جمہوریت فوت ہو گئی ہے ، ایک اشتہار

جمہوریت فوت ہو گئی ہے ، ایک اشتہار

جمہوریت فوت ہو گئی ہے ، ایک اشتہار

از، نصیر احمد

خواتین و حضرات جمہوریت فوت ہو گئی ہے، اس کی نماز جنازہ کل شام چار بجے ادا کی جائے گی۔

پہلا صحافی۔ اس قحبہ کا کیسا جنازہ؟ پتا نہیں ان مولویوں کو کیا ہو گیا ہے، پیسوں کے لیے کچھ بھی کہہ دیتے ہیں۔

دوسرا صحافی۔ ذرا اعلان تو سنو، بھلا خواتین کو جنازے کی اطلاع دینے کی کیا ضرورت ہے، انھوں نے کون سا جنازہ پڑھنا ہے۔

تیسرا صحافی۔ جنازہ پڑھیں نہ پڑھیں، موت کے ٹوڑے (کھانے کے ٹکڑے) تو وہیں ڈافتی ہیں۔

چوتھا صحافی۔ اچھا ہوا مر گئی۔ بہت بیمار سی رہتی تھی۔

پانچواں صحافی۔ بیمار تھی، تب کیا؟ سب گنوں کی پوری تھی۔

چھٹا صحافی۔اب مزہ آئے گا، اب ہم اپنی روایتوں کے مطابق زندگی گزاریں گے۔

ساتواں صحا فی۔ میں نے تو سفید گھوڑوں کے بیماری کے دوران ہی آرڈر دے دے دیے تھے، ایک ہلالی تلوار، ایک خود، اور ایک زرہ بکتر بھی۔ سب کافروں اور ملحدوں کا قلع قمع کر دوں گا۔ خرچہ تو ہو گیا، لیکن مرد مومن کی نئی آن اور نئی شان کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔

آٹھواں صحافی۔ انکل جی، اس شاہی حلیے میں کارٹون سے لگو گے۔

نواں صحافی۔ یہ ہماری بھائی بند سنہری روایت کا تمسخر اڑاتے ہیں، ان کا بھی کچھ کرنا پڑے گا۔

دسواں صحافی۔ ان کی تو مرحومہ خالہ تھی ناں۔یہ شرابی ہے، اس کو تو میں خود درے ماروں گا۔

گیارہواں صحافی۔ کچھ خدا کا خوف کرو، تم تو خود جہاز ہو۔

بارہواں صحافی۔ سینئیرز کے ساتھ بدتمیزی اسی مرحومہ نے انھیں سکھائی ہے۔

تیرہواں صحافی۔ اس غلیظ، جووں بھری، پسو پڑی ، کیکڑا پلی نے کسی کو کیا کچھ سکھانا تھا، یہ کہیں اور سے سیکھ آئے ہیں۔

چودھواں صحافی۔ سب غداروں کا خاتمہ ہو گا۔

پندھورواں صحافی۔ سب تعزیتیوں کے نام ایک رجسٹر میں لکھ دیں گے۔

سولھواں صحافی۔ او سر جی، تعزیت شعزیت تو کرنی پڑتی ہے، ہماری ہی روایت ہے۔

سترھواں صحافی۔ بدکاروں کی تعزیت ہماری روایت نہیں ہے۔ اچھا ہو مر گئی، ورنہ میں تو اسے سنگسار کر دیتا۔

اٹھارہواں صحافی۔ سر، سنا ہے، آپ کا پھینکا ہوا ہی ایک پتھر ہلاکت کا سبب بن گیا۔

انیسواں صحافی۔ آخر کو منجنیق زادے ہیں۔

بیسواں صحافی۔ تم جیسے لوگوں نے قومی خدمت کو ماں کی گالی بنا دیا ہے۔

اکیسواں صحافی۔ سرکاری اخبار کی ادارت کے لیے ایک اچھی درخواست ہے۔

بائیسویں صحافی۔ سرکاری اخبار؟ جب وہ زندہ تھی تب کونسا اخبار غیر سرکاری تھا۔

تئیسواں صحافی۔ایسے مت کہو، ہماری شرافت، قانون سے، صداقت سے، انسانیت، عقل سے بالاتر ہے اور اس کی تصدیق کے لیے کسی قسم کے ذرائع کی ضرورت نہیں ہے۔

چوبیسواں صحافی۔ سر ، آپ کا مستقبل روشن ہے۔

پچیسواں صحافی۔ہائے کتنا مزہ آئے گا۔ اب بغداد میں میراں میراں کرنے کی ضرورت نہیں، اب وہاں سے میں جراحت کے آلات در آمد کروں گا۔

چھبیسواں صحافی۔ سب گیسو تراش طبیب بنیں گے۔

ستائیسواں صحافی۔ تمھاری ایسی کی تیسی۔

اٹھائیسواں صحافی۔ خاموش کتے۔

انتیسواں صحافی۔ ابھی موت کی خبر آئی ہے تو آپس میں گتھم گتھا ہو گئے ہیں۔ اور جب تدفین ہو گی، یہاں قتلام ہو جائے گا۔ اسی لیے سیانے کہتے تھے کہ اس کی زندگی انسانیت کی بقا کے لیے ضروری تھی۔ ذرا سوچئے۔

تیسواں صحافی۔ سب سے پہلے اس سوچنے والے کا کام تمام کرتے ہیں، پھر سب کو

دیکھ لیں گے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*