سید جو کام کرتا تھا
سید جو کام کرتا تھا از، نصیر احمد اس سید میں واقعی بہت خوبیاں تھیں۔ سب سے بڑی خوبی تو ارد گرد ہونے والے واقعات کے اسباب کی تفہیم تھی۔ وہ چاہتے تو کوئی خوش […]
سید جو کام کرتا تھا از، نصیر احمد اس سید میں واقعی بہت خوبیاں تھیں۔ سب سے بڑی خوبی تو ارد گرد ہونے والے واقعات کے اسباب کی تفہیم تھی۔ وہ چاہتے تو کوئی خوش […]
پاکستان میں لبرل ازم اور مذہب کی چپقلش کا کوئی جواز تو نہیں؟ از، نصیر احمد کہتے ہیں کہ لبرل ازم تحلیل ہو جائے گا۔ جو بات علم اور معیار کی بہتری کی ضمانت ہے، […]
کمال فن کے لیے فاشزم کا خاتمہ ضروری ہے از، نصیر احمد شکرشکن شوند همه طوطیان هند زین قند پارسی که به بنگاله میرود حافظ بے چارے حافظ، انھیں کیا معلوم تھا کہ طوطیان ہند […]
متبادل طرز ہائے حکومت از، نصیر احمد فضا میں اک بارشی دھند سی چھائی ہوئی تھی۔ اور سردی بھی کچھ بڑھی ہوئی تھی اور سوئی جیسے پتوں پر ٹھہری ہوئی بوندیں بہت بھلی لگ رہی […]
مختصر سی زندگی فاشزم کی نذر کرنا از، نصیر احمد سب چلتا ہے۔ اگرچہ عمومی دانائی کا یہ ٹکڑا بہت زیادہ مقبول ہو گیا ہے لیکن بہرحال یہ ایک فاشسٹ بیان ہے جس کے نتائج […]
کیا ہم کارندے ، شہری بننے کو آمادہ ہیں؟ از، نصیر احمد آج صبح پھر ملک صاحب نے اسے چائے پر بلوا کر ایک خواہش کا اظہارکیا تھا۔ اور ملک صاحب کی خواہش اس کے […]
Nuclear irresponsibility by, Naseer Ahmed ‘The prospect for the human race is sombre beyond all precedent. Mankind are faced with a clear-cut alternative: either we shall all perish, or we shall have to acquire some […]
جمہوریت فوت ہو گئی ہے ، ایک اشتہار از، نصیر احمد خواتین و حضرات جمہوریت فوت ہو گئی ہے، اس کی نماز جنازہ کل شام چار بجے ادا کی جائے گی۔ پہلا صحافی۔ اس قحبہ […]
معروضی سچائی کو ذاتی ترجیح بنانا از، نصیر احمد چون زن هندو کسی در عاشقی مردانه نیست سوختن بر شمع مردہ کار هر پروانه نیست خسرو کہ ہندو ناری جیسی مردانگی کسی میں نہیں ہوتی […]
حوالہ اور لنک دے کر شائع کیا جا سکتا ہے۔