ایک کہانی تھوڑی نئی کچھ پرانی

Munazza

ایک کہانی تھوڑی نئی کچھ پرانی

از، منزہ احتشام گوندل

دروازے سے نکلتے وقت میں نے مڑ کے دیکھا۔چچا مجھے دیکھ رہے تھے۔نگاہوں میں ممنونیت تھی جیسے میں کوئی جہاد کرکے جارہی ہوں۔
یہ پہلے چچا ہیں۔فزکس میں پی ایچ ڈی اور یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔جب ان کی شادی ہوئی تو چچی نے ایلمنٹری کا امتحان دیا تھا اور چچا نے ایم ایس سی کرلیا تھا۔
ہرے دھنیا کی پتیاں توڑ کر چاولوں میں ڈالتے ہوئے چچی نے مجھے کہا۔
اب تم شادی کرلو۔
کس سے کروں چچی؟
ارے بھئی یہ کیا سوال ہے۔جو بھی ملتا ہے کرلو۔شادی کا کیا ہے۔روٹی ہی کھانی ہوتی ہے وہ جو بھی دے دے۔
اتنے میں احمد نے گردن نعمت خانے کے دروازے سے اندر کی اور پوچھا۔
امی دودھ کتنا لانا ہے؟
دو کلو لے آ ؤ تمہاری باجی بھی آ ئی ہوئی ہے۔
احمد دو کلو کا سن کر برتن اٹھاتا پیچھے ہٹ گیا۔ چچی آ واز اونچی کرکے۔۔۔احمد!
جی امی۔۔۔۔
ارشد سے دودھ نہ لانا۔بہت پتلا ہوتا ہے۔ فیقے برفی والے سے لینا ان کا دودھ اچھا ہے۔بار بار تاکید۔
احمد اکتا کر۔۔۔۔اچھا امی فیقے سے ہی لاؤں گا۔
(اپنی دفعہ دودھ کے معاملے میں بھی اتنی چوائس ہے۔اور مجھے عمر بھر کے لیے بغیر کسی چوائس کے “کسی سے بھی”شادی کرلینے کے دانشمندانہ مشورے دیے جارہے ہیں۔کیا میں چائے کی پیالی سے بھی گئی گزری ہوں)
کس سوچ میں پڑ گئی ہو۔چچی پوچھتی ہیں۔
کچھ نہیں چچی! بس سوچ رہی ہوں کہ بندہ کم سے کم پڑھا لکھا تو ہو کچھ اس کی سوچ ہو آ خر میں نے بھی تو ڈاکٹریٹ۔۔۔۔۔۔بات درمیان میں ہی رہ گئی۔
ارے دفعہ مارو۔تم نے ڈاکٹریٹ کرلیا۔اب تعلیم کی شرط لگا کے بیٹھ گئیں۔بس یہ دیکھو بندا مخلص ہو۔
آ خر کون سے صحیفے میں لکھا ہے چچی! کہ ہر ان پڑھ یا کم پڑھا لکھا بندا ہی مخلص ہوتا ہے۔ آ خر یہ فارمولا کون سی دھرتی پہ اترا ہے کہ ہر تعلیم یافتہ بندا مخلص نہیں۔مکار ہے،ذلیل ہے، دوسروں کے لیے نہیں تو میرے لیے ضرور ہی ذلیل ہے۔ آ پ خود کو دیکھیں مڈل پاس ہیں آ پ اور چچا میرے پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔اور ۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔اور
میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا باقی کے سارے الفاظ ضبط کرتے ہوئے میں نے چہرہ موڑا تو چچا کا چہرہ نظر آ یا۔وہ نعمت خانے کے دروازے کے باہر کھڑے سن رہے تھے۔
میں نے آ ج تک اتنی معصوم اور ممنونیت سے بھری نگاہیں کسی اور کی نہیں دیکھیں۔
“یہ دوسرے چچا ہیں”
سربگریباں پیاز کا سلاد کاٹتے ہوئے خوشی ان کے لرزیدہ ہاتھوں سے ہویدا ہے۔جیسے میں نے کوئی بہت بڑا معرکہ مارا ہو۔یہ دوسرے چچا ہیں۔ایم بی بی ایس ہیں۔جب ان کی شادی ہوئی تو چچی نے ایف اے کے بعد کسی مدرسے سے عالمہ کا کورس کیا ہوا تھا۔چچا سے عمر میں کوئی سال ڈیڑھ بڑی ہیں۔
سٹرابری کا جوس نکالتے ہوئے چچی نے کہا۔
اب تم شادی کیوں نہیں کرلیتیں؟
نہایت شاہانہ کچن اور سیلنگ دیکھتے ہوئے میں نے کہا۔
کس سے کروں آ نٹی؟
لو یہ بھی کوئی سوال ہے۔جو بھی آ پشن میسر ہے کرلو۔شادی شدہ ہونا ضروری ہے،رہنے کو خواہ چھونپڑی ہو۔میز گھسیٹ کر میرے آ گے کرکے اس پر جوس کا گلاس رکھتے ہوئے انہوں نے بات جاری رکھی۔
آ نٹی بندے کے پاس گھر تو ہونا اپنا۔اتنی تو حقدار ہوں میں؟
گھر ور اور مالی طور پر مستحکم بندے کی خواہش چھوڑو۔دیکھو آ دمی مخلص ہونا چاہیے۔
آ نٹی کیا یہ طے ہوچکا ہے کہ جس آ دمی کے پاس پیسہ ہے وہ مخلص نہیں ہوگا۔ اور جو بھوکا مررہا ہے صرف وہی مخلص ہے۔یا پھر یہ سارے فارمولے فقط میرے لیے ہیں۔ آ خر یہ کس نے طے کیا ہے کہ ہر شخص جو ان پڑھ ہے یا کماتا کچھ نہیں وہی مخلص ہے؟
میری نظر پڑی چچا کے ہاتھ لرزیدہ تھے
یہ میرے تیسرے چچا کا گھر ہے۔میرے مرحوم چچا کا جو کہ پنجاب پولیس میں تھے۔خوبرو اتنے تھے کہ ان کی وجاہت ایک مثال تھی علاقے میں۔
گیس کا چولہا خالی جلائے ایک جلی ہوئی تیلی اٹھا کر آ گ میں ڈالتے ہوئے چچی نے کہا ۔
اب شادی کرلو۔ عمر زیادہ ہوجائے تو بچے پیدا کرنے والی ٹیوبیں بند ہوجاتی ہیں۔
میں نے تڑپ کر چچی کو دیکھا۔کروڑوں عورتوں کی طرح ایک عام سی عورت،سات جماعتوں تک خواندہ سائینس اور میڈیکل پہ کتنا عبور رکھتی ہے۔
کس سے شادی کروں آ نٹی؟
جو بھی رشتہ آ ئے کرلو۔ یہ شکل و صورت اور قد کاٹھ والی باتیں سب فضول ہیں۔بس مخلص بندہ دیکھو۔
آ نٹی کیا اچھی شکل و صورت اور قد کاٹھ کے لوگ مخلص نہیں ہوتے؟
(چچی خاموش ہیں۔میں بھی خاموش ہوں۔مجھے کیا پڑی ہے یہاں بھی لیکچر جھاڑوں۔دو گھروں سے تو نکالی جاچکی ہوں تیسرے سے بھی نکال دی جاؤں گی۔میری چچیوں کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ مخلص آ دمی وہ ہے جس کی شکل و صورت ہے نہ تعلیم اور نہ روزگار ۔۔۔اور اخلاص کا یہ معیار بھی فقط میرے لیے ہے۔یقینا ان کی اپنی بیٹیوں کے لیے مخلص آ دمی کی تعریف اس کے الٹ ہوگی)
بیلا اب چوبیس برس کی ہونے والی ہے اس کی شادی کردیں آ نٹی۔
چچی نے چونک کے دیکھا۔ابھی تو وہ چھوٹی ہے اور پڑھ بھی رہی ہے۔
دو تین سال بعد اس کی بچے پیدا کرنے والی ٹیوبیں بند ہوگئیں تو؟ کوئی بھی مخلص بندہ ڈھونڈ کے بیاہ دیں اسے۔
اور اب میں اس گھر سے بھی نکل آ ئی ہوں۔
اور اب یہ شہر ہے۔اس کی گلیاں ہیں۔گھروں میں بھی نہیں جاسکتی کہ ہر گھر میں ایک چچی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.