ڈی پی او رضوان عمر گوندل اور ڈی پی او ڈاکٹر رضوان

منزہ احتشام گوندل

ڈی پی او رضوان عمر گوندل اور ڈی پی او ڈاکٹر رضوان

از، منزہ احتشام گوندل

یہ دو ہزار بارہ کا واقعہ ہے۔ ہمارے ضلع سرگودھا میں ڈاکٹر رضوان ڈی پی او بن کر آ ئے تھے۔ انہیں دنوں ہمارے علاقے کے بزرگ سیاستدان اسلم مڈھیانہ نے ڈی پی او کی کھلی کچہری میں اپنے خلاف بیان دینے والے ایک استاد “نفیس” کی ٹانگ کٹوا دی تھی۔ جس پر ڈی پی او نے سخت ایکشن لیا تھا اور اہل سرگودھا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اسلم مڈھیانہ اپنی اکڑ طبیعت اور عجیب و غریب گفتگو کے کارن خاصے مشہور ہیں۔ تھانے، کچہری جا کر جج صاحبان اور پولیس افسران کو “کتے بلے” کہہ دینے میں انہیں کبھی باک نہیں رہا۔ پھر ان کے ذاتی رشتے سیاست کے اندر دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر رضوان اسلم مڈھیانہ کو گرفتار کر کے لے گئے۔ یہ الگ بات کہ بعد میں ان کا تبادلہ بھی گلگت بلتستان کر دیا گیا۔

انہیں دنوں آنے والے انتخابات 2013 کے متعلق یہ اندازے لگائے جا رہے تھےکہ پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت بنائے گی۔ ایک سیاسی مبصر کا کہنا میرے ذہن میں رہ گیا۔ اس سیاسی مبصر نے آ نے والے وقتوں میں نواز شریف صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بیورو کریسی پہ زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایسا نہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوکرِ شاہی ان کے زوال کی وجہ بن جائے۔ ساتھ ہی اس مبصر نے ذولفقار علی بھٹو صاحب کی مثال دی کہ وہ فوج پہ بہت انحصار کرتے تھے۔ ناشتے سے لے کر ڈنر تک جرنیل ان کے ساتھ ہوتے تھے، آخر یہی فوج ان کے زوال کی وجہ بنی۔

موجودہ حکومت جو بہت سے نئے دعوؤں کے ساتھ میدان میں آ ئی ہے۔ ابھی تک اداروں کے حوالے سے اپنی سوچ واضح نہیں کر سکی۔ ملک کے اندر تبدیلی لانا کوئی گھر کے اندر تبدیلی لانے جیسا آسان کام نہیں ہے۔ اس کا اندازہ تو انہیں حلف برداری کے بعد وزیر اعظم دفتر میں پہنچنے تک کے رسوم و رواج اور پروٹوکول سے ہو ہی گیا ہو گا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں جن کا حصہ بننا پڑا۔

ابھی حال ہی میں جو پاک پتن والا واقعہ ہوا ہے، اس پر محترم سہیل وڑائچ صاحب جیسے سنجیدہ اور بڑے صحافی کا کالم کافی عجیب سا ہے۔ بشرٰی بی بی اور خاور مانیکا میں لڑائی رہتی تھی۔ ان کا مزاج نہ ملتا تھا۔ اس لیے طلاق ہوئی۔ اگر ایسا ہی تھا تو یہ طلاق بہت پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ یہ سب تو مفروضے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت اب بیورو کریسی کو نَتھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے دور میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی طرف سے اکثر یہ شکایات آ نے لگیں تھیں کہ افسران ان کے فون نہیں اٹھاتے اور ان کی بات نہیں سنتے، جب کہ سرکاری طور پر وہ سیاسی نمائندوں کی بات سننے کے پابند ہیں۔ اور اس رویے کا ذمہ دار پنجاب کے واحد خادم اعلٰی کو ٹھہرایا جاتا رہا کہ انہوں نے نوکرِ شاہی کو زیادہ سر پہ چڑھا رکھا ہے۔

نئی حکومت کے وزیر اعلٰی نے آ تے ہی جس پُھرتی کا مظاہرہ کیا ہے یہ کچھ نئے واقعات کا آ غاز ہو سکتا ہے۔ سیاست اور نوکر شاہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں بیورو کریٹس کو جو تربیت پہلے دن سے دی جاتی ہے اس کا مظاہرہ ہم ان کی شکل و صورت، چال ڈھال اور بات چیت سے کرتے رہتے ہیں۔ جب کہ موجودہ حکومت سادگی کے مسلسل دعوؤں کے ساتھ میدانِ عمل میں اتری ہے۔


مزید و متعلقہ: اسسٹنٹ کمشنر کی طاقت اور استاد  از، منزہ احتشام گوندل

طاقت ور کے احساس برتری کی نفسیات  از، عافیہ شاکر

بیورو کریسی کی فیوڈل ازم کا ایک اور متقی رنگ  از، محمود حسن


جس عہدے کا تعلق طاقت کے ساتھ ہو وہاں سادگی کو قائم رکھنا اتنا آ سان نہیں رہتا۔ یہ دعوے محض کتابوں کی حد تک رہ جاتے ہیں۔ تبدیلی اپنے ارد گرد سے چیزیں ہٹا دینے یا کم کر دینے سے نہیں آ تی۔ تبدیلی سوچ سے آتی ہے۔ میں عزیز دوستوں کو دیکھتی ہوں جنہوں نے دنیا کے مہنگے ہوٹلوں میں کھانے سے بھری میزوں پر بیٹھ کر سیلفی لے کے ساتھ ہی موجودہ وزیر اعظم کی سادگی کی تبلیغ کرتی تقریر کی تعریف کی ہوتی ہے۔ BMW اور مرسڈیز کے ساتھ تصویر بنا کے تبدیلی اور سادگی کے کیپشن لگائے جاتے ہیں۔ تو یہ جو سادگی کا عمل ہے یہ بڑی حد ہے سوچ، تعلیم اور خاندانی تربیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

سوال صرف یہ ہے کہ تبدیلی اور سادگی کے اچھوتے اور نئے دعوے کے ساتھ بر سرِ اقتدار آ نے والی حکومت کب تک پرانے فارمولے نظر انداز کر کے ایمان دار افسروں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ کیوں کہ مانیکا خاندان کے ساتھ تنازع کا شکار ہونے والے افسر رضوان عمر گوندل کی کردار کُشی بھی بڑے پیمانے پر کی گئی ہے۔ جو کہ اصولی طور پر سخت قابلِ مذمت ہے۔