلامی سب سے کڑی ہے، تمھاری بھی کچھ آسان نہیں، پر ادھر تو حالات ہی مختلف ہیں۔ ماں باپ سے کبھی کچھ ہٹ کر لیتے تھے، بیگم کو کبھی خدا کا واسطہ ڈالتے ہیں، دین دار ہیں، کبھی انھیں رحم آ ہی جاتا ہے، دوستوں سے کبھی جھگڑا کر لیتے ہیں مگر بچوں کے سامنے تو سراپا نیاز ہیں اور کبھی چہرے پر کچھ ناز کے آثار نظر بھی آ جائیں تو ایسی شکلیں بِسورتے ہیں جیسے فرعون ہم ہی ہوں۔

اور ہم پھر سراپا نیاز ہو جاتے ہیں۔ بحث تو کی ہی نہیں جا سکتی کہ بچے تمھاری اس بے ڈھنگی سی آزادی، فلسفے، مذہب، سائنس، آداب اور ٹیکنالوجی کے ایسے وار کرتے ہیں کہ ہم تو بازوئے قاتل کی مدح سرائی میں ہی کھوئے رہتے ہیں اور کشتگی و خستگی کے مراحل سے گزر کر پا بوس ہو جاتے ہیں۔ اب اس عالم میں تم اپنی زنبیل سے رنگ برنگی آزادیاں نکال کر اپنی ہی ہانکنے لگتے ہو۔

بس بچے سے تھے، کاموں میں گھسائے رکھتے تھے اور تم جیسے لاڈلوں کو کھیلتے کودتے دیکھتے تھے تو اک حسرت سی دل میں اٹھتی تھی کہ شاید ہم بھی کچھ  آزادی کے مستحق تھے، مگر باپ کے چہرے پر پھیلتی دُرُشتی ہمیں اپنی اوقات یاد دلا دیتی تھی۔ بس آزادی سے ہمارا اتنا ہی تعلق ہے، اک حسرت ناکام جو دُرُشتی دیکھ کر سمٹ جاتی ہے۔

اور ہم کہتے ہیں، دوستاں یہ کیا المیہ شروع کر دیا ہے، مگر تم میں المیہ لکھنے اور کہنے کی صلاحیت ہے، اس کو nurture کرو ، شاید حسرت آزادی کا کوئی شاہ کار بن جائے۔

اتنا تو ہم حبشی غلاموں کی حالتِ زار پر بنی فلم روٹس دیکھ کر نہیں روئے، جتنا تم نے چند لمحوں میں رلا دیا ہے۔

ھاھا، جس تن لاگے، وہی جانے مگر یہ خوبی تم میں ہے کہ جہاں کسی میں کوئی امکان دیکھا، اس کو حقیقت بنانے کے چکر میں پڑ جاتے ہو۔ وہ یوں کہنے لگتے ہیں۔ اب ٹمی اور آنٹی کا قصہ سنیے۔

آنٹی نے ٹمی سے پانی مانگا تو بات چیت کا یہ سلسلہ رُو نما ہوا۔ ٹمی بیٹا مجھے پانی کا ایک گلاس تو لادے۔ ٹمی بابو کوئی ویڈیو گیم کھیل رہے تھے اور دشمنوں کو غارت کرنے کے بعد قَلعے کی فصِیل طے کرنی تھی۔ انہوں نے سوچا اس مصیبت کا ہمیشہ سے ہی خاتمہ کر دیں، یعنی کبھی کسی کی پانی مانگنے کی ہمت ہی نہ ہو۔

دیکھو ری آنٹی، تم سے کچھ صاف صاف باتیں کرنی ہیں۔ تم غور سے سنو۔

جی بیٹا۔

پہلے تو مجھے یہ بیٹا بیٹا کہنا بند کرو۔ کیوں کِہ یہ حیاتیاتی صداقت نہیں ہے۔ اب جو بات سچ نہیں ہے، اس پر اصرار کرنے سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ اور کنفیوژن میری نفسیاتی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اور اگر میری نفسیاتی صحت ہی اچھی نہیں ہو گی تو میرا کیا مستقبل ہو گا؟ میں کچھ بھی بن نہ پاؤں گا۔ تمہیں پتا نہیں جھوٹ میں بزرگی کے کیا مزے آتے ہیں، لیکن میری زندگی برباد ہو رہی ہے۔ اپنی تو کر چکی ہو، لیکن یہ تمھارا ذاتی انتخاب تھا، لیکن مجھے تو کم ازکم کچھ بہتر چُننے دو۔

دوسرا اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین پڑھ لو، اب اردو ترجمے بھی مل جاتے ہیں اور اگر بالکل ہی ناخواندہ ہو، تو کسی پڑھی لکھی سہیلی سے مشورہ کر لو، پر تمہاری پڑھی لکھی سہیلی بھی کہاں ہو گی۔ تم ایسا کرو خواتین کے حقوق سے متعلق کسی ادارے سے رابطہ کر لو، پتہ میں تمھیں ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کر دیتا ہوں۔ اب یہ نہ پوچھنا یہ نِگوڑے کیا ہوتے ہیں۔

ارے بیٹا، اب میں اتنی جاہل بھی نہیں ہوں، انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔

پھر بیٹا، انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے سے کامن سینس تو نہیں آ جاتا۔ کسی اجاڑ سی یونیورسٹی سے ہی یہ ماسٹرز کیا ہو گا۔

اچھا ٹمی

اے ماہر انگریزی دان آنٹی، تمہیں اتنا نہیں پتا کہ ابھی ہم اتنے بے تکلف نہیں ہوئے، تم مجھے ٹمی کہو۔ تمہارے لیے میں تیمور ہوں۔ اور پھر بھی تم مجھے ٹمی کہتی ہو، تو جانو تم نے اپنی ڈگری جلا دی ہے۔ ماں باپ اور حکومت کا پیسہ ضائع کیا ہے۔

او کے  تیمور صاحب

تیمور صاحب نہیں تیمور، تم دیکھ نہیں رہی کہ میں ایک ٹین ایجر ہوں اور دوستوں میں میرا ایک مقام ہے۔ اب میرے پیارے سے چہرے پہ تم نے کسی ہیبت ناک بادشاہ کی درندگی پھیلا دی ہے۔ تمہیں اپنے احساس توازن اور تناسب پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تمہیں ایک بانکی چھریری سی خاتون ہونا چاہیے، لیکن تم نے فیصلہ کیا کہ تم ایک دریائی گھوڑا بن جاؤ۔ نیور مائنڈ، تمھارا ذاتی مسئلہ ہے مگر میں نے اپنی شخصیت ایک خاص توازن اور تناسب پر وضع کی ہے، اب تم اپنی غلطیوں کا بدلہ مجھ سے تو نہ لو۔

اچھا تیمور، پانی؟

ہاں، تم نے کہا تھا مجھے پانی کا ایک گلاس لا دے۔ یہ دہقانوں اور گنواروں کی کھڑی یا لیٹی ہوئی بولی مجھ سے مت بو لو۔عرض کے آداب ہوتے ہیں، مگر تم آداب عرض پڑھنے والی جاہل کیا جانو۔

تیمور پلیز مجھے پانی کا ایک گلاس لا دیں، آپ کی بہت مہربانی ہو گی۔ شکریہ۔

مگر اب چُوں کہ تم تصدیق شدہ جاہل ہو، اس لیے مجھے یہ پوچھنا ہی پڑے گا، کہ یہ مطلوبہ گلاس تمہیں پانی کے بغیر چاہیے یا اس میں پانی ڈال کے لاؤں۔

پانی ڈال کے لائیں تو بہتر ہو گا۔

کتنے ملی میٹر؟

جتنا آپ مناسب سمجھتے ہیں۔

دیکھو، دنیا میں تمھاری جہالت کے علاوہ سب سے بڑا بُحران پانی کا بحران ہے۔ چوں کہ پانی زندگی ہے، اس لیے اس کا ضیاع بے حسی ہے۔ یہ جرم تم کر سکتی ہو کہ جاہل ہو، میں یہ نہیں کر سکتا کہ مجھے اپنی عالمی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔

تیمور، میں اس بات پر ایک حلف نامہ لکھ کے دے دیتی ہوں کہ آپ جتنا پانی بھی لائیں گے ضائع نہیں ہو گا۔

کیوں، تم نے اونٹ کی طرح کوئی کوہان بنائی ہوئی ہے جس میں پانی ذخیرہ کر لیتی ہو یا تم کوئی ہیومین واٹر ٹینک کا کوئی سائنسی کرشمہ ہو۔ بہ ہرحال، میں تو بچہ ہونے کی وجہ سے مجبور ہوں، پانی لے آتا ہوں۔ لیکن یہ بتاؤ پانی کون سا چاہیے، منرل یا ٹیپ کا؟


مزید دیکھیے: طوطے از، امر جلیل


یہ فیصلہ بھی میں آپ پر چھوڑتی ہوں۔

یہ سستی اور کاہلی کی واضح نشانی ہےاور عالمی ذمہ داریوں سے نبرد آزما جمہوریت کے قیام کے لیے بہت ہی ضرر رساں ہے۔

کتے کے پِلّے، پانی لاتا ہے یا دُوں ایک جھانپڑ۔

اوہ آنٹی جی، ابھی لایا، چچ چچ آپ تو حیاتیاتی صداقتوں سے گریز کرتے ہوئے تشدد کے خوف ناک رستے پر گام زن ہوتے ہوئے، زبان کو بطور آلۂِ توہین و تذلیل استعمال کرنے لگیں۔ پلیز کام ڈاؤن، یو owe می این اپولوجی۔

سوری مائی ڈئیر، آئی جسٹ لوسٹ مائی وے۔ تمہیں تو پتا ہی ہے، جہالت، موٹاپا، نا شائستگی، بد تمیزی، توہین، تذلیل، تحقیر، جب آدمی ان کا مسلسل نشانہ بنا رہے تو کبھی کبھی اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے۔ اور پیاس کی شدت کے دوران انسان کچھ اتنا نارمل نہیں ہوتا تو حیاتیاتی صداقتوں اور عالمی قوانین کی روشنی کچھ ماند سی پڑ جاتی ہے۔ بہ ہرحال میں شرمندہ ہوں۔ تمھاری دانائی سے کچھ امید ہے کہ کچھ مہربانی بھی سیکھ لے گی۔

آئی ایم سوری آنٹی جی۔ یہ تصفیہ ہوا، تو ایک اور معاملہ آن پڑا۔ وہ پھر کبھی آپ کو بتائیں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.