گلوبلائزیشن اور ثقافتوں کا سوال

قاسم یعقوب ، ایک روزن لکھاری
قاسم یعقوب ، صاحب مضمون

قاسم یعقوب

گلوبلائزیشن پہ بات کرنے سی پہلے اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ مابعد جدید معاشرہ اور گلوبلائزیشن کی فکریات میں مماثلت کیا ہے اور اختلاف کیا ہے۔ مابعد جدید فکر حتمیت کے خلاف اور لامرکز فکر ہے۔ جس کا کوئی ایک مرکز نہیں یا کسی ایک ہی تناظر کے اندر دیگر تناظرات کو سمجھنے کاعمل مابعد جدید فکر کے اندر موجود نہیں۔گلوبلائزیشن کے اندر بھی اسی ایک نقطے کومرکزی حیثیت حاصل ہے یعنی کوئی بھی فکر یا سرگرمی کسی ایک خطے تک محدود انسانی تنوعات کو قید اور محدود کرنے کے مترادف ہے۔ گلوبلائزیشن نے اس ضمن میں معیشت کی حرکت کو اپنا ہدف بنایا ہے جس کی بنیاد پر ثقافت اور دیگر تہذیبی ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
مابعد جدید کی دوسری اہم شِق کسی totalityکی نفی ہے، یکسانیت کا رد ہے، مہا بیانیہ کا انکار ہے، کسی حتمی نظریے کو کالعدم قرار دینا ہے۔ اب ہم اس شِق کے زُمرے میں گلوبلائزیشن کو دیکھتے ہیں تو وہ مابعد جدید فکر کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہے۔ گلوبلائزیشن میں مقامی(indigenous)ثقافتوں، صنعتوں، معاشی اقدامات اور سیاسی اعمال کو مٹا کر عالمی دھارے میں پیش کرنے کا رجحان ہے جو سراسر مابعد جدید فکر کی نفی ہے۔ گلوبلائزیشن مقامیت کی قیمت پر عالمی یکسانیت پیدا کرنے پر زور دیتی ہے جو totalityکے فلسفے کو بڑھاوا دیتی ہے۔ یہ فلسفہ مقامیت اور کلچرز کی رنگا رنگی کو مٹا کرمہابیانیہ کی تخلیق کرنے لگتا ہے۔ مابعد جدیدفکر مہا بیانیہ کی نفی کرتی ہے بلکہ بیانیہ کی مقامی شکل کو ایک خاص تناظر میں قبول کرتی ہے۔
گلوبلائزیشن کو مابعد جدید عہد کی ’’وبا‘‘ کہنے سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ اس عہد میں موجود ایک ’’مسئلہ‘‘ ضرور ہے جس کا جنم اس عہد میں ہوا ہے مگر یہ مابعد جدید فکر کی پیداوار نہیں۔ اسی لیے رولاں رابرٹسن نے گلوبلائزیشن کے مقابلے میں گلوکلائزیشن کی اصطلاح تجویز کی تھی۔ جو مقامی تناظرات کا پورا خیال کرتی ہے اور گلوبلائزیشن کے منفی مضمرات سے آگاہ بھی کرتی ہے۔گلوبلائزیشن کے زیرِ اہتما م ایسی کسی ثقافتی موت کا اعلان نہیں کیا گیا جو تہذیبی رنگا رنگی کے خلاف ہو۔تہذیبوں کے اثرات چوں کہ معیشت کے حلقے سے ہو کر آ رہے ہیں اس لیے معیشت نے عالمی دھاروں سے اپنا وجود منسلک کر رکھا ہے۔ ’’ہائپر رئلیٹی‘‘ بھی اسی ضمن میں ایک صورت حال ہے جس نے ٹکنالوجی اور الیکٹرونکس کو انسانی کرائسس سے جوڑ دیا ہے۔ٹیری ایگلٹن نے مابعد جدیدی فضا کو 1990میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The significance of theory میں انسانی فکریات کا ’’کرائسس‘‘ کا نام دیا تھا۔ اصل میں یہ صورتِ حال ضرور ہے مگر اس صورتِ حال کو مابعد جدید نظریہ تھیورائز (Theorize)نہیں کرتا۔
مابعد جدید نظریہ مقامی کلچرز کے فروغ پر زور دیتا ہے ۔ یہاں ہر فکر دیگر فکریات کی بنا پر اپنا وجود رکھتی اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ Relativismبھی نہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ سمجھی جا دیکھی جا سکے۔ بلکہ یہ ایک پرت کے اندر سے دوسری پرت کا نکشاف ہے اور ہر پرت یا متن اپنے تئیں مکمل یا اثرانداز کیفیت بھی رکھتا ہے یوں totalityمیں کوئی شکل نہیں بنتی ہر چیز مقامی یا متن کے مخصوص تناظر میں ہی قابلِ فہم اور قابلِ تصدیق ہے۔ مابعد جدید نظریے کے مطابق حتمی ثقافت کسی طرح بھی عملِ آخر نہیں جس کا انجامِ کار انتشار اور ٹوٹ پھوٹ ہے۔ ثقافتوں کی موت اپنے اندر سے نہیں دوسری غلبہ پانے والی ثقافتوں کے بطن سے اپنا جنم لے رہی ہے۔اس موت کا’’ جنم‘‘ ان متون کی احیاکی موت ہے۔
اس وقت سیاسی سطح پر دو بڑے بیانیے عمل آرا ہیں جس سے نپٹنا ہنوز باقی ہے۔ ایک سیاسی بیانیہ جس کی سرپرستی امریکہ کر رہا ہے جس کو چومسکی نے rogue ریاست کا نام دیا تھا اور دوسرا بیانیہ مذہبی اسلام کے اندر ریڈیکل عناصر کا بنایا ہوا بیانیہ ہے جو ایک میٹا بیانیہ بن چکا ہے۔ ان کے نزدیک مذہبی فکر کی ریڈیکل فارم آج بھی قابلِ قبول ہے ہم اشیا کو بدل سکتے ہیں اشیا کو نہیں چاہیے کہ وہ ہم کو بدلے_____ان کے نزدیک اسلام کی اسی قدیم شکل کو آج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے تشدد کا راستہ بھی اپنایا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ امریکہ معیشت کا ایک rogue کردار ہے اور طالبانائزیشن مذہب کی ریڈیکل فکر کے نمائندے بن کر پوری دنیا کو فتح کرنے نکلے ہیں۔ مزے والی بات یہ کہ مہابیانیہ کے یہ دو کردار آپس میں بھی برسرِ پیکار ہیں۔یعنی ایک مذہبی فکر کی بالادستی کا نمائندہ اور دوسرا کھلی (free)معاشی راہداریوں کا متلاشی____ دونوں کا راستہ مختلف مگر باہم برسرِ پیکار_____
مابعد جدیدفکر اس صورتِ حال میں جنگ یا پیکار کی نفی اور ثقافتوں کے مکالمے کی بات کرتی ہے۔ غلبہ پانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مابعد جدید عہد کلچرز اور فکروں کے تنوعات سے متون کی مختلف شکلوں کا احیا کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں اسی ایک راستے کی حمایت کرنی چاہے۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

3 Comments

  1. آچھی تحریر ہے اصطلاحات کے ترجمے کے ساتھ اگر بریکٹ میں انگریزی لفظ بھی دے دیا جائے تو آسانی ہو گی۔ مثلا ما بعد جدیدیت پوسٹ ماڈرنزم کو کہتے یہ سوچتے ہوئے بھی وقت لگا۔

  2. The writer needs to study more. Postmodernism gives rise to atomozation of society which in turn creates fragmentation of human sensibility.this situation serves the very interest of capitalism.

  3. قاسم یعقوب صاحب اپ ستائش کے لائق ہیں کہ عالم کاری اور مابعد جدید فکر کی مبادیات کو بڑی ہی سادگی اور سلاست سے سمجھا دیا ۔اس موضوع پر اپ مزید خامہ فرسائی کریں ۔تاکہ ادب کے طلبہ مستفید ہوں سکیں ۔۔۔بہت شکریہ

Comments are closed.