ہاں جی، تو مُجھےدیوار میں چُنوا دیجئے

مصنف کی تصویر
ذوالفقار علی

 

(ذوالفقارعلی)

ادھوری اور آدھے چہروں والی تصویریں دیکھ کر ہم دُکھی ہو جاتے ہیں مگر درد کا درماں نہیں ہوتا۔ انہی ادھوری کہانیوں اور آدھے چہرے والی مخلوق کی زندگیوں میں دن رات کس طرح کٹتے ہیں اس کا صیحیح ادراک اُس وقت ہوتا ہے جب ہم ان زندہ کرداروں کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

میری آنکھوں نے اُن عورتوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے جو بھیڑ بکری کی طرح ہانکی جاتی ہیں اور سر بازار اُن کی زندگی کا سودا کر دیا جاتا ہے۔ آج ایک ایسی ہی کہانی میرے وجود کو لرزہ لرزہ کر رہی ہے جس کو میں نے اپنے گاؤں میں چینختے چلاتے دیکھا۔ وہ ردھالی کی طرح بین کرتی رہی مگر کانوں سے بہری اور آنکھوں سے اندھی بے غیرت بریگیڈ نے اس کو معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔

اُس کا تعلق ایک مزارع کے خاندان سے تھا۔ وہ گندم کی کٹائی کے لئے اپنے گھر والوں کے ساتھ آئی تھی۔ ابھی اُس کی عمر مشکل سے چودہ برس کی ہوگی۔ اُسے زندگی کی سمجھ کہاں تھی وہ تو ابھی اپنے بچپن کو جی رہی تھی مگر اُسے کیا پتا تھا کہ جس کی گندم کی فصل وہ کاٹنے آئی ہے اُسے اس شادی شدہ شخص کے ساتھ بیاہ دیا جائے گا اور اسکی زندگی کی فصل بھی کاٹ دی جائیگی!

گندم اور زمین کے مالک نے جب اُسے دیکھا تو اس کے پورے جسم کا ایکسرے کر لیا جو عام طور پر بے غیرت بریگیڈ کا خاصا ہے۔ اُس پھول جیسی بچی کو مسلنے کیلئے اس کے دل میں طرح طرح کے ہیجانی خیالات اور ذہن میں آزمائی ہوئی ترکیبیں آنے لگیں۔ عورتوں کو اپنی ملکیت سمجھنے کا عادی یہ شخص اس بچی سے جسمانی تعلقات قائم کرنےکا تصور کر کے رال ٹپکا رہا۔ پہلے تو اس نے ناجائز تعلقات قائم کرنے کیلئے آزمائے ہوئے ہتھکنڈے اپنائے مگر اس میں ناکامی کے بعد اس کی انا کو ٹھیس پہنچی اور اس کا ذکر اس نے اپنے ہم نوالہ بے غیرت بریگیڈ کے تاحیات مبر شپ رکھنے والے لوگوں سے بھی کیا۔

عام طور پر یہ بریگیڈ جب اس قسم کی واردات کرتی ہے تو کامیابی کی صورت میں اس کا تذکرہ پوری تفصیل اور مرچ مصالحہ لگا کر اپنےہم نوالہ یاروں سے کیا جاتا ہے۔ اس تفاخر کے ساتھ جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ حالانکہ اپنی عورتوں کا کسی کے سامنے نام لینا بھی وہ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ جبکہ اپنے حرم میں آنے والی عورتوں کو گھر کی بڑی بڑی دیواروں میں قید کرنا اور ان پے جبر و تشدد کر کے اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچانا ان کا من بھاون مشغلہ ہے۔

اس بچی کے انکار کے بعد اس کی انا کی آگ بھڑکنے لگی اور اس نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ اس کا بدلہ لے کر رہیگا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اس نے بچی کے والد سےاُس کا رشتہ مانگ لیا اور کچھ روپوں کا لالچ دے کر کسی نہ کسی طرح اپنی بات منوا لی۔

اس بد بخت باپ نے سوچا ہو گا کہ چلو میری بیٹی ایک خوشحال گھر میں جائےگی اور مجھے اسکا جہیز بھی نہیں دینا پڑے گا، اوپر سے کچھ نہ کچھ روپیہ پیسا بھی مل جائے گا سو اُس نے اس رشتے کے لئے ہاں کر دی۔ بے غیرت بریگیڈ کی طرف سے چند ایک چنندہ دوست اس شادی میں شریک ہوئے اور اسے بیاہ کر اونچی اونچی دیواروں کے قید خانے میں جا کر چھوڑ دیا۔

اب سیاہ شب نے اپنے کالے پر پھیلائے تو بے غیرت بریگیڈ کی انا کی سیاہی اس معصوم کے جسم کو داغنے لگی اور مردانگی کے انگار میں وہ خاکستر ہوتی رہی۔ رات بھر وہ  بھنبھوڑتا، کاٹتا اور اُدھیڑتا رہا وہ چینختی رہی مگر ان چیخوں کا عادی سماج کہاں حوا کی بیٹی کی آواز پہ کان دھرتا۔ جب رات کی تاریکی کا پردہ چاک ہوا اور سورج کا اجالا پھیلا تو وہ معصوم کرچی کرچی ہو کر اپنے وجود کو سمیٹنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

میں نے گاؤں کی عورتوں کو بس اتنا کہتے سنا کہ اس کے جسم سے لہو بہہ رہا تھا اور اس کا کنوارہ پن ثابت ہو چکا تھا۔ دو دن بعد اس کو طلاق دے کر واپس بھیج دیا گیا۔ اور اس سچی روداد کو کسی نے اپنی یاداشتوں میں زیادہ دیر تک جگہ نہ دی۔ اس سے تو بہتر تھا کہ اسے زندہ درگور کر دیا جاتا یا دیوار میں چنوا دیا جاتا تاکہ مردانہ سماج کی کلاسیکی روایت کا تسلسل اور بھرم توقائم رہ جاتا۔ مگر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تُرکی میں اس اس تسلسل کو زندہ رکھنے کیلئے اس سے ملتی جُلتی کہانیوں کو دبانے کی خاطر پارلیمنٹ میں بل لایا گیا ہے تاکہ ایسے معاملوں کو قانونی شکل دے کر اپنی مردانگی کی فتح کا مزہ لیا جا سکے۔ (تفصیل کے لئے بی بی سی اردو کی اس خبر کو ملاحظہ کیجئے۔) درد کو محسوس کرتے ہوئےمیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان ماؤں کو ان عورتوں کو جو ہزاروں کی تعداد میں اپنی کوکھ میں پلتے درد کو طاقت بناتے ہوئے خوف اور جبر کے خلاف سینہ سپر ہو گئیں اور اس بل کے خلاف باہر نکلیں جسکی وجہ سے جسٹس پارٹی کے وزیر اعظم کو یہ بل کچھ مدت کیلئے موخر کرنا پڑا۔ جس کے باعث ایک موہوم سی امید کے ساتھ دل کو تسلی ہوئی کہ کبھی تو عورت بھی اپنے سالم جذبات، روح اور آزادی کے ساتھ اس دنیا میں جی جان سے جی پائے گی۔

About ذوالفقار زلفی 63 Articles
ذوالفقار علی نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ آج کل کچھ این جی اوز کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ایکو کنزرویشن پر چھوٹے چھوٹے خاکے لکھتےہیں اور ان کو کبھی کبھار عام لوگوں کے سامنے پرفارم بھی کرتے ہیں۔ اپنی ماں بولی میں شاعری بھی کرتے ہیں، مگر مشاعروں میں پڑھنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریا سے باتیں کرنا، فوک کہانیوں کو اکٹھا کرنا اور فوک دانش پہ مبنی تجربات کو اجاگر کرنا ان کے پسندیدہ کاموں میں سے ہے۔ ذمہ داریوں کے نام پہ اپنی آزادی کو کسی قیمت پر نہیں کھونا چاہتے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.