میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں

Atif Aleem

میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں

از، محمد عاطف علیم

تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں خلیل الرحمٰن قمر جیسے ٹھیکے پر ڈرامے لکھوا کر مشہور ہوجانے والے، تھڑے پر بیٹھے ہوئے بند دماغ والے اور نیم خواندہ فاشسٹ کو۔ اور بھول جائیں مشکوک وابستگیوں کی حامل اپر کلاس ماروی سرمد کو۔

مجھے ان دونوں سے کوئی دل چسپی نہیں کیوں کہ یہ دونوں دھول اڑانے اور گم راہی پھیلانے پر مامور ہوں۔

ان میں سے ایک عورتوں کے اس گروہ کی نمائندہ ہے جو عورت کی آزادی کے وسیع تر سوال کو جنسی آزادی کے ضمنی سوال کی حد تک محدود کرنے کی خواہش مند مراعات یافتہ عورتوں کی نمائندہ ہے۔

اور دوسرا، خیر دوسرے کی تو بات ہی چھوڑیں کہ اس بے چارے کو تو میل شاونسٹ کے ہجے بھی نہیں آتے ہوں گے۔ وہ بے چارہ موقع سے فائدہ اٹھا کر پاٹے خان بننے کے چکر میں ہے۔

اب آئیں اصل معاملے کی جانب۔

اس مارچ کی حمایت یا مخالف سے پہلے ہمیں پدر شاہی سماج میں عورت کے مقام کا تعین کرنا ہو گا۔

عورت، جیسا کہ ایک معلوم شدہ حقیقت ہے، سماج کی تشکیل اور سماجی ارتقاء کے ہر موڑ میں اگر مرد سے چند قدم آگے نہیں تو اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی آئی ہے۔ مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں کہ فریڈرک اینگلز نے مادر سری سماج کا مفروضہ کن شواہد کی بناء پر قائم کیا تھا لیکن غیر تحریر شدہ تاریخ کے کسی نا معلوم دور میں میری محدود و مشکوک فہم کے مطابق کچھ قبائل اور کچھ بستیوں کے اندر اگر عورت کی بالا دستی نہیں تو مرد اور عورت کی مساوات ضرور موجود ہوگی۔ (تاریخ کے تناظر میں اس سوال پر میں الگ سے معروضات پیش کروں گا۔ فی الوقت میں تاریخ کی سادہ ترین تعبیر کے ذریعے بات کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔)

اور پھر ایسے ادوار بھی آئے جب ایک جگہ قدرِ زائد یعنی اضافی پیداوار ہونا شروع ہوئی تو ارد گرد کے بھوکے اور وحشی گروہ اس قدرِ زائد پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے اول الذکر پر حملہ آور ہو کر ان پر قابض ہونا ہو گئے۔ اس کے بعد طاقت کا ایک لا متناہی چکر شروع ہو گیا جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی بَہ دولت ابدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

طاقت کی بالا دستی کے ساتھ ہی اس صنف، یعنی مرد نے بھی اپنی بالا دستی قائم کرلی کیوں کہ اس کے جسمانی مسلز زیادہ مضبوط تھے اور اس کا دل زیادہ سخت تھا، یعنی وہ “جہاد و قتال” پر عورت کی نسبت زیادہ آسانی سے خود کو آمادہ کر سکتا تھا۔

فیصلہ ہوا ہے کہ عورتیں جنگ و قتال کے ماحول میں “چادر اور چاردیواری” تک محدود ہوجائیں کیوں کہ ایک جنگ زدہ ماحول میں جسمانی طور پر کم زور ہونے کے باعث وہ مردوں کی liability قرار پا چکی تھیں۔ یہی وہ حالات ہوں گے جنہوں نے عزت اور غیرت جیسے تصورات کو جنم دیا ہو گا۔ عورت مرد کی جائیداد قرار پائی اسی طرح جیسے قبیلے کے دوسرے مویشی۔

البتہ افادیت کے فرق سے عورت کو زیادہ “مفید مویشی” قرار دیا جا سکتا ہے۔ مویشیوں سے ان کی افادیت کی بنا پر پیار تو کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ طاقت کے اس کھیل میں عورت کا درجہ بھی انسان سے گھٹ کر نیم انسان رہ گیا تھا لہٰذا اس کے انسانی حقوق کا کیا سوال؟

یورپ میں بھی بیسویں صدی کی اولین دھائی تک مسز پنکھورٹ کی قیادت میں بالائی اور متوسط طبقے کی عورتوں نے ووٹ کے حقوق کی تحریک چلائی تو برطانوی سماج نے انہیں بھی اسی حیرت، خوف اور تحقیر کے ساتھ دیکھا جیسا آج ہماری ریاست اور اس کے ساتھ فکری سانجھ رکھنے والے مرد اور عورتیں “عورت مارچ” کو دیکھتے ہیں۔ برطانیہ میں عورتوں کی بیداری کی غالباً یہ اولین تحریک تھی جس نے فتح حاصل کرنے سے قبل بہت سا کشت و خون اور قید و بند دیکھی۔

اب آ جائیں ہندوستانی سماج کی طرف۔ یہاں ہندو دھرم میں عورت کو عزت صرف “ماتا اور دیدی” کے روپ میں مل ہی سکتی تھی۔ ان رشتوں کو بھی حقوق کی بَہ جائے صرف عزت اور تکریم پر ٹرخا دیا گیا۔ رہی عورت بَہ حثیت صنف کے تو اس کا حال آپ کو تاریخ بڑی صراحت کے ساتھ بتا دے گی کہ ہندو سماج بیوہ کے ساتھ کیا، سلوک کرتا تھا اور بیوی کے ساتھ کیا، سلوک کرتا تھا۔

یہاں جنس ایک بھرشٹ کر دینے والی اور دہشت زدہ کر دینے والی چیز تھی جس کے نتیجے میں عورت کے ساتھ بھی نا پاکی کا تصور وابستہ ہو گیا کیوں کہ اسے ماہواری بھی آتی تھی اور وہ بچے بھی جَنتی تھی۔

ہندو دھرم جو شدھ اور نا شدھ اور پاکی اور نا پاکی کے تصورات کی بنیاد پر کھڑا تھا محکوم اور بے زمین طبقات ہوں یا عورتیں کسی بھی ایسی چیز یا انسانوں کے گروہ کا وجود برداشت کرنے پر آمادہ نہ تھا جسے کم زور ہونے کے باعث نا پاک ٹھہرایا جا سکتا تھا۔

اسلام نے عورتوں کو حقوق کس حد تک دیے اور کن شرائط پر دیے یا سِرے سے دیے بھی یا نہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن ہندوستانی مسلمان اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ عورت دشمنی کے اشتراک میں کھڑا تھا۔ آپ شاہ جہاں کے زمانے کی دلی یا شاہ جہاں آباد اور پھر بعد کے زمانے کے اودھ کے گلی کوچوں میں موجود پردے کی غیر انسانی سخت گیری کا مطالعہ کرلیں آپ پر خود واضح ہو جائے گا۔

کسی بھی دوسرے قبائلی یا جاگیر داری سماج کی طرح ہندوستانی سماج میں بھی عورت کو دیوی کی طرح پوجا تو جا سکتا تھا لیکن اسے برابر کا انسان تسلیم کرنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ کئی ایسے لوگ ابھی تک موجود ہوں گے جنہوں نے اپنے بچپن میں اپنی ماں اور بہنوں کو رسوئی، یا باورچی خانے میں چھپ کر کھانا کھاتے دیکھا ہوگا کیوں کہ مرد کی کمائی میں سے خود اپنے اوپر خرچ کرنا ایک “شرم ناک” بات تھی۔

عورت جانور کی طرح گھریلو کاموں میں مصروف رہتی تھی لیکن وہ دو وقت کی روٹی بھی مرد کا احسان تسلیم کیے بَہ غیر کھانے کی روا دار نہ تھی۔ اور پھر یہی وہ سماج ہے جہاں اٹھارہویں صدی تک مرد کے مرنے پر عورت کو اس کے کی ارتھی کے ساتھ ہی جل مرنا پڑتا تھا اور اسی میں اس کی پتی ورتا چھپی ہوتی تھی۔

مسلمانوں یا دوسرے مذاہب کے یہاں اگر ستّی کی رسم نہیں تھی تو اور بہت کچھ ایسا تھا جو عورت کے انسان ہونے کی نفی تھا۔ اس سماج میں مذہب کے فرق سے بالا تر ہوکر دیکھیں تو عورت کے ساتھ ایک سا سلوک دکھائی دیتا ہے۔ وہ شوہر کے بچے تو اس کی مرضی کے مطابق پیدا کر سکتی ہے لیکن اس کی جائیداد میں حصے کی حق دار نہیں ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں عورت کی سوال کو تاریخ کی گہرائیوں میں جائے بَہ غیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔

یہاں جاگیر داری نے عورت کے ساتھ جو ظلم روا رکھا وہ ایک الگ موضوع ہے اور اس قدر ہول ناک ہے کہ تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

اب آ جائیں اپنے موجودہ سماج کی طرف۔ اس سماج نے انگریزی میں گٹ مٹ کرنا تو بی اے میں کئی بار فیل ہونے کے بعد کسی نہ کسی طرح سیکھ ہی لیا، لیکن اس کی ذہنی پسماندگی آج بھی اتنی ہی شدت کے ساتھ موجود ہے جتنی سینکڑوں برس پہلے تھی۔ یہ سماج جو اپنی ساخت میں tribo-feudal ہے، اپنے زبانی دعوؤں کے با وجود یہ تسلیم کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے کہ عورت کے حقوق شقوق تو خیر ایک طرف اسے برابر کی انسان بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

اگر کوئی “تقدیسِ مشرق کی ثنا خوانی” پر مُصر ہے تو وہ ایک نظر اپنے ارد گرد دیکھ لے۔

کیا اب بھی بیٹی کی پیدائش پر سوگ نہیں منایا جاتا؟

کیا اب بھی بیٹے کی حسرت میں سات سات بیٹیوں کی لائن نہیں لگائی جاتی؟

کیا اب بھی خاندانی کی عزت اور ناموس کی ذمے داری کا بوجھ دس دس بارہ بارہ سال کی بچیوں کے نازک کندھوں پر نہیں ڈالا جاتا؟

کیا اب بھی بیٹی کے ساتھ تمام تر پیار کے باجود بیٹے کی پلیٹ میں گوشت کی زیادہ بوٹیاں نہیں ڈالی جاتی ہیں؟

کیا اب بھی باپ اور بھائی بچیوں کو سکول کالج چھوڑنے نہیں جاتے ہیں؟

کیا اب بھی بیٹیوں کی تعلیم میں بہانے بہانے سے رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جاتی ہیں؟

کیا اب بھی مائیں اپنی بیٹی پر کڑی نگاہ نہیں رکھتی ہیں؟

کیا اب بھی گھٹن زدہ، تاریک مکانوں کے دریچوں سے گلی میں جھانکنے پر لڑکی کو بد چلن کا طعنہ برداشت نہیں کرنا پڑتا؟

کیا اب بھی عورت کو “شمع خانہ” جیسی گھٹیا جذباتی بلیک میلنگ کا نشانہ نہیں بنایا جاتا؟

کیا اب بھی کام پر جانے والی عورت کو مشکوک نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا؟

کیا اب بھی راہ چلتی عورت کے جسم میں گندی نظروں کے تیر نہیں اتارے جاتے؟

کیا اب بھی کبھی کھلے اور کبھی ملفُوف انداز میں عورت کے دام کھرے نہیں کیے جاتے؟

کیا اب بھی مسجدوں اور مزاروں میں عورتوں کو داخلے کے حق سے محروم نہیں کیا جاتا؟

کیا اب بھی ماں کو دیوی لیکن بیوی کو پاؤں کی جوتی نہیں سمجھا جاتا؟

کیا اب بھی عورت کی معمولی سی لغزش بھی اسے زندگی کے حق سے محروم کرنے کا باعث نہیں بن جاتی، جب کہ مرد بد کاری کی ہر حدود پھلانگنے پر بھی نظر انداز نہیں کر دیا جاتا؟

کیا اب بھی عورت کو ریپ کا نشانہ بنانے پر خاموشی اختیار نہیں کی جاتی؟

کیا اب بھی ماروی سرمد کی دھجیاں اڑانا باعثِ افتخار نہیں سمجھا جاتا اور گومل یونی ورسٹی والے مولوی یا کسی بھی بد کردار مرد کے گھناؤنے پن کو بھلانے میں عافیت نہیں سمجھی جاتی؟

سوالات بہت ہیں، آپ اپنی معلومات اور اپنے مشاہدات کی بناء پر سیکنڑوں ایسے سوالات خود سوچ سکتے ہیں۔ یہ تمام سوالات وہ نشتر ہیں جو اس بیمار اور نیم مردہ سماج میں گڑے ہوئے ہیں۔

جہاں تک تعلق ہے “میرا جسم، میری مرضی” کے نعرے کا تو اخلاق کے ٹھیکے دار اسے جنسی معنویت تک محدود کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ وہ کیوں عورتوں کے حقوق کی حمایت کرنے والے مردوں کی طرح اسے عورت کی آزادی کے سلوگن کے طور پر نہیں دیکھتے؟

کیا عورت کے حق میں اٹھنے والی کسی بھی آواز میں اپنے باطن میں چھپی گندگی انڈیل کر وہ خود ثابت نہیں کر رہے کہ بیمار ذہنیت کے لوگ عورت کی آزادی اور اس کے حقوق سے خوف زدہ ہیں؟

کیا وہ اس بات سے خوف زدہ نہیں ہیں کہ نصف سے زیادہ آبادی ان کے تسلط سے رہائی پا کر خود مختار، با اعتماد ہو کر خود سماج کو صحت مند اور طاقت ور بنانے کی جانب قدم بڑھا چکی ہے، اس طرح وہ اب عورت کو مزید اپنی لاٹھی سے نہیں ہانک سکیں گے؟

کیا وہ عورت مارچ سے اسے لیے خوف زدہ تو نہیں ہیں کہ ایک ایسا سماج تشکیل پانے کو ہے جس میں انہیں اپنی بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دینا پڑے گا؟ اس کی مرضی کا خیال رکھنا پڑے گا؟ اسے برابر کا انسان سمجھنا پڑے گا اور شاید اس کی قیادت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا؟

سماج کے یہ ٹھیکے دار اتنی آسانی سے یہ سب کیسے ہونے دیں گے۔ وہ شور تو مچائیں گے اور ان کے شور کی آواز اونچی بھی بہت ہوگی کیوں کہ ریاست، اس کے ادارے، اس کی حکومتیں، اس کا میڈیا اور اس کے کاسہ لیس اندھیروں میں جینے کے عادی ہیں۔انہیں خوف ہے کہ اگر اچانک انہیں روشنی میں آنا پڑا تو وہ اندھے بھی ہو سکتے ہیں۔

میں عورت مارچ کی درج بالا تمام وجوہات کی بناء پر حمایت کرتا ہوں۔ اگر کروڑوں چمگادڑیں اندھی ہو جائیں تو بھی مجھے قبول ہے کیوں کہ میں مانتا ہوں کہ صرف سورج کی روشنی میں ہی فصلیں لہلہاتی ہیں اور دھرتی مسکراتی ہے۔

میں عورت مارچ کی حمایت کرتا ہوں کیوں کہ میں اپنی زندگی میں اپنی دھرتی کو مسکراتے ہوئے دیکھنے کی حسرت میں مرے جا رہا ہوں۔

اور ہاں، میں یہ اعلان بھی کرتا ہوں کہ میں عورت مارچ میں اپنی دونوں بیٹیوں سمیت شرکت کروں گا کیوں کہ میں اپنی بیٹیوں کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی چمگادڑیں نہیں، آزاد اور خود مختار انسان کے طور پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔

About محمد عاطف علیم 21 Articles
محمد عاطف علیم شاعر، افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ مشک پوری کی ملکہ اور گرد باد ان کے اب تک آنے والے ناول ہیں، جنہیں قارئین اور نقادوں میں بہت پذیرائی ملی ہے۔