ہمیں حسینؑ چاہییں، یزید تو بہت ملے ہیں

Yasser Chattha

ہمیں حسینؑ چاہییں، یزید تو بہت ملے ہیں

از، یاسر چٹھہ

مجھے شیعہ اور بریلوی مکتبہ ہائے فکر کے معتقدین، اور ان کی تعلیمات کے ان پہلوؤں سے بہت لگاؤ رہا ہے، ان کو دل کے بہت قریب پاتا ہوں کہ ان میں والہانہ پن بہت زیادہ ہے۔ والہانہ پَن جھوٹ کے کندھے پر سوار ہو کر نہیں یہ محبت کی نا قابلِ تزلزل بنیاد پر کھڑے ہیں؛ اہالیانِ تشیُّع بَہ طورِ خاص۔ ان مکاتبِ فکر کے جتنے افراد و احباب سے ناتہ رہا ہے، ان کی وفا اور محبت میرا سرمایہ ہے۔ وہ بے شک یاد رکھ لیں، اور خود کو میرے دل کے اس لمحے کی کیفیت میں اپنی آنکھوں کے سامنے موجود پائیں۔

اور کیا یہ دُہرانے کی ضرورت ہے کہ محبت سے بڑا جذبہ کوئی بھی نہیں۔ (بھلے کل کو نیورو سائنس کی ارتقاء پذیر سائنس اس کا کون سا تِیا پانچہ کر دے، اس لمحے میں تو مَیں کہتا ہوں کہ مَیں اُس کی کسی تجویزِ نَو کو، یا ترتیبِ نو کو نہیں مانُوں گا۔)

میرا مسئلہ ہے، یا ایسی کیفیت ہے کہ میں محبت کو خدا کا سب سے معتبر رُوپ ہونے کا معتقد ہوں۔ آپ بھلے اس پر تجزیہ کی کَسَوٹی رکھیے، اس اعتقاد کو کسی پاَرس سے مَس کر دیکھ لیجیے، عقل کی گننے، تولنے، حجم نکالنے، کیمیّتوں پر اِکائیوں کے وارنش لگانے کے اہتمام کیجیے، رَد کیجیے، مردُود کیجیے، بھسم کیجیے، ڈبو دیجیے، اور سب سے بڑھ کر دیکھ کر بھی، محسوس کر کے بھی نظر انداز کر دیجیے، آپ کی مرضی۔

محرّم ہے؛ یہ کیسے دن ہیں۔ اسلام آباد کا ایک پُر سکون رہائشی علاقہ ہے۔ گھر کے دائیں اور بائیں دو تین، یا شاید، اس سے بھی زیادہ مسجدیں ہیں۔ ان مسجدوں میں یار لوگ بہت بھلی آوازوں میں اذانیں دیتے ہیں۔ کوئی راست آذان دیتے ہیں، تو کوئی درُود کی صدائیں بھی اوّل و آخر بلند کرتے ہیں۔

دو تین گلیاں دور ایک چھوٹا سی امام بارگاہ ہے۔ خود مجلس سننے نہیں جا پاتا، جہاں یار اور فریدون چلے جاتے ہیں۔

خود کو جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، یا ایسے لگتا ہے کِہ جو خود محسوس کر سکتا ہوں، کوئی اور نہیں کرا سکتا؛ یا شاید، ایسا ہے کہ تاثر کی تکثیریت کہیں احساس کے دریا کو آنکھ نا کر دے، اور بند باندھنے مشکل ہو جائیں؛کہ دریا تو سہے جا سکتے ہیں۔ آنکھ بہت مشکل سے سَہی جاتی ہے۔

اور کیفیت ہے کہ کچھ ایسی ہے کہ محبت حُزن میں تعبیر پاتی ہے۔ رنج ہے کہ بہت گہرا، کرب ہے کہ رُوئیں، رُوئیں اور خون کے قطرے قطرے میں طواف کر رہا ہے۔ ہَمہ دم ایک مجلسِ عزا سی بپا رہتی ہے۔ آنکھیں ہیں کہ جیسے فرات کے پانی کو شرماتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ تم دیوانہ وار، والہانہ انداز اچھل کیوں نہیں پڑے تھے۔ کیا تمہارا وجود خالقِ کائنات نے پیاس کے زَوج کے طور پر خلق نہیں کیا تھا۔ تم تو فطرت کی ماں ایسی ناتہ داری میں فرزندِ ارجمند تھے۔ تم کیوں طاقت کے پجاری، طاقت کی کوکھ کے پَرَوردَہ انسانوں کے دستَ رَس میں خود کو پا بَہ زنجیر جاننے لگے، اور خود کو ایسا مان بھی گئے۔ اپنی شناخت و منصب سے بے گانہ ہو گئے۔

اے فرات تمہارا سینہ پتھر کیوں ہو گیا تھا۔ تمہارے قلب میں سیسہ کیوں بھر گیا تھا۔ ہم ہیں کہ کب سے سمندر بنی ہیں۔ دل جو محسوس کرتا ہے، ہم اس کے مُنھ سے پُھونکے شبدوں کا انتظار کیے بَہ غیر، اس کی ہم نَوا بنتی ہیں۔ محرم اور حسینؑ ہمارا مون سون ہیں۔ غمِ حسینؑ و اہلِ بَیت، آنسوؤں کی کسی خشک سالی کو ہمارے قریب نہیں پھٹکنے دیتیں۔

اور واہ رے واہ فرات تم اتنے پانی کو لیے خود میں ڈوب گئے۔

اے فرات، شاید ایسے ہی ہوتا ہے۔

تمہیں کیا معلوم تھا کہ کچھ لمحے ابد کی آنکھ کا سنہری اور تاباں آنسو ہوتے ہیں؛ وہ ابدیّت کے جوہر کو اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔ اے فرات تم نے اپنے آپ کو میسر و مُسَخّر ابدیّت کی سواری کا موقع خود اپنے ہاتھ سے کھو دیا۔ تم بھی ابدی تاثر کے لمحوں میں اپنے تئیں خاموش اکثریت، اعتدالی ذروں جیسی خاموش اکثریت، اپنے ہونے اور نا ہونے کے فرق کو صرف کھانے پینے سے معلوم کرنے والی اکثریت، اور چنیدہ و خام مَعبدِ منطق کے پروہِیتوں جیسے رہے، جن کی وجہ سے دنیا میں آج بھی پرانی اور نئی روشنیوں کو گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے۔

حسینؑ آج کیا ہیں؟ حسینؑ کسی تحقیقی مقالے، تاریخ کے کاغذی پیراہن میں نہیں۔ یہ ایک ایسا نامیاتی احساس ہیں کہ جو قلب سے چلتا ہے، قلب میں اترتا ہے۔ یہ پیمائش کے پیمانوں سے بالا بالا ہیں۔ ان کو پہچانا، سمجھا اور محسوس جا سکتا ہے، ماپا نہیں جا سکتا۔ مزاحمت کے معتقد کے لیے سانس لینے کی آکسیجن جیسے ہیں۔ ہارے ہوئے کی جیت ہیں، اور جیتے ہوئے کی ہار ہیں۔ حسینؑ تاریخ کی روح کا اثاثۂِ بے بدل ہیں۔ ایک جملے میں ایک تا ابد کو بار گاہِ الٰہی میں جو جھولی پھیلا دُوں تو کہوں:

ہمیں حسینؑ چاہییں، یزید تو بہت ملے ہیں

About یاسرچٹھہ 167 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔