بتا آرٹیفیشل انٹیلیجنس تیری رضا کیا ہے؟

Yasser Chattha
یاسر چٹھہ

بتا آرٹیفیشل انٹیلیجنس تیری رضا کیا ہے؟

از، یاسر چٹھہ

سوشل میڈیا کے کچھ فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ حلقۂ احباب کے برتھ ڈے یاد کراتا رہتا ہے۔ بندہ خواہ مخواہ صلہ رِحمی اور تعلق نبھانے والا بنا رہتا ہے۔ اس تعلق داری نبھانے کے اندر اندرون کئی بار بڑے بڑے لطیفے بھی بنتے ہیں۔ ان لطیفوں کے دراز سلسلے میں سے ایک تو راقم الراقمین کے ساتھ اس سال کے پہلے دن پیش آیا۔ ہوا یہ کہ فیس بک نے صبح صبح نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ جی، نوٹیفیکیشن ہی جاری کیا، شکر ہے ٹویٹ نہیں کیا، ورنہ وطن عزیز میں ٹرمپ او ٹرمپ ہو جاتی۔

شکریہ فیس بک! ہم پاکستانی بہت درد ناکی کے ساتھ جانتے ہیں اور بھگت چکے ہیں کہ ہر داغ کے پیچھے تو کہانی ہوتی ہے یا نہیں، پر ہر ہر شکریے کے پیچھے پورا کہانی گھر موجود ہوتا ہے۔ (باقی آپ سمجھ دار ہیں، یاد تو آ گیا ہوگا۔ ورنہ کیا کافر کروانا بنانا ہے۔)

نوٹیفیکیشن یہ تھا کہ راقم الراقمین کے کوئی لگ بھگ ایک ہزار دو سو تیرہ احباب و مُتعلقینِ فیس بک کا برتھ ڈے مورخہ یکم جنوری کو برپا ہونا قرار پایا۔ سوچا کس کو تہنیتی پیغام لکھیں، کس کو نہ لکھیں۔ بہت فِکر فرمائی، اور سوچ ہی سوچ میں ہم کسی اور کام لگ گئے۔ بھولنے کی صفت، وہ کہتے ہیں، ہابیل اور قابیل کے وقت سے ودیعت ہوئی تھی، اور وقت موجود تک بہت خوب کام کر رہی ہے، خاص طور پر جب کوئی قرض دینا ہو، قسم نبھانی ہو، یا روزے کا طویل دن کچھ سہل کرنا ہو۔

پہلا وقوعہ تو ہم بہ آسانی بھول گئے۔ دوسرا وقوعہ آج صبح ہوا ہے۔ جس کو سنانے کے لیے یہ مختصر بیانیہ رقم کیا۔ تو سنیے، اگر دفتر میں بیٹھے ہیں تو پڑھ لیجیے تاکہ کرنے کو کوئی کام مل سکے اور شیطان  کہیں دماغ میں اپنا ڈی ایچ اے نا اناؤنس کر دے۔ تو عرض ہے کہ ابھی کچھ وقت پہلے ہم کسی کو ہیپی برتھ ڈے لکھنے لگے تھے۔ ہیپی برتھ کی ترکیب تک ٹائپ کیا تو جھپاکے سے  ہیپی برتھ کے آگے کنٹرول کا لفظ لکھا ٹپک پڑا۔

یوں happy birthday اس  ورڈ پراسیسر کی artificial intelligence کے لمبے ٹیکنالوجیکل  بازوؤں کے ہاتھوں Happy birth control بن گئی۔ کون کہتا تھا کہ معجزوں کے ادوار و اَزمَنہ ختم ہوگئے؟

اب آپ سے سوال کی اجازت چاہیں گے، کیا یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مختصراً آے آئی)، ذمے داری کا مظاہرہ کر رہی ہے، یا اپنے دائرے سے تجاوز کا آغاز کر چکی۔

(خیال رہے کہ یہ وقوعہ ارضِ پاکستان میں ابھی کچھ لمحے پہلے پیش آیا، جہاں دائرے کی حدود سیال ہوتی ہیں۔ لوگ دائروں کے گرد واک اور جاگنگ کرنا پسند ہی نہیں کرتے، بلکہ پوری سیاسی معیشت، سیاسی اور درانداز ادارے بھی دائروں میں گھومتے اور بھاگتے رہتے ہے۔ تعلقاتِ عامہ گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ۔ کوئی ریاست کے اجزائے ترکیبی کو دنیا نیوز کو انٹرویو دیتے نئے نویلے دائرے کھینچ لیتا ہے، تو کئی صحت اور تعلیم کو اپنی رحمت کاری کی عصا بنا لیتا ہے۔ خدا ریاست کی حفاظت خود کر لیسی۔ اللہ اللہ۔

کسی خاص دائرے کے متعلق تو جدید عہد میں ابنِ انشاء بھی فرما گئے ہیں۔ ہم اس دائرے کے رولز آف بزنس میں البتہ تھوڑی ترمیم پیش کر سکتے ہیں۔ دائرے سے نکال باہر تو اسی طور جاری ہے، جس طور انشاء مرحوم فرما گئے تھے۔ لیکن دائرے تعداد میں بہت بڑھ گئے ہیں۔

دائروں کے کئی  بندروں کے ہاتھ ماچسیں آ گئی ہیں، باقیوں کے پاس بندوق اور بارود۔ خلقِ ربانی کی بستیوں کی بستیوں کو نارِِ دُنیا میں جھونک دیتے ہیں، اور نام بھی  یہ مقدس ظالم، رب ذوالجلال کا اور رحمت اللعٰلمین ﷺ کا جَپ رہے ہوتے ہیں۔ الغرض، اب اتنے دائرے ہو چکے ہیں کہ سی ٹی سکین کروانے پر اختصاصی طبیب کہتا ہے کہ اس دائرے کھینچنے والے عضو کو نکال باہر کر دیجیے۔)

لیکن ہم کہتے ہیں دائرے تو زیادہ سے زیادہ ہی ہونے چاہئیں، پر ہرایک دائرے کو دوسرے دائرے کی سرحدوں اور سیماؤں کا خیال رکھنا چاہیے۔

کہاں سے کہاں نکلتی بات میں یاد آیا کہ جو دائروں میں چکرانے سے کچھ لمحے پہلے کہہ رہے تھے۔ اچھا تو دِکھتا اور محسوس ہوتا ہے کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی ما پہل قدیم کے  موہوم اشرف المخلوقاتی کردار کی چربِ جنسی کے ہاتھوں تنگ آ گئی ہے۔ اس اشرف المخلوقات کی جانب سے آبادی کی تعداد میں کھلواڑی کردار سے مایوس ہو کر مستقبل کے امکانات و پیش مناظر پراب  آرٹیفیشل انٹیلیجنس خود سے ضبط و حکم برتنے اور دراندازی کرنا شروع کرنے لگی ہے؟

یہ بابا رحمتا کی ہوا لگی ہے؟ رب جانے یا جاننے والے۔ ہم بس اتنا کہیں گے کہ ما پہل قدیم کے اشرف المخلوقات کو خود سے اپنی لاج رکھتے ہوئے، ہیپی برتھ کنٹرول کے خیال سے اپنے طور پر ہی بغل گیر ہو جانا چاہیے۔ دیکھیے روایتی اشرف المخلوقات صاحب اور صاحبہ کچھ ادراک کیجیے، ورنہ یاد رہے کہ دائرے سیال ہوتے ہیں۔ اور قدر کھو دیتا ہے روز کا بیاہنا اور جننا جانا۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About یاسرچٹھہ 71 Articles

اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء میں شعبہ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ “بائیں” اور “دائیں” ، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے مردود ہائے سماج و معاشرت کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بلکہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

1 Comment

  1. بہت شاندار ۔ کافی دنوں بعد ایک خوبصورت اور مکمل انشائیہ پڑھنے کو ملا ۔۔۔
    ہمارے ہاں عصری موضوعات کو اب انشائیہ میں برتنے کی رسم تقریباً ختم ہو چکی ہے ۔۔۔ لیکن کبھی کبھی ایسے ادبی رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*