خوب صورت دھوپ ہے، نہیں بد صورت دھوپ ہے

Yasser Chattha

خوب صورت دھوپ ہے، نہیں بد صورت دھوپ ہے

از، یاسر چٹھہ

خوب صورت دھوپ ہے۔

دل میں ایک غم بھی ہے۔

بنو قریظہ کے ایک اور فرد کو لورالائی میں مار دیا گیا ہے۔

کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔

ممنوع موضوعات کے دن ہیں۔ نورانی دنوں کا اندھیرا ہے۔

اور ہاں، چُوں کہ ارد گرد آزادی دندناتی پھر رہی ہے، اس لیے ایک بار پھر چپ بھی رہنا چاہتا ہوں۔ ویسے کہہ لینا بھی کیا رہ گیا ہے۔ کب کا شور تلے دب گیا ہے۔ وہ شور جو منظم طریقے پر انتہائی نمبر ون طریقے پر ترتیب دیا گیا ہے۔

کل کہیں بیٹھے دوست کہہ رہے تھے، عاصمہ جہانگیر کے بعد کیا کوئی اور پیدا کیوں نہیں ہو رہا ہے۔ عرض کر رہا تھا، بہت ہیں۔ صرف ان کو پیش منظر دست یاب نہیں۔ کہنا بھی چاہتا تھا کہ جسے اپنے حصے کے میسر وقت، اور ارد گرد کی دندناتی آزادی کے باعث روکنا بھی چاہ رہا تھا۔ جی. یہی کہ موجودہ کے سب غداروں کو عاصمہ کہہ لیجیے۔

اب میں ان غداروں کے نام نہیں لکھ رہا۔ میرے اہلِ دل احباب کے آنسوؤں کی رُوشنائی سے وہ نام دل اور سر گوشیوں میں تو رقم ہیں۔ علی ارقم Ali Arqam اونچی آواز میں چھلک پڑتے ہیں:

Arman Luni is killed by a paranoid and fragile state. This is not an isolated murder, it’s part of the series of events/conspiracies to put the relatively peaceful Southern Pakhtunkhwa (Pashtun region in Balochistan province) into the abyss of Terror of War.

Khyber Pakhtukhwa already went through it, FATA already is ravaged and conquered territory, now they want to turn the heat on Pakhtunkhwa Milli Awami Party (PkMAP) and territories of their influence.

Tough test for the PkMAP, tough test for the PTM. ANP Balochistan and Baloch Nationalist parties should stand by the PkMAP side. History won’t forgive those who would leave PkMAP alone.

پچھلے ہی ہفتے میں ایک اور جگہ بیٹھے احباب کی مجلس میں ایک صحافتی کار کُن کا یہ جملہ بہت ستم ظریفانہ ironic لگا:

“اس پرانے…. چینل میں تو کبھی منظور پشتین کا نام تک نا سنا تھا، لیکن یہاں تو ہر دوسرے لمحے منظور پشتین کا نام گردان ہوتا ہے۔”

سب حاضرینِ محفل اس جملے کی ستم ظریفی irony کو سمجھ سکتے تھے۔ سب نے با جماعت وہ قہقہہ لگایا جو کوئی لمحے بھر میں کڑوی گولی نگل جانے پر لگا سکتا ہے۔


مزید دیکھیے:  کیاخزاں کی اداسی بھی خریدنا پڑے گی  از، سبین علی


پھر واپس آتا ہوں۔

پرندے آس کچھ آوازیں نکال رہے ہیں۔ شاید گُنگنا رہے ہیں، لیکن پتا نہیں مجھے تو۔ یہ نوحے ہوں گے، شاید۔

چپ رہتا ہوں۔

دھوپ خوب صورت نہیں ہے۔

ہر سوچنے والے، متبادل بات کہنے والے، اپنی درد پر آہ کرنے والے، بد نام تو ہوں گے؛ اور معنوں کی چادر کے مالک، ان بے چاروں کو بنو قریظہ ہی باور کرائیں گے۔ اور سننے والے مان بھی جائیں گے۔ اب ظاہر ہے، ہر وقت تو موبائل سے ویڈیو ملتی بھی نہیں۔ اور موبائل سے دست یاب ویڈیو کے بارے میں جو ہونا ہے، وہی تو ہوتا آیا ہے۔

تو سوچیے مت۔ آپ بھی مان لیجیے، ورنہ آپ بھی بنو قریظہ ہی ہوں گے۔ جان اور ایمان دونوں سے رخصتی۔

About یاسرچٹھہ 114 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.