ایٹم بم آخر ہم نے کس دن کے لیے بنایا تھا؟

Yasser Chattha
یاسر چٹھہ

ایٹم بم آخر ہم نے کس دن کے لیے بنایا تھا؟

از، یاسر چٹھہ 

بہت غور کرنے کے بعد وہ نتیجے پر پہنچ چکا تھا۔

اب اس کا ذہن واضح تر تھا۔

اس نے حالات پر گہری نظر رکھنے والے کسی چنیدہ بندے بشر کی طرح آنکھوں کی بھنووں میں بدن کے رُویں رُویں اور دماغ کے خلیے خلیے سے سنجیدگی کھینچی اور کہا:

“مدافعتِ اَنبوہ، یعنی، herd immunity کوئی انسان دوست آپشن ہر گز نہیں۔

“اس آپشن کے لینے سے انسان زیادہ لمبے دورانیے تک سکسکتے ہیں، اور سانسوں کی طویل مشقِ اذِیّت سے مرتے ہیں۔

“لاک ڈاؤن کرنے سے دیہاڑی داروں کے رزق میں کوتاہی، مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔

“ماسک لگانے سے غریب عوام کی سانس گُھٹتی ہے، جیسے موٹر سائیکل پر بیٹھتے وقت ہیلمٹ پہننے سے معصوم عوام کے بالوں میں پسینہ آ آ کر خواہ مخواہ ان کا پانی ضائع ہوتا ہے، اور گاڑی چلاتے وقت سِیٹ بَیلٹ باندھنے سے بَہ غیر کسی وجہ کے خود کو چڑیا گھر کے جانور جانور کا سا احساس پیدا ہوتا ہے۔

“اور پھر وہ عُذرِ عارضہ سے خوفِ عارضہ کی بَد تری __ سانسوں کی سزا سے پہلے اس عارضے کے لاحق ہو جانے کے خوف کی سزا جھیلتے جھیلتے اشرف المخلوقات سے رذالتُ المخلوقات بن جاتے ہیں۔”

وہ اپنے خود کلامیے پر ملنے والی خاموشی کو مَجمعے کی نیم رضا سمجھا۔ اسے سن کر بولنے والے تو پہلے ہی قید و بند کیے جا چکے تھے۔

سو، خاموشی میں سلامتی ہی ہو گی، یہ اس کا یقین تھا۔

لہٰذا، انسانی ہم دردی کے ارفع Olympia پر بیٹھ کر اس نے اپنے نتیجے کو فیصلہ میں مَحول کرتے ہوئے سوالیہ حکم دیا:

“ایٹم بم آخر ہم نے کس دن کے لیے بنایا تھا؟”

About یاسرچٹھہ 222 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔