اخلاقیات کن کے ہاتھ، آزادیِ اظہار کس کی، اور ریاست کہاں کھڑی ہے؟

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

(نعیم بیگ)

نوم چومسکی نے کہا تھا، ’’ اگر ہم اُن لوگوں کی آزادی اظہار رائے پر یقین نہیں رکھتے، جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم انسان پر یقین نہیں رکھتے۔ ‘‘ سو فیصد اختلافات کے باوجود بات کرنے کا حق باطل نہیں ہوتا، کیا یہ بات سمجھنا مشکل ہے؟

گفتگو کرنے پہلے ہم ایک بار آزادی اظہار رائے کے بارے میں اس کا بنیادی فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آزادیِ اظہار رائے کسی بھی شخص کو اپنی رائے یا خیال پیش کرنے کا وہ حق ہے، جسے وہ بلا خوف و خطر کسی ریاست یا اس کا ادارہ یا انفرادی فرد کے، کسی بھی میڈیا کے ذریعہ استعمال کرتا ہے۔ یہی تصریح یا تعریف اقوامِ متحدہ اپنے بنیادی حقوق کے چارٹر میں بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس تعریف میں بدقسمتی سے پاکستان سب سے نیچے کے دس ممالک میں آتا ہے۔ (حوالہ کے لئے اس لنک کو ملاحظہ کیجئے۔)
راقم یہاں ملک میں ہونے والے میڈیا کے ان مستند صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور نتیجہ میں اموات کا ذکر نہیں کرے گا جو گذشتہ چند برسوں میں سب سے زیادہ پاکستان میں ہوئیں، بلکہ عالمی سطح پر آزادیِ اظہارِ رائے کے اس قدر نچلے درجے پر فائز ہونے کی ان وجوہات کو تلاش کرنے میں قاری کی مدد کرے گا جس کی وجہ سے ہمارے کچھ مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔ ہم آج بھی کسی کھری علمی یا فکری گفتگو یا ادب کی کسی صِنف کو لائق حد تعزیر ہی سمجھتے ہیں۔ جب تک کہ وہ سماج میں رائج مبینہ اور اَن دیکھی موریلٹی کے تمام بیرو میڑز پر پوری طرح نہ اترتی ہو۔ یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ مروجہ سماجی رویوں میں جھوٹ، منافقت، عدم برداشت اور انتہا پسندی کس قدر طاقت ور ہو چکی ہے، ایسے میں سچ کی معمولی مقدار بھی زوداثر سنکھیا کی مانند ہوتی ہے، جو دو طرفہ کام کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے ہم کم سے کم سطح پر بھی سچ کی مقدار کو ہضم نہیں کر پاتے اور وہیں سماجی و معاشرتی موریلٹی جس کا خمیر عقائد سے اٹھا ہوا ہے، پر تمام بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ جبکہ ایسے معاملات میں ملکی قانون وہ پہلا بیرومیٹر ہونا چاہیئے جو لاگو نہیں کیا جاتا، بلکہ اِن معاملات کو ذاتی پسند و ناپسند اور غیرمقبول و غیر منصفانہ فکری رحجانات و ضوابط کی نذر کر دیتے ہیں۔

کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ان حالات میں بھی ہم سمجھتے ہیں کہ آزادیِ اظہار رائے کی محدود اجازت ملنی چاہیے یا مشروط رائے کا اظہار ہونا لازم ہے۔ راقم کو یہ احساس محترم ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کے ’’ دلیل ‘‘ ویب سائٹ میں شائع ایک مضمون سے ہوا۔ وہ اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں:

’’اگلا مرحلہ سماج کی ذمہ داری ہوتا ہے کہ وہ تلقین اور انضباطی کاروائی سے جس میں ایڈیٹوریل چیک اپ سب سے اہم ہے، اس مطلوب رویے سے انحراف کرنے والوں کو اس دائرہ سے باہر نہ نکلنے دے، جس کا ذکر اوپر ہوا ہے تاکہ ہیئت مقتدرہ کو معاشرے میں زبان بندی کا موقع نہ ملنے پائے۔ سوشل میڈیا کے ضمن میں یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے کیونکہ کوئی باقاعدہ ایڈیٹوریل چیک اپ موجود نہیں ہوتا۔ اگر مندرجہ بالا دونوں فلٹرز کام نہ کر رہے ہوں تو پھر ریاست حرکت میں آ جاتی ہے۔ ‘‘

کوئی بھی سمجھ دار قاری یہاں اس بات کو سمجھنے سے عاری ہے کہ’’ سماجی تلقین اور انضباطی کاروائی‘‘ سے یہاں مصنف کی کیا مراد ہے؟ اگر زبان بندی کے میسر پیمانے اور قانون کے ہوتے ہوئے امن و امان اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے خود ہی منصف بن جائیں تو وہ موریلٹی کے اُس بنیادی جوہر سے رو گردانی کریں گے جو قانون کی صورت ریاست میں موجود ہے۔ انہیں کون (یہاں کون سے مراد، وہ شخص خود یا اِس کا اخلاق سے گرِا رویہ، اسکا کردار، یا اس کا وہ اظہارِ رائے جسے وہ اپنے حلقہ دامِ احباب میں سامنے لاتا ہے یا قانون کا رکھوالایا مقامی پولیس وغیرہ) سا فیکٹر اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ کسی بھی شہری کی انفرادی و شخصی آزادی کو پابند و سلاسل کریں جب تک کہ یہ ابتدائی طور پر طے نہ کیا جاسکے کہ وہ اس بارے کسی ریاستی قانون کو توڑے جانے کا مرتکب ہوا ہے۔ اور ابتدائی طور پر ثابت کئے جانے کے لئے قانون میں وہ تمام منصفانہ جزیات شامل ہیں جن کی بنیاد پر عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کا چہرہ عالمی طور پر نمایاں ہو سکے۔

اور اگر واقعتاً انہی عوامل پر مبنی آزادی اظہار رائے کوزبان بندی کے مزید کسی کٹہرے میں لانا ہے تواحسن طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ قانون کو جمہوری طریقوں سے مزید توانا کر دیجئے۔ ابھی حال ہی میں سوشل میڈیا کے لئے نئے سائبر قوانین اس کی بہترین مثال ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی پر کئی ایک کیسسز عدالتوں میں انصاف کی خاطر پیش کئے گئے ہیں اور مجرموں نے قرار واقعی سزا پائی ہے۔

اسی طرح مغربی ممالک کی طرز پر ملکی سیکیورٹی پر نئے قوانین کا اجراء بھی نئی جہت میں پیش قدمی کہا جا سکتا ہے، لیکن انفرادی و اجتماعی آزادی اظہار رائے کے بغیر ترقیِ ریاست کا تصور محال ہے۔ یہ بات ہمارے جملہ ارباب و اختیار کو سمجھ آ جانی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی کل ہی چنیدہ مغربی ملکوں نے پاکستان میں آزادی اظہارِ رائے پر پابندی کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

عوامی، علمی اور فکری سطح پر اس نظریہ یا تھیوری کو ہمیشہ رد کر دیا جاتا ہے جہاں آزادی اظہار رائے پر بے جا انفرادی، محکمہ جاتی موریلٹی کے ضوابط لاگو کئے جائیں۔ تنقید کو برملا سننے اور اس کے غیر جمہوری استدلال کو ہمیشہ جمہوری دلائل سے رد کیا جانا چاہیئے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں مکالمہ کی روایات کو جنم نہیں دیا جاتا اور جب تک ہم یک طرفہ سوچ سے ہٹ کر کھُلی علمی فِضا میں اعتماد کو جنم نہیں دیتے، اس وقت تک ہم معاشرتی و سماجی رویوں میں کسی بڑی تبدیلی کے امکان کو روشن نہیں کر سکتے۔
انتہا پسندی کو شکست دینے کے لئے اجتماعی جمہوری سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا۔ اصولی طور پر اگر منفی تنقید بھی سامنے آئے تو ان اعتراضات و شکوک و شبہات کو دلائل سے رد کیا جانا ضروری ہے۔ صرف یہ کہہ دینے سے کہ مشروط اوراربابِ اختیار کی مرضی کی پالیسی پر ہی اجتماعی سوچ کو چلایا جائے تو شاید ایسا ممکن نہ ہو سکے گا۔ پھر کئی ایک انفرادی آوازیں سر اٹھائیں گی۔ کیونکہ ہر شہری محب وطن ہے۔ اس سے پہلے ہم کئی ایک موقعوں پر غدار یا غیر محب وطن جیسے فتوے دیکر ملکی سیاست میں طوفان لا چکے ہیں جس سے بالآخر ملک کو ہی نقصان پہنچا۔ حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے کی روایات کو مہمیز دینے سے جمہوری استحکام ، ملک کی سلامتی اور سیکورٹی بڑھتی ہے۔ ہمیں اپنے شہریوں پر اعتماد کرنا سیکھنا ہوگا اور مجرموں کو شفاف قانونی راستوں کو اختیار کرتے ہوئے کیفرِ کردار تک پہنچانا ہوگا۔

About نعیم بیگ 113 Articles
ممتاز افسانہ نگار‘ناول نگار اور دانشور نعیم بیگ مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔گوجرانوالہ اور لاہور کے کالجوں میں زیرتعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا . لاہور سےوائس پریذیڈنٹ و ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزار‘ا جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزوقتی لکھاری کے طور پر ہمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بشمول عالمی رائٹرز گلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں