وبا کے دنوں ایک ادیب ٹی وی انٹرویو دیتے ہیں 

Naeem Baig
نعیم بیگ

وبا کے دنوں ایک ادیب ٹی وی انٹرویو دیتے ہیں 

از، نعیم بیگ 

ملک کے مایۂِ ناز ٹی وی چینل پر ممتاز ادیب و دانش ور سے حال ہی میں لیے گئے ایک انٹرویو کا مکمل ٹرانسکرپٹ؛ اور یاد رہے کہ یہ انٹرویو دو اینکرپرسنز نے لیا جو ابھی زیرِ تربیت ہیں۔

اینکر لڑکا: آپ کون ہیں اور آپ کے ہاتھوں میں کیا ہے؟

ادیب: (کھنکارتے ہوئے تحکمانہ انداز میں بولے) میاں! میں ایک نفسیات دان ہوں۔ میرے ہاتھوں میں میرے اوزار ہیں۔

اینکر لڑکی: ہائیں، ہم نے تو آپ کو ادیب کی حیثیت سے بُلایا ہے۔ پورا پاکستان آپ کی دانش وری کا قائل ہے۔ آپ تفصیل سے ہمیں کچھ بتائیں۔

ادیب: میں نے کب کہا کہ میں ادیب نہیں ہوں۔

(گلا کھُرکھراتے ہوئے) آپ نے جب میرے اندر موجود ’کون‘ سے پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ میں ایک نفسیات دان ہوں اور اب بھی اپنے بیان پر کھڑا ہوں۔

بھائی! ادیب ہونا تو میری ایکسٹرا کَریکُولر سرگرمی ہے۔ اِس سرگرمی میں نِت نئے معاشرتی، نفسیاتی اور معاشی تجربے کرتا ہوں۔

سماج کی راہوں میں پڑے سینکڑوں مغالطوں کو اپنے علم و فہم سے سمجھنے اور سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور انھیں نئے مفاہیم دیتا ہوں۔

ملک گیر پالیسیاں ضبطِ تحریر میں لاتا ہوں۔ کام یاب تو خیر کبھی نہ ہوا، لیکن تمہاری طرح کام چلاؤ  بَہ ہر حال کر لیتا ہوں۔ میری دانشمندانہ تحریریں سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا پر زدِ زبانِ عام ہیں۔

میری تحریروں میں ایک ہاتھ  میں گاجر اور دوسرے میں چابَک ہے۔ جہاں چند شریف لوگ مل جائیں تو گاجر دکھا دیتا ہوں۔ بد معاشوں کا ٹولہ ہو تو چابک کا استعمال کرتا ہوں۔

اینکر لڑکی: (قہقہہ لگاتے ہوئے) ہاہاہا… اچھا سر! چھوڑیے نا۔ آپ ہمیں اپنے بارے میں تفصیل سے بتائیں؟

ادیب: تو بی بی! یوں کہو ناں! ارے میں اپنے مُنھ کیا میاں مٹھو بنوں۔ درجنوں کتابوں کا مصنف ہوں۔ سبھی اشاعت کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اس سال پانچ کتابیں بَہ یک وقت منصۂِ شہود پر لاؤں گا، اور لیکن کیا مجال کہ کسی کو بات کرنے کی اجازت دوں۔

ویسے آپس کی بات ہے (سرگوشی میں اینکر لڑکی کی طرف جھکتے ہوئے گال کے قریب پہنچ کر) سچ بتاؤں۔ میں خود ایک کردار ہوں۔ صبح تڑکے جاگ جاتا ہوں کہ نیند نے بہت تنگ کر رکھا ہے۔

رات بھر کلاسیک گانوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ سَحَر ہونے سے پہلے یہ فضول قسم کا پرندہ نما جانور جسے تم لوگ بہت پسند کرتے ہو اور کھاتے بھی خوب ہو، چیخ چیخ کر مجھے جگا دیتا ہے۔

کل ہی میں نے اپنے خالق سے کہا، تم ایک دم گاؤدی تخلیق کار ہو۔ مجھ سے کوئی کام وام تو لیتے نہیں، بس یوں ہی کرداروں کی فہرست میں سربراہ بنا کر سٹیج پر بٹھا رکھا ہے۔

تو پتا ہے انھوں نے کیا کہا: تم نہیں جانتے تم کس قدر اہم کام کر رہے ہو۔ ہم نے تمہیں انتہائی دشوار کام کے لیے سیلیکٹ کر رکھا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ تم فکشن کی دنیا کے ایک با کمال کردار ہو۔ تخیل سے زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہو۔ لوگ تمہارے مکالموں پر مرتے ہیں۔ جان دیتے ہیں۔ تمھیں جا بے جا quote کرتے ہیں۔

تمھاری اسی کرشماتی شخصیت پر مر مٹتے ہیں۔ تم صرف کردار ہی نہیں بل کہ مکمل فلسفۂِ حیات ہو۔ یہ اُن سے پوچھو جو تم پر مرتے ہیں اور تمھیں سٹیج پر ہمیشہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

اینکر لڑکی: سر! کمال کرتے ہیں۔ اگر آپ خود ایک کردار ہیں، تو پھر کریڈٹ تو آپ کے خالق کو جاتا ہے نا؟

ادیب: تم ہو نا! آخر وہی؟ اچھا چلو چھوڑو!  میرے خالق نے جب مجھے سٹیج پر دھکیلا تو سوچیے بھلا میں نے کیا کِیا۔ مجھے مکالمہ تو بہ ہر حال کرنا تھا۔

پردوں کے پیچھے میرے prompter بے تحاشا تھے۔ تب میں نے بولنا شروع کیا۔

سنو، میرے لوگو! میں نے روشنی سے اندھیرے کو پہچانا، جیسے دن سے رات کو۔ صبح کو شام سے جانا۔ گرم کو سرد سے محسوس کیا۔ چشمِ بِینا سے چشمِ پُرنَم تک پہنچا، اور چشمِ نِیم خواب سے چشم پوشی کرتے ہوئے چشمِ بے آب کو جا لیا۔

کیا آپ نے کسی کردار کو اس قدر مشکلات میں perform کرتے دیکھا ہے۔ پھر بھی آپ کہتی ہیں کریڈٹ خالق کو جاتا ہے۔ میں اب خلق ہو چکا ہوں۔ کوئی چغد ہی، معاف کرنا، دانش مند ہی مجھے سمجھ سکتا ہے، علم والوں کے بس میں اب صرف چِلّانا باقی ہے۔

اینکر لڑکا: ارے ارے آپ تو بے حد سنجیدہ ہو گئے۔ ہم آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں؟

ادیب: میاں! میری ذاتی زندگی اب نہیں رہی۔ کبھی تھی جب میرے مصنف نے مجھے نوزائیدہ ہی ایک ایسے میدان میں اتار دیا جہاں جال بچھے تھے اور مجھے دوڑنا تھا۔ تب سے میری رفتار forest gump کی طرح تیز رہی۔

اینکر لڑکی: سنا ہے آپ درویش خصلت ہیں؟

ادیب: (کھنکھارتے ہوئے) اپنے کلیجے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں (یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے اینکر کے سینے کی طرف جھکتے ہیں، تاہم اینکر کے دور اچھل جانے پر منمناتے ہیں) آپ کے پاس جو اطلاعات ہیں وہ سوشل میڈیا کی ہیں۔ جس پر کوئی اعتبار نہیں کرتا ہے۔

میں اوپر سے درویش ہوں اور اندر سے خصلت ہوں۔ بی بی! اگر آپ درُون بِیں ہیں تو کیا آپ کو لوگوں کے کلیجوں سے اٹھتا دھواں دکھائی نہیں دیتا؟

اینکر لڑکی: (خجالت سے) دیتا ہے، دیتا ہے اور کرسی کھینچ کر پرے کر لیتی ہے۔ آپ ملک میں پھیلی وبائی صورتِ حال پر کیا کہتے ہیں؟ اپنے قارئین کے لیے کچھ لکھ بھی رہے ہوں گے؟ اینکر لڑکے نے سوال کیا۔

ادیب: ہاں میاں! بالکل… بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ جلد ہی منظرِ عام پر آئے گا۔ یہ ایک قیامت ہے جو ہم سب پر ٹوٹ پڑی ہے۔ ہم تو پہلے ہی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے تھے کہ اس نا ہنجار وبا نے پر پھیلا دیے۔

میں نے اپنے ساتھی کرداروں کو حکم دے دیا ہے کہ اپنی ذمے داری پر اب سٹیج پر perform کرو۔ ماسک پہن کر کام کرتے ہوئے سماجی فاصلے کا قانون اپناؤ۔ جذبات میں سٹیج پر چڑھ دوڑ آنے والے تماشائیوں کو روکنے کے لیے ہم نے مقامی انتظامیہ کو کہہ رکھا ہے۔

میں نے اپنے چند غیر ملکی ادیبوں سے تبادلۂِ خیال بھی کیا ہے۔ ان سب کا خیال ہے کہ ہمیں فی الحال خاموش رہنا ہو گا۔ اور ابہام کو برقرار رکھنا ہو گا۔

ہم جلد ہی نئی ادبی پالیسی لے کر آئیں گے۔ جس میں ہر کیٹَگرِی کا ادب اور ادیب ہو گا۔

آپ جان جائیں، ہم کردار ہوتے ہوئے بھی انسانوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ (ملتفت نظروں سے اینکر لڑکی طرف دیکھتے ہوئے۔)

Writer Gives Interview AikRozan

اینکر لڑکی: کیا آپ اپنے سننے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

ادیب: ارے بھائی… محبت ہمارا پیغام ہے۔ سب غریبوں تک پہنچے۔ آج کی اس بے رحم دنیا میں ہم غریبوں کا سکھ چین برقرار رکھیں گے۔ کسی قیمت پر غربت پر سودا نہیں ہو گا۔

سٹیج کے آس پاس منفی کرداروں اور مافیاز کا خاتمہ کر دیں گے۔ ہمارے ادب میں اب محبت کے نذرانے ہوں گے۔ ہم قارئین کے لیے نیا ادب تخلیق کریں گے۔ جدید ادب جس کے ڈانڈے بے سمت ہوں گے۔

شکریہ اب ‘چلتے’ ہیں۔

چہرے پر مایوسانہ سے تأثر کے ساتھ انٹرویو ختم ہوتا ہے، اور سکرین dissolve ہوتی ہوئی تاریک ہو جاتی ہے۔

About نعیم بیگ 139 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔