مرگھٹ : افسانہ از، شموئل احمد

مرگھٹ

 مرگھٹ : افسانہ از، شموئل احمد

لاش اٹھا لی گئی تھی…..

اونٹ کے گھٹنے کی شکل کا وہ آدمی اب بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے چہرے کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں اور گال قبر کی طرح اندر دھنسے ہوئے تھے ۔ لگتا تھا کسی نے چہرے کی جگہ ہڈیاں رکھ کر چمڑی لپیٹ دی ہو۔ آنکھیں حلقوں میں دھنسی ہوئی تھیں اور کنپٹیوں کے قریب آنکھ کے گوشے کی طرف کوّوں کے پنجوں جیسا نشان بنا ہوا تھا ۔ وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ایک ٹک خلا میں کہیں گھو ررہا تھا…..

میں نے آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھر چلنے کی بات کی تو اس نے مری ہوئی آنکھوں سے ایک بار میری طرف دیکھا اور ایک لمبی سی سانس لی جیسے تازہ ہواؤں کو پھیپھڑوں میں بھرنا چاہتا ہو…..لیکن بارود کی بو اس کے نتھنوں میں سرائت کر گئی اور بارود کے ذرّات جیسے حلق میں پھنس سے گئے…..وہ کھانسنے لگا اور مسلسل کھانسنے لگا ،یہاں تک کہ گلے کی رگیں پھول گئیں۔ آنکھیں حلقوں سے باہر ابلنے لگیں۔ چہرہ کانوں تک سرخ ہوگیا ۔ میں جلدی جلدی اس کی پیٹھ سہلانے لگا۔ مسلسل کھانسنے سے اس کے منھ میں بلغم بھر آیا تھا ۔ کسی طرح کھانسی رُکی تو آستین سے منھ پونچھتے ہوئے اس نے کہا:

    ’’اب تو سانس لینا بھی…..‘‘

تب میں نے پوچھا کہ مرنے والا اس کا رشتہ دار تو نہیں تھا ۔ میری اس بات پر اس کی مُردہ آنکھوں میں ایک لمحہ کے لیے چنگاری سی سلگی تو مجھے لگا میرا یہ سوال یقیناًبے تکا تھا۔ جہاں روز کا یہ معمول ہو وہاں یہ بات واقعی کیا معنی رکھتی تھی کہ کون کس کا……..

دراصل اس علاقہ میں ایک مدت سے آسمان کا رنگ گہرا سرخ ہے۔ ہر طرف آگ برستی ہے۔ ہواؤں میں سانپ اڑتے ہیں ۔ ان کا سر کچلنے کے لیے راجہ کے سنتری بکتر بند گاڑیوں میں گھومتے رہتے ہیں ،لیکن زمین سخت اور آسمان دور ہے اور کب کون کس موڑ پر زد میں آجائے کہنا مشکل ہے۔

ابھی ابھی ایک آدمی زد میں آگیا تھا ۔اورسب کچھ حسب معمول چشم زدن میں ہوا تھا ۔ کچھ دیر پہلے وہ ایک دکان سے سبزیاں خرید رہا تھا کہ ایک گاڑی رکی تھی …..دو سوار اترے تھے …….ایک دھماکہ ہوا تھا ….اور سبزیاں خریدنے والا اسی پل….

دونوں سوار دیکھتے دیکھتے نگاہوں سے کہیں اوجھل ہو گئے تھے ۔تب گشت لگاتے ہوئے راجہ کے سنتری بکتربند گاڑیوں میں آئے تھے اور لاش اٹھالی گئی تھی ۔وہاں پر گرا ہوا خون دھوپ کی پیلی روشنی میں اب بھی کہیں کہیں جم کر تازہ کلیجی کی مانند چمک رہا تھا۔

    اور بھیڑ چھٹنے لگی تھی ، دکانوں کے شٹر گرنے لگے تھے اور دیکھتے دیکھتے سنّاٹا چھا گیا تھا۔

ہم خاموشی سے سر جھکائے ایک طرف چلنے لگے ۔سڑک دور تک سنسان تھی ۔دونوں طرف وحشت زدہ عمارتیں گم سم سی خاموش کھڑی تھیں …. یکایک دور کہیں کسی کتے کی رونے کی آواز ایک لمحہ کے لیے فضا میں چیخ بن کر ابھری اور ڈوب گئی۔ اس نے وحشت زدہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔

    پھر اس نے آہستہ سے کہا تھا:

’’یہ مرگھٹ ہے……ہم مرگھٹ کے لوگ ہیں….‘‘

    ’’ہاں……یہ مرگھٹ ہے…….یہاں سب اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں……‘‘ میں نے بھی جواب میں ٹھنڈی سانس لی .

    ایک بکتر بند گاڑی زنّاٹے بھرتی ہوئی قریب سے گذرگئی۔

    ’’بچارے راجہ کے سنتری…..‘‘ وہ ہنسنے لگا۔

    ’’راجہ کیا کرے….؟‘‘

    ’’وہ کر بھی کیا سکتا ہے…..‘‘

    ’’راجہ خود جانتا ہے وہ کچھ نہیں کرسکتا….‘‘

    ’’اس طرح جینے کا کیا مطلب ہے…..؟‘‘

    ’’ اور اس طرح مرنے کا بھی کیا مطلب ہے…..؟‘‘

ہم نے ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور پھر خاموشی چھا گئی۔

سامنے الکٹرک پول کے قریب ایک خارش زدہ کتا پیٹ میں منھ چھپائے سورہا تھا۔ ناگہاں کسی مکان میں زندگی کے آثار نظر آئے…..ایک     کھڑکی کھلی ۔کسی نے باہر تھوکا اور کھڑکی بند ہو گئی۔کتّے نے ایک بار سر اٹھا کر آواز کی سمت دیکھا اور پھر سوگیا۔

سنّاٹا یکایک پُرہول ہوگیا تھا ، ہوائیں سہمی سہمی سی گذررہی تھیں ۔ درختوں کے پتّے کسی مریض کی طرح کروٹ بدل رہے تھے ۔ سنتری کی     گشت لگاتی ہوئی گاڑیاں کبھی پاس معلوم ہوتی تھیں …..کبھی دور…..مستقل گھوں گھوں کی ان کی آواز سنّاٹے کا حصہ سی بن گئی تھی۔

یکایک وہ چلتے چلتے رک گیا اور خوف زدہ نگاہوں سے چاروں طرف دیکھنے لگا ۔ پھر اس نے اپنی مُردہ نگاہیں میرے چہرے پر گاڑدیں     اور اپنی کانپتی ہوئی سرد انگلیوں سے مجھے چھوا تو میں سہم گیا۔مجھے ایک جھرجھری سی محسوس ہوئی ۔

    ’’کتنا کریہہ اور بھدّا ہے یہ منظر …..خوف سے کانپتے ہوئے ہم…..‘‘

    ’’کیا ہم موت سے لڑرہے ہیں …؟‘‘

    ’’ہم ہر لمحہ…..ہر پل ……زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں ……اور دونوں میں فرق ہے……‘‘

    پھر اس نے اپنی سرد انگلیوں کی گرفت میرے بازوؤں پر سخت کرتے ہوئے کہا:

    ’’جانتے ہو کیا ہوتا ہے جب موت منھ پر تھوک کر زندگی بخش دیتی ہے ….‘‘

    میں خوف اور حیرت سے اس کو دیکھ رہا تھا ۔

    لمحہ بھر توقف کے بعد دور جیسے خلا میں گھورتے ہوئے کہنے لگا۔

    ’’میرے ساتھ یہی ہوا ہے….

    ’’ کیا …؟ ‘‘

    ’’.اُس بس میں میں بھی سوار تھا ….‘‘.

    وہ خا موش ہو گیا اور تھکی تھکی سی سانسیں لینے لگا….جیسے دور سے چل کر آ رہا ہو . .اس نے اپنی بے جان نگا ہوں سے ایک بار پھر مجھے گھور کر دیکھا .۔اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے. میں نے محسوس کیا کہ کچھ کہتے ہوئے وہ بے حد ازیت     سے گذر رہا ہے. آواز اس کے گلے میں پھنس رہی ہے۔

کچھ دیر مجھے اسی طرح گھورتا رہا پھر پھنسی پھنسی سی آ واز میں گو یا ہوا .

    ’’.سب کچھ اچانک ہوا تھا۔ ایک موڑ پر بس رکی تھی اور انھوں نے بندوقیں تان لی تھیں ۔میں اپنی سیٹ میں دبک گیا تھا…..وہ تڑاتڑ         کھوپڑیوں میں سوراخ کررہے تھے ۔ موت بالکل میرے سامنے کھڑی تھی اور میں کونے میں دبکا ہوا موت سے اپنی زندگی کی بھیک مانگ     رہا تھا …‘‘

    ’’ اور تم بچ گئے …! ‘‘

   ’’.اور میں بچ گیا…..موت میرے منھ پر تھوک کر چلی گئی۔ اس کی نظر مجھ پر نہیں پڑ سکی….‘‘

    ’’ہم کیوں نہیں یہ علاقہ چھوڑ دیں……‘‘ میں نے خوف سے کانپتے ہوئے کہا۔

    ’’اس سے کیا فرق پڑے گا…….؟‘‘

    ’’پھر…..؟‘‘

    اس نے ایک لمحہ کے لیے میری آنکھوں میں جھانکا۔

    ’’کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ابھی ابھی اس موڑ پر جو آدمی مرا ہے وہ کوئی اور نہیں خود تم ہو….؟‘‘

    میں خاموش رہا۔

    ’’تم نہیں سمجھوگے…..اس لیے کہ تم ان لوگوں میں ہوجو علاقہ چھوڑنے کی بات کرتے ہیں…..‘‘

    تب میں نے ایک تلخ سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

    ’’اور مارنے والا ……کیا مارنے والا دوسرا ہے……؟‘‘

    ’’آہ…..!‘‘ وہ تڑپ کر خاموش ہوگیا۔

    ’’یہی بنیادی فرق ہے میرے دوست….

    ’’ ہاں یہی بنیادی فرق ہے…ہم یہی نہیں سمجھتے .‘‘

    ’’ مرنے والے بھی ہم ہیں اور مارنے والے بھی ہم ہیں . ‘‘

    ’’پھر…..؟‘‘

    ’’پھر کیا…..؟‘‘

    ’’ہم کیا کریں….؟‘‘

    ’’ہم کیا کرسکتے ہیں….؟‘‘

    ’’اور راجہ….؟‘‘

    ’’راجہ بھی کیا کرسکتا ہے……؟‘‘

    ’’ہاں راجہ بھی کیا کرسکتا ہے….؟‘‘ وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔

    ’’شاید ہماری طرف آسمان کا رنگ اسی طرح سرخ رہے گا۔‘‘

        ’’اورہواؤں میں سانپ ا ڑتے رہیں گے….‘‘

    ’’اور فضامیں بارود کی بو رچی رہے گی……‘‘

    ’’اور راجہ کے سنتری بکتر بند گاڑیوں میں گھوما کریں گے….‘‘

    ’’ہم روئے زمین کے انتہائی کریہہ اور بھدّے لوگ ہیں…..‘‘

    ’’خوف سے کانپتے ہوئے لوگ….‘‘

    ’’ہر لمحہ…..ہر پل زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے…..‘‘

    ’’ہماری باری کب آئے گی…..؟‘‘

    ’’ہماری باری….؟‘‘ اس نے چونک کر میری طرف دیکھا اور اس کے چہرے پر زہریلی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔

    ’’کبھی بھی آسکتی ہے…..ابھی اس وقت بھی…. یہ مرگھٹ ہے….یہاں سب اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں….‘‘

یکایک سامنے سے ایک گاڑی آتی دکھائی دی ۔ دو سوار تھے۔ گاڑی قریب رکی تو میں سکتے میں آگیا۔ یہ وہی لوگ تھے،ان کے کندھے     سے بندوقیں لٹک رہی تھیں۔ مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی۔ مجھے لگا اب یہ بندوق تان لیں گے ….میں خوف سے تھر تھر کانپنے لگا ۔خون کی گردش     تیز ہو گئی دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔ حلق خشک ہوتا ہوا محسوس ہوا۔…

یکایک ایک دھماکہ ہوا اور ایک گولی سنسناتی ہوئی میرے کان کے قریب سے گذر گئی۔ میں اچھل کر دور ہٹ گیا۔ موت میرے منھ پر تھوک کر چلی گئی تھی. خوف سے کانپتے ہوئے ان لمحوں میں میں نے محسوس کیا کہ میری     ہیئت تیزی سے بدل رہی ہے اور خود میں بھی جیسے اونٹ کے گھٹنے میں ….

    پھر دوسرا دھماکہ ہوا اور اور اونٹ کے گھٹنے کی شکل کا وہ آدمی……

    لاش اٹھا لی گئی تھی وہاں پر گرا ہوا خون دھوپ کی مری ہوئی روشنی میں کہیں کہیں جم کر تازہ کلیجی کی مانند چمک رہا تھا….

    بھیڑ چھٹنے لگی تھی……دکانوں کے شٹر گرنے لگے تھے…….

    تب کسی نے آہستہ سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھر چلنے کی بات کی تھی اور پوچھا تھا کہ مرنے والا میرا رشتہ دار تو نہیں تھا۔؟

***

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*