نجی و عوامی زندگی اور آج کل کی صحافت ، از، خشونت سنگھ

نجی و عوامی زندگی اور آج کل کی صحافت ، از، خشونت سنگھ

نجی و عوامی زندگی اور آج کل کی صحافت ، از، خشونت سنگھ

اخذ و ترجمہ: عرفانہ یاسر

میں نے السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا کا مدیر بننے کی پیشکش کو اس وقت قبول کیا جب میں امریکہ میں تقابلِ ادیان اور معاصر ہندوستان کے مضامین پڑھا رہا تھا۔ یہ 1969 کی بات ہے اور یہ ذمے داری ممبئی میں تھی۔ السٹریٹڈ ویکلی اس وقت اپنی طرز کا واحد میگزین تھا اور میں صحافی کے طور پر اس میں قسمت آزمانا چاہتا تھا۔ اس سے پہلے میں آل انڈیا ریڈیو اور حکومت کے میگزین یوجنا کے لیے کام کر چکا تھا۔ اس کے علاوہ میں عالمی اخبارات و جرائد جیسا کہ نیویارک ٹائمز کے لیے بھی لکھ رہا تھا۔ میں بھارتی اخبارات دی سٹیٹس مین اور ٹائمز آف انڈیا کے لیے باقاعدگی سے لکھ رہا تھا اس لیے میری بائی لائن لوگوں کے لیے نئی ہر گز نہیں تھی۔ میں وہی لکھتا تھا جو میں محسوس کرتا تھا، سوچتا تھا اور جو دیکھتا تھا۔ میں بہت زیادہ حالتِ سفر میں رہتا تھا اس لیے میرے پاس لکھنے کے لیے بہت زیادہ موضوعات اور مواد ہوتا تھا۔نجی و عوامی زندگی اور آج کل کی صحافت : از، خشونت سنگھ

میری وجہ سے السٹریٹڈ ویکلی کامیاب ہوا کیونکہ میں ایک صاف و شفاف اور تازہ ذہن کے ساتھ آیا تھا۔ مجھے پتا تھا میں کیا کرنا چاہتا ہوں اور مجھے کیا کرنا ہے۔ میں نے اپنے طور پر کبھی صحافت اور ادب میں کوئی تفریق نہیں سمجھی تھی۔ یہ دونوں ابلاغ کے منصب ہی کے لیے تو ہیں۔ مجھے سیاست پر لکھنے میں کوئی مشکل درپیش نہیں تھی کیونکہ مختلف موضوعات پر میری اپنی آراء ہوتی تھیں اور ان کو تحریری شکل میں پیش کرنے میں مجھے قطعی طور پر کوئی خوف وخطرہ محسوس  نہیں ہوتا تھا۔

مجھے اپنے فارمولے، معلومات مہیا کرنے، دل چسپی پیدا کرنے انداز اور جذبات ابھارنے پر یقین اور خود اعتمادی تھی کیونکہ امریکہ میں درس وتدریس کے دوران میں اس بات سے بخوبی آگاہ ہو گیا تھا کہ میں بھارت کے لوگوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ بعد ازاں میں نے مختلف ذاتوں اور برادریوں کے بارے میں اتنا پڑھا کہ اب میں اپنے آپ کو ایک بہتر مقام و جگہ پر سمجھ سکتا تھا۔ میں خوش قسمت تھا کہ میرا کوئی باس نہیں تھا اور میں اپنی مرضی  سے کام کر سکتا تھا۔

ہم نے بھارت کی مختلف جاتیوں اور برادریوں پر تحریروں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ بعد ازاں ہم نے ایک سلسلہ I Believe کے نام سے شروع کیا جہاں معاشرے کے نمایاں افراد خدا، کرپشن، قسمت کا حال، مذہب اور ایسی دوسری چیزوں پر بات کرتے تھے۔ ہم حالات حاضرہ پر مضمون لکھتے تھے۔ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمایاں لوگوں کی زندگی پر فیچر لکھتے تھے، مثال کے طور پر جین مہاویر کی سالگرہ۔

میں نے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلٰی کو لکھا کہ ان کی زندگی کی اچھی چیزوں پر بات کرتے جانے سے کچھ خاص حاصل نہیں ہو گا جب تک ان کی بیان کردہ بھاشنوں پر عمل نہیں کیا جائے گا، اس لیے کچھ ٹھوس کام کرنا ہو گا۔ اور اگر وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو جتنی وہ چاہیں گے میں ان کی تشہیر کروں گا۔ ان کا ردعمل بہت عمدہ تھا۔ ان میں سے بہت سارے لوگوں نے اپنی ریاست میں شکار پر پابندی عائد کر دی۔ ہم نے اس اقدام کو اپنے میگزین میں  جگہ دی۔

ہم نے متحرک تصاویر کو تفصیلی کیپشن کے ساتھ شائع کیا جس نے ان تصاویر کو ایک مفہوم دیا، مثال کے طور پر سدھرتھا فلم کی ایک فوٹو جس میں سمی گریوال نے بہت کم کپڑے پہنے ہوئے تھے، ایک قبائلی لڑکی کی اس کے قبیلے کے بارے میں معلومات کی فوٹو۔ اس کی وجہ سے میگزین کی سرکولیشن بڑھ گئی اور اب پرانے طور طریقوں کی جانب پھر سے واپس لوٹ کر دیکھنے کا کوئی رستہ نہیں تھا۔

میرے وقتوں میں ایک مدیر اخبار یا میگزین کا حقیقت میں نگران ہوتا تھا۔ اب قومی سطح کے اخبارات ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز کی پورے بھارت میں سرکولیشن ہے، لیکن مجھے ان کے مدیروں کا نام نہیں پتا کیونکہ اب وہ اخبار نہیں چلاتے۔ اب اخبار یا تو مالک خود چلاتے ہیں یا ان کے بچے چلاتے ہیں۔

اخبارات اتنی خبریں اٹھاتے ہیں جتنی پہلے صفحے پر پوری آ جائیں اور وہ بھی اس صورت میں اگر کوئی اشتہار نہ ہو۔ باقی اخبار، بالی وڈ ، فیشن ڈیزائنر، کھانوں، ریستورانوں اور خوب صورت لڑکیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ تمام اخبارات پر نظر دوڑائی جائے تو وہ  پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے۔

آج کل میرا نہیں خیال کہ مدیر کے ہونے کا کوئی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ ایک اخبار میں نمائندوں کی ملک کے مختلف خبروں کے علاوہ، درمیانی صفحہ جس پر کالم اور اداریہ ہوتا ہے، باقی کا آدھا اخبار خبر رساں اداروں کی خبروں اور عالمی اخبارات و جرائد کی پہلے سے شائع شدہ تحریروں سے بھرا ہوتا ہے۔ میں دن میں تقریبا چھ سے آٹھ اخبارات دیکھتا ہوں لیکن میرازیادہ وقت کراس ورڈ پزلز کو حل کرنے ہی میں گزرتا ہے کیونکہ مجھے پورے اخبار میں سب سے زیادہ دل چسپ چیز اب بس یہی لگتی ہے۔

آج کل کے زیادہ تر مدیر حقائق پیش کرنے کی بجائے تبلیغ کرنا پسند کرتے ہیں۔ اور وہ زیادہ تر نمائشی سے ہوتے ہیں۔ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ فرینک، موریز، کستوری رنگا، پوتن جوزف اور پریم بھاٹیا کی اپنی ایک ساکھ ہوتی تھی۔ اسی کی دھائی میں ٹائمز آف انڈیا کےمدیر دلیپ پیڈگانکر کا یہ کہنا غلط نہیں تھا کہ وزیر اعظم کے بعد سب سے اہم کام ان کا ہے۔

حکمران جماعت پر تعمیری تنقید اپوزیشن کی جانب سے نہیں بلکہ آزاد پریس کی طرف سے ہوتی تھی۔ جس کی قابل اور ذمہ دار لوگ جیسا کہ ایس ملگانکر ادارت کرتے تھے۔ وہ بہت اعلیٰ درجے کے مدیر تھے اور ان کو  زبان پر مہارت تھی۔ بی جی ورگیز شاندار تھے۔ وہ بہت ایماندار اور صاف گو تھے۔ فرینک موریز انتہائی دیانت دار تھے اور ان کو زبان پر عبور حاصل تھا۔

ٹی وی کے آتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ ٹی وی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس کی پہنچ بہت دور تک ہے۔ ہم بنیادی طور پر سست لوگ ہیں۔ اگر ہم کوئی چیز ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو اس کے بارے میں اگلے دن اخبار میں پڑھنا نہیں چاہتے۔ اس کو کرنے میں تھکن محسوس ہوتی ہے۔ ٹی وی کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کی وجہ سے اخبار میں اداریہ پڑھنے والوں کی تعداد میں مزید کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اخبار کے مالکان کو احساس ہوا کہ ٹی وی سے مقابلہ کرنے کے لیے اور طریقے اختیار کرنے ہوں گے اس لیے مدیر غیر ضروری ہیں۔ اس وجہ سے اخبارات میں فلموں کی خبروں اور سوسائٹی پارٹیز کو زیادہ جگہ دے دی گئی۔

آج کل پرنٹ میڈیا کو سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آپ نے ایسا مواد دینا ہے جو کہ پڑھا جا سکے۔ اس کے لیے پہلے آپ کو ایسے مواد کا مطالعہ کرنا ہے اور اس کو ایسی شکل میں ڈھالنا ہے کہ لوگ اس کو پڑھ سکیں۔  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے صحافی اپنے سبجیکٹ میں مہارت نہیں رکھتے اس لیے ان کو اس پر لکھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ وہ اس پر ہوم ورک نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اخبار کا زیادہ تر مواد تقاریر پر ہوتا ہے یا پھر سیاسی جماعتوں کے اجلاس کا۔ آج کل کے مضامین گھسے پٹے فقروں اور انڈین ازم  سے بھرے ہوتے ہیں۔ لکھاریوں کو زبان پر مہارت نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے صحافی پڑھتے نہیں ہیں۔ آپ کو قارئین کی توجہ حاصل کرنی ہے اور اگر آپ پہلی کچھ سطروں میں یہ نہیں کر سکے تو پھر آپ ہار گئے ہیں۔

ایک اچھا میگزین یا اخبار مختلف چیزوں کا کاک ٹیل ہونا چاہیے۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کون سا سکول یا کالج بہتر ہے۔ یہ لسٹنگ مشکوک ہے۔ زیادہ دل چسپ چیز مختلف ریاستوں کی کارکردگی کا سروے ہو گا۔ سبز انقلاب پر زیادہ مضامین لکھے جانے چاہیں۔ زیادہ تر انڈینز چاول اور گندم اگانا پسند کرتے ہیں۔ کتنا ہی اچھا ہو اگر فلوری کلچر اور ہارٹیکلچر پر لکھا جائے۔ مختلف پھل مثلا کیویز، ناشپاتی ، میکاڈیمیا، پھول آرچیڈ اور للیز کو اگانے کے طریقوں پر لکھے جانے چاہئیں۔ قارئین ایسے مضامین کو پسند کریں گے اور زرعی یو یونیورسٹیوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان پر ریسرچ کریں۔

کسی بھی جریدے میں تصویری مواد کی اہمیت اس کے متن جتنی ہی ہے۔ ایک تصویر بھی معلومات مہیا کرنے اور دل چسپی پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ آج کل کے صحافی کسی بھی تصویر کی کیپشن کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ ایک نامکمل اور غلط کیپشن تصویر کے اثر کو زائل کر دیتا ہے۔

اب میڈیا مقابلے کی مارکیٹ ہے۔ اس لیے آپ کو ہر وقت اپنے قارئین کے بارے میں سوچنا ہوتا ہے۔ قارئین کون ہیں؟ ان کی دل چسپی کیا ہے؟ وہ کتنے ذہین ہیں؟ میگزینز کو زیادہ سنجیدہ اور دل چسپ ہونا چاہیے بہ نسبت اس وقت کے جتنے وہ ہیں۔ ہندوستان کے لوگوں میں حسِ مزاح نہیں ہے۔ ہم بیرونی ممالک کے کارٹونز پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ ہم خود بہت اچھے بنا سکتے ہیں۔ ہم اپنا ڈینس دی مینس کیوں نہیں بنا سکتے؟

ایک اور چیز جس کی وجہ سے میگزین میں لوگوں کی دل چسپی بڑھائی جا سکتی ہے وہ مذہب، آسٹرالوجی، ستاروں کے علم کے بارے میں مضامین ہیں۔ ان میں زیادہ تر عقائد خلافِ عقل ہیں۔ مذہب اس ملک میں ایک خطرہ بن چکا ہے۔ کُمبھ میلے کی مثال لے لیں بھگدڑسے بچنے کے لیے ریاست کے وسائل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلمان زائرین کو حج ادا کرنے کے لیے کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے مضامین جن میں مذہب پر تنقید کی جائے گی لوگوں کو اکسائیں گئے کیونکہ بھارت میں مذہب ایک انہتائی حساس معاملہ ہے لیکن شِوسینا کو آپ کے دفتر کو آگ لگانے سے بچانے لیے لیے لکھنے کے اور طریقے موجود ہیں۔

ٹی وی پر کسی بھی خبر کو بریک کرنا جبکہ اخبارات اور میگزینز میں سٹِنگ آپریشنز اہم ہیں کیونکہ میں اس چیز پر یقین رکھتا ہوں کہ ایک صحافی ایسی چیزوں کو سامنے لانے کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کرنے کا مجاز ہے جس میں وہ ایسی چیزیں سامنے لاتا ہے جو کوئی شخص سر انجام دینے کا مصنوعی دعوٰی تو کرتا ہے، لیکن اصلا اس سے مختلف ہوتا ہے۔

آج کل دنیا میں مہارتوں پر مبنی ڈگری تعلیم بہت زیادہ ہے اور صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان دعووں کی حقیقت کو سامنے لے کر آئیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صحافی اس کام کو میرٹ پر کریں کیونکہ ماضی میں صحافی اس کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ میں لوگوں کی بھلائی کے لیے کیے گئے سٹنگ آپریشنز کا حامی ہوں۔

بے شک ہر شہری کو کو نجی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور کوئی اس میں دخل اندازی کرتا ہے تواس کو سزا ملنی چاہیے۔ لیکن پرائیویٹ شہری اور پبلک شہری میں تفریق ہونی چاہیے۔ سیاست دان، سرکاری افسران، آرمی آفیسرز، عدلیہ کے ممبرز، مذہبی تنظیموں کے رہنماء، کاروباری ناخدا  اور وہ تمام لوگ جو عوام کی خدمت کے لیے ہیں، وہ ان میں شامل نہیں ہیں۔ اور اگرعوام کے سامنے وہ جو دعویٰ کرتے ہیں وہ اس چیز کے برعکس ہے جیسا کہ وہ اصل میں کرتے ہیں، یا پھر کسی قسم کی کرپشن میں ساجھے دار ہیں تو ان کو سٹِنگ آپریشن کے ذریعے سامنے لانا بالکل جائز ہے۔

پرنٹ میڈیا والے قارئین کی دل چسپی بڑھانے کے لیے اخبارات و جرائد کی ظاہری شکل و صورت میں تبدیل رو بہ عمل لانے کا حربہ بھی آزماتے ہیں۔ کسی بھی میگزین یا اخبار کے لے آؤٹ میں بہت زیادہ تبدیلی قارئین کو پریشان کر سکتی ہے۔ یہ قارئین کو خواہ مخواہ میں بے چین کر دیتی ہے۔ اخبارات اور ہفتہ وار میگزینز کی لوگوں کو ایک خاص طرح پڑھنے کی عادت ہوتی ہے اور اگر کوئی اس میں تبدیلی کرتا ہے تو اس کو بہت ذہانت سے کرنی چاہیے۔ ظاہری شکل و صورت کو تبدیل کرنے کے لیے بہت مہنگے ڈیزائنرز کی خدمات حاصل کی جاتی  ہیں، جوکہ اس میں بہت زیادہ تبدیلی لے آتے ہیں۔ جب تبدیلی زیادہ ہوتی ہے تو قارئین کی تعداد کے کم ہو جانے کا خطرہ ہو جاتا ہے۔

About عرفانہ یاسر 13 Articles
عرفانہ یاسر پچھلے ایک عشرہ سے زیادہ الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری کے سر کردہ چینلوں، جن میں جیو نیوز اور ایکسپریس نیوز شامل ہیں، سے بطور نیوز ٹی وی پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ کچھ عرصہ وفاقی وزارت پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز میں بطور میڈیا مینیجر کے فرائض ادا کرتی رہی ہیں۔ کچھ عرصہ فری اینڈ فیئر الیکشنز نیٹ ورک (FAFEN)میں بھی آئینی ترقی، گورننس اور پارلیمانی امور پر ریسرچ رپورٹ رائٹر کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ ان دنوں اے آر وائی نیوز میں شعبہ حالات حاضرہ کے ایک پرائم ٹائم پروگرام کی پروڈیوسر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.