کاکوری کے سرفروش : اے ایام کی مٹتی یاد گواہی دے

کاکوری کے سرفروش

کاکوری کے سرفروش : اے ایام کی مٹتی یاد گواہی دے

از، ڈاکٹر شاہد صدیقی

وہ چند نوجوانوں کا گروہ تھا، جو عمرکے اس حصے میں تھے جہاں ہر چیز خوبصورت نظرآتی ہے۔ ان کی آنکھوں میں قوسِ قزح جیسے خواب ہلکورے لیتے تھے۔ ان خوابوں میں ایک خواب جوسب سے روشن تھا اور جواُن کے لہو میں طغیانیاں پیدا کررہا تھا، وہ انگریزوں کے تسلط سے وطن کوآزاد کرانے کاخواب تھا۔ اس خواب نے ان کی زندگیوں کو ایک محور پراکٹھا کر دیا تھا اورانہوں نے طے کر لیا تھا کہ اس خواب کی تعبیر کے لیے وہ اپنی جان بھی دے دیں گے۔

ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ مزاحمت کے اس عمل میں ہندوستان میں بسنے والے مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لیا۔ب دیسی حکومت کے خلاف مزاحمت کا نکتۂ عروج 1857 کی جنگِ آزادی تھی۔ جس میں آزادی کے متوالوں کی ایک بڑی تعداد جوانمردی سے لڑتے ہوئے موت کی وادی میں اتر گئی۔ کتنے ہی نوجوانوں کو سرِ عام پھانسی پر لٹکایا گیا۔بہت سے سر پھروں کو کالا پانی بھیج دیا گیا۔

ان سب حکومتی اقدامات کا ایک ہی مقصد تھا کہ آئندہ رعایا میں کسی کو سر اٹھانے کی جرأت نہ ہو ۔لیکن حریت کی چنگاری بجھی نہیں، سلگتی رہی۔ یوں 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد بھی مزاحمت کاسلسلہ جاری رہا۔ کاکوری کاواقعہ بھی آزادی کی جدوجہد کاایک روشن سنگِ میل ہے جب 9 اگست 1925 کو نوجوان انقلابیوں نے کامیابی سے برطانوی راج کوچیلنج کیا۔ کاکوری کے معرکے کوسمجھنے کے لیے اس کا پسِ منظر جاننا ضروری ہے۔

یہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد کا دور ہے۔ سلطنت ِعثمانیہ آخری ہچکیاں لے رہی تھی، جلیانوالہ باغ کے اجتماعی قتلِ عام کی گونج فضاؤں میں تھی اور ظالمانہ رولٹ ایکٹ پر ہندوستانی غیظ وغضب کی کیفیت میں مبتلا تھے۔ یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی تھی کہ قومی سطح پر ایک ایسی تحریک چلائی جائے جو لوگوں کو برطانوی حکومت کے خلاف متحرک کرسکے۔

اس سیاسی صورتحال کے تناظرمیں دواہم تحریکوں،تحریک خلافت اورتحریکِ عدم تعاون کاآغازہوا۔ تحریکِ خلافت مسلمانوں نے شروع کی جس کابنیادی مقصد خلافتِ عثمانیہ کی حفاظت تھا۔ اس تحریک کے قائدین میں مولانا محمدعلی جوہر، مولاناشوکت علی اورحکیم اجمل نمایاں تھے۔ دوسری اہم تحریک عدم تعاون کی تھی جس کے رہنما گاندھی تھے۔

وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے مسلمانوں اورہندوؤں نے مل کرکام کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں تحریکوں کوکامیاب بنانے کے لیے باہمی تعاون کااعادہ بھی کیا، گاندھی نے تحریکِ خلافت کے حق میں آواز بلند کی اورمسلمانوں نے گاندھی کی عدم تعاون کی تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔

تحریکِ عدم تعاون کے تحت تمام ہندوستانیوں سے کہا گیا کہ وہ سرکاری نوکریاں چھوڑدیں۔ٹیکس ادا نہ کریں، سرکاری تعلیمی ادارے چھوڑدیں، بدیسی مصنوعات کابائیکاٹ کرکے دیسی مصنوعات استعمال کریں۔ یہ مطالبات ہندوستانیوں کی اجتماعی آواز تھی جس نے ہندوستان کوبھرپور اندازمیں متحرک کردیا۔ علاقائی تعصبات سے بالاترہوکرتمام طبقات نے اس پکارپرلبیک کہا۔

اس تحریک سے تاجِ برطانیہ کاسنگھاسن ڈولنے لگاتھا، حتیٰ کہ 4 فروری 1922 کوچوری چورا کاواقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ میں مقامی پولیس اورمظاہرین کے درمیان فساد ہوا،جس کے نتیجے میں بیس سے زائد پولیس والے مارے گئے۔ گاندھی کامنصوبہ تھا کہ برطانیہ کے خلاف تحمل مزاجی سے جدوجہد کی جائے لیکن اس پُرتشدد واقعے سے پُرامن جدوجہد کا منصوبہ بُری طرح متاثر ہوا اورگاندھی نے تحریکِ عدم تعاون کے خاتمے کااعلان کردیا۔

گاندھی کے اس اعلان سے عوام اورخصوصاً نوجوانوں کوبہت مایوسی ہوئی کیونکہ وہ کسی بھی قیمت پراس تحریک کوختم کرنے کے خواہاں نہیں تھے۔ نوجوانوں کی ایک کثیرتعداد اکٹھی ہوئی اور انہوں نے طاقت کے بل بوتے پراپنی جدوجہد کو مزید جارحانہ کرنے کافیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں 1924 کوہندوستان ری پبلیکن ایسوسی ایشن (HRA) قائم ہوئی۔ اس ایسوسی ایشن کے بانی اراکین میںاشفاق اللہ خان، رام پرسادبسمل، جگدیش چیٹرجی، چندر شیکھر آزاد اورسچندرناتھ سانیال شامل تھے۔

رام پرساد بسمل کاتعلق آریاسماج سے تھا اوراشفاق اللہ خان ایک پکے مسلمان تھے لیکن دونوں میں دوستی کا گہرا بندھن تھا۔ دونوں کا تعلق شاہ جہان پور سے تھا، دونوں شاعرتھے، دونوں جوان تھے اوران کے دلوں میں حکمرانوں کی آزادی کے جذبات موجزن تھے۔ یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں تحریکِ عدم تعاون کے خاتمے کے اعلان سے بہت اذیت پہنچی تھی۔ ان کے دلوں کی ایک ہی آرزو تھی کہ جلد از جلد ہندوستان سے برطانیوں کا انخلا ہو۔

آزادی کے عمل کوتیزتر کرنے کے لیے اس نئی قائم شدہ تنظیم (HRA) کوانسانی اورمالی ذرائع کی ضرورت تھی جس کے لیے ایک بہت بڑا بجٹ درکارتھا۔ مطلوبہ رقم کے حصول کے لیے انہوں نے اُس ٹرین کولوٹنے کا فیصلہ کیا جس میں سرکاری خزانہ لایاجاتاتھا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ٹرین کو لوٹنے کے نتائج بہت خطرناک ہوسکتے تھے لیکن اشفاق اللہ خان اور بسمل اپنے دوستوں کے ہمراہ اس مشکل مشن کے لیے تیار تھے۔ یہ 9 اگست 1925 کی بات ہے جب اشفاق اللہ خان، بسمل اوران کے ساتھی اس ٹرین میں سوار ہوئے جس میں رقم موجود تھی۔

جونہی ٹرین لکھنؤ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کاکوری پہنچی انہوں نے زنجیر کھینچی اورٹرین رک گئی۔ انہوںنے محافظ کودبوچا اورسرکاری خزانے کاصندوق اپنے قبضے میں لے لیا۔آہنی صندوق کو ایک کلہاڑے سے توڑکر کھولاگیا اوررقم تین چادروں میں باندھی گئی۔ ان کا یہی خیال تھا کہ یہ رقم بدیسی حکمرانوں کیخلاف آزادی کی جنگ میں ان کی مددگارہوگی۔ منصوبے کی کامیاب تکمیل کے بعدیہ تینوں ساتھی منظرسے غائب ہوگئے۔

اس واقعے نے پورے ملک میں ہلچل مچادی۔ یہ واقعہ حکومت کے لیے بہت اہم تھا کیونکہ اس رقم نے تنظیم کے ڈھانچے اوراسلحہ کے حصول کے لیے مالی وسائل فراہم کردیئے تھے۔اس واقعہ کی اہمیت کاایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے برطانوی راج کی جابرانہ حکومت کواس وقت چیلنج کیاجب ملک میں خوف وہراس کی فضا تھی۔اس واقعے کی بدولت HRA ملکی سطح پرمتعارف ہوگئی اور لوگوں نے جوانوں کی قائم کردہ اس تنظیم کا سنجیدگی سے نوٹس لیا۔

پولیس پر انگریزی حکومت کا سخت دباؤ تھا کہ وہ ان انقلابیوں کوپکڑے لیکن پولیس فوری طورپر کاکوری ٹرین چوری میں ملوث کسی شخص کو نہ پکڑ سکی۔ رام پرسادبسمل کی گرفتاری 26 ستمبر 1925 کو عمل میں آئی ؛ تاہم اشفاق اللہ خان پھربھی پولیس کی دسترس سے باہررہا۔ وہ پہلے بنارس گیاوہاں سے بہار چلاگیا جہاں اس نے ایک انجینئرنگ کمپنی میں بطورکلرک ملازمت شروع کردی۔ کچھ عرصہ یہاں کام کرنے کے بعد وہ پھردہلی چلاگیا جہاں اس نے ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنایا۔ یہیں اس کی ملاقات ایک قریبی دوست سے ہوئی جس نے انتہائی رازداری سے پولیس کواس کی اقامت گاہ کا بتا دیا اور اسی اطلاع کی بنیاد پر بسمل کی گرفتاری کے دس ماہ بعد اشفاق اللہ خان کو بھی گرفتارکر لیا گیا۔

کاکوری کے واقعے کی عدالتی سماعت تقریباً دوسال تک چلتی رہی۔ اشفاق اللہ خان ،بسمل اوران کے ساتھیوں کوبچانے کے لیے ایک دفاعی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ پریوی کونسل (Privy Council)کو بھی اپیلیں کی گئیں لیکن برطانوی حکومت ان انقلابیوں کو سزائے موت دے کر نشانِ عبرت بنانا چاہتی تھی۔

دسمبر1927 میں اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل، روشن سنگھ راجندر لہری کو پھانسی دے دی گئی۔ وہ جن کی آنکھوں میں قوسِ قزح جیسے خواب ہلکورے لیتے تھے اور جنہیں آزادی کے روشن خواب نے ایک محور پراکٹھا کردیا تھا، خوشی خوشی تختۂ دار پر چڑھ گئے ان کے چہروں پراطمینان اورہونٹوں پرتبسم تھا۔ جیسے انہیں پورا یقین ہوکہ ان کی قربانی مزاحمت کے چراغ کی لو اور اونچی کردے گی جس کے نتیجے میں آزادی کی منزل اورقریب آجائے گی۔کہتے ہیں مرنے کے بعد بھی ان کی آنکھوں میں خوابوں کے دھنک رنگ رقصاں تھے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About ڈاکٹرشاہد صدیقی 16 Articles

ڈاکٹر شاہد صدیقی، اعلی پائے کے محقق، مصنف، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*